جماعت اسلامی انہونی کی تلاش میں - اختر عباس

جماعت اسلامی کی سیاست کو ۱۹۸۵ء میں جنرل ضیاالحق کے ریفرنڈم کی حمایت نے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا تھا۔ اس سے قبل جماعت کے سیاسی اور سماجی میدانوں میں بازو شمشیر زن اسلامی جمعیت طلبہ کے نوجوان تھے جو اس فیصلے کے نتیجے میں جنرل ضیا، جنہوں نے جمعیت کو تعلیمی اداروں سے باہر نکال پھینکا تھا، سے ہمدردی اور حمایت کے روادار نہ تھے۔ یوں پہلی باراعلانیہ اختلاف پر مجبور ہوئے اورآنے والے برسوں میں نہ صرف دور ہو گئے۔ اس کے نتیجے میں وہاں سے آنے والے قیمتی نوجوان کارکنوں اور قائدین کی کھیپ آنا بند ہو گئی۔ جمعیت کے نوجوانوں نے نہ چاہتے بھی اپنے آپ کو تنظیمی طور پر ایک فاصلے پر کر لیا، کم سے کم دودہائیاں جماعت کی عوامی اثر پذیری پر اس کے تباہ کن اثرات کے بارے میں سوچا اور غور بھی نہ کیا جا سکا اور یہ خلا سیاسی او رتنظیمی طور پرایک تکلیف دہ صورت میں بدل گیا۔ سراج الحق نے دو برسوں میں بیس برسوں کے ان فاصلوں کو یوں پاٹا کہ جمعیت کے نئے ناظم اعلیٰ محمد عامراپنی پوری ٹیم اور جذبے کے ساتھ وہاں موجود تھے۔ اس سے چند روز قبل بیتے برسوں کے تمام ناظمین اعلی کو منصورہ بلایا گیا، ان کو عزت دی گئی انہیں مشاورت کاحٔصہ بنایا گیا۔ یہ تبدیلی اس قدر بنیادی اہمیت کی حامل ہے کہ جوسیاسی تجزیہ نگار اس کا ادراک رکھتے ہیں ان کا کہنا ہے سراج الحق نے آدھی جنگ جیت لی ہے۔ یہ نئی نسل کی نمایاں ترین تنظیم کی جماعت کی سیاسی اور سماجی میدانوں میں تیز تر حکمت عملی کو پسند کرتے اور اپناتے ہوئے پوری آمادگی کے ساتھ واپسی ہے۔ تمام نوجوان تنظیمی عہدے داروں کو سراج الحق نے جے آئی یوتھ کے بورڈ کا ممبر بھی بنادیا ہے۔ یوں حکمت عملی کی صورت گری میں وہ سب پوری طرح سے شریک ہو چکے ہیں، اس کا ثبوت مینار پاکستان کے اس کنونشن میں دیکھنا ایک خوشگوار تجربہ تھا۔

خاصے کی چیز سراج الحق کی وہ تقریر تھی جو انہوں نے ان نوجوانوں کے لیے کی۔ اس میں عالم اسلام کے مسائل اور حالات سے زیادہ عام نوجوانوں کے مسائل کا ذکر تھا ان کے حل تھے، ان کے لیے لائحہ عمل تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس خالص سیاسی پروگرام میں بھی انہوں نے اپنی حکمت عملی کے مطابق نوجوانوں کو اخلاقی سبق بھی دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بادشاہی مسجد اور مینار پاکستان کے میناروں تلے یہ عہد کرتے ہیں کہ ملک کو اسلامی اور خوشحال بنائیں گے۔ انہوں نے یہ وعدہ بھی لیا کہ وہ اپنے والدین کی عزت اور ان سے محبت کریں گے۔ انہیں یاد دلایا کہ وہ اللہ سے جبکہ باقی سیاسی لوگ نیب سے ڈرتے ہیں اسی لیے بار بار وفاداریاں بدلتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا اب یہ کسی بھی واشنگ مشین میں جائیں ان کے داغ نہیں اتریں گے۔ اقتدار کے ایوان شہزادوں اور خانزادوں کے لیے وقف نہیں، ان کی بجائے نوجوانوں کو یہ حق دینا ہوگا، اسی لیے پچاس فیصد ٹکٹ نوجوانوں کو دینے کا بھی اعلان کیا گیا۔ مینار پاکستان پر اس کامیاب شو کے تنظیمی اثرات دور تک جائیں گے۔ کہا جاتا ہے کہ جنرل الیکشن کے بعد سراج الحق جماعت کے اندر جن تبدیلیوں کا سوچ رہے ہیں، نئی ٹیم کا انتخاب کرتے ہوئے انہیں بہت مدد ملے گی۔ سیاسی پولرائزیشن کے ماحول میں جماعت کی بظاہر سولو فلائیٹ کا کی اس کی الیکشن میں بارگینگ پوزیشن پر بھی کوئی فرق پڑے گا۔ پنجاب کے معروضی حالات اور گھونسلے بدلتے سیاسی پرندوں کی اڑانوں کے دنوں میں حتمی طور پر کچھ کہنا قبل از وقت لگتاہے۔ کیا جماعت ۲۰۲۳ء تک وہ وقت دیکھ سکے گی جب الیکٹ ایبلز کی پروازیں ان کی طرف بھی آنے لگیں؟ ہمارے ہاں بہت سی مشکل چیزیں آسان بن جاتی ہیں خاص طور پر سیاسی میدان میں تو کچھ بھی حرف آخر نہیں ہوتا ۔

یہ بھی پڑھیں:   پہلے پولا کرو، پھر کھاؤ - سہیل وڑائچ

لاہور میں یوتھ کنونشن کا انعقاد ایک بے حد مشکل فیصلہ تھا۔ اعتراض کرنے والوں کا کہنا تھا کہ کے پی کے میں چند شہروں میں جے آئی یوتھ کے الیکشن ہو جانے اور کامیابی سے ہزاروں نوجوانوں کو اپنی طرف متوجہ کر وا لینے کا مطلب یہ کیسے لے لیا جائے کہ وہ جماعت کے ووٹ میں بھی ڈھل جائیں گے اور مینار پاکستان جیسی بڑی اور وسیع جلسہ گاہ کو بھر دیں گے؟ پنجاب کی قیادت کو اس انداز اور کام پر مہینوں یکسوئی نہیں ہوئی۔ اس دوران سراج الحق کا لہجہ بدلا نہ انداز اور نہ ہی ہدف۔ یہی وجہ ہے کہ جے آئی یوتھ جو جماعت کا اب اصل سیاسی بازو بنتا جارہا ہے کی لیڈرشپ نے ایک دن بھی اس ہدف کو نگاہ سے اوجھل نہیں ہونے دیا۔ سادہ مزاج اور کارکن صفت زبیر احمد گوندل کہنے کو تو جے آئی یوتھ پاکستان کے صدر ہیں مگر مٹی میں مٹی ہو کر کام کرنے کا گر خوب جانتے ہیں،دو برس سے بھی قلیل عرصے میں انہوں نے یوتھ کو اپنے قائد سراج الحق سے یوں باندھ اور جوڑ دیا ہے کہ جیسے وہ اسی کام کے لیے بنے تھے۔ سرگودھا کے نواحی گاؤں سے تعلق رکھنے والے جے آئی یوتھ کے پہلے صدر نے نہ صرف اپنا انتخاب درست ثابت کر دکھایا بلکہ اپنے ساتھ رسل خان بابر جو رہتے اسلام آباد اور مری میں ہیں، مگر صوبائی صدر ہونے کے ناطے اپنی قیادت کے اشاروں کو سمجھتے ہیں اور پورا صوبہ گھومتے ہیں۔ اسی سرگرم ٹیم نے وہ ممکن کردکھایا جو بہت سوں کو ناممکن لگتا تھا کہ جو کام جماعت کی پوری مرکزی قیادت مل کر مینار پاکستان کے گراؤنڈز میں مرکزی اجتماعات عام منعقد کرتی رہی ہے،وہی کام صرف ایک صوبے کے نوجوانوں نے کر دکھایا۔

مینار پاکستان اپریل کی آٹھویں شام بقعہ نور بنا ہوا تھا بے شک آدھے پنڈال کی لائٹ تعاون پر آمادہ نہ تھی پھر بھی لائیو سٹریمنگ کا تجربہ ملک کے طول وعرض میں اسے دیکھنے والوں کی بے یقین آنکھوں کوعین الیقین دے رہا تھا اور تاحد نگا پھیلے مجمع کودکھا رہا تھا۔ فرید رزاقی اور شمس الدین امجد کی محنت رنگ لا رہی تھی۔ شام کو ہی پچاس سے زائد نوجوان سوشل میڈیا پر اپنا رنگ جما چکے تھے، جب تک الیکٹرونک میڈیا نے لائیو دکھانا شروع کیا تب تک غصے بھری پوسٹیں آنی شروع ہو چکی تھیں کہ گھنٹوں کی لائیو کوریج جس میں کبھی توخالی کرسیاں ہی دکھانی پڑتی ہیں۔ کیا صرف اسٹیبلشمنٹ کی بی ٹیموں کے لیے وقف ہے۔ یہ شو جسے جیو نے جماعت اسلامی کا پاور شو کہا، اصل میں سراج الحق کی ہمت بھری سوچ اورسیاسی حکمت عملی کی کامیابی کا شو تھا جسے نئے ترانوں اور نئے امیدواروں کے اعلانات کے ساتھ ساتھ رنگ ونور کی تھرل سے بھرپور آتش بازی کے مظاہرے نے یادگار بنا دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   ریاستِ مدینہ اور قول و فعل - راجہ کاشف علی خان

سراج الحق جماعت اسلامی کو اس وقت عطا ہوئے جب جماعت اپنی سیاسی حمایت کے کمزور ترین دنوں کا سامنا کر رہی تھی۔ جماعت ۲۰۱۳ء کا الیکشن عملی طور پر ہار چکی تھی، اس کے پکے ووٹ مایوسی میں دوسروں کے ڈبوں میں ڈال اور وہیں سے برآمد ہو رہے تھے اور کسی کے پاس اس رجحان کو روکنے اور امید دلانے کا کوئی بیانیہ تھا اور نہ ہی حکمت عملی۔ حالت یہ ہو چکی تھی کہ اخبارات میں ہونے والے تجزیوں اور سیاسی جائزوں میں سے جماعت کا ذکر ہونا بھی ختم ہو گیا تھا اور جماعت کی تمام مرکزی قیادت الیکشن ہار چکی تھی، البتہ سراج الحق کے پی کے کی اسمبلی میں دوسری بار منتخب ہو کر سینیئر وزیر بن چکے تھے، صوبائی وزیر خزانہ اچانک ایک ہاری ہوئی قومی جماعت کے مرکزی امیر چن لیے گئے تھے۔ یہ بظاہر ایک انہونی تھی، مایوس اراکین نے شاید امید کی آخری کرن کے طور پر اپنی قیادت ایک دہقانی، سادہ اور غربت کی دبیز تہہ کو اپنی مسلسل محنت اور یقین سے چیر کر باہر نکلنے والے لیڈر کے سپرد کر دی تھی جو ٹھیک سے اردو میں تقریر بھی نہیں کر سکتا تھا۔ کون جانتا تھا کہ اس کی پشتو لہجے سے بھری اردو، ٹیڑھی ٹوپی اور انتھک محنت اسے چند ہی برسوں میں ایک تنظیمی قائد سے زیادہ ایک نمایاں عوامی لیڈر بنا دے گی اور نوجوانوں کو اس کی پراعتماد اور انقلابی شخصیت کے سحر میں مبتلا کر دے گی۔ چند برسوں میں یہ انہونی جماعت کے اندر تو ہو گئی ہے دیکھیے اس کے عوامی اثرات نمایاں ہونے میں کتنا وقت لیتے ہیں۔ اس کنونشن کے حوالے سے ملکی سیاسی منظر نامے میں اثرات دیکھے جانے سے زیادہ اہم بات جماعت کے اندرونی نظام میں نئے اور نوجوان کارکنوں کی ایک بڑی کھیپ کی آمد ہوگی، اسے دیکھنا بہرحال دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا۔ ہاں! جے آئی یوتھ کی قیادت کے لیے ایک بڑا چیلنج یہ بھی ہوگا کہ ۲۰۱۸ء کے عام انتخابات ہونے تک کیا وہ اپنی اور ان نوجوانوں کی اس توانائی اور جذبے کو برقرار رکھ کر اپنے لیے ووٹوں میں ڈھال پائے گی جب قوم دو بڑے ہاتھیوں کے مقابلے میں شریک اور تماش بین ہوگی۔

Comments

اختر عباس

اختر عباس

اختر عباس مصنف، افسانہ نگار اور تربیت کار ہیں۔ پھول میگزین، قومی ڈائجسٹ اور اردو ڈائجسٹ کے ایڈیٹر رہے۔ نئی نسل کے لیے 25 کتابوں کے مصنف اور ممتاز تربیتی ادارے ہائی پوٹینشل آئیڈیاز کے سربراہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.