ملکہ نور جہاں اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کا پاگل پن - ثناء اللہ خان احسن

مقبرے کے نیچے موجود تہہ خانے میں موجود اصلی قبر میں نورجہاں کی باقیات موجود نہیں!
مہاراجہ رنجیت سنگھ کے تعصب اور نفرت کی شکار نورجہاں کی ہڈیوں کو کتوں اور بھیڑیوں کے آگے ڈال دیا گیا تھا۔

لاہور کے شاہدرہ باغ میں موجود شہنشاہ جہانگیر کی چہیتی ملکہ نور جہاں کے مقبرے کی تزئین و آرائش کا کام آج کل زور شور سے جاری ہے۔ امید ہے کہ جلد یہ مزار سج سنور کر لاہور کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کرے گا۔

ملکہ نور جہاں کو نہ صرف برصغیر بلکہ دنیا کی تاریخ میں ایک منفرد اور مستقل نام اور شہرت حاصل ہے۔ ایک افسانوی کردار جیسی وہ ملکہ جو فنون لطیفہ سے ذوق و شوق میں اپنا ثانی نہیں رکھتی تھی۔ شہنشاہ جہانگیر کی چہیتی ملکہ جس نے فیشن، سجاوٹ، مختلف طعام، خوشبویات، سجنے سنورنے اور دیگر فنون لطیفہ میں بےشمار اختراعات و ایجادات کیں۔ عطر گلاب بھی اسی سے منسوب ہے۔ ہر وقت نشے میں دھت شہنشاہ کے درپردہ یہی نورجہاں تھی کہ جس نے کار سلطنت کو سنبھالا ہوا تھا۔

نور جہاں سے جہانگیر کے عشق کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ شہنشاہ جہانگیر نےاپنی محبوبہ نور جہاں کو حاصل کرنے کے لیے اس کے پہلے شوہر شیر افگن ا قتل بھی کروایا۔ ہر وقت نشے میں دھت رہنے کا بھی جہانگیر پر الزام ہے، لیکن اس کی زندگی میں پھر ایک نیا موڑ آیا، اس نے حضرت مجدد الف ثانی کے ہاتھ پر بیعت کی، اور تمام لغویات سے تائب ہوگیا، حالانکہ اپنے باپ کی طرح پہلے مجدد صاحب کا دشمن تھا، اور ان سختیاں کرتا رہا تھا، مگر آخر کار نگاہ مرد مؤمن نے اسے بدل ڈالا۔

نورجہاں چاہتی تھی کہ وہ شیعہ مسلک قبول کرلے، اس نے ایران سے ایک بہت بڑے مجتہد کو بلوایا تاکہ حنفی علما سے مناظرہ ہو، اور جہانگیر قائل ہو کر اس کی بات مان لے، اس مناظر کی تفصیلات بہت دلچسپ ہے۔ اس میں عالم نے شہنشاہ جہانگیر کے شیخ سلیم چشتی کے بارے نازیبا الفاظ کہے، جس پر جہانگیر جو افیم کھائے ہوا تھا، آگ بگولا ہوگیا اور حکم دیا کہ ایرانی عالم قاضی نوراللہ شاستری کی زبان گدی سے کھینچ لی جائے، اور اس قلعے کے دروازے پر ٹانگ دیا جائے۔ مسلک اثناعشریہ میں قاصی نوراللہ کو "شہید ثالث" کہا جاتا ہے۔ قاضی نوراللہ کا مزار آج بھی آگرہ میں موجود ہے۔

اسی وقت کا مشہور واقعہ جس میں یہ جملہ ایک ضرب المثل بن گیا کہ نور جہاں ہر فیصلے میں اثرانداز ہوتی ہے۔ اگر بات حسب منشا نہ ہوتی یا غلط ہوتی تو پردے میں بیٹھی ہوئی ہاتھ بڑھا کر پیچھے سے شہنشاہ کا بازو دباتی جس پہ شہنشاہ اپنے فیصلے پہ نظرثانی کرتا لیکن اس بار ملکہ نے ایسا کیا تو جہانگیر نے ہاتھ اٹھا کر کہا
"جان من دل دیا ھے ایمان نہیں۔"

اس نور جہاں کے نام کے سکے ہمیں آج بھی عجائب گھروں کی زینت نظر آتے ہیں۔ لاہور میں آج بھی نور جہاں کا مقبرہ موجود ہے، لیکن عام افراد کو صرف اس کے سنگ مرمر سے بنے تعویذ تک ہی رسائی ہے۔ اصل قبر اس سنگ مرمر کے خوبصورت تعویذ کے نیچے موجود تہہ خانے نما سرنگ میں موجود ہے۔ جس شہر کو نور جہاں جنت نظیر کہتی تھی اور جس نے اپنی زندگی کے آخری ایام لاہور میں گزارنے پسند کیے، اسی جنت نظیر شہر میں اس کے ساتھ انتہائی ناروا سلوک کیا گیا۔ سکھوں کے دور حکومت میں اس کے مقبرے کو کھود ڈالا گیا۔ اگر آپ کو اس سنگ مرمر کے بنے تعویذ کے نیچے سرنگ میں جانے کا موقع ملے تو آپ دیکھیں گے کہ نیچے تاریک کمرے میں چھت سے دو آہنی حلقے لٹکے ہوئے ہیں۔ جن کے نیچے سپاٹ کچی مستطیل نما دو قبروں کے محض نشانات باقی ہیں جن کو زنجیروں کے احاطے سے واضح کیا گیا ہے۔ دوسری قبر کہا جاتا ہے کہ نور جہاں کی بیٹی لاڈلی بیگم کی ہے جس کا حشر بھی نور جہاں کی قبر جیسا ہی کیا گیا۔

بدبخت راجہ رنجیت سنگھ کا مسلمانوں اور مغلوں سے نفرت کا یہ عالم تھا کہ اس نے نور جہاں کی شہرت سے مرعوب ہو کر جلن و حسد میں آ کر نور جہاں کی قبر کھدوا کر اس کے تابوت میں موجود ڈھانچے کو باہر نکلوا کر اس کا معائنہ کیا۔ وہ متجسس تھا کہ ایسی نابغہ روزگار ملکہ کا ڈھانچہ کیسا ہوگا؟ یہ نامعقول شخص جانے کیا توقع کر رہا تھا کہ اسے نورجہاں کی قبر سے کیا ملے گا، لیکن محض بوسیدہ ہڈیوں کا ڈھانچہ دیکھ کر وہ سخت بد دل ہوا اور طیش میں آکر ان ہڈیوں کو کتوں کے آگے ڈالنے کا حکم دیا۔ یہ بدبخت اپنی نفرت میں اتنا آگے بڑھ گیا تھا کہ اس نے ایک میت کی حرمت تک کا خیال نہ کیا، اور اسے دوبارہ تابوت میں رکھ کر دفنانے کے بجائے کتوں کے آگے پھنکوا دیا۔ تابوت کے کپڑے کو شاید اس نے لاہور کے بادشاہی قلعے کے توشک خانے میں رکھوا دیا ہو جہاں ایسی ہی بےشمار اشیا اس کی موت کے بعد دستیاب ہوئی تھیں۔

بعد میں حکیم اجمل خان کی کوششوں سے مزار کا کتبہ تو دستیاب ہوگیا تھا جسے سن 1912ء میں حکیم صاحب نے مقبرہ دوبارہ تعمیر کروا کر نصب کروادیا تھا۔ لیکن ہڈیاں بھلا کسے دستیاب ہوتیں؟ سو اب بس نور جہاں کی قبر کا ایک نشان ہی باقی ہے، جو یاد رفتگاں پر ماتم کرتا نظر آتا ہے۔

آنکھوں میں اڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دھول
عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو

Comments

ثناء اللہ خان احسن

ثناء اللہ خان احسن

ثناء اللہ خان احسن فنانس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ کراچی سے تعلق ہے۔ ریسرچ ورک اور تاریخ کے ایسے چھپے گوشوں سے دلچسپی ہے جو عام عوام سے پوشیدہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • Sanaollah Sahab yeh bhi bataey k Raja Ranjit kio mosalmano ka doshman hoa. Sikho k guru ko maar k taasob ki bonyad daal k chahte hai k aap pe phool mala daali jaye .. afsos k logo ko apna kiya nazar nahi aata.