اسلام نے عورت کو کن کن بلند مقامات سے نوازا؟ - ابو حسن

بہت سے لوگوں کے ذہن میں عورت کے بارے میں وہی ہندوانہ اور بعثت نبوی ﷺ سے پہلے کی سوچ آج بھی موجود ہے مسلمان ہونے کے باجود اور اس میں کچھ قصور ہمارا اپنا ہے قرآن و سنت ﷺ سے دور ہونے اور سیرت ﷺ کو نہ جاننے کی وجہ سے اور کچھ قصور ان نام نہاد علماء کا ہے جنہوں نے عوام الناس کی منفی پہلو کی طرف ذہن سازی کی

اسی طرح کچھ مبلغ سورۃ یوسف آیت "إِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيمٌ" کو دلیل بنا کر کہتے کہ عورتوں کا مکر وفریب بہت بڑا ہے،

بھائی کن عورتوں کا؟ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ اے دنیا کی عورتوں تمہارے مکر وفریب بہت بڑے ہیں۔ اللہ تعالیٰ تو عزیز مصر کا قصہ بیان کر رہے ہیں جو کہ کافر تھا اور وہ بات بھی کافر عورتوں کے متعلق کہہ رہا ہے۔ اور کافر سےدینی احکامات اور شرعی حکم نہیں لیے جاسکتے اور نہ ہی مسلمان عورتوں کے حقوق پر ظلم کرو اور نہ ہی انکی شان کو گرانے کی کوشش کرو جو قران و سنت نے انکو عطا کی ہے

بلکہ سورۃ یوسف میں ہی یعقوب علیہ السلام کی زبان سے اللہ تعالیٰ نے مردوں کے بارے یہ آیت "قَالَ يَا بُنَيَّ لَا تَقْصُصْ رُؤْيَاكَ عَلَىٰ إِخْوَتِكَ فَيَكِيدُوا لَكَ كَيْدًا" انہوں نے کہا کہ بیٹا اپنے خواب کا ذکر اپنے بھائیوں سے نہ کرنا نہیں تو وہ تمہارے حق میں کوئی فریب کی چال چلیں گے۔ تو کیا اس سے سب مرد مراد لے لیے جائیں گے؟ ہرگز نہیں تو آئیے اب تحریر کا مطالعہ کریں:

ماں:

اسلام نے عورت کو بہت بلند مقام عطا کیا ہے عورت کی بطور ماں شان بلند کرتے ہوئے یہ واجب قرار دیا ہےکہ ماں کے ساتھ حسن سلوک اور اچھے طریقے سے پیش آنا ہے اس کی اطاعت کرنی ہے بلکہ اس کی رضا مندی کو اللہ تعالیٰ کی رضا مندی قرار دیاہے اسی طرح یہ بھی بتلایا کہ جنت ماں کے قدموں تلے ہے یعنی مطلب یہ ہے کہ جنت کا قریب ترین راستہ ماں کی خدمت سے ملے گا اس کی نافرمانی کو حرام قرار دیا بلکہ محض اف کہنے کو بھی حرام قرار دیا نیز والدہ کے حقوق والد کے حقوق سے بھی بڑے قرار دئیے ایسے ہی بڑھاپے اور کمزوری کی عمر میں والدہ کا خیال رکھنے پر زور دیا اس بارے میں متعدد قرآن و سنت کی نصوص موجود ہیں۔

مثال کے طور پر"وَوَصَّيْنَا الإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ إِحْسَانًا" اور ہم نے انسان کو تاکیدی نصیحت کی ہے کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے۔ الأحقاف:15

اسی طرح فرمایا " آپ کے پروردگار نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تم اس کے علاوہ اور کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ بہتر سلوک کرو۔ اگر ان میں سے کوئی ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائیں تو انہیں اف تک نہ کہو، نہ ہی انہیں جھڑکو اور ان سے بات کرو تو ادب سے کرو۔ اور ان پر رحم کرتے ہوئے انکساری سے ان کے آگے جھکے رہو اور ان کے حق میں دعا کرو کہ پروردگار! ان پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپنے میں مجھے (محبت و شفقت) سے پالا تھا " الإسراء:23، 24

معاویہ بن جاہمہ سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا "اللہ کے رسول ﷺ! میں رضائے الہی اور آخرت کی غرض سےآپ کے ساتھ جہاد میں شرکت کرنا چاہتا ہوں "

تو اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تیرا بھلا ہو! تمہاری والدہ زندہ ہیں؟

میں نے کہا " جی ہاں "

تو آپ ﷺ نے فرمایا واپس جاؤ اوران کی خدمت کرو

اس پر میں آپ ﷺ کی دوسری جانب سے آیا اور عرض کیا "اللہ کے رسول ﷺ! میں رضائے الہی اور آخرت کی غرض سے آپ کے ساتھ جہاد میں شرکت کرنا چاہتا ہوں "

تو اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تیرا بھلا ہو! تمہاری والدہ زندہ ہیں؟

میں نے کہا "اللہ کے رسول ﷺ! جی ہاں زندہ ہے"

تو آپ ﷺ نے فرمایا ان کے پاس واپس جاؤ اور ان کی خدمت کرو

اس کے بعد میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے سے آیا اور عرض کیا "اللہ کے رسول! میں رضائے الہی اور آخرت کی غرض سےآپ ﷺ کے ساتھ جہاد میں شرکت کرنا چاہتا ہوں "

تو اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تیرا بھلا ہو! تمہاری والدہ زندہ ہیں؟

میں نے کہا "اللہ کے رسول ﷺ! جی ہاں زندہ ہے"

تو آپ ﷺ نے فرمایا تمہارا بھلا ہو! اپنی والدہ کے قدموں میں پڑے رہو وہیں پر جنت ہے

سنن ابن ماجہ اور سنن نسائی کے الفاظ یہ ہیں" اپنی والدہ کی خدمت شعار بنا لو کیونکہ جنت ان کے قدموں تلے ہے"

اسی طرح متفق علیہ میں ہے کہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ " ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا

اللہ کے رسول ﷺ! میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟

تو آپ ﷺ نے فرمایا تمہاری والدہ

سائل نے کہا پھر کون؟ آپ ﷺ نے فرمایا تمہاری والدہ

سائل نے کہا پھر کون؟ آپ ﷺ نے فرمایا تمہاری والدہ

سائل نے کہا ان کے بعد؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا تمہارا والد

اس کے علاوہ اور بھی بہت سی آیات اور احادیث ہیں جن کے ذکر کرنے کی یہاں گنجائش نہیں ہے۔

جب تک اولاد صاحب استطاعت و ثروت ہو تو والدہ کے اخراجات کی ذمہ داری اسلام نے اولاد پر عائد کی ہے کہ والدہ کی تمام تر ضروریات انہوں نے پوری کرنی ہیں؛ یہی وجہ ہے کہ اتنی صدیاں گزرنے کے بعد بھی مسلمانوں کی جانب سے کوئی ایک ایسا واقعہ نظر نہیں آتا جس میں عورت کو اولڈ ایج ہوم میں بے یار و مدد گار چھوڑ دیا گیا ہو یا بیٹے نے ماں کو گھر سے نکال دیا ہو یا بیٹے ماں کے اخراجات برداشت کرنے سے انکاری ہو گئے ہوں یا بیٹوں کی موجودگی میں ماں کو اپنا پیٹ پالنے کے لیے کام کاج کی ضرورت محسوس ہوئی ہو۔

بیٹی:

اسلام عورت کو بطوربیٹی بھی بہت مقام دیتاہے، جگر کے ٹکڑے کا خطاب ملا زبان رسول سے، چنانچہ اسلام نے بچیوں کی تعلیم و تربیت کی خوب ترغیب دی ہے، اور بچیوں کی اچھی تربیت پر اجر عظیم مقرر کیا ہے جیسے کہ نبی ﷺ کا فرمان ہے" جو شخص بلوغت تک دو بچیوں کی پرورش کرے تو وہ قیامت کے دن میرے ساتھ ایسے آئے گا اور آپ ﷺ نے اپنی انگلیاں ملا کر دکھائیں " صحیح مسلم

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ بیٹی ہیں اورنبی ﷺ ان کا اکرام کس انداز میں کرتے ہیں؟ جب وہ اپنے بابا سے ملنے کے لیے تشریف لاتیں تو ان کے ماتھے پر بوسہ دے کر اور اپنے پاس بٹھاتے اور بیٹی کے لیے فرمایا یہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے، أو كما قال

اسی طرح سنن ابن ماجہ میں عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " جس شخص کی تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان پر صبر بھی کرے انہیں کھلے دل کے ساتھ کھلائے پلائےاور پہنائے تو وہ اس کے لیے روزِ قیامت آگ سے پردہ ہوں گی "

کیا خیال ہے؟ اتنا بڑی کامیابی اس ہولناکیوں کے دن جب ہر نفس اپنی جان بچانے کے لیے سب کچھ لٹانے کے لیے تیار ہوگا اور اسی عورت جو کہ بیٹی شکل میں اللہ تعالیٰ نے عطا کی جہنم کی آگ سےپردہ ہونگی، اللہ اکبر

اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو بیٹی جیسی عظیم نعمت سے نوازا ہے تو جتنا اس رب العزت کا شکر ادا کریں اتنا ہی کم ہے کیونکہ اس نے صرف بیٹی نہیں بلکہ آپ کے لیے جہنم کی آگ سے آڑ پیدا کردی اور آپ کی بخشش کا ایک ذریعہ پیدا کردیا اور دوعطا کردیں تو قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ کا ساتھ اب اس سے بڑی اور کیا سعادت والی بات ہوگی؟ اور جسکو قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ کا ساتھ نصیب ہوگیا پھر تو جنت الفردوس ہی اس کا ٹھکانا ہوگا ان شاءاللہ، اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ اس بیٹی کی تعلیم و تربیت آپ کیسی کرتے ہیں؟

بیوی:

اسلام نے عورت کی بطورِ بیوی بھی خوب عزت بخشی ہے چنانچہ خاوندوں کو بیویوں کے ساتھ بھلائی کا حکم دیا بیوی کے ساتھ حسن معاشرت کا حکم دیا اور یہ بھی بتلایا کہ بیوی کے بھی خاوند کے برابر حقوق ہیں البتہ خاوند کو بیوی پر حاکمیت حاصل ہے کیونکہ خاوند تمام تر اخراجات کا ذمہ دار اورگھر کا سربراہ ہے یہ بھی واضح کیا کہ مسلمانوں میں سے بہترین وہی ہے جو اپنی اہلیہ کے ساتھ اچھے انداز سے رہتا ہے بیوی کی رضا مندی کے بغیر بیوی کی دولت ہتھیانا حرام قرار دیا قرآن مجید میں بیویوں کے حقوق کے لیے وارد آیات میں سے کچھ یہ ہیں

"وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ" اور ان کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو، النساء:19

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا "اور عورتوں کے بھی ویسے ہی حق ہیں جیسے ان پر مردوں کے حق ہیں اچھے انداز کے ساتھ۔ البتہ مردوں کو عورتوں پر فضیلت ہے اور اللہ تعالیٰ بڑا غالب خوب حکمت والا ہے " البقرة:228

آپ 28 پارہ کی پہلی ہی سورت کو پڑھ لیں، یہ بھی ایک مسلمان بیوی اپنے شوہر کی غلطی کو لیکر رسول اللہ کے پاس آئیں اورعرض کیا کہ میرے خاوند نے مجھ سے "ظہار " کردیا ہے اور چونکہ یہ غلطی سے ہوگیا ہے آپ ﷺ کچھ کریں ( تفصیل کی بجائے مختصر لکھ رہا ہوں )، آپ ﷺ نے فرمایا خولہ تو اس پر حرام ہوگئی، عرض کیا میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، جوانی بھی ڈھل چکی، خاوند بھی بوڑھا ہے آپ ﷺ کچھ کریں، آپ ﷺ نے پہلی شریعت کے مطابق پھر فرمایا خولہ تو اس پر حرام ہوگئی، وہ پھر یہی دھراتیں، آپ ﷺ نے منہ دوسری طرف کرلیا، وہ رونے لگیں، سیدہ عائشہ فرماتی ہیں اس کے رونے پر میں بھی رونے لگ گئی اتنے میں وحی کے آثار نمودار ہونے لگے اور میں نے خولہ کو چپ کروانا چاہا کہ دیکھو آپ ﷺ وحی نازل ہورہی ہے خاموشی اختیار کرو تو وہ اور زور زور سے رونے لگیں اور اللہ رب العزت سے التجا کرنے لگیں، اے اللہ میرے حق میں فیصلہ اتار، آپ ﷺ نے پسینہ پونچھا اور فرمایا "مبارک ہو " اللہ نے تیرے حق میں فیصلہ نازل کیا اور پہلے سے چلی آتی شریعت کو ہی بدل دیا، أو كما قال

گھر کی معاشرت اور عورتوں کے مخصوص مسائل ہمیں امہات المؤمنین سے ہی ملے۔

اسی طرح نبی ﷺ کا فرمان ہے"خواتین کے ساتھ بھلائی کی وصیت مجھ سے لے لو" متفق علیہ

ایسے ہی آپ ﷺ کا فرمان ہے" تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل خانہ کے لیے بہتر ہو اور میں اپنے اہل خانہ کے لیے تم سب سے زیادہ بہتر (خیال رکھنے والا) ہوں " ترمذی، ابن ماجہ

نبی كريم ﷺ نے دين والی عورت سے نكاح كرنے كی ترغيب دلاتے ہوئے فرمايا " عورت كے ساتھ چار اسباب كی بنا پر نكاح كيا جاتا ہے، اس كے مال و دولت كی وجہ سے، اور اس كے حسب و نسب كی بنا پر، اور اس كی خوبصورتی و جمال كی وجہ سے، اور اس كے دين كی بنا پر، چنانچہ تم دين والی كو اختيار كرو تيرا ہاتھ خاک ميں ملے " متفق علیہ

اگر آپ کو دین دار نہیں ملی تو اس کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے دین سیکھانے کی کوشش کریں اور اپنی بیٹی کو ایسی سعادت والی بننے کے لیے کوشش کریں۔

رسول كريم ﷺ كا فرمان ہے" دنيا كا بہترين مال و متاع مومن عورت ہے اگر تم اسے ديكھو تو تجھے اچھی لگی اور خوش كر دے اور اگر تم اسے حكم دو تو وہ تمہاری اطاعت كرے اور اگر تم اس كے پاس نہ ہو تو وہ اپنے نفس و عزت كی اور آپ كے مال كی حفاظت كرے "

اس کے علاوہ اور بھی بہت احادیث اور واقعات ہیں جن کے ذکر کرنے کی یہاں گنجائش نہیں ہے۔

اسلام نے عورت کو بطور بہن، پھوپھی اور خالہ بھی عزت اور اکرام سے نوازا ہے اسلام نے ان کے ساتھ صلہ رحمی کا حکم دیا ہےاوراس کی خوب ترغیب دلائی ہے متعدد نصوص میں ان سے قطع تعلقی کو حرام قرار دیا ہے۔ جیسے کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے" لوگو! سلام عام کرو، کھانا کھلاؤ، صلہ رحمی کرو، جب لوگ سوئے ہوئے ہوں تو رات کے وقت نماز پڑھو تو تم جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ گے " ابن ماجہ

نواسی:

اسلام نے عورت کو بطور نواسی بھی عزت اور اکرام سے نوازا ہے، سیدہ امامہ بنت زینب رضی اللہ عنہما کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکو گود میں اٹھا کر عصر کی نماز کی امامت کروائی اور یہ سنت ﷺ ہمیں انہی سے ملی، پھر ایک بار کہیں سے ایک ہار آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا یہ ہار میں اسکو دونگا جس سے میں سب سے زیادہ پیار کرتا ہوں اور امہات المؤمنین کا تجسس بھی بڑھ گیا حتی کہ سیدہ عائشہ فرماتی ہیں مجھے لگا کہ آپ ﷺ یہ ہار مجھے عنائیت فرمائیں گے لیکن سب نے دیکھا کہ آپ ﷺ نے یہ ہار سیدہ امامہ بنت زینب رضی اللہ عنہما کے گلے میں پہنایا، أو كما قال، اللہ اکبر

خالہ:

اسلام نے عورت کو بطور خالہ بھی عزت اور اکرام سے نوازا ہے، اسلام نے ان کے ساتھ صلہ رحمی کا حکم دیا ہےاوراس کی خوب ترغیب دلائی ہے، متعدد نصوص میں ان سے قطع تعلقی کو حرام قرار دیاہے،

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ " رسول كريم ﷺ نے فرمایا خالہ ماں کی جگہ ہے " ابوداؤد

اسی طرح ایک اور مقام پر ایک صحابی سے کبیرہ گناہ سر زد ہوگیا اور وہ حاضر خدمت ہوکر اس کا حل پوچھ رہا ہے

حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ ایک شخص بارگاہ نبوی میں حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ ﷺ میں نے بہت بڑا گناہ کیا ہے کیا میرے لیے توبہ ہے؟

فرمایا کہ " تمہاری والدہ ہے؟

عرض کیا نہیں

آپ ﷺ نے فرمایا خالہ؟

عرض کیا جی ہاں

آپ ﷺ نے فرمایا پھر اس کے ساتھ حسن سلوک کرو " جامع ترمذی

عورت كو شرم و حياء كے زيور سے مزين ہونا چاہيے جسے رسول كريم ﷺ نے ايمان كا ايک حصہ اور شاخ قرار ديا ہے اور پھر شرعی اور عرفی طور پر بھی شرم حياء كا حكم ہے كہ عورت كو باپردہ اور عفت و عصمت كے ساتھ رہنے چاہيے اور اسے ايسا اخلاق اپنانا چاہيے جو اسے فتنہ و خرابياں اور شک كے مقام سے دور ركھے

قرآن مجيد كا ظاہر اس پر دلالت كرتا ہے كہ عورت كسی دوسری عورت كے سامنے وہی كچھ ظاہر كر سكتی ہے جو وہ اپنے كسی محرم مرد كے سامنے ظاہر كر سكتی ہے جس كی عام طور پر گھر ميں كام كاج كرتے ہوئےظاہر كرنے كی عادت بن چكی ہے

جيسا كہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ كا فرمان ہے "اور آپ مومن عورتوں كو كہہ ديجئے كہ وہ بھی اپنی نگاہيں نيچی ركھيں اور اپنی شرمگاہوں كی حفاظت كريں اور اپنی زينت كو ظاہر نہ كريں سوائے اسكے جو ظاہر ہے اوراپنے گريبانوں پر اپنی اوڑھنياں ڈالے رہيں، اور اپنی آرائش كو كسی كے سامنے ظاہر نہ كريں سوائے اپنے خاوندوں كے يا اپنے والد كے، يا اپنے سسر كے يا اپنے بيٹوں كے يا اپنے خاوند كے بيٹوں كے يا اپنے بھائيوں كے يا اپنے بھتيجوں كے يا اپنے بھانجوں كے يا اپنے ميل جول كی عورتوں كے يا غلاموں كے يا ايسے نوكر چاكر مردوں كے جو شہوت والے نہ ہوں، يا ايسے بچوں كے جو عورتوں كے پردے كی باتوں سے مطلع نہيں اور اس طرح زور زور سے پاؤں مار كر نہ چليں كہ انكی پوشيدہ زينت معلوم ہو جائے اے مسلمانو! تم سب كے سب اللہ كی جانب توبہ كرو تا كہ تم نجات پا جاؤ " النور 31

اور جب نص قرآنی يہ ہے تو سنت نبوی ﷺ بھی اس پر دلالت كرتی ہے، كيونكہ رسول كريم ﷺكی ازواج مطہرات، اور صحابہ كرام كی بيويوں كا بھی عمل اسی پر رہا ہے اور ان كے بعد امت كی عورتوں كا عمل بھی ہمارے اس دور تک يہی رہا ہے اور آيت ميں مذكورين كے سامنے جو ظاہركرنے كے متعلق آيا ہے يہ وہی اعضاء ہيں جو عادتا عورت گھر ميں كام كاج كے وقت ظاہر كرتی ہے اور اس كے ليے اس سے اجتناب كرنا مشكل ہوتا ہے مثلا سر اور دونوں ہاتھوں، اور گردن، اور دونوں قدم ليكن اس كے علاوہ اور اعضاء بھی ننگے كرنے ميں وسعت اختيار كرنا ايسی چيز ہے جس كے جواز پر كتاب و سنت سے كوئی دليل نہيں ملتی، اور پھر يہ عورت كے ليے بھی فتنہ اور خرابی كی راہ ہے، اور يہ ان عورتوں كے مابين موجود ہے، اور اس ميں دوسری عورتوں كے ليے برا نمونہ بھی ہے.

اور صحيح مسلم ميں رسول كريم ﷺ كا فرمان ہے "جہنميوں کی دو قسميں ہيں جنہيں ميں نے نہيں ديكھا ايک وہ قوم جن كے ہاتھوں ميں گائے کی دموں جيسے كوڑے ہوں گے وہ اس سے لوگوں كو مارينگے اور وہ لباس پہننے والی ننگی عورتيں جو خود مائل ہونے والی اور دوسروں كو مائل كرنے والی ان كے سر بختی اونٹوں کی مائل كوہانوں کی طرح ہوں گے وہ نہ تو جنت ميں داخل ہونگی اور نہ ہی جنت کی خوشبو ہی پائينگی حالانكہ جنت کی خوشبو اتنی اتنی مسافت سے پائی جاتی ہے "صحيح مسلم

اور " كاسيات عاريات " كا معنی يہ ہے كہ عورت ايسا لباس پہنے جو اسے چھپائے ہی نہ تو اس نے لباس تو پہن ركھا ہے ليكن حقيقت ميں وہ ننگی ہے مثلا جس عورت نے اتنا باريک لباس پہن ركھا ہو جو نيچے سے اس کی جلد کی رنگت بھی واضح كر رہا ہو يا پھر وہ لباس جو عورت كے جسم كے اعضاء اور جوڑ اور انگ انگ كو واضح كر رہا ہو يا پھر وہ چھوٹا لباس جس سے جسم كے بعض اعضاء ننگے ہو رہے ہوں اس ليے مسلمان عورتوں پر يہ متعين ہو جاتا ہے كہ وہ اس طريقہ كو اختيار كريں جس پرامہات المومنين اور صحابہ كرام کی عورتيں تھيں اوراس امت ميں سے انکی بہتر طريقہ پر پيروی كرنے والوں کی عورتوں کی راہ كو اختيار كريں اورستر پوشی اورعزت و حشمت اورعفت و پاكدامنی کی حرص ركھيں كيونكہ يہ فتنہ كے اسباب سے بہت دور ہے اور پھر خواہشات اور فحش كاموں كے اسباب كو ابھارنے والی اشياء سے نفس كو پاک صاف ركھتا ہے

اسی طرح مسلمان عورتوں كو اللہ تعالیٰ اور اس كے رسول ﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری كرتے اور اللہ كی جانب سے اجر و ثواب كی اميد اور اللہ تعالیٰ كے عقاب و سزا كا خوف ركھتے ہوئے اللہ تعالیٰ اور اس كے رسول كے حرام كردہ لباس جس ميں كفار اور فاحشہ عورتوں كی مشابہت ہوتی ہو سے اجتناب كرنا چاہيے اسی طرح ہر مسلمان پر واجب ہے كہ وہ اللہ تعالیٰ كا تقوی اختيار كرتے ہوئے اپنے ماتحت عورتوں كے متعلق اللہ سے ڈرے اور انہيں اللہ تعالیٰ اور رسول ﷺ كی جانب سے حرام كردہ فحش اور ننگا اور پرقتن لباس نہ پہننے دے اور اسے يہ معلوم ہونا چاہيے كہ وہ ايک ذمہ دار ہے اور اس نے اپنی رعايا كے متعلق روز قيامت جواب دينا ہے پھر کبھی موقع ملا تو إن شاء اللہ مزید اس پر لکھوں گا۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے كہ وہ مسلمانوں كی حالت درست كرے اور ہم سب كو صحيح راہ كی توفيق نصيب فرمائے يقينا اللہ تعالیٰ سننے والا اور قبول كرنے والا اور قريب ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس دین پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے کہ جس دین کو لیکر سیدالاولین و الاخرین ﷺ آئے اور جس پر صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین نے عمل کرتے ہوئے اپنی زندگیوں کو گزارا اور جنت کی بشارتیں پاتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوئے اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان کے نقشے قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور اللہ تعالیٰ ہمارے نبی محمد ﷺ اور ان كی آل اور ان كے صحابہ كرام پر اپنی رحمتيں نازل فرمائے.آمین

Comments

ابو حسن

ابو حسن

میاں سعید، کنیت ابو حسن، 11 سال سعودی عرب میں قیام کے بعد اب 2012ء سے کینیڈا میں مقیم ہیں الیکٹرک کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ دین کے طالب علم اور اسلامی کتب و تاریخ سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔ دعوت الی اللہ اور ختم نبوت کو اپنا مقصد سمجھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.