ایک سال بیت گیا - محمد عامر خاکوانی

ایک اور سال بیت گیا۔ تیز رفتار وقت کا ریلا ہے جو کچھ سوچنے سنبھلنے کا موقع نہیں دیتا۔ فیس بک استعمال کرنے والے جانتے ہیں کہ یہ سوشل میڈیا ویب سائٹ اپنے صارفین کے لیے پچھلے سال کی پوسٹیں دوبارہ یاد دلاتی ہے۔ کوئی چاہے تو اسے پھر شیئر کر لے، ورنہ صرف پڑھ کر ہی لطف اٹھائے۔ چند دنوں سے فیس بک مجھے پچھلے سال کے انہی دنوں کی وہ پوسٹیں یاد دلا رہا ہے، جس میں روزنامہ نائنٹی ٹو نیوز کی لانچنگ کے حوالے سے لکھا گیا۔ آج کل یہی سوچ رہا ہوں کہ اس گزرے ایک سال میں کیا کھویا، کیا پایا؟ گزری رات ایسی ہی ایک پوسٹ سامنے آئی تو نئے اخبار کے حوالے سے جوش، ولولے اورکچھ کر دکھانے کی امید سے معمور تحریر دیکھ کر اچھا لگا۔ اخبار کی اشاعت سے پہلے کامیابی کی امید اور ناکامی کا خوف دونوں ہی آدمی پر وارد ہوتے ہیں۔ ماضی کی طرف دیکھتے ہوئے ایک لمحے کے لیے سوچا کہ کیا ناکامی کا خدشہ غالب ہوا تھا، جواب نفی میں تھا۔ سچ یہی ہے، اگرچہ 92 نیوز سے پہلے دو تین اخبار ناکام ہوچکے تھے، مگر اس نئے اخبارکی مرکزی ٹیم کا حصہ ہونے کے ناتے پوری امید تھی کہ رب تعالیٰ کی رحمت سے ہم کامیاب ہوں گے۔ وجہ صاف تھی۔ ہم نیک نیتی کے ساتھ ایک اچھا، معیاری، مثبت اخبار نکالنا چاہ رہے تھے، جس کا ایک نظریاتی کردار ہو۔ ایسا اخبار جو پرو اسلام، پرو پاکستان اور پرو عوام ہو۔ جو ہماری اخلاقی روایات کا تحفظ کرے، معاشرے کے فیبرک کو بکھرنے سے بچائے اور کرپشن فری سیاست کے لیے اپناکردار ادا کرے۔ الحمدللہ آج ہمارے اخبار کو ایک سال ہوگیا۔ اس ایک سال کے دوران اخبار نے غیر معمولی کامیابی اور پذیرائی حاصل کی۔ سات سٹیشنوں سے یہ شائع ہو رہا ہے، جلد ہی جنوبی پنجاب سے بھی اشاعت ہوجائے گی۔ روزنامہ 92 نیوز کا نام ذہن میں آتے ہی ایک اپوزیشن کے بھرپور، معیاری اخبار کا تاثر قائم ہوتا ہے، جس نے دربار کی کاسہ لیسی کے بجائے عوام کے ساتھ کھڑا ہونا پسند کیا۔ جس کا ایک واضح نظریاتی تشخص ہے۔ جو اپنی متوازن، متین، خصوصی رپورٹنگ، بھرپور ادارتی صفحات اور دلچسپ میگزین صفحات کی بنا پر پہچانا جاتا ہے۔ جس نے قلیل مدت کے دوران اردو صحافت میں قابل قدر کنٹری بیوٹ کیا ہے۔

اخبار کی پہلی سالگرہ کے حوالے سے میرے پسندیدہ لکھاری مستنصر حسین تارڑ صاحب نے نہایت خوبصورت کالم لکھا ہے۔ ہمارے لیے استاد کا درجہ رکھنے والے جناب سجاد میر نے اسی حوالے سے کالم میں اپنی یادداشتوں کو تازہ کیا۔ اوریا مقبول جان نے اچھوتے انداز میں اس پر قلم اٹھایا ہے۔ یہ تو صاحب اسلوب لکھنے والے ہیں، جو بھی لکھ دیں، وہ سج جاتا ہے۔ میرے جیسا عام اخبار نویس جس کی یادداشتوں کا توشہ دان عام واقعات سے لبریز ہے، اس میں پڑھنے والوں کے لیے دلچسپی کا حامل کیا ہوسکتا ہے؟ دو تین باتیں البتہ ایسی ہیں جن کا تجربہ مجھے اپنے کالم نگاری کے سفر کے دوران پہلے نہیں ہوا تھا۔

کالم لکھنے والے کے لئے سب سے اہم تخلیقی آزادی ہے۔ چودہ پندرہ برس کالم لکھتے ہو گئے، سچ تو یہ ہے کہ جتنی ادارتی آزادی روزنامہ 92 نیوز میں ملی، اس کا کبھی تصور تک نہیں کیا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ چند سال پہلے ایک معروف اخبار میں کالم لکھتے ہوئے عجیب و غریب قسم کے سنسر کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ سفید بالوں والے سینئر صحافی ہمارے گروپ ایڈیٹر تھے، ان کا بڑا نام اور شہرہ تھا، اب دنیا میں نہیں رہے۔ اللہ بخشے ویسے بھلے آدمی تھے، مگر ان کی سوچ کے خلاف کچھ بھی شائع نہیں ہوسکتا تھا۔ انہوں نے لکھنے کی آزادی بالکل سلب کر رکھی تھی۔ پیپلزپارٹی کا دور تھا، جناب زرداری اپنے مخصوص سٹائل سے حکومت فرما رہے تھے۔ ہمارے لیے یہ مسئلہ کہ پیپلزپارٹی کے خلاف کچھ نہیں لکھا جا سکتا۔ اس وقت کے چند اہم ترین ایشوز این آر او، جعلی ڈگریاں، کیری لوگر بل وغیرہ تھے۔ ہمیں باقاعدہ بتایا گیا کہ ان میں سے کسی پر تنقید نہیں کرنی۔ حالت یہ ہوگئی کہ این آر او یا جعلی ڈگریوں کے حق میں تو کالم چھپ سکتا تھا، ان پر تنقیدی تحریر شائع ہونا ممکن نہیں تھی۔ دلچسپ بات یہ ہوئی کہ ان دنوں تین پاکستانی کھلاڑی سپاٹ فکسنگ کرتے پکڑے گئے۔ کرکٹ سے دلچسپی رکھنے والے جانتے تھے کہ جو نو بالز محمد عامر اور آصف نے کرائی ہیں، یہ دانستہ تھیں اور مقصد پیسہ کمانا تھا۔ یہ بات بعد میں ثابت بھی ہو گئی، کھلاڑیوں پر پابندی لگ گئی۔ اس کے باوجود اخبار میں ہم جیسے ان کھلاڑیوں کے خلاف کچھ نہیں لکھ سکتے تھے کہ گروپ ایڈیٹر صاحب کے خیال میں ان لڑکوں نے اگر جوا کھیل بھی لیا تو کون سی” قیامت“ آگئی۔ وہ خود اپنے کالموں میں اسے بھارتی سازش قرار دیتے رہے، پڑھنے والے یقیناً اس پر مسکراتے ہوں گے۔ خیر اس سنسر کا مجھے فائدہ یہ ہوا کہ سیاست سے ہٹ کر کئی اور موضوعات پر لکھنے کی استعداد پیدا ہوگئی، کبھی سیاست پر لکھنا پڑتا تو بچ بچا کر لکھ ڈالتے۔ سیاسی دور میں بھی مارشل لاء جیسے سنسر میں کام کرنے کی ہمیں تربیت مل گئی۔

روزنامہ 92 نیوز میں اپنے سابقہ تمام صحافتی تجربات کے برعکس غیر معمولی ادارتی آزادی سے واسطہ پڑا۔ میں ہفتے میں تین کالم لکھتا ہوں۔ اس اعتبار سے مہینے کے بارہ اور سال کے ڈیڑھ سو کے قریب کالم بن جاتے ہیں۔ پچھلے ایک سال کے دوران ایک سطر بھی ایڈٹ نہیں ہوئی، ایک بار بھی گروپ ایڈیٹر نے یہ نہیں کہا کہ اس موضوع پر آپ کالم نہیں لکھ سکتے۔ کبھی پوچھا بھی تو صرف اتنا جواب ملا کہ ذمہ داری اور سلیقے کے ساتھ ہر ایشو پر لکھا جا سکتا ہے۔ جن سینئر کالم نگاروں نے اپنی رائے کا اظہار کیا، ان سب نے اس ادارتی آزادی کا بطور خاص تذکرہ کیا۔ اس کا کریڈٹ ہمارے گروپ ایڈیٹر سید ارشاد احمد عارف کو جاتا ہے۔ ان کی سوچ سے مختلف لکھو، مخالف لکھو، کچھ فرق نہیں پڑتا۔ اخبار کی ٹاپ مینجمنٹ کو بھی اس حوالے سے کریڈٹ دینا چاہیے کہ انہوں نے ادارتی امور میں مداخلت نہیں کی اور ہر قسم کے دباؤ کو خود برداشت کیا۔ وہ دباؤ اخبار کے کارکن صحافیوں تک منتقل نہیں ہونے دیا۔

ذاتی طور پر مجھے دوسرا فائدہ یہ پہنچا کہ سیاسی حوالے سے کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیا۔ جب بندشیں تھیں، لکھنے پر قدغن تھی،تب کھل کر لکھنا ممکن نہیں تھا۔ اس بار آزادی ملی اور پھر پانامہ سکینڈل کے حوالے سے بہت اہم دور چل رہا تھا۔ کرپشن اور طاقتور شخصیات کے احتساب کے حوالے سے میرا ایک نقطہ نظر ہے۔ میرے نزدیک حکمرانوں کا بے رحم محاسبہ ہونا چاہیے۔ جنہوں نے ملک وقوم کی دولت لوٹ کر باہر جائیدادیں بنائی ہیں، ان کو کٹہرے میں کھڑا ہونا چاہیے۔ کرپٹ مافیاز کو نشانِ عبرت بنانا چاہیے، تاکہ دوسرے ترغیب نہ لے سکیں۔ ان تمام ایشوز پر کھل کر لکھا۔ اداروں کی مضبوطی کا تہہ دل سے حامی ہوں۔ عدلیہ کی آزادی کو ملکی ترقی کے لیے نہایت اہم سمجھتا ہوں۔ یہ بات بار بار نہایت صراحت کے ساتھ لکھی۔ کھل کر پوزیشن لی تو بعض پرانے پڑھنے والوں کو حیرت ہوئی۔ انہوں نے سوال پوچھا کہ آپ نے اپنی غیرجانبدارانہ پوزیشن چھوڑ دی ہے۔ اس پر انہیں سمجھانا پڑا کہ غیر جانبداری کوئی چیز نہیں، اصل بات دیانت داری کے ساتھ اپنی بات کہنا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ توازن ہونا ضروری ہے۔ لکھنے والے کسی ایشو پر واضح پوزیشن لے سکتے ہیں، مگر ان پر یہ اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ جس غلطی پر مخالف جماعت کو تنقید کا نشانہ بنائیں، وہی غلطی ان کی پسندیدہ جماعت کرے، تب اس کا بھی ویسے ہی محاسبہ کریں۔ جو اس اصول کی پاسداری کرے، اسے حق حاصل ہے کہ وہ چاہے واضح پوزیشن لے ، چاہے کسی ایشو پر درمیان کی راہ اپنائے۔

روزنامہ 92 نیوز میں لکھنے کا ایک اور فائدہ یہ ملا کہ متنوع قسم کی ریڈرشپ سے واسطہ پڑا۔ ہمارا اخبار وفاقی دارالحکومت کے ساتھ چاروں صوبائی دارالحکومتوں سے بھی شائع ہو رہا ہے۔ اس لیے چاروں صوبوں کے عوام میں اس کے قارئین ہیں۔ سوشل میڈیا پر اس کے کالم سب سے زیادہ ڈسکس ہوتے ہیں، اس لیے یہ آن لائن پڑھنے والوں میں مقبول ہے، اوورسیز پاکستانیوں میں بھی بہت زیادہ پڑھا جاتا ہے۔ اس بڑی اور فعال ریڈرشپ کا فائدہ یہ ملتا ہے کہ تحریر کی رسائی زیادہ دور تک ہوجاتی ہے۔

چھ سال پہلے اپنی ایک تحریر میں واقعہ لکھا، آج 92 نیوز کے قارئین سے بھی شیئر کرنا چاہتا ہوں کہ بنیادی طور پر یہ تجدید عہد ہے۔ کہتے ہیں کہ حضرت عمر فاروقؓ جب فتح بیت المقدس کے بعد وہاں پہنچے تو حضرت خالد بن ولید ؓ سے ملاقات ہوئی۔ حضرت خالد نے ایک قیمتی لبادہ اوڑھ رکھا تھا۔ فاروق اعظم ؓ نے تیکھی نظروں سے دیکھا اور قدرے سخت لہجے میں بولے، خالد! تم ہماری زندگی ہی میں بدل گئے؟ خالد بن ولید کہ سیف اللہ کے نام سے مشہور تھے، انہوں نے کمر سے بندھی تلوار نکالی، ہوا میں لہرائی اور مضبوط لہجے میں بولے ”امیر المؤمنین، شمشیر وہی ہے۔ “
ہم ان پاکباز ہستیوں کے غلاموں کے غلام، ان کے قدموں کی خاک۔ سفر جاری ہے، ممکن ہے کہیں کوتاہی ہوگئی ہو، مگر شمشیر وہی ہے، وہی رہے گی۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.