راضی کرلے اپنا اللہ (منظوم ترجمہ) - سیما آفتاب

چند دن پہلے یوٹیوب پر ایک پنجابی زبان کی نظم سننے کا اتفاق ہوا اور سن کر اس کا اردو میں منظوم ترجمہ کرنے کا خیال آیا تو آج اہل دلیل کے لیے پیش ہے:

اٹھ بندے اور پکڑ مصلیٰ

رَاضی کر لے اپنا اللہ

کھائے سود اور حج کو جائے

لوگوں میں حاجی کہلائے

یوں بخشش تیری نہیں ہونی

چاہے لاکھوں روپ بنائے

وہ پیسہ تیرے کام نہیں آنا

جس نے تجھے پاگل کرڈالا

اٹھ بندے اور پکڑ مصلیٰ

رَاضی کر لے اپنا اللہ

پڑھ پڑھ تو نے حد کرڈالی

پر سچ جھوٹ کی سمجھ نہ پائی

ہر شے کو صابن سے دھوتا

'اندر' سے نہیں کوئی صفائی

تیرے ساتھ 'وہ' نہ جائیں گے

جن کی خاطر جھوٹ تُو بولا

اٹھ بندے اور پکڑ مصلیٰ

رَاضی کر لے اپنا اللہ

بڑے بڑے ہیں محل بسائے

پر آگے کی خبر نہ پائے

'مالک' کا جب حکم آئے گا

پھر نہیں ملنا ٹھکانہ کوئی

اب بھی وقت ہے کرلے توبہ

ورنہ قبر میں روئے گا تنہا

اٹھ بندے اور پکڑ مصلیٰ

رَاضی کر لے اپنا اللہ

جب پڑھ کر ہے عمل نہ کرنا

پھر کاہے کو کلمہ پڑھنا

رب کو منانا ہے بے فائدہ

جب اس 'رب' سے ہے نہیں ڈرنا

گر بننا تجھ کو 'عبداللہ'

کرلے صاف تودامن اپنا

اٹھ بندے اور پکڑ مصلیٰ

رَاضی کر لے اپنا اللہ