میری مرضی - امجد طفیل بھٹی

آجکل سوشل میڈیا پر “ میری مرضی “ کے پلے کارڈ اٹھائے خواتین کی تصویر پر سیر حاصل اور لاحاصل گفتگو کا سلسلہ بنا کسی رکاوٹ کے اور زور و شور سے جاری ہے۔ ہر کوئی مرد اور خاتون اپنے اپنے انداز سے اس موضوع کو خوب لتاڑ رہا ہے جو کہ یقیناً ایک زندہ معاشرے کی علامت ہے ، کم از کم اس سے یہ بات تو غلط ثابت ہوتی ہے کہ پاکستانی قوم سو رہی ہے۔ اس بحث کی اصل وجہ یہ نہیں ہے کہ یہ پاکستان کا کوئی بڑا مسئلہ ہے بلکہ اصل بات جو وجہ بحث ہے وہ ہے اس بحث کا موضوع۔ جب موضوع اتنا دلچسپ ہو تو عام سے عام انسان یا لکھاری چار الفاظ لکھ ہی لیتا ہے۔ اب ایک تصویر کو لے کر یہ بحث کرنا کہ یہ پاکستانی خواتین کو کیا ہوگیا ہے ، سراسر زیادتی کی بات ہوگی ۔ چند خواتین جن کی تعداد سو سے بھی کم ہوگی اگر ہر بات میں اپنی مرضی چلانے کی عادی ہیں تو یہ براہ راست تمام خواتین کے کردار کی بات تو نہ ہوئی بلکہ چند ایک بھٹکے ہوئے ذہنوں کی منفی سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔

کوئی بھی معاشرہ “ میری مرضی “ کے اصول پہ نہیں چل سکتا ، حتیٰ کہ کوئی حکمران یا صاحبِ اختیار بھی اپنی مرضی نہیں چلا سکتا کیونکہ وہ بھی اپنے عوام کو جواب دہ ہوتا ہے تو پھر کوئی عام شخص کسی بھی معاملے میں اپنی مرضی کیسے تھونپ سکتا ہے ؟ ہر انسان دوسرے کئی انسانوں کے ساتھ جُڑا ہوا ہوتا ہے اس لیے “ میری مرضی “ والا اصول اُسے معاشرے میں تنہائی کا شکار بھی کر سکتا ہے ۔ اب اگر ان خواتین کا ذکر کریں جو کہ کسی خواتین کے حقوق کی تنظیم کے زیرِ سایہ ایسی ریلی وغیرہ میں شرکت کرتی ہیں تو ان کا اصل مسئلہ میری مرضی والی بات نہیں بلکہ اس کے مقاصد ہمارے مذہب اسلام اور پاکستان کو بدنام کرنے کی سازش بھی ہو سکتی ہے جو کہ دنیا کو یہ دکھانا اور بتانا چاہتی ہوں کہ پاکستان اور اسلام میں خواتین کو کس قدر جبر ، ظُلم اور پابندیوں کا سامنا ہے حالانکہ درحقیقت مذہب اسلام میں خواتین کو جتنے حقوق اور برابری کی بنیاد پر زندگی گزارنے کا سلیقہ بتایا گیا ہے شاید ہی دنیا کا کوئی مذہب اس کے قریب قریب بھی ہو۔

ہمارے سامنے غیر مسلم ممالک جن میں ہندوستان ، یورپ اور امریکہ شامل ہیں خواتین کو کس قدر عدم تحفظ ہے ؟ برطانیہ یا بیشتر یورپی ممالک میں اگر خواتین اپنے شوہروں کو طلاق دے سکتی ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہاں خواتین آزاد زندگی گزار رہی ہیں بلکہ ایسی خواتین جو اپنے شوہروں کو طلاق دے دیتی ہیں ان کے ساتھ نہ تو کوئی شادی کرتا ہے اور نہ ہی انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جب کہ اس کے مقابلے میں اسلام میں بھی خواتین اپنے شوہر سے خلع کا لینے کا جائز حق حاصل ہے اور اس کے بعد بھی اگر کوئی عورت چاہے تو باعزت زندگی گزار سکتی ہے۔

ہمارے مذہب اسلام میں جہاں عورت کو اس قدر تحفظ اور حقوق حاصل ہیں اس پر تنقید کرنا یا پھر اس سے زیادہ آزادی مانگنا صریحاً گناہ کا ارتکاب ہوگا۔ احادیث اور قرآن پاک سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ایک خاتون کو بحیثیت ماں ، بیٹی ، بہن اور بیوی تمام ہی صورتوں میں جہاں ایک خاص مقام حاصل ہے وہیں اس کے بھی کچھ فرائض بھی ہیں۔ اب بات اگر بحیثیت بیوی ایک خاتون کے فرائض کی کی جائے تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ کسی بھی بیوی کے لیے اس کے شوہر کا مقام مجازی خدا کا سا ہے۔ جس طرح خدا کے احکامات سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا بالکل کوئی بھی عورت اپنے خاوند کی جائز بات سے انکار نہیں کرسکتی جبکہ اس کی برعکس اگر آج کوئی خاتون یہ کہتی ہوئی سڑکوں پر نکلتی ہے کہ اپنا کھانا خود گرم کرو تو اس خاتون کی اس سے بڑی بدقسمتی ہو ہی نہیں سکتی جو کہ سراسر اپنے خاوند کے حقوق اور اپنے فرائض سے انکار کر رہی ہے۔

ہمارے سامنے معاشرے میں ہزاروں لاکھوں مثالیں موجود ہیں کہ کسی بھی عورت کی ضد کی وجہ سے گھر ٹوٹ جاتے ہیں کہ اسے نوکری کرنے یا پھر بے جا گھر سے نکلنے سے منع کیا گیا ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں “ میری مرضی “ والی ڈیمانڈ سے روکا گیا ہو۔

آجکل معاشرے میں “ میری مرضی “ کی سب سے بڑی وجہ میڈیا ہے جو کہ کسی بھی انسان کو راہ راست سے بھٹکانے میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے بے جا استعمال نے ہر مرد اور خاتون کو اتنا زیادہ سوشل کر دیا ہے کہ چاہے کسی کو اپنے گھر کی خبر ہو نہ ہو فیس بک اور واٹس ایپ پر ہزاروں اجنبی اور نا محرم لوگ “ کلوز فرینڈ “ ضرور ہوں گے۔

یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ ہر کسی کو اپنی ذاتی زندگی اپنی مرضی سے گزارنے کا حق حاصل ہے لیکن اللہ کی طرف سے “ حدود “ کا تعین کر دیا گیا ہے جن کو کراس کرنا یقیناً اللہ کے احکامات سے روگردانی کرنا ہے۔ لیکن بد قسمتی سے آج کئی ایک این جی اوز اور شخصیات ہمارے معاشرے میں عورت کو حقوق اور آزادی کے نام پر بھڑکانے کا کام کر رہی ہیں جس سے “ میرا جسم میری مرضی “ اور “ کھانا خود گرم کرو “ والی سوچیں پیدا ہورہی ہیں۔

ہماری اقدار تو یہ تھیں کہ مشترکہ گھریلو نظام کو پروان چڑھایا جاتا اور رشتوں کو مضبوط کیا جاتا لیکن آجکل جونہی کسی لڑکی کی شادی ہوتی ہے تو اُس کی سب سے پہلی ڈیمانڈ ہی الگ گھر کی ہوتی ہے کیونکہ اس کے دماغ میں یہ بات بٹھا دی جاتی ہے کہ سسرال میں اسکی مرضی نہیں چلے گے اس لیے اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزارنے کے لیے ضروری ہے کہ الگ گھر ہو۔

اور یہ “ میری مرضی “ والا احتجاج کرتی خواتین کی بیشتر تعداد یا تو اپنی ازدواجی زندگی میں ناکامی کا سامنا کر چکی ہوں گی یا پھر اپنا گھر بسانے کی سوچ ہی نہیں رکھتی ہوں گی اس لیے ضروری نہیں ہے کہ یہ آزادی والی سوچ سارے معاشرے کی خواتین کی سوچ کی عکاسی کرتی ہو لیکن پھر بھی یہ سوج کس وجہ سے پیدا ہورہی ہے اُس بات پہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔

Comments

Avatar

امجد طفیل بھٹی

امجد طفیل بھٹی پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہیں اور نیشنل انجینیئرنگ سروسز (نیس پاک) میں سینئر انجینیئر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ آپ مختلف اردو روزناموں اور ویب سائٹس کے لیے سماجی و سیاسی موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.