شخصیات نہیں ادارے - اسامہ الطاف

ادارے ریاست کے تابع ہوتے ہیں، شخصیات محور بن جائیں تو ادارے تباہ ہوتے ہیں اور ریاست بھی کمزور۔ تاریخ انسانی میں جتنے بھی ظالم گزرے سب کا ایک ہی نفسیاتی مسئلہ تھا، خود کو دنیا وما فیہا سے اعلیٰ وبرتر سمجھنا۔ کائنات کی خدائی کا دعویدار فرعون، سرکشوں کا سردار ٹھہرا، انانیت کی انتہا اور تکبر کے آخری درجہ پر تھا، بنی اسرائیل نے جب دریا پارکرلیا تو عقل کا تقاضا تھا کہ سمندر میں فوجوں کو نہ اتارا جائے لیکن شخصی انا کی تسکین مقصود ہو تو اجتماعی مفادات ثانوی ہوجاتے ہیں، خود بھی ڈوبا اور فوج کو بھی برباد کیا۔

دور جدید میں اسلامی دنیا کا المیہ ہی شخصیت پرستی رہا ہے، ایک اجتماعی سرطان جو پورے معاشرے کو کھوکھلا کردیں۔ مصر، یمن، لیبیااور شام کی تباہی کے اسباب کیا ہیں؟ شخص واحد کی خطا کاریاں اور دہائیوں معاشرے کا ان خطاؤں کو قبول کرنا۔

وطن عزیزمیں صورتحال نسبتاً بہتر ہے، استبدادی حکومت نہیں ہے، قومی ادارے تاہم یہاں پر بھی تباہ حال ہے، وجہ ایک ہی، قومی اداروں کو قومی امانت نہیں، شخصیات کی ذاتی جاگیر سمجھا گیا۔ 60ء کی دہائی میں قومی ائیرلائن کا شمار بہترین ائیرلائنوں میں ہوتاتھا، عالمی معیاروں کی عین مطابق یہ ائیر لائن عالمی رہنماوں کی پہلی پسند ہوتی۔ شخصی مرض کا شکار ہونے کے بعد حالت اب یہ ہے کہ اربوں کا قرضہ ایک طرف، معیار انتہائی پست، جہاز سلامتی اصول پر بھی پورے نہیں اترتے۔ حال ہی کا قصہ ہے، قومی ائیرلائن کا جہاز غائب ہوگیا، باکمال و لاجواب خبر نے سب کوحیران کردیا۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ جرمنی میں نیلام ہورہا ہے۔ اسٹیل مل کبھی نفع بخش ادارہ تھا، اب خبر یہ ہے کہ اسٹیل مل پر تالا لگا ہوا ہے اور ملازمین اپنے بقایا جات اور کئی ماہ کی تنخواہ وصول کرنے کے لیے سراپا احتجاج ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   اہل مذہب اور کارزار سیاست - نصراللہ گورایہ

تفتیشی اداروں کا حال بھی آسودہ نہیں۔ حالیہ تاریخ کے سب سے بڑے کیس کی سماعت کے دوران اعلی عدالت نے نیب چیئرمین سے کیس کے حوالے سے ان کی ذمہ داریوں پر استفسار کیا، موصوف نے تفتیش نہ ہونے کا سبب 'منتظمین کار'کی جانب سے توجہ نہ ملنے کوقرار دیا، تاہم منتظمین کار کا نام بتانے سے گریزاں رہے۔ حکمرانوں کے ایک اور شہرہ آفاق کیس پر انہوں نے کہا، تفتیش کی نہ مستقبل میں کوئی ارادہ ہے! معزز جج ششدر رہ گئے، کہا:نیب نے ہمارے سامنے دم توڑ دیا۔

عشروں سیاست کے میدان میں گزارنے کے باوجود سیاستدان اپنے چنگل سے آزاد نہ ہوسکے، ترقیاتی رشوت کے منصوبے اور تختیوں کی بہتات، ادارے مگر فرسودہ و بدحال، عوام دوست ہونے کے بجائے عوام دشمن۔ جیمز فریمان نے کہا تھا: سیاستدان آئندہ انتخابات، قائد آئندہ نسلوں کے بارے میں سوچتا ہے۔

ترجیحات کا نہیں بہتر سوچ کا فقدان ہے، حکمران پیدا کرنی والی اشرافیہ کی اکثریت خوف زدہ رہتی ہے، اللہ دتہ اور اللہ رکھا کی اولاد اگر معیاری تعلیم حاصل کریں، صحت کی سہولیات سے فائدہ اٹھائیں، بنیادی مسائل میں نہ الجھے تو سیاسی حقوق کا مطالبہ کریں گی، اشرافیہ کے تابع نہیں رہیں گی۔

ملک کا اعلیٰ ترین ادارہ پارلیمان، قانون سازی کا مکلف ہے، یہاں عوامی نمائندے عوامی مفاد کے امور پر بحث کرتے ہیں، جمہوریت کی بقا اور درستگی میں اس ادارے کا کردار کلیدی ہے، شخصیات کی پیروی اور دوسرے داروں سے ٹکراو پارلیمان کے تقدس کے منافی ہے۔ جمہوری تقسیم کار میں مقننہ و انتظامیہ کا نمائندہ پارلیمان ہے، عدالتی امور تاہم اس کے دائرہ اختیار سے خارج ہے، عدل کی بحالی کا تقاضا بھی یہی ہے۔ انصاف کا ترازو اگر ارکان پارلیمان کے ہاتھ میں آگیا تو ان کے احتساب کا طریقہ کار کیا ہوگا؟ عدالت اور پارلیمان پر ایک دوسرے کا احترام واجب، دونوں اداروں پر آئین کا احترام مگر زیادہ اہم ہے، افراط و تفریط سے بچاو کا یہی راستہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   اہل مذہب اور کارزار سیاست - نصراللہ گورایہ

شخصیات و اصحاب مناصب عارضی ہوتے ہیں اور غلطیوں سے مبرا بھی نہیں، نظام مملکت کی بقا اور عوامی مفاد کے تحفظ کے لیے اداروں کا شخصیاتی قیود سے آزاد ہونا ضروری ہے۔

Comments

اسامہ الطاف

اسامہ الطاف

کراچی سے تعلق رکھنے والے اسامہ الطاف جدہ میں مقیم ہیں اور کنگ عبد العزیز یونیورسٹی کے طالب علم ہیں۔ سعودی عرب اور پاکستان کے اخبارات و جرائد میں لکھتے رہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.