کیا قصور ہے اس کا؟ - مومنہ خان

سر تا پیر کرپٹ اوراخلاقی لحاظ سے لہو لہو معاشرے میں سانس لیتے ہوئے، جب گھٹن کا احساس شدید ہو جاتا ہے تو جنگلوں میں نکل جانا عین حق لگتا ہے۔ آفاقی قانونِ فطرت سے ‘الّا وسعھا’ کا پیمانہ لبریز ہونے سے چند ہی ثانیے پہلے ایسا پرروح اور دلفریب جھونکا آتا ہے کہ ہفتوں بلکہ مہینوں کی تمام تر کلفت ہوا ہو جاتی ہے اور انسان سوچتا ہی چلا جاتا کہ اتنی شفافیت، اتنی پاکیزگی؟ ایک ہی وقت اور ایک ہی زمیں پر کیا کیا رنگ ہیں یا رب؟ “آخر اس نے اپنی موجودگی کا احساس دلا کر ہی چھوڑا”

“مردوں سے کوئی الگ کہاں برداشت ہوتا ہے؟ ہر ایک کو اپنی دیوانیوں کی فہرست میں شامل رکھنا چاہتے ہیں” یہ اس کے الفاظ نہیں اس کی تھکن، اس کی جہدِ مسلسل میں ڈوبی سانسیں ہیں۔

یہ اس پاکیزہ ذہن کی صدائے غریباں ہے جو کروٹ کروٹ خود کو پریشان پاتی ہے۔

کیوں؟

کیا قصور ہے اس کا؟

کیونکہ وہ باغی ہے، اس نے بغاوت کی ہے۔

کس کے خلاف؟ اندھی تقلید کے خلاف، مغرب زدہ مخلوط یارانوں کے خلاف، جس نے مشرقی اور دینی اقدار کو آج بھی اپنے لیے باعثِ فخر جانا، جس نے کسی معاشرتی دباؤ میں آکر نہیں خالص اپنی رضا سے وقتی کشش کو ٹھکرایا، جس نے اپنی جوانی کو بے داغ رکھنے کا عزم کیا، جس نے “قلیل من الاخرین” کی صف میں کھڑے ہونے کا حوصلہ پیدا کیا اور معاشرہ اس کو کیا دینا چاہتا ہے؟ کچھ نہیں بس، اپنا جیسا بنانا چاہتا ہے ۔

ایک عام لڑکی، جو خواب ٹی وی سکرین کو دیکھ دیکھ بُنے اور پارک اور ریستوران میں خوابوں کی تعبیر ڈھونڈے۔ جو اس کی دیوانیوں کی فہرست میں ایک نام سے زیادہ کچھ نہ ہو۔ زیادہ نہیں بس اتنا کہوں گی کہ اے دنیا والو! ہر پتھر اٹھانے پر ایسی بیسیوں مل جائیں گی تمہیں۔ خدارا میری ان نایاب معصوم پاکیزہ روحوں کو مت اپنا نشانہ بناؤ، ان کو نایاب ہی رہنے دو۔ اگر تم ان کو بھی اپنی ہی صف میں گھسیٹو گے تو پھر ہماری قلب وجگر کو راحت کون پہنچائے گا۔ ہماری امید کا محور کون ہوگا؟

یہ بھی پڑھیں:   سوال کرنے کی ہمت - قادر خان یوسف زئی

اور ہاں! اے پاکیزہ قلب! تمہیں خود کو ملامت کرنے کی ہرگز بھی کوئی ضرورت نہیں۔ کیا تمہارے لیے اس سے بڑھ کر کوئی بات ہمت افزا ہو سکتی ہے کہ “وہ دیکھ رہا ہے اور وہ دلوں کے حال جانتا ہے۔”

تو یقین رکھو وہ تمہاری روح اور جسم کی جنگ کو دیکھ رہا ہے وہ معاف کرنے والا ہے۔ وہ استقامت دینے والا ہے۔ وہ جزا دینے والا ہے ہم سے مطلوب کوشش ہے نہ کہ نتیجہ!