تحریک تحفظ پختون پر میرا مؤقف - محمد عامر خاکوانی

تحریک تحفظ پختون کے حوالے سے میرا مؤقف سادہ ہے۔ جن مسائل کی وہ بات کرتے ہیں، انہیں حل ہونا چاہیے۔ عام آدمی کو ریلیف دینا ریاست اور ریاستی اداروں کی ذمہ داری، فرض اور ایمان ہونا چاہیے۔

کہا جا رہا ہے کہ ہزاروں کی تعداد مں لوگ مسنگ ہیں، ان کے ورثا کے بیان کے مطابق ان کے پیاروں کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اٹھایا ہے، اور کئی برس گزر جانے کے باوجود ان کا کچھ پتہ نہیں۔ اس ایشو کو حل ہونا چاہیے۔ مسنگ پرسنز کا معاملہ ایسا ہے جس نے ریاستی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ جن لوگوں کے خلاف الزامات ہیں، انھیں عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی ہو، ممکن ہے ان مسنگ پرسنز میں سے کچھ افغانستان چلے گئے ہوں، آپریشن کے دوران نشانہ بنے ہوں یا انڈر گراؤنڈ جا چکے ہوں، جو بھی وجہ ہے، ورثا کو مطمئن کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ یہ مسئلہ حل ہونا چاہیے۔

بارودی سرنگوں کا مسئلہ بھی سنگین ہے، ان کا نشانہ عام آدمی، بچے وغیرہ بن رہے ہیں۔ اس حوالے سے عالمی برادری بھی مددگار ثابت ہوسکتی ہے، جدید ٹیکنالوجی سے بارودی سرنگوں کا مسئلہ سرعت سے حل ہوسکتا ہے۔

چیک پوسٹوں پر لوگوں کے ساتھ بدسلوکی والا معاملہ تو بہت ہی سنگین اور سنجیدہ ہے۔ اسے فوری طور پر حل کرنا چاہیے۔ یہ درست ہے کہ فوجی جوانوں کو پبلک ڈیلنگ کا تجربہ نہیں ہے، لیکن اتنے عرصے سے وہ تعینات ہیں، اب تک انہیں یہ سیکھ لینا چاہیے، بہتر ہوگا کہ چیک پوسٹوں پر پولیس یا ایف سی کے جوان بھی تعینات کیے جائیں، خاص طور سے جوپشتو زبان جانتے اور مقامی کلچر، رسم ورواج سے واقف ہوں۔ یہ تو نہایت افسوسناک امر ہے کہ آرمی چیک پوسٹوں سے گزرنے والے جوانوں کے رویے اور ترش مزاجی کی شکایت کریں۔

ان تین بنیادی ایشوز کے علاوہ دیگر مسائل بھی حل کیے جانے چاہییں۔ ان ایشوز اور عوامی مسائل کے حوالے سے ہم بھرپور طریقے سے پختون تحفظ موومنٹ یعنی پی ٹی ایم کے ساتھ ہیں۔ جہاں کہیں عوامی ایشو ہوگا، وہاں اس کی غیر مشروط سپورٹ کی جائے گی۔

یہ بات مگر یاد رکھی جائے کہ اگر منظور پشتین یا اس تحریک کا کوئی دوسرا لیڈر پختونوں کے مسائل کے پردے میں پاک فوج کو نشانہ بنانا چاہے، پاکستان دشمن پروپیگنڈہ کرے، بھارتی اور افغان لابی کا آلہ کار بننے کی کوشش کرے تو ہم پوری قوت کے ساتھ اس کی مزاحمت کریں گے۔

میں خود پٹھان ہوں، خاکوانی پٹھان ننگرہار کے علاقہ خوگیان سے آئے ہیں، اسی مناسبت سے خوگیانی اور پھر خاکوانی کہلائے، احمد شاہ ابدالی نے انہیں ملتان کی حکومت بھی دی، اور ملتان پر سکھوں کے قبضے سے پہلے وہاں پٹھانوں کی حکومت تھی، جو یہاں رہ کر سرائیکی بولنے لگے تھے۔ پٹھان اور سرائیکی دونوں عصبیتیں ایک خاص سطح تک میرے اندر بھی ہیں، مگر میرے لیے پاکستانی بلکہ مسلم پاکستانی عصبیت ان دونوں سے زیادہ افضل اور اہم ہے۔

منظور پشتین اگر یہ کہتا ہے کہ وہ پاکستانی ریاست سے بین الاقوامی ثالثوں کی موجودگی میں بات کرے گا تو یہ جملہ صریحاً غداری اور ملک دشمنی ہے۔ کون سے عالمی ثالث؟ یہ تو وہی بات ہے جو بھارتی اور افغان کہتے ہیں، یہ ان کے سرپرست امریکہ کی خواہش ہوسکتی ہے۔ ایسے ہر مطالبے اور ملک کو نقصان پہنچانے والے نعرے کی ہم غیر مشروط مذمت اور ہر ممکن مزاحمت کریں گے۔

پختونوں کے مسائل حقیقی ہیں، وہ حل ہونے چاہییں، آپریشن زدہ علاقوں کو بڑی حکمت اور مہارت کے ساتھ ری ہیبلی ٹیشن کی ضرورت پڑتی ہے، ہماری سول ملٹری قیادت سے اس حوالے سے غفلت ہوئی ہے۔ اسے تسلیم کرنا چاہیے اور اپنے بھائیوں کے زخموں پر مرہم رکھا جائے، ان کے مسائل حل کئے جائیں، ان کے دامن کو خوشیوں سے بھر دینا چاہیے۔ لیکن ملک کے خلاف کچھ بھی برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ ہم عراق، شام، لبیا اور یمن کی تباہی دیکھ سکتے ہیں۔ خدا نہ کرے پاکستان کی تباہی ہم قطعی طور پر افورڈ نہیں کر سکتے۔ پاکستان کی خاطر ہزاروں منظور پشتین قربان۔

یہ مگر یاد رہے کہ منظور پشتین، علی وزیر یا اس طرح کے کسی دوسرے عاقبت نااندیش رہنما کی غلطی کی سزا پختونوں کو نہیں ملنی چاہیے۔ ان کے مسائل اپنی جگہ اہم ہیں، وہ ہر حال میں ترجیحاً حل کرنے چاہییں، مسنگ پرسنز کے معاملے پر اگر اداروں کو دو قدم ہٹنا پڑے تو اس میں کوئی حرج نہیں، اپنے بھائیوں، بچوں کی خاطر ریاست کی پسپائی شرم نہیں، بلکہ عظمت اور فخر کی علامت ہوتی ہے۔ ہمیں اس حوالے سے یکسو ہو کر فوری قدم اٹھانا ہوگا۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.