نسلِ نو اور کارٹون کی دنیا - ملک اویس

ایک دور تھا کہ جب ہم سمارٹ فون، انٹرنٹ، کیبل اور ڈِش سے ناآشنا تھے۔ وہ زمانہ جب نیند گھر کے بزرگوں کی کہانیاں سنتے سنتے اور صبح والدین کی حوصلہ افزا باتوں سے ہوا کرتی تھی۔ اُن دنوں گھر میں ایک پرانا ریڈیو ہوا کرتا تھا جو ایک خاص سمت میں رکھنے اور دو چار تھپکیاں مارنے کے بعد ہی قابل سماعت آواز دیتا تھا اور اس میں بھی چند ایک پروگرام نشر ہوا کرتے تھے۔ ایک تو ـ’’ سنسار سیتی ‘‘اور دوسرا ’’کشمیری اور اردو خبریں‘‘۔ یہ دونوں قسم کے پروگرام کبھی بچوں کی دلچسپی کا حصّہ نہیں رہے ہیں۔ دو ٹی وی چینل تھے اس میں بھی ایک تو نیوز چینل اور دوسرے پر مختلف قسم کے پروگرامز نشر ہوتے تھے۔ چونکہ کمپیوٹر اور گرافِکس ٹیکنالوجی میں اتنی ترقی نہیں ہوئی تھی، لہٰذابچوں کی دلچسپی کے لیے ایک دو پروگراموں کے علاوہ اس پر بھی کچھ نہ تھا۔ لہٰذا بچے اکثر اوقات میں فارغ ہی رہتے اورزیادہ وقت گھرکے بزرگوں اور بچوں کے ساتھ ہی گذاراکرتے تھے۔

اُن دنوں بچوں کی زبان پر ڈرامے اور ٹی وی میں بولے جانے والے ـ’’ڈائلاگز‘‘ کے بجائے اپنے والدین اور بزرگوں کے سکھائے ہوئے میٹھے میٹھے بول ہوتے تھے۔ وہ جب جھولا جھلاتے تھے تو ’’اللہ اللہ‘‘، پڑھاتے تھے، ’اب ت‘ سکھاتے تو کہتے ’’ ا‘‘ سے اللہ کو پہچان، ـ ’ب ‘ سے بڑوں کا کہنا مان، ’ ت‘ سے تو بہ کر انسان‘‘۔ سلاتے تھے تو کہتے ’’اللہ اللہ رچھنَیٔ مولا‘‘ نیند سے جگاتے تو کہتے ’’ اُٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے پھردیکھ خدا کیا کرتا ہے‘‘۔ اور جب وہ کسی کام کے لیے ہماری ہمت بڑھاتے تو کہتے ’’اے میرے جانباز کھلاڑی کھینچے جا تو اپنی گاڑی، تھکنے کا تو نام نہ لے، رکنے کا تو نام نہ لے، اے میرے جانباز کھلاڑی‘‘۔

یہ باتیں بچوں کے ذہن میں گھر کر لیتیں اور ان مِٹ نقوش چھوڑ جاتیں۔ پھر وہ بھی سمجھتے تھے کہ ـ’’ مسلم بچہ سب سے اچھا‘‘، کہتے تھے کہ ’’ امی! ابو کے ساتھ مسجد آج میں بھی جاؤں گا‘‘، اور گُنگنایا کرتے کہ ’’ ان ننھی ننھی جانوں میں کیا عزم ہے کوئی کیا جانے، ہم نیکی کے جانباز سپاہی نیکی کو پھیلائیں گے‘‘۔

ترقی کے اس دور میں بچوں کی دلچسپی اورلطف اندوزی کے لیے بہت کوششیں ہوئی ہیں جو کافی حد تک کامیابی بھی حاصل کر چکی ہیں۔ آج بچے دن بھر سمارٹ فونز اور ٹی وی سے چمٹے رہتے ہیں۔ فون پرYoutube، Jio TV، Voot وغیرہ جیسی Apps کے ذریعے اور ٹی وی پر Cartoon Network، Nick، Pogo، Hungama وغیرہ چینلز کے ذریعے بچے اپنے من پسند کارٹونز اور Animated Movies کو دیکھتے رہتے ہیں۔ ان کے دن کا بیشتر حصہ اسی کی نذر ہوتا ہے۔ بلکہ یہ ان کی زندگی کا گویا ایک لازمی جز بن گیا ہو۔

ایک ویب سائٹ پر تو یہاں تک لکھاہوا تھا کہ جبDoraemon" "چل رہا ہو پھر چینل بدلنے کا سوچنا بھی مت ورنہ بچے تمہیں پھوڑ ڈالیں گے۔ لہذا اُن کی زندگیوں اور تربیت پر بھی اس کا بہت بڑا اثر(منفی اور مثبت دونوں) رہتا ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ ان کی تعمیر اور ترقی میں بھی ـ’کارٹونز ‘کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ ہر بچے کا اپنا ایک من پسند کارٹون ہے، وہ خود کو اسی کے جیسا دیکھنااور اسی کے جیسا بننا چاہتا ہے، اسی کے عادات اپنانا چاہتا ہے اوراس کی زبان پر بھی اسی کے ڈائلاگز ہوتے ہیں۔ جہاں ان پروگرامز یا چینلز کے کہیں سارے مثبت پہلو بھی ہیں وہیں پر کچھ منفی پہلو بھی سامنے آتے ہیں، جیسے:

۱۔ اکثر کارٹون سیریز میں ایک خیالی دنیا اور کائنات کا وجود دکھایا گیا ہے جس میں زمین کے علاوہ بھی کائنات میں لوگ بستے ہیں جن کوAliensکہتے ہیں جو کہ اصل میں کوئی حقیقت نہیں رکھتے ہیں۔ Pokemonکارٹون میں تو ایک الگ ہی دنیا کا تصور ہے جس میں مختلف قسم کے Pokemons رہتے ہیں۔

۲۔ ہر ملک اور قوم نے ان کارٹونز کے ذریعے سے اپنے کلچر اور اپنی تہذیب کو دکھانے کی کوشش کی ہے۔ مثلاًChota Bheem، جو ہندو کلچر اور تہذیب دکھاتا ہے اور Ninja Hathori، جو پرانے اور نئے جاپان کی تہذیب کی سیر کراتا ہے اور اسی طرح دوسرے تہذیبوں نے اپنے اپنے حساب سے کام کیا ہے لیکن بد قسمتی سے ایسا کوئی بھی کارٹون دیکھنے کو نہیں ملتا ہے جو مسلما نوں کی تہذیب کی عکاسی کرتا ہو۔

۳۔ ان کارٹونز میں ایک لڑکی کے کردار کو دکھایا جاتا جس کے ساتھ مرکزی کردار کو خاصی دلچسپی ہوتی ہے جیسے Doraemon میں Shizoka میںNobitaکو دلچسپی ہے اور Ninja Hathori Kenechi، Yumeko میں دلچسپی رکھتا ہے۔

۴۔ یہ امتیاز نہیں رکھا جاتا کہ بچے کے لیے کس کردار کو اچھا اور سچا دکھانا چاہیے اور کس کو نہیں۔ مثلاً ’Roll No. 21 ‘ کے نام سے ایک کارٹون میں منفی کردار میں اسکول کے اساتذہ اور پرنسپل کو دکھایا گیا ہے۔

۵۔ بچے کے ذہن میں راکشس، پری، دیوی دیوتا، اور کالے جادو وغیرہ کے تصورات آجاتے ہیں اور کبھی کبھی تو یہ ذہن پر اتنا اثر کرتے ہیں کہ بچہ اکیلے گھر کے صحن میں نکلنے سے بھی ڈرتا ہے۔

۶۔ ہمارے بچوں کی زبان پر وہ الفاظ ہوتے ہیں جو کہ ہمارے دین سے بالکل ٹکراتے ہیں۔ کجا زبان پراللہ اللہ اورکجا ’اوم نمشّوائے‘، کجا خُدایا مدد کر تو کجا ’ بھگوان شکتی دے‘۔ چھوٹا بھیم جو کہ مشہور ترین کارٹون ہے کو ہی اس بات کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔

۷۔ Super Heroes کا تصور، ایک عام شخص یا بچہ جس کے پاس سپر پاورز ہیں جن کے ذریعے وہ دشمن سے لڑتا ہے۔ ایک تو سوپر ہیرو بننے کے چکر میں کبھی بچے خود کو نقصان پہنچا دیتے ہیں، دوسرا ان میں وہ ذہنیت پیدا ہوجاتی ہے کہ دنیا میں کام کرنے کے لیے تو سپرپاورز کی ضرورت ہے۔ اکثر کارٹون سیریز تو سوپرہیروز پر ہی بنی ہیں۔ ان میں ’Superman، Spiderman، BenTen، Shiva، Roll No. 21، وغیرہ وغیرہ۔

۸۔ بہت ساری بے مطلب چیزیں بھی دکھائی جاتی ہیں جیسے ’موٹو پتلو‘ میں موٹو کے سر پر آم کا پیڑ اُگ جانا۔ " "Shin Chanکا ہر کسی کو ستانا اور پریشان کرنا وغیرہ وغیرہ۔

جہاں تک کارٹونز کے مثبت پہلو ؤں کا ذکر ہے تو وہ بھی کچھ کم نہیں ہیں۔ یہ مثبت پہلو ذیل میں درج ہیں:

۱۔ اِن کارٹونز میں اچھائی اور برائی کی تمیز کا ادراک ہوتا ہے۔ بیشتر کارٹونز جیسے ’ Chota Bheem، Shiva، Mighty Raju، Ben Ten، Ninja Hathori، وغیرہ میں دکھایا گیا ہے کہ اچھائی اور برائی، سچائی اور جھوٹ دو الگ الگ متضاد چیزیں ہیں جن میں کچھ بھی مشترک نہیں۔ منفی کردار سماج اور سوسائٹی کو اپنی چالوں کے ذریعے سے تباہ کرنا چاہتے ہیں اور یہ سوپر ہیروز ان کے ہر منصوبے کو ناکام بنا دیتے ہیں۔ اور کہیں نہ کہیں بچے کے ذہن میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ ہمیں اچھائی کا ساتھ دینا چاہیے۔ اچھائی سے ان کو محبت اور برائی سے نفرت ہوجاتی ہے۔

۲۔ ایک بچہ کم از کم بنیادی انسانی اور اخلاقی اقدار سے آشنا ہوجاتا ہے، جیسےNinja Hathori کی ہر قسط میں کوئی نہ کوئی سبق پیش کیا جاتا ہے۔ حال ہی میں منظر عام پر آنے والے پاکستانی کارٹون ’Milkateer‘ میں زین (مرکزی کردار) ہر کہانی کے اختتام پر بچوں کے لیے ایک اچھی اور مفید نصیحت لے کر آتا ہے۔ اسی طرح چھوٹا بھیم ہمیشہ ہر کسی کی مدد کے لیے تیا ر رہتا ہے اور ہر مصیبت کا ہمت کے ساتھ مقابلہ کرتا ہے۔

۳۔ سماج میں مختلف مسائل کواجاگر کرنے اور لوگوں کو اس حوالے سے بیدار کرنے میں بھی کارٹونز کا رول رہا ہے۔ ۲۰۱۳ء میں ٹائم میگزین کی جانب سے بہترین Animation قرار دیے جانے والے پاکستانی سوپر ہیروئن کارٹون" "Burka Avenger میں ’ جیا ‘ جو کہانی میں مرکزی کردار ہے، لڑکیوں کے اسکول میں پڑھاتی ہے۔ کہانی میں ایک جادوگر(بابا بندوق) اور ایک مکار سیاست دان( Vadero Pajero) اسکول کو بند کرنے کی کوشش کرتے ہیں جنہیں برقعہ پوش جیا ’تخت کبڈی‘، ایک مارشل آرٹ جس میں کتاب اور قلم کو ہتھیار بنا کر لڑا جاتا ہے، کی مدد سے ناکام بناتی ہے۔ اسی طرح سے اس میں لڑکیوں کی تعلیم کے علاوہ ماحول کے تحفظ اور سماج کے دوسرے مسائل کے حوالے سے بھی خوب جانکاری حاصل ہوتی ہے۔

۴۔ یہ کارٹون تعلیم اور تحقیق کے میدان میں بھی بچوں کی دلچسپی کو بڑھانے کا ذریعہ ہیں۔ ’Word Girl‘ اور اس کا دوست ’Captain Huggy ‘ جرم کے خلاف لڑتے ہیں۔ اور جرم یہ ہے کہ وقت اور حالات کے مطابق صحیح لفظ کا استعمال نہ کرنا۔ یہ شو آدھا گھنٹہ چلتا ہے اور ہر قسط میں چار نئے الفاظ سکھائے جاتے ہیں۔ ’Sid the Science Kid ‘ ایک اورکارٹون ہے جو تعلیم و ترتیب کے متعلق ہے جس میں سِڈ اور اس کے دوست اسکول سے پہلے مختلف چیزوں کا مشاہدہ کرتے ہیں اور بعد میں اسکول میں استاد سے ان چیزوں کے متعلق سوال کرتے ہیں۔

۵۔ بچے دور جدید کی ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہوجاتے ہیں اور وقت کے ساتھ اور وقت کے مطابق ان کی شخصیت پروان چڑھتی ہے۔

۶۔ اِن کارٹونز کے ذریعے ایک سے زاںد زبانیں کسی حد تک سیکھی جا سکتی ہیں۔ ہمارے جو بچے باقاعدہ کارٹون دیکھتے ہیں آہستہ آہستہ ہندی اور انگریزی بولنا بھی سیکھ جاتے ہیں۔

۷۔ یہ ہمیں اپنے والدین، دوستوں اور عزیزوں سے محبت اور الفت کے دروس دیتے ہیں۔ کارٹون سیریزوں کا یہ خاصہ رہا ہے کہ انہوں نے ہمیشہ رشتوں کے مثبت پہلو کو اُجا گر کیا ہے خاص کر کہ والدین اور اولاد کے تعلق کو بہت زیادہ مثبت دکھایا جاتا ہے۔

۸۔ یہ ہمیں اجتماعیت، اتحادو اتفاق اور ٹیم ورک سکھاتا ہے۔ مصائب و مشکلات اور اپنے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے اتحاد اور ٹیم ورک کی اہمیت بتاتے ہیں۔ ’Ice Age ‘مووی میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح کچھ جانور ہاتھی، شیر وغیرہ ایک جھنڈ بن کر، ایک ٹیم بن کر برف کے ایک لمبے عرصے کو جھیل لیتے ہیں۔ ان کے اتحا د اور اجتماعیت ہی کی طاقت ان کے وجود کو قائم رکھنے کا راز ہے۔

۹۔ یہ ہر عمر کے لوگوں کی تفریح کا سامان فراہم کرتے ہیں۔ ’Tom and Jerry‘ امریکی مزاحیہ کارٹون آپ کو ہنسنے پر مجبور کردیگا۔ وہ چوہے بلّی کا کھیل تو ہے لیکن تخیل اور مزاحیہ انداز کی مثال ہے جس سے چھوٹے بڑے سب لطف اندوز ہوتے ہیں۔

مزید بچوں کی صحیح تربیت کے لیے بھی کچھ اسلامی کارٹون اورAnimated Moviesکو بھی بنایا گیا ہے۔ جن میں ’Pray Time with Zaky ‘ ایک ڈی وی ڈی سیریزہے، جو بچوں کو وضو، تیمم، نماز، دعا اورکچھ چھوٹی چھوٹی سورتیں سکھاتی ہے۔ اسی طرح سیرتِ رسول ؐ کا مختصر اور جامع تعارف ڈیڑھ گھنٹے کیAnimated مووی "Muhammad (PBUH),the final Prophet" ـ ہے۔ "The Boy and The King"اصحاب الاخدود کے بارے میں مسلم شریف کی روایت کے مطابق ایک لڑکے اور بادشاہ کی کہانی کو بھی منفرد انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ صہیونی طاقتوں کے خلاف لڑنے والے مسلمان ہیرو سلطان صلاح الدین ایوبی کی زندگی پر مبنی ایک انیمیشن بھی ملٹی میڈیا ڈیولاپمنٹ کارپوریشن ملیشیانے بنائی ہوئی ہے۔ اسی طرح ترکی میں سید نورسی کی حیات و خدمات پر مبنی God's Faithful Servant: Barla کے نام سے مووی بنائی گئی ہے۔

لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے بچوں کے مستقبل کو سنوارنے اور ان کی اچھی تربیت کے لیے اچھے اور فائدہ مندکارٹون پروگرامز کا انتخاب کریں۔ اللہ ہمیں صحیح کو پہچاننے اور سمجھنے کی توفیق عطا کرے۔ آمین!

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */