سرحد کے دو رُخ - ہلال احمد تانترے

اس مضمون کے موضوع کو ’سرحد کے دو رُخ‘ کا نام دینے میں ایک خاص مصلحت پیش فرماہے۔ آج سے کچھ دس سال پہلے کی یہ بات ہے جب بچپنے کے ایام میں راقم اس پروگرام کا نا ظر ہوا کر تا تھا۔ سرکاری ٹیلی ویژن پر چلائے جارہے اس پروگرام میں خونی لکیر کے آر پار کے حالات و واقعات کو تو ڑ مروڑ کر پیش کیا جارہا تھا۔ اُس پار (یعنٰی کہ پاکستانی زیرِ انتظام کشمیر) کے حالات کو اِس طرح پیش کیا جاتا تھا جیسے کہ اُن کی زندگی کسی نے اجیرن بنا دی ہو اور وہ وہاں صرف اور صرف تکالیف کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ حکومت کی فلاحی پالیسیوں کا فقدان ہونے کے ساتھ ساتھ اُنہیں ظلم و جبر کے ایام کاٹتے ہوئے دکھا یا جارہا تھا۔ اس کے برعکس اِس پار (یعنٰی کہ بھارتی زیرِانتظام جموں و کشمیر ) کے لوگوں کی زندگیاں کسی شاہی محل کی زندگی جیسے دکھائی جارہی تھیں۔ یہاں پر بھارتی افواج کے ظلم و جبر کو اُن کی فراخ دلی کے طور پر دکھایا جارہا تھا، بھارتی چمچوں کی کاریگری کو اُن کے عوام کے تعیں مخلص ہونے کے طور پر چلایا جارہا تھا۔ اِ س کے ساتھ ساتھ آخر میں یہ باور کرانے کی کوشش کی جارہی تھی، کہ اُس پار کے لوگ کتنے مظلوم و مقہور ہیں اور اِ س پار کے کتنے خوش و خرم؟ یہ تب کی بات ہے جب ہندوستان اور پاکستان کے مابین اتنی دشمنی نہیں تھی، جتنی صورتحال آج دگر گو ں ہے۔ ایک دوسرے کے لیڈران آپس میں ملاقاتیں کرتے تھے اور کرکٹ ٹیمیں بھی ایک دوسرے سے میچز کھیلا کرتی تھیں۔ اب جب کہ صورتحال اُس کے بالکل برعکس ہے اور اُسی تعصب اور ہٹ دھرمی نے پورے ہندوستانی میڈیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور پاکستان اور کشمیریوں کے خلاف زہر افشانی کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی جارہی۔ سیدھی سی بات ہے کہ پاکستان اور کشمیریوں کے خلاف لاوا اُگلنے میں اِن میڈیا ایجنسیز کا کتنا ہاتھ رہا ہوگا؟
ٰ
یہاں پرتمہید کے یہ کلمات باندھنے کی ایک خاص مصلحت ہے۔ ۹ جنوری کو پاکستان میں ایک سا ت سالہ بچی زینب انصاری کو اپنی قرآن کلاس لیتے وقت اغوا کیا گیا اور بعد میں اُسے جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد مردہ حالت میں پایا گیا، تو پورے پاکستان میں عوامی احتجاج کی ایک لہر چلی۔ میڈیا، سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں اِس واقعے کی مذمت کی گئی اور قصور واروں کو کڑی سے کڑی سزا دینے کی مانگ کی گئی۔انٹلی جنس ایجنسیز کی بر وقت کاروائی سے کیس کی فاسٹ ٹریک بنیادوں پر تحقیقات کی گئی اور بالآخر عمران علی، ایک درندہ صفت انسان کو پکڑا گیااور معاملہ عدالت میں پہنچایا گیا۔ سنچر، ۱۷ فروری کو لاہور شہر کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے زینب قتل کیس کے اس مرکز ی ملزم کو ایک تاریخی سزا دیتے ہوئے اغوا، جبری جنسی تشدد، قتل اور انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے تحت چار مرتبہ سزائے موت سنائی۔ عدالت کے اِس تاریخی فیصلے پر پوری دنیائے انسانیت نے اطمینان کا اظہار کیا اور پاکستان کی انتظامیہ اور عدلیہ کو دادِ تحسین دے دی گئی۔

اب بالکل اسی جیسے واقعے کا فوری اور تقابلی جائزہ پیش خدمت ہے۔ یہاں پر بھی واقع بالکل ویسا ہی ہے جیسا کہ قصور کی معصوم کلی زینب کے ساتھ ہوا۔ یہ کیس سرحد کے اِس پار کا ہے۔ کھٹوہ ضلع کے ہیرا نگر تحصیل میں ایک ۸ سالہ معصوم بچی کو اغوا کر کے اسے زیادتی کرنے کے بعد قتل کر کے چھوڑدیا گیا۔آصفہ نامی معصوم کلی بکروال طبقے سے تعلق رکھتی تھی اور اسے ۱۰ جنوری کے دن اس وقت اغوا کیاگیا جب وہ اپنے گھوڑوں کو نزدیکی ندی کے پاس پانی پلانے گئی تھی۔لیکن یہاں پر اس واقع کے بعد ایک عجیب صورتحال نے جنم لیا۔اس واقع کے خلاف جب انسانیت کے خیر خواہان نے احتجاج کرنے کی کوشش کی گئی تو انہیں ڈرایا دھمکایا گیا کہ احتجاج بند کیا جائے، ورنہ انہیں کسی کالے قانون کے تحت جیل کی کسی سڑی ہوئی کوٹھری میں ڈالا جائے گا۔ اس کے اب لے دے کے جس ایک شخص کو اس کیس میں پکڑا گیا، وہ پہلے تو حکومتی فورسز کا ایک اہلکار نکلا۔ اس کے بعد جب اس کے خلاف چارچ شیٹ داخل کیا گیا تو انہیں اسی ٹیم کا ایک فرد کے طور پر پایا گیا جو اس کیس کی تحقیقات کر رہی تھی۔ یہ بھی نہیں، اُس کے بعد ۱۶ فروری کو جموں میں سینکڑوں لوگوں نے سب ضلع مجسٹریٹ کے دفتر کے سامنے احتجاج کیا گیا کہ متعلقہ ملزم کو رہا کیا جائے۔ ہندو ایکتا مار چ کے زیر اہتمام اس ریلی میں شامل احتجاجی بھارت کا ترنگا لہرا کر ملزم دیپک کھجوریہ کو بے قصور قرار دے کر اُس کی رہائی کا پر زور اور دھمکی آمیز مطالبہ کررہے تھے۔ اس ریلی میں بھارتی جنتا پارٹی کے ضلعی صدر کے ساتھ ساتھ باقی کچھ ہندو انتہا پسند شامل تھے۔ حد یہ ہے کہ کہ اس ریلی میں احتجاجیوں کو تحفظ فراہم کرنے کی خاطر حکومتی فورسز ساتھ ساتھ چلی جارہی تھی۔ آصفہ نامی بچی کی بہیمانہ عصمت دری و قتل کے اس سنگین جرم کے مرتکب ملزم کی رہائی کے حق میں اس احتجاجی ریلی نے ماحول کے اندر نہ صرف آزردگی و بے چینی پھیلائی بلکہ ایک ڈراؤنی فضا کو بھی جنم دیا۔ بعد ازاں اس شرم ناک و ہندوستان کی انتظامیہ پر ایک مشکوک نظر سے دیکھنے والی اس ریلی کی عوامی حلقوں میں سخت مذمت کی گئی۔ بہت سارے لوگ اِسے ہندوتوا کی ایک کڑی کے طور پر دیکھتے ہیں کیوں کہ اس علاقے میں مسلمان گوجر و بکروال کا رہن سہن ہے۔ معصوم بچی کا ریپ کرنے کے بعد ملزم کے حق میں احتجاج کرنا یہ بتاتا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف اس علاقے میں ایک منصوبہ بند سازش کے تحت عرصہ حیات تنگ کیاجارہاہے۔ اسے پہلے بھی یہاں گوجر و بکروال طبقے پر ہندو شرناتھیوں کے ہاتھوں کئی ایک حملے کیے جاچکے ہیں۔

اُدھر جب کہ پاکستان میں ہوبہو اسی کیس کے ملزم کوعبرت ناک سزا دینے کے احکامات جاری ہورہے تھے اور اِدھر اُسی جیسے ملزم کی رہائی کے حق میں احتجاجی ریلی نکالی جارہی تھی۔ عوامی حلقوں میں یہ ایک دلچسپ موضوع بن گیا اور سوشل میڈیا پر یہ ایک ڈیبیٹ کی طرح ڈسکس ہو نے لگا۔ انسانیت کے غم خوار ہر متنفس نے اسے پاکستان اور بھارت کے عدلتی نظام و انتظامی ساخت کے متقابل میں دیکھا۔ بھارت میں بھی پاکستان کے عدالتی نظام کو سراہا گیا جبکہ بھارت کی انتظامیہ پر تنقید کی گئی۔ بھارت کے ایک فیس بک صارف جموں میں ریپ کے ملزم کی رہائی کے حق میں نکلی احتجاجی ریلی کے بارے میں اپنے ایک پوسٹ میں لکھتے ہیں کہ ’ ایک ہزیمت سے بھرا لمحہ ہے ہمارے لیے، عزت و افزاہی ہے پاکستان کی عدلیہ کے لیے کہ اس جیسے حیوان سے بدتر انسان کو کڑی سے کڑی سزا دی جارہی ہے، اور اسی کیس کے بالمقابل ہمارے یہاں لوگ اُس کے حق میں احتجاج کرنے کے لیے نکل رہے ہیں، اور وہ بھی ایک پولیس والا،اور وہ بھی بھارتی جھنڈا ہاتھ میں لہراتے ہوئے‘۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */