حادثہ - جہانزیب عباسی

ہر طرف افراتفری کا عالم تھا کوئی سمجھ نہیں آرہی تھی کہ سڑک پہ گاڑیوں کا اتنا ازدحام کیوں ہے؟ احمد نے گاڑی کا شیشہ نیچے کر کے پاس سے گزرتے ایک آدمی سے پوچھا " یہ آگے سڑک پہ اتنے لوگ کیوں جمع ہیں؟ "

"ایک کار اور بائیک کی ٹکر ہوئی ہے" لوگوں کی طرف جاتے ہوئے اس آدمی نے بتایا ۔

اتنے میں ایک لڑکا سامنے سے دوڑتا ہوا آیا اور بانٹ پر ہاتھ مارتے ہوئے فریاد کرنے لگا " وہ مر جائے گا وہ مر جائے گا۔ کوئی اسے گاڑی میں ڈال کر اسپتال پہنچا دو!"

" تو جلدی سے ریسکیو والوں کو بلاؤ" احمد بے رغبتی سے بولا۔

"چوٹ سر پر لگی ہے ریسکیو والوں کے آنے تک بہت خون بہہ جائے گا " یہ کہتے ہوئے اس کا حلق خشک ہو گیا۔

یہ سن کر احمد نے اسے غصے سے کہا "اچھا ہٹو آگے سے میں کوئی ایدھی کا اہلکار نہیں جو زخمیوں کو ہسپتال پہنچاتا پھروں۔"

اس کی بات سنی ان سنی کرتے ہوئے احمد نے شیشہ اوپر کیا اور گاڑی آگے بڑھا دی۔

لوگ زخمی کو اٹھا کر فٹ پاتھ پر لے جانے لگے تاکہ سڑک پوری طرح سے کھل جائے۔احمد اپنی گاڑی لے کر لوگوں کے پاس سے گزرا ہی تھا کہ اس کی نظر فٹ پاتھ پر الٹی پڑی ایک بائیک پر پڑی تو وہ سکتے میں آگیا۔ اس کی سانسیں اکھڑ رہی تھی۔ وہ جلدی سے گاڑی سے اترا اور فٹ پاتھ پر کھڑے لوگوں کی طرف بھاگا۔ اس نے جب لوگوں کو ہٹا کر فٹ پاتھ پر پڑے خون میں لت پت اس شخص کو دیکھا تو وہ کوئی اور نہیں بلکہ اس کا اپنا بھائی عزیر تھا جو زخموں سے بلک رہا تھا اور اس کے سر سے خون کے فوارے پھوٹ رہے تھے۔ کب اس نے عزیر کو گاڑی میں ڈالا اور کب وہ ہسپتال پہنچا؟ اسے کچھ ہوش نہیں تھا۔ آپریشن تھیٹر کے باہر فرش پر بے سدھ پڑے وہ یہ سوچ رہا تھا کہ یہ دنیا جس کا وہ خود حصہ ہے کتنی بےحس ہے۔ ایسے ہی کتنے حادثوں سے نہ جانے ہم کتنی بار بے پروا ہو کر گزر جاتے ہیں۔ لاکھوں لوگ جو روزانہ حادثوں کا شکار ہوتے ہیں ان پر کیا گزرتی ہو گی؟ وہ بھی تو کسی کے بھائی، کسی کی امید اور کسی کے جینے کا سہارا ہوتے ہوں گے۔ لوگوں کو مرتا ہوا دیکھ کر بھی ہماری گاڑی کی رفتار کم نہیں ہوتی۔ ہم یہ کیسے بھول جاتے ہیں کہ قدرت ہمیں بھی تو اس مقام پر لا سکتی ہے۔کس کو کیا خبر کہ کون کب کہاں حادثہ کا شکار ہو جائے؟ وہ انہی سوچوں میں گم تھا کہ اچانک ڈاکٹر نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے تسلی آمیز لہجے میں کہا "آپ پریشان نہ ہوں وہ اب خطرے سے باہر ہے۔"

ڈاکٹر کے یہ الفاظ سن کر وہ وہی سجدے میں گر پڑا اور گڑگڑا کر اپنی رب سے معافی مانگنے لگا۔وہ آج اپنی بے حسی پر بہت رویا کیونکہ وہ یہ حقیقت جان گیا تھا کہ سڑکوں اور ہسپتالوں کی راہداریوں میں پڑے یہ لوگ خود نہیں مرتے بلکہ لوگوں کی بے حسی ان کا گلا گھونٹ دیتی ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */