سائبان تلے - ام محمد سلمان

آئے ہائے.... یہ کیا چل رہا ہے بھائی؟ اے کسی نے مجھے بتایا بھی نہیں... کب کا ہے یہ اخبار؟

اے زینب بٹیا! ذرا چشمہ تو لانا میرا۔۔۔۔ توبہ ہے نگوڑ ماریوں کو ذرا شرم نہ آئی ایسی حرکتیں کرتے ہوئے، قیامت کی نشانیاں ہیں بھائی سب قیامت کی نشانیاں۔۔۔۔۔ اماں بی نے زور و شور سے کانوں کو ہاتھ لگایا۔

دیکھو تو سہی ان عورتوں کو، دیدوں کا پانی مر گیا کیا؟

اے توبہ توبہ ایسی بے حیائی۔۔۔ ؟

اتنی دیر میں زینب چشمہ لے آئی اور اماں بی نے جھٹ آنکھوں پر لگا لیا -

آگے جو کچھ وہ پڑھ رہی تھیں اور جو کچھ تصویروں میں دیکھ رہی تھیں وہ ان کا میٹر گھمانے کے لیے کافی تھا۔ کانوں کو ہاتھ لگا لیے۔۔۔۔ استغفر اللہ! استغفر اللہ!

اے اللہ! توبہ توبہ۔۔۔۔ میرے مالک توبہ۔۔۔۔ میری نسلوں کو اس فتنے سے بچانا۔۔ الٰہی! کیا زمانہ آگیا، یہ آج کل کی لونڈیوں میں ذرا شرم و لحاظ نہ رہی؟ لو بتاؤ بھلا جب میاں دن بھر کا تھکا ہارا گھر میں آئے گا تو یہ اس کو روٹی کا بھی نہ پوچھیں گی۔۔۔ ؟ کیا کہہ رہی ہیں کہ "اپنا کھانا خود گرم کر لو۔ "

آئے ہائے ان پڑھی لکھی جاہل عورتوں کو ذرا خیال نہ آیا کہ جس شوہر کے لیے پیارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے یہ فرمایا کہ اگر مخلوق میں سے کسی کو سجدہ کرنے کی اجازت ہوتی تو میں بیوی کو کہتا کہ شوہر کو سجدہ کرے۔۔۔۔ یہ اسی کو بے توقیر کررہی ہیں؟ اے میں کہتی ہوں، ہم میٹرک پاس دیہاتی عورتوں کو یہ بات پتا ہے اور انہیں نہیں پتا؟

جس شوہر کا اللہ نے اتنا مرتبہ رکھا اسی کو کھانے کو نہ پوچھیں گی؟

رات دن جن کی کمائیوں پر عیش کررہی ہیں، انہی کو ٹھینگا دکھائیں گی؟ وہ جو بیچارہ ساری عمر دھکے کھاتا پھرتا ہے بیوی بچوں کی کفالت کے لیے، اپنی ساری کمائی ان پر لٹا دیتا ہے، ان کی فرمائشیں پوری کرتا ہے، بچوں کو مہنگے مہنگے اسکولوں میں پڑھاتا ہے، کبھی گھمانے لے جاتا ہے۔ ان کے لیے مکان بنواتا ہے، کہیں پلاٹ خریدتا ہے، در در کے دھکے کھاتا ہے،،، بھلا اسی شوہر کو کھانا گرم کر کے نہ دیں گی تو اور کس کو دیں گی؟ شوہر کو چھوڑ کر کس کے ساتھ احسان کریں گی جا کر ؟ کیا ان کے شکریے اور احسان کا مستحق شوہر سے زیادہ کوئی اور بھی ہے؟؟؟ سچ کہا اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ زیادہ تر عورتیں شوہروں کی ناشکری کی وجہ سے جہنم میں جائیں گی -

بھلا کھانا گرم کرنے میں کون سے ہاتھی گھوڑے لگتے ہیں؟

اور آجکل تو کتنی سہولت ہے بھئی، سالن اوون میں گرم کر لو اور روٹی پکا کر ہاٹ پاٹ میں رکھ دو، تب بھی زور پڑ رہے ہیں ان شہری عورتوں کو ؟ اور اوپر سے کہہ رہی ہیں کہ "ہم سخت لونڈا ہیں"؟ لو بتاؤ ذرا۔۔۔ یہ سخت جان لونڈا بنیں گی؟ اے میں کہتی ہوں بیبیو ! پہلے ڈھنگ سے عورت تو بن جاؤ۔ غضب خدا کا۔۔۔۔ خوفِ خدا ہی نہ رہا ذرا بھی -

ہمارے گاؤں کی عورتوں سے تو مقابلہ کر لو پہلے۔ چکی پیستی ہیں، دہی بلوتی ہیں، سل پر مسالے پیستی ہیں، کنویں سے پانی نکالتی ہیں، مویشیوں کو چارہ کھلاتی ہیں اور اس کے علاوہ تمام گھر کے کام بھی کرتی ہیں۔ کڑھائیاں کرتی ہیں، کروشیا بنتی ہیں، بچوں کو لے کر بیٹھتی ہیں، تختیاں لکھواتی ہیں اور یہ سب کچھ کر کے بھی کبھی شوہروں کی ناقدری نہیں کرتیں -

اور یہ دوسری جگہ دیکھو کیا لکھا ہے بینر پہ "ہمارا جسم ہماری مرضی۔ " شرم تو نہ آئی ایسے بے حیائی کے نعرے لگاتے ہوئے؟ ان پڑھی لکھی جاہلوں کو اتنا نہیں پتا کہ یہ جسم ہمارا ہے نہ مرضی ہماری ہے - یہ جسم بھی میرے مولا کا اور مرضی بھی اسی کی چلے گی۔ مسلمان کا تو کام ہی اللہ کی غلامی کرنا ہے۔ مسلم کا تو مطلب ہی یہ ہے کہ اللہ میں تیرا فرمانبردار ہو گیا۔ میں جھک گیا تیرے سامنے۔ اب میری کوئی اپنی مرضی نہیں۔ میرا سب کچھ تیرا، اور بس" تُو" میرا -

اے زینب بٹیا! تو سن رہی ہے میری بات؟

جی اماں بی! میں برابر آپ کی بات سن رہی ہوں۔ لیکن میں سوچ رہی ہوں کیا پتا یہ عورتیں واقعی دکھی ہوں، ان کا استحصال کیا جارہا ہو، ورنہ کوئی کیوں سڑکوں پر آئے اماں بی؟ زینب نے سوالیہ نظروں سے ان کی طرف دیکھا۔

اے میری بھولی زینب! یہ دیکھ، ذرا ان کی شکلیں دیکھ، یہ کہیں سے لگ رہی ہیں کہ انہیں کسی نے ستایا ہے؟ ان کے تو مرد بھی ان سے بات کرنے سے پہلے سو دفعہ سوچتے ہوں گے۔ بے دید، بے لحاظ عورتیں، ذرا نہ سوچا کے بچے کیا سیکھیں گے ان سے؟ اور بات صرف اتنی نہیں ہے زینب! بلکہ ان پلے کارڈز پر جو کچھ لکھا ہے یہ کسی اور ہی بات کی طرف اشارہ ہے۔

یہ بے شرم عورتیں کسی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت سڑکوں پر آئی ہیں۔ یہ پاکستانی خواتین کو بھی مغرب کی عورتوں کی طرح بے آسرا کرنا چاہتی ہیں۔ یہ انہیں ان کے محرم مردوں کے "سائبان تلے" سے نکالنا چاہتی ہیں - اسلام نے عورت کو جو عزت دی ہے، اسے پردے کا تحفظ دیا ہے، اسے گھر کی ملکہ بنایا ہے، یہ اعزاز مغرب سے ہضم نہیں ہوتا۔ اسی لیے مشرق کی شہزادیوں کو دربدر کرنا چاہتے ہیں - آئے ہائے زینب! میری بچی تو کبھی ان عورتوں کے جھانسے میں نہ آجانا۔

توبہ کریں اماں بی! میں بھلا کیوں ان کے جھانسے میں آنے لگی - میں تو ہمیشہ اس دعا کا دامن تھامے رکھتی ہوں جو میرے نبی علیہ السلام نے سکھائی تھی۔

اَللَّھُمَّ اَلْھِمْنِی رُشْدِیْ وَ اَعِذْنِیْ مِنْ شَرِّ نَفْسِیْ اے اللہ! ہدایت کو مجھ پر کھول دیجیے اور مجھے میرے نفس کی برائیوں سے بچا لیجیے۔ صبح شام باقاعدگی سے پڑھتی ہوں، اور جب کبھی دل میں الٹے سیدھے خیال آئیں تو فوراً یہ دعا مانگتی ہوں اللہ سے۔

اچھا اماں بی! آپ پریشان نہ ہوں اللہ سب خیر کرے گا۔

بٹیا سچ کہوں میرا تو کلیجہ ہول رہا ہے۔ اللہ تو ہمیں معاف کرنا، انہوں نے دونوں ہاتھ جوڑ کر آسمان کی طرف دیکھا۔ ہم نے اپنی ساری زندگی چولہے چکیوں میں گزار دی۔ کبھی اف نہ کی میاں کے سامنے۔ ہمیشہ تازہ روٹی پکا کر دی۔ خدمتوں میں لگے رہے، پیر دابتے رہے، سر میں تیل لگا کے مالش کرتے رہے، پاؤں کے تلووں کا مساج کرتے رہے کہ دن بھر کے تھکے ہارے ہیں۔ گھر میں تو کوئی سکون کی سانس لے لیا کریں۔

ایمان سے زینب! جونہی منیر احمد کے ابا گھر میں قدم رکھتے تھے، آنکھیں ٹھنڈی ہو جاویں تھیں ہماری۔ بھاگ بھاگ کے خدمتیں کرتے پھرتے تھے ہم۔ کبھی اگر رات کو دیر ہو جاتی پنچایت کے کسی کام میں، تو میں نے کبھی ٹھنڈی روٹی سامنے نہ رکھی۔ آدھی رات کو بھی تندور جلا کے تازہ روٹی پکا کے دیا کرتی تھی۔ منیر کے ابا بہتیرے منع کرتے رہ جاتے، اری نیک بختے نہ کر اتنی محنت، میں ٹھنڈی روٹی کھالوں گا۔ پر میں کہتی نہ منیر کے ابا! میرے ہوتے کیوں ٹھنڈی روتی کھاؤ گے بھلا؟ ہمارے لیے جان جوکھم میں ڈال رکھی ہیگی تم نے، ہم ہی تمہارا دھیان نہ رکھیں گے تو کون رکھے گا؟

اور پتا ہے زینب! منیر کے ابا جھولیاں بھر بھر کے دعائیں دیتے تھے مجھے۔ کہتے تھے منیر احمد کی ماں! لوگ جنت میں حوروں کے پیچھے جاویں گے، پر مجھے لاگے میں تو وہاں بھی تیرے آگے پیچھے پھرتا رہوں گا - ہاہا۔۔۔ ایمان سے زینب! آنکھیں ڈبڈبا جاویں تھیں ان کی، ایسے قدردان تھے -

اماں بی ان کا ذکر کرتے کرتے خود بھی آبدیدہ ہو گئیں۔ زینب ان کو تسلی دینے لگی۔

اتنے میں منیر احمد بھی آفس سے آ گئے، زینب مسکرا کے آگے بڑھی، سلام کا جواب دیا اور فائلیں سنبھال کر رکھیں۔

منیر احمد نے مسکرا کے زینب کی طرف دیکھا اور بولا ٹھنڈا پانی پلا دو یار۔

جی ابھی لائی۔

پانی پی کر منیر احمد اماں بی کے ساتھ باتیں کرنے لگے اور اماں بی حسب معمول اسے دعائیں دیے جارہی تھیں۔ جیتا رہ میرا بچہ، پھولے پھلے، دو جہاں کی خوشیاں دیکھے۔ آمین۔

دیکھ منیر احمد! بیوی کو کبھی گھر کی نوکرانی نہ سمجھ لینا، ہمیشہ اس کی خدمتوں اور بے لوث چاہتوں کا اعتراف کرتے رہنا بیٹا۔ تمہارا ذرا سا میٹھا بول اس کے تھکے وجود میں نئی توانائی بھر دے گا۔

منیر احمد نے محبت سے ماں کا ہاتھ تھام لیا۔ جی اماں بی! میں ایسا ہی کروں گا ہمیشہ!

اور میرے بچے یاد رکھنا! بیوی بھی انسان ہے، سو طرح کی دکھ، بیماریاں اور پریشانیاں انسان کی جان کو لگی رہتی ہیں۔ تو اگر کبھی وہ اپنی ذمہ داریوں میں کچھ کمی کوتاہی کر دے تو اسے کھلے دل سے معاف کر دینا۔ بات کا بتنگڑ بنا کر اپنے گھر کا سکون خراب مت کر لینا۔

جی جی آپ فکر نہ کریں اماں بی! آپ تو کبھی کبھار ہی یہاں آتی ہیں مگر زینب سے پوچھ لیں میں کتنا اچھا شوہر ہوں، آپ کی بہو کا بہت خیال رکھتا ہوں۔۔۔

ماشاءاللہ! ماشاءاللہ! اللہ تعالٰی تمہاری جوڑی سلامت رکھے۔

اماں بی ایک بار پھر دعائیں دینے لگیں۔

زینب باورچی خانے میں کھانا گرم کرنے لگی، دوپہر کا مٹر پلاؤ گرم ہونے کے لیے دم پر رکھا اور خود فٹافٹ گرم گرم پھلکے ڈال کر لے آئی۔ قیمہ کریلے دیکھتے ہی منیر احمد خوشی سے کھل اٹھا۔۔۔ واہ کیا بات ہے بیگم! دل خوش کر دیا تم نے۔

زینب نے بچوں کو آواز لگائی، اماں بی کو بلایا اور سب ہنسی خوشی کھانا کھانے لگے -


سونے کے لیے لیٹے تو زینب نے دیکھا منیر احمد کچھ بے چین سے ہیں۔

کیا ہوا منیر، آپ خیریت سے تو ہیں؟

ہاں یار! سب خیریت ہے۔ بس آج آفس سے آتے ہوئے بس میں سیٹ نہیں ملی۔ ڈیڑھ گھنٹے کا سفر کھڑے کھڑے ہی طے کرنا پڑا۔

اور زینب اس کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی اس کے قدموں میں جا بیٹھی۔

لائیے! میں دبا دیتی ہوں۔ زینب بڑی محبت سے میاں کے پاؤں دبانے لگی۔

منیر احمد منع ہی کرتے رہ گئے، رہنے دو تم بھی دن بھر کی تھکی ہاری ہو۔

مگر زینب یونہی اپنے نرم و گداز ہاتھوں سے اس کے پیر دباتی رہی اور منیر احمد آہستہ آہستہ نیند کی وادیوں میں چلے گئے۔

زینب بھی اپنی جگہ پر لیٹ گئی۔ چپ چاپ منیر احمد کو دیکھتے ہوئے جانے کیا کچھ سوچے جارہی تھی۔ اسے رہ رہ کر اپنے محبوب شوہر کی مشقتوں کا احساس ہو رہا تھا۔

صبح دفتر جاتے ہیں، پانچ بجے چھٹی ہوتی ہے تو وہیں سے اوور ٹائم کرنے چلے جاتے ہیں۔ رات نو، دس بجے گھر میں آکر گھستے ہیں۔ اوور ٹائم کے پیسوں سے ذرا گھر کی گزر بسر اچھی ہوجاتی ہے، ورنہ تو آئے دن کوئی نہ کوئی تنگی رہتی تھی۔ اسی لیے منیر احمد اوور ٹائم بھی کرنے لگے تھے-

مگر زینب کو بہت گراں گزرتا تھا۔ وہ اکثر کہتی۔ منیر احمد اتنی محنت نہ کیا کریں اپنی صحت کا بھی خیال رکھا کریں اور وہ مسکرا دیتا تم ہو ناں میرا خیال رکھنے کے لیے۔

زینب ان باتوں کو سوچ کر دل ہی دل میں مسکرانے لگی۔ میں ہمیشہ آپ کا خیال رکھوں گی منیر احمد! میں ہمیشہ اسی سائبان تلے، اسی کی ٹھنڈی چھاؤں میں رہنا چاہتی ہوں!

Comments

ام محمد سلمان

کراچی میں مقیم اُمِّ محمد سلمان نے زندگی کے نشیب و فراز سے جو سبق سیکھے، ایک امانت کے طور پر دوسروں کو سونپنے کے لیے قلم کو بہترین ساتھی پایا۔ اُن کا مقصد ایسی تحاریر لکھنا ہے جو لوگوں کو اللہ سے قریب کریں اور ان کی دنیا و آخرت کی فلاح کا سبب بنیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.