ارطغرل غازی کا کردار اور ترکی - عقیل بٹ

تیرہویں صدی عیسوی میں عالم اسلام ایک عجیب کشمکش اور انتشار سے دوچار ہوا۔ اگر ایک طرف اس صدی کے آغاز میں شاہان خوارزم کو عروج حاصل ہوا اور انہوں نے اس وقت کی مسلم دنیا کے بڑے حصے پر حکوم قائم کرلینی چاہی تو دوسری طرف اسی صدی کے وسط میں منگولیا سے اٹھنے والے چنگیز خان کے طوفان بلاخیز نے نہ صرف یہ کہ شاہان خوارزم کی عزت و سطوت خاک میں ملا دی بلکہ ملت اسلامیہ کے دل بغداد کو اس طرح تاخت و تاراج کیا کہ اس کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔

لیکن چنگیز خان کا حملہ ایک طوفان تھا جو آیا اور اپنے پیچھے تباہی و بربادی کے آثار چھوڑتا ہوا گزر گیا۔ اس میں شک نہیں کہ چنگیز خان کے حملے کے وقت مسلم دنیا کا افتراق و انتشار اپنے شباب پر تھا۔ لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ تباہی و بربادی کے اس چنگیز خانی کھنڈر سے مسلم دنیا میں آل عثمان کی وہ مستحکم اور پائیدار حکومت قائم ہوئی جو وسعت اور پائیداری اور استحکام دونوں میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ چنگیز خان کے حملے نے مسلم دنیا کے مختلف علاقوں خاص طور پر ترکستان کے علاقے کو بری طرح تباہ و برباد کیا۔ سلطنت خوارزم کی تباہی و بربادی کے بعد بہت سارے ترک قبائل وطن چھوڑ کر نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ کہا جاتا ہے کہ انہیں قبائل میں جو چنگیز خان کے حملے کے بعداپنا وطن چھوڑ کر بھاگے تھے اور اب ادھر ادھر مارے مارے پھر رہے تھے عثمانیوں کے مورث اعلٰی ارطغرل کا قبیلہ بھی تھا۔ یہ قبیلہ اوغوز (Oguz) ترکوں کی ایک شاخ تھا اور ارطغرل کا باپ سلیمان شاہ قبیلے کا سردار تھا۔ شام کی طرف جاتے ہوئے جب یہ قبیلہ دریائے فرات کو پار کر رہا تھا کہ اس کا سردار سلیمان شاہ دریا میں ڈوب کر ہلاک ہو گیا۔ قبیلہ منتشر ہوگیا۔ بہت تھوڑے لوگ بچے اور وہ ارطغرل اور اس کے بھائی دوندار (Dundar) کی قیادت میں ایشیائے کوچک ک طرف روانہ ہوئے۔

عثمانیوں کی اس پوری ابتدائی تاریخ کو ترکی میں ایک طویل ٹی وی سیریل دریلش ارطغرل (Diriliş Ertuğrul) کے نام سے۲۰۱۴ میں پہلی بار نشر کیا گیا جو ارطغرل کے والد سلیمان شاہ سے شروع ہوکر ارطغرل کے انتقال تک سو سے زائد قسطوں پر مشتمل ہے۔ اس طویل سیریل کے ڈائریکٹراورپروڈیوسر ترکی کے مشہور ڈائریکٹر محمد بوزداغ (Mehmet Bozdag) ہے۔ اس سیریل میں تفصیل سے دکھایا گیا ہے کہ کس طرح ارطغرل اور اس کا قبیلہ اس وقت کے سلجوقی خلیفہ علاء الدین کیقباد کے ساتھ مل کر منگولوں اور بعد میں صلیبیوں کا دفاع کرتے ہیں اور کس طرح ارطغرل اپنے قبیلے کو داخلی اور خارجی سازشوں سے محفوظ رکھتے ہیں اور کس طرح اپنے قبیلے کے اندر سازشیں رچانے والوں اور درپردہ دشمنوں کو ساتھ دینے والوں کو بے نقاب کرکے کیفرکردار تک پہنچاتے ہیں۔

ترکی اور بیرون ترکی میں اس سیریل کو کافی پذیرائی ملی ہے۔ آپ کو ترکی میں شاید ہی کوئی آدمی ملے گا جس نے یہ سیریل نہ دیکھا ہو اس کو اگر ترکی کا قومی سیریل بھی کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا۔ اس سیریل کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ آپ گھروالوں کے ساتھ بیٹھ کر بلا جھجک اس کو دیکھ سکتے ہیں۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں اس کی باقائدہ نشریات پیش کی گئی ہے جن میں عرب ممالک، ایران، پاکستان، افغانستان، بنگلہ دیش، ہنگری، انڈونیشیا، روس، شمالی قبرص، آذربائیجان، یونان وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */