کوئی ہے؟ نصرت یوسف

ہفتہ کی دوپہر تھی، ایک ظہرانہ میں شرکت کے لیے کیب منگوائی، کچھ ہی دیر بعد کیب پہنچ گئی۔گاڑی ہر لحاظ سے عمدہ حالت میں نظر آرہی تھی۔ لگتا تھا ڈرائیور کاگاڑی کے ساتھ 'حسن سلوک' کا معاملہ تھا۔ اپریل کی چلچلاتی دھوپ میں گاڑی کا اے سی گرمی کے اثرات زائل کر چکا تھا۔

پرسکون سفر کرتے پسنیدہ چیونگم کی خوشبو ساتھ نہ ہو تو مجھے راستہ خوامخواہ طویل لگتا ہے۔
بیگ سے چیونگم پیکٹ نکال کر ہم سفروں کو باٹتے ہم نے کیب ڈرائیور کی کھنکار سنی تو کوئی توجہ دینے کا تکلف ہی نہ کیا۔
اور ضرورت ہی کیا تھی اس کھنکار پر چونکنے کی، سو ہم نے چیونگم دانتوں تلے رکھ کر "کیٹ نیپ" کا ارادہ بنا لیا۔

"سارے ریپر باہر روڈ پر پھینک دیں۔"
ایک بار پھر کھنکار سنائی دی لیکن اس کے ساتھ دی گئی ہدایت نے چیونگم کے ذائقہ اور خوشبو دونوں کو یکدم تبدیل کر دیا۔
ہتھیلی کے درمیان بال بنا کر گھماتے ریپرز کو میں نے اپنے متوجہ ہوتے ساتھیوں کو دکھاتے بیگ میں ڈالا اور آنکھیں موند لیں۔
سب کے ریپرز میرے پاس جمع تھے۔ یہ کچھ نیا عمل نہ تھا۔ میں اور میرے ساتھی ہم سفر ایسا ہی کیا کرتے ہیں،
لیکن کیٹ نیپ کی طلب اب بخارات بن کر اڑ چکی تھی، اس کی بدلی نگاہیں صاف ستھری آرام دہ کیب کے رنگین شیشوں سے نظر آتے راستے میں آئی لینڈ اور سڑک میں بکھرے کوڑے کرکٹ پر جم چکی تھیں۔

دل کرلانے لگا "ارے کوئی ہے؟ کوئی ہے جو اس کوڑے کو اس شہر سے باہر کردے۔"
کوئی ہے ؟
کوئی تو؟
مجھے فضا بہت خاموش لگی۔

نظام تعلیم کی تباہی نے حاکم شہر کو جواب دہی سے بےخوف اور لوگوں کو نشاندہی کی سوچ سے بےنیاز کر دیا ہے۔
ورنہ کیسے ممکن تھا کہ جس امت کے نبی ص نے کرہ ارض کی پوری زمین کو مسجد کا درجہ دیا ہو، وہ قوم زمین کو کوڑا کرکٹ سے تو بھر دے ، مگر وہاں پھل پھلواری کی سجاوٹ نہ کرے۔
کوئی ہے؟ کوئی تو؟

Comments

نصرت یوسف

نصرت یوسف

نصرت یوسف جامعہ کراچی سے فارغ التحصیل ہیں. تنقیدی اور تجزیاتی ذہن پایا ہے. سماج کو آئینہ دکھانے کے لیے فکشن لکھتی ہیں مگر حقیقت سے قریب تر. ادب اور صحافت کی تربیت کے لیے قائم ادارے پرورش لوح قلم کی جنرل سیکریٹری ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • ماشآءاللہ نصرت ھمیشہ بھت اچھی طرح توجہ دلاتی ھیں مختصر اور جامع بات جو اچھی تحریر کا خاصہ ھوا کرتی ھے۔۔۔جزاک اللہ نصرت۔۔۔