دہلیز پر انصاف - خالد ایم خان

دہلیز پر انصاف کاسُن کر اب تو کچھ اپنے آپ سے شرم آنے لگی ہے، بقول داغ دہلوی

میری وفا نے مجھے خوب شرمسار کیا

غضب کیا تیرے وعدے پہ اعتبار کیا

ایک مرتبہ پھر ملک میں الیکشن کے ذریعے عوامی جمہوریت کے ڈرامے کا سورج طلوع ہونے کو تیار نظر آرہا ہے۔ صدیوں سے غلامی کی زنجیروں میں جکڑے عوام کی زنجیریں تو ستّر سال پہلے جناب قائد اعظم محمد علی جناح نے توڑنے کی کوشش کی تھی اور شاید کچھ کچھ اس میں کامیاب بھی ہوئے لیکن افسوس… ظاہری زنجیریں تو ٹوٹ کر بکھر گئیں لیکن وہ ہزاروں سالوں پر محیط ذہنوں پر جمی غلامی کی گرد کو نہ جھاڑ سکے۔ بظاہر ہم آزاد ہیں لیکن ہیں ذہنی طور پر غلام۔ کل بھی غلام تھے اور آج بھی غلام ہیں۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے اُس وقت بھی اپنے ایک بیان میں برملا کہا تھا کہ پاکستان کو جو علاقے دیے جارہے ہیں وہاں صدیوں سے سرداری نظام رائج ہے، وہاں کے لوگ فیوڈل ازم سے متاثر ہیں اور شاید ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں وہاں کے لوگ اپنے علاقوں کے سرداروں وڈیروں اور چوہدریوں کے تسلط سے آزاد نہ ہو پائیں اور ہوا بھی ایسا ہی۔

آج آزادی کے ستّر سالو بعد بھی چاروں اطراف سسکتے، لڑتے، اپنے بنیادی مسائل کے لیے جدوجہد کرتے عوام دکھائی دیتے ہیں۔ سندھ پر نگاہ ڈالتا ہوں تو بے اختیارمیرے دل سے اک ہوک اُٹھتی ہے کہ وہ وڈیرہ شاہی کے خونی چنگل میں پھنسا پھڑپھڑاتا نظر آرہا ہے۔ جہاں خط غربت سے نیچے زندگی گزارتے کسانوں کو چار، پانچ سال بعد وڈیرہ شاہی کی جانب سے حکم صادر کیا جاتا ہے کہ دیکھو ووٹ صرف تیر کے نشان پر دیا جائے گا۔ سندھ کے دیہی علاقوں میں ووٹروں کی لسٹیں تیار کرلی جاتی ہیں، سب کو بلا کر لائنیں لگوائی جاتی ہیں، دھمکیاں دی جاتی ہیں، اگر ووٹ تیر کے نشان پر نہ دیا تو پھر سوچ لینا کسی کی بیٹی کاری قرار دے کر قتل کروائی جاسکتی ہے تو کسی کے بچوں کو پابہ زنجیر وڈیرے کے ڈیرے کے اندر سالوں قید کیا جاسکتا ہے۔ دنیا کے اندر دہلیز پر انصاف فراہم کرنے کا نعرہ لگانے والوں سے کون ہے جو جا کر پوچھے کہ یہ ظلم وستم کیوں؟ کیا یہ تھی بھٹو کی فلاسفی؟ کیا یہ ہے عوام کی حکمرانی؟ روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ دینے والوں کے ہاتھ آج اُسی عوام کے سروں سے چادر کھینچتے نظر آرہے ہیں۔ کون ہے جس نے ان مظالم پر آواز بلند کی؟ کوئی ایک جج، کوئی ایک جرنیل، کوئی ایک لیڈر، کسی نے بھی نہیں، کیوں کہ سب جانتے ہیں کہ غلاموں کی زندگی صرف غلامی کرنے ہی کے لیے ہوتی ہے، اُسے کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ آزاد فضا میں سانس لے سکے۔ تم غلام تھے، تم غلام ہو اور تم غلام رہو گے۔ سندھ زرداری صاحب کی مجبوری بن چکا ہے جیسے بھی ہو سندھ پر اجارہ داری قائم رکھنی ہی ہوگی وگرنہ"انشاء جی اُٹھو اب کوچ کرو" والا معاملہ نہ ہوجائے۔

یہ بھی پڑھیں:   منصف ہو تو اب حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے؟ - انوار احمد شاہین

بلوچستان کے حالات سندھ سے بھی بدتر ہیں۔ یہاں کے عوام بھی اپنے سرداروں کے خونی پنجوں میں جکڑے نظر آتے ہیں۔ جہاں آج تک عوام کو پینے کا صاف پانی تک فراہم نہ کیا جاسکا ، باقی سہولیات تو بہت دور کی باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ جہاں کے سرداروں نے آج تک اپنے علاقوں میں اسکول تک نہ کھولنے دیے، ڈسپنسری اور دیگر عوامی فلاحی مراکز تو بہت دور کی باتیں ہیں۔ بعض وفاقی حکومتوں کی بار بار کی کوششوں کے باوجودبلوچستان کے سردار عوام پر اپنی حاکمیت سے دستبردار ہونے کو تیار نظر نہیں آتے اور پھر اگر کسی سردار کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے تو اُس علاقے کے وہ عوام، جن کی دہلیز پر انصاف فراہم کی خاطر اقدامات کیے جاتے ہیں، اپنے اُسی ظالم سردار کے حق میں لڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ یہ سب لوگ بھی صدیوں پر محیط غلامانہ سوچ کے عادی مجرم ہیں۔ یہاں کے لوگ بھی اپنے اوپر سردار کا ہر ظلم برداشت کرلیں گے لیکن سردار کے خلاف اپنا بنیادی حق کبھی استعمال نہیں کریں گے۔ ظلم کی چکی میں پستے چلے جائیں گے لیکن ووٹ اپنے سردار ہی کو دیں گے۔ اپنی نسلوں کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کرکے نعرہ اپنے سردار ہی کا ماریں گے کیوں کہ ہم غلام ابن غلام ہیں۔

پنجاب اور خیبر پختونخوا میں معاملات کافی حد تک بہتر ہیں باوجود اس کے کہ پنجاب کے کچھ اضلاع میں آج بھی چوہدری اور ملک اپنا اثر ورسوخ رکھتے ہیں اور کئی علاقوں میں اپنا اثررسوخ رکھنے کی خاطر اب ان چوہدری اور ملکوں کو بشمول خادم اعلیٰ صاحب کے اپنے کرائے کے غنڈوں کو بھی استعمال کرنا پڑتا ہے ۔ دلیل کے طور پر عابد باکسر کا نام آپ لوگوں کے سامنے ہے ، جن کو استعمال کرکے پنجاب کی اشرافیہ اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کی جستجو کرتی نظر آتی ہے۔

اپنے بنیادی حقوق والے معاملات میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کے لوگ بھی مجھے اُسی صف میں کھڑے نظر آرہے ہیں جہاں سندھ اور بلوچستان کے لوگ کھڑے نظر آتے ہیں، یہاں بھی ذہنی پسماندگی عروج پر ہے، قومی مفاد پر اپنے ذاتی مفاد کو ترجیح دینا بھی ذہنی پسماندگی ہی کہلائے گی۔ کہیں بے دریغ ڈالر اور نوٹ لُٹائے جاتے ہیں تو کہیں دو تین ہزار میں کرائے کے لوگ اکٹھے کرکے جلسے کامیاب کرائے جا رہے ہیں۔ کیوں؟ کیا عوام ان کی اصلیت نہیں جانتے؟ عوام سب جانتے ہیں لیکن انہیں غربت کے اُس گہرے گڑھے میں دھکیل دیا گیا ہے جہاں اب ہزار، دو ہزار کی دیہاڑی بھی اُن کو کسی من وسلویٰ سے کم نہیں دکھائی دیتی۔

یہ بھی پڑھیں:   منصف ہو تو اب حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے؟ - انوار احمد شاہین

یہ ہمارے معاشرے کے وہ شرمناک پہلو ہیں جن سے ہم اس ملک کی اشرافیہ کو مُبرا قرار نہیں دے سکتے۔ اشرافیہ اور غرباء کے درمیان وسیع ہوتی اس خلیج کی ذمہ داری ستّرسالوں سے جاری اُن پالیسیوں پر عائد ہوتی ہے جواس ملک کی اشرافیہ نے اپنے مذموم مقاصد کے حصول کی خاطر اپنائیں۔ جہاں ایک نواب، چوہدری، وڈیرہ، سردار اور اس ملک کا حکمران طبقہ، شریف طبقہ خود کو اس ملک کے ہر قسم کے قوانین سے ماوراء تصور کرتا چلا آیا ہے اور اس ملک کے تمام قوانین کا اطلاق صرف اور صرف اس ملک کے غریب عوام ہی پر ہے۔ عوامی عدالت سے فیصلے کروانے والوں سے میرا صرف ایک ہی سوال ہے کہ اس ملک کے بقیہ بیس کروڑ عوام کو یہ حقوق کیوں نہیں دیے جارہے؟ اُن سے عوامی عدالتوں کا اختیار کیوں چھین لیا گیا ہے؟ ممتازقادری کا فیصلہ بھی عوامی عدالتوں ہی سے کرواتے، زینب قتل کیس کا فیصلہ بھی عوامی عدالتوں سے کرواتے، سوئس کیس سمیت اس ملک کے تمام کرپشن کے کیسس بھی عوامی عدالتوں ہی سے کروائیں۔ تالے لگادیں ملک کی تمام عدالتوں میں، جب آپ نہیں مانتے تو پھر ہم بھی نہیں مانتے! کیا یہی چاہتے ہیں آپ لوگ کہ اس ملک کی بیس کروڑ عوام بھی آپ لوگوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ملک کے تمام قوانین اور عدالتوں پر عدم اعتماد کرتے ہوئے من مانیاں شروع کردیں؟ تو پھر ضرور فیصلے ایسے ہی آئیں گے، کہیں "ایک واری فیر شیر" کے نعرے ہوں گے تو کہیں چہروں کو تر کرتی، سیاہ کرتی کالی سیاہی اور کہیں سے لپکتا ہوا بوٹ، جوتا جو کانوں کو چھوتا ہوا سائیں کی آواز کے ساتھ کان کے پاس سے گُزر جائے۔یہ آپ لوگوں کے اپنے فیصلے ہیں ! آپ لوگوں نے خود ہی عامی عدالتوں سے فیصلے کروانے کی باتیں کی ہیں اور پھر یہ ضروری بھی نہیں کہ اس ملک کا ہر بندہ آپ کی باتوں سے متفق ہو۔

اس باوجود آپ کی جلسوں میں گھن گرج کہ ہم اقتدار میں آتے ہی انصاف عوام کے گھر کی دہلیز پر فراہم کریں گے۔ تو پھر ذرا بتائیں گے کہ کیسے عوام کو انصاف فراہم کریں گے؟ انصاف کے خلاف آواز بلند کرنے والے اور پورے ملک میں انصاف کی دھجیاں اڑانے والے،اس ملک کی اعلیٰ عدلیہ کو گالیاں دینے والے،ججز کی سرعام توہین کرنے والے، آج کس منہ سے اعلانات کرتے دکھائی دے رہے ہیں کہ ہم اس مرتبہ اقتدار میں آنے کے بعد لوگوں کے گھروں کی دہلیزپر انصاف فراہم کریں گے۔