درس نظامی: چند مباحث (2) محمد دین جوہر

سوال: یہ ہے کہ درس نظامی میں اکثر بلکہ تقریباً تمام کتب متاخرین کی ہیں، متقدمین کی کوئی کتاب شامل نصاب نہیں۔ حالانکہ متقدمین کی کتب ان سے بہتر ہیں۔ علم و فضل ان کا مقدم، تہذیب اور صاحبِ شریعت کے دور سے زیادہ قربت، اس کے ساتھ علمی شعور، معنویت متاخرین کی بنسبت زیادہ اور اس کے ساتھ سادہ طرز بیان۔ دوسری بات یہ ہے کہ ایسے مشکل نہیں کہ بغیر شروح و حواشی کے حل نہ ہوں۔

جواب: یہاں درس نظامی ایک نصاب کے طور پر زیر بحث ہے۔ متقدمین کے زہد و تقویٰ اور عظمتِ کردار سے کسے انکار ہے؟ متقدمین کے نمونے اور فضائل ہماری پیروی اور محبت کے لیے ہیں، نصابی کتب کے انتخاب کا معیار بالکل نہیں ہیں۔ متاخرین کی کتب نصاب میں شامل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ پوری دینی اور علمی روایت تک رسائی کے وسائل فراہم ہو جائیں، اور تاریخی سفر میں جو فنی پہلو علمی روایت کا لازمی حصہ بن جاتے ہیں، ان میں بھی ضروری تربیت ہو جائے۔ درس نظامی کا مقصد ہی متقدمین سے زندہ تعلق کو باقی رکھنا ہے۔ قطع نظر اس سے کہ درس نظامی کی کتابیں متاخرین کی ہیں یا متقدمین کی، اس میں جس ضرورت کو سامنے رکھا گیا اور اس کے حصول کے جو ذرائع اختیار کیے گئے، وہ غیرمعمولی ہیں۔ ہر علمی روایت وقت کے ساتھ فطرتاً اور ضرورتاً ٹیکنیکل ہو جاتی ہے، اور یہ کوئی عیب نہیں خوبی ہے۔ متقدمین اور متاخرین میں اس طرح کے غیرضروری موازنے زیادہ مفید نہیں ہوتے۔

سوال: یہ بات بھی کہ خود درس نظامی کے ساتھ ساتھ ہمارے پرانے نصاب میں ایک تو مشکل کتب، اس کے ساتھ انتہائی دقیق اور کئی جگہ تو بہت مختصر متون شامل کیے گئے۔ تو کیا نصاب میں آسان مگر جامع کتب نہیں رکھی جا سکتیں؟ جس سے طلبا پر بوجھ بہت زیادہ نہ پڑے۔ اور اگر یوں کہا جائے کہ انتہائی دقیق کتب لکھ کر ان کی آسانی کے لیے کتب حواشی سے بھر دی گئیں اور مزید اس کے لیے شروحات لکھ دی گئیں۔ تو کیا ایسی ہی کتب کیوں نہ لکھ دی گئیں تو اگرچہ بہت زیادہ نہیں تو درمیانی حد تک آسان کتب نصاب کے لیے لکھ دی جاتیں۔ اگر طالب علم سے دقت مطلوب تھی تو اتنا شروح و حواشی کی بھر مار چہ معنی دارد؟

جواب: جدید تعلیم اور علوم میں رہتے ہوئے اگر مشکل اور آسان کی حیثیت معلوم ہو جائے تو یہ بحث بھی فیصل ہو جاتی ہے۔ ہمارے ہاں آسان، آسان کا جو شور ہے وہ کسی اخلاقی، دینی یا علمی ضرورت سے پیدا نہیں ہوا، بلکہ ہمارے ذہن کی شکست کا اظہار ہے۔ زیادہ سخت لیکن درست تر بات یہ ہے کہ ایسے مطالبات ہمارے ذہن کے خاتمے کا اظہار ہیں۔ تیسیر کے مطالبات اس لحاظ سے درست ہیں کہ جب ذہن ہی ختم ہو گیا تو ذہن سے متعلق چیزوں کا باقی رکھنا کیا ضرور ہے؟ اس مطالبے کی ایک اور وجہ تعلیم اور علم کے امتیازات کو ارادی طور پر نظرانداز کرنا اور ان کے وجود ہی سے انکار کرنا ہے۔ تہذیبی ذہن کی نمو میں پیچیدگی ایک لازمی عنصر کے طور پر شامل ہوتی ہے۔

تیسیر کے مسئلے کو درست پوزیشن پر کھڑے ہو کر سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس مسئلے کی درست تفہیم نہ ہونے کی خرابی اس قدر ہے کہ اب جہالت کو مذہبی تقدیس حاصل ہو چکی ہے۔ اس مسئلے کی بنیاد یہ قضیہ ہے کہ دین سادہ ہے۔ دین یقیناً سادہ اور آسان ہے۔ عقائد، احکام اور اقدار اپنے بیان میں بہت سادہ ہیں، فوراً معلوم ہو جاتے ہیں اور عمل میں لائے جا سکتے ہیں۔ اس میں کوئی کلام نہیں۔ لیکن امتداد وقت کے ساتھ ایک نئی اور ضروری چیز پیدا ہوئی جسے ”دینی علوم“ کہا جاتا ہے۔ اب بیان یہ ہو گا کہ دین یا دینی ہدایت سادہ ہے، لیکن ”دینی علوم“ پیچیدہ ہیں۔ دینی تعلیم کی بنیاد، طریقے اور مقصود، ہر مرحلے میں تیسیر اصول کے طور پر شامل ہو گی۔ لیکن ”دینی علوم“ سے تیسیر کا اصول لازماً خارج ہو گا، ورنہ ”دینی علوم“ کا قیام اور حصول ممکن نہیں۔ اصول کے بغیر علم کا تصور نہیں کیا جا سکتا، اور اصول سازی ایک نظری سرگرمی ہے جو تیسیر کا سایہ پڑتے ہی ختم ہو جاتی ہے۔ ہمارا یہ موقف رہا ہے کہ دینی تعلیم بھی ضروری ہے اور ”دینی علوم“ بھی ضروری ہیں، لیکن ان کے تشکیلی اصول باہم یکسر مختلف اور بعض اوقات متضاد ہیں۔

اس میں بحث طلب بات صرف یہ رہ گئی ہے کہ ”دینی علوم“ سے کیا مراد ہے اور کیا وہ ضروری ہیں؟ اس سوال کا حل ہونا اب اشد ضروری ہے۔ اس میں بنیادی قضیہ یہ ہے کہ علم کی کوئی ایسی تعریف ممکن نہیں جو وحی اور فزکس، یا وحی اور عمرانیات، یا وحی اور اصول قانون کو بیک وقت شامل ہو۔ وحی لاریب ہے اور علم باریب ہے۔ جو آدمی اس بات کو نہیں سمجھتا، وہ یا تو نادان ہے، یا شیطان ہے۔ ہماری روایت میں منقول اور معقول کی تقسیم اسی وجہ سے پیدا ہوئی تھی۔ چونکہ اب ہم اس تقسیم کے بنیادی قضایا کو سمجھنے کی استعداد سے محروم ہو چکے ہیں اس لیے تیسیری لغویات کا عروج ہو گیا ہے۔

ہم فرض کر لیتے ہیں کہ ”دینی علوم“ نام کی کوئی شے نہیں جیسا کہ ہمارے ہاں یہ مفروضہ بہت عام اور قوی ہے۔ یہ فرض کر لینے کے بعد ہم کسی طور بھی یہ فرض نہیں کر سکتے کہ دنیا کے معاشروں میں بھی کسی قسم کے دیگر علوم موجود نہیں رہے۔ یہ مفروضہ ایک پاگل ہی کا ہو سکتا ہے کہ انسانی معاشرے علم سے خالی ہوتے ہیں۔ اب صرف ایک سوال باقی رہ گیا ہے کہ دینی عقائد، احکام اور اقدار ہیں اور ان کے چاروں طرف ہم عصر علوم ہیں، تو کیا صورت پیدا ہو گی؟ اس کا نتیجہ ظاہر ہے کہ دینی عقائد، احکام اور اقدار کا صفایا ہے، جیسا کہ اس وقت یہ صورت حال تیزی سے سامنے آ رہی ہے۔ اور تیسیر کا مقصد صرف یہ ہے کہ ”دینی علوم“ کے حصول کا امکان ہی ختم کر دیا جائے۔

تیسیر کا مطلب ہے لفظ کو حسیات اور بدیہیات تک محدود کر دینا۔ جدید عہد میں تعلیم کا مقصد ہے لفظ کو حسیات تک محدود کر دینا، اور جدید علم کا واحد مقصود ہے لفظ کو تجرید کی نوآبادی بنا دینا۔ تیسیر جدیدیت کا وہ اصلاحی ہرکارہ ہے جو اب ہمارے منبر و محراب تک آ پہنچا ہے۔ تیسیری فتوحات کے بعد دینی عمل کو کچھ دیر برقرار رکھا جا سکتا ہے، لیکن دینی ذہن کی تشکیل ناممکن ہے۔ اور دینی ذہن کے خاتمے کے ساتھ دینی عمل کا بھی خاتمہ ہو جاتا ہے۔ انسانی ذہن کا فطری اسلوب کار اور عقلی فعلیت تجریدی (abstract) ہے۔ مغیبات کو تجریدات کا محیط بنا دینا دینی علم کا بڑا مسئلہ ہے، اور صرف اسلامی تہذیب ہی اس سے نبردآزما ہو سکی ہے۔ عقیدے کی شرائط پر تجریدات اور مغیبات کا باہمی تعامل انسانی ذہن کی اعلیٰ ترین فعلیت ہے، جہاں تیسیری ”ذہن“ کا گزر نہیں ہو سکتا۔

یہاں ضمناً ایک ضروری بات کا موقع پیدا ہو گیا ہے۔ معاشرے میں مظاہرِ خیر اور مظاہرِ علم، صرف مظاہر ہی ہیں، یعنی خیر عمل کی اوڑھنی ہے اور علم ذہن کی چادر ہے۔ خیر اور علم دونوں حق اور باطل سے نسبت پیدا کرنے کا یکساں میلان رکھتے ہیں، یعنی خیر اور علم میں حق اور باطل کی بجاآوری کی استعداد یکساں ہے۔ خیر اور علم کے حتمی تعینات حق اور باطل کے تناظر میں طے ہوتے ہیں، فی نفسہٖ ان میں رہتے ہوئے ممکن نہیں ہوتے۔ دینی علوم سے انکار اصلاً باطل ہی کی طرفداری کا موقف ہے۔ ایک ایسے ماحول میں جہاں باطل سے نسبت رکھنے والے علوم کا غلبہ ہو چکا ہو، دینی تعلیم کی سرگرمی محض خام خیالی ہے۔

سوال: آخر درس نظامی ہی کی کیا ایسی خصوصیت ہے کہ زیادہ سے زیادہ عراق و عجم تک پر اس سے آگے جزیرۃ العرب کے ساتھ ساتھ مراکش کی القرویین کا، مراکش کے دوسرے علاقوں کے مدارس کا اور تیونس میں زیتونہ کا نصاب مختلف تھا۔ اگر وہاں علمائے ربانیین پیدا ہوئے اسی نصاب سے تو ہم برصغیر میں درس نظامی کی کیا تخصیص؟

جواب: یہ کون کہہ رہا ہے کہ ”علمائے ربانیین پیدا“ کرنے کے لیے درس نظامی ہی ضروری ہے؟ لیکن سوال یہ ہے کہ آیا درس نظامی ”علمائے ربانیین پیدا“ کرنے میں رکاوٹ ہے؟ اور کیا ”علمائے ربانیین“ صرف نصاب کی جمع تفریق سے پیدا ہوتے ہیں؟ ہمارے ہاں نصاب کی بحث پر زور صرف اس لیے ہے کہ نظری ادراک کا خاتمہ ہو گیا ہے، اور صرف حسی اور تیسیری ادراک باقی رہ گیا ہے۔ تسیری ادراک میں درس نظامی کا صرف بستہ ہی نظر آ سکتا ہے لیکن یہ سمجھ نہیں آ سکتا کہ یہ ہے کس لیے؟ علمائے ربانین کی اگر کوئی فہرست بنائی جائے تو ان کے اذہان کے حاصلات کا گوشوارہ بھی ساتھ لف ہونا چاہیے۔ ان علمائے ربانین کی تعقلاتی پہنائی، عرفانی علویت اور استدلالی کاٹ کو دیکھ لینا بھی مفید ہو سکتا ہے۔

سوال: کیا نصاب اور نظام تعلیم کسی معاشرے یا قوم کے ذہن کی عکاسی، نمائندگی کرتا ہے؟ اور قوم کے ذہن نصاب کی نوعیت سے تبدیل ہوتے ہیں؟ کیا نظام تعلیم بدلتا رہتا ہے؟ اگر نظام نہیں بدلتا تو کیا نصاب ہی تبدیل ہوتا ہے؟ اگر نظام یا نصاب اس وجہ سے بدلتا رہا ہو کہ وقت کے مطابق کچھ نہ کچھ تبدیلی آنی چاہیے تو درس نظامی بھی اس تسلسل کا حصہ تو ضرور بن سکتا ہے؟

جواب: یہ بھی عمومی سوالات ہیں، اور اپنی جگہ بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ یہاں صرف یہ عرض کروں گا کہ وقت کے ساتھ انسان کی بہت سی ضروریات اور ان کو پورا کرنے کے اسالیب تبدیل ہو جایا کرتے ہیں۔ یعنی تبدیلی مستقبل کی کوکھ سے برآمد ہوتی ہے۔ اس میں کافر و مسلم کی کوئی تفریق نہیں؛ دونوں کے مشاہدے اور تجربے میں ہے۔ لیکن وقت اور تبدیلی کے بارے میں ہمارے اور جدیدیت کے تصورات میں بہت فرق ہے۔ ہم اس تبدیلی میں کچھ ایسی چیزوں کو مستقل رکھنا چاہتے ہیں جن کا تعلق ماضی سے ہے۔ اور جدیدیت کچھ ایسی چیزوں کو مستقل رکھنا چاہتی ہے جن کا تعلق مستقبل سے ہے۔ ہمارا آئیڈیل ماضی میں ہے اور جدیدیت کا مستقبل میں۔ اس لیے تبدیلی کی کوئی بات علی الاطلاق نہیں ہو سکتی، کیونکہ تبدیلی کا طریقۂ کار، سمت اور مقاصد ہمارے لیے بہت اہم ہیں۔

جدیدیت جس مستقبل پر یقین رکھتی ہے وہ زمانی نہیں ہے، بلکہ یوٹوپیائی اور فرجامی ہے۔ جدیدیت کی تقویم میں ماضی کوئی مستقل چیز نہیں ہے، اور انسان کی عصری ضرورت اور ارادے کے تابع ہے۔ ہمارا ماضی کا تصور جدیدیت کے تصورات سے قطعی مختلف بلکہ قطعی متضاد ہے۔ جدیدیت میں ماضی، مستقبل سے کہیں زیادہ ”بدلتا“ ہے۔ کیا ہم یہ پوزیشن لے سکتے ہیں؟ کیا ہمارے نزدیک مسلمان ہونے کی معنویت اور غایت تبدیل کی جا سکتی ہے؟ جدیدیت میں ماضی کسی حق کا محتویٰ نہیں ہے، اپنے اندر کوئی قدر نہیں رکھتا، اپنے اندر کوئی اتھارٹی نہیں رکھتا، اپنے اندر کوئی نمونہ نہیں رکھتا۔ ماضی کی زیادہ سے زیادہ یہ حیثیت ضرور ہے کہ اس کی ”کھدائی“ اور ”ادھڑائی“ کر کے اس کے ملبے سے ایسی چیزیں نکالی جائیں جو علم جدید کا استدلالی ایندھن بن سکیں۔ تو کیا ہم یہ پوزیشن لے سکتے ہیں؟ ہمارے لیے ماضی اس سے بالکل مختلف ہے، اور یہی ادراک درسِ نظامی کی تشکیل میں کارفرما تھا، اور وہ ادراک ہے ماضی پر ہم عصر دنیا کو اثرانداز نہ ہونے دینا۔

آپ نے نظام کی بات کی جو ہمارے خیال میں بہت اہم ہے۔ جدید نظام کی تشکیل اصولِ تنظیم پر ہوتی ہے، اور ٹیکنالوجی ہر نظام کا جزو لاینفک ہے۔ اصول/تھیوری اور نظام کی بحث توام ہے۔ اور یہ بات دہرانے کی ضرورت نہیں کہ اصول اور نظام دونوں تاریخی اور انسان کی بنائی ہوئی چیزیں ہیں، اور دونوں کچھ مقاصد کے حصول کا ذریعہ ہیں۔ مقاصد کی تبدیلی سے اصول اور نظام دونوں بدل جاتے ہیں، اور جدید معاشروں میں اصول اور نظریے کی ادھڑائی بنائی روز ہوتی ہے۔ اصولِ تنظیم طاقت اور سرمائے کا اصول ہے، کوئی اخلاقی یا مذہبی یا روحانی چیز نہیں ہے۔ ہماری خوش فہمی کے برعکس، نظام ہاتھ میں پکڑ کر یا آنکھوں سے دیکھنے کی چیز نہیں ہے، بلکہ یہ ذہن سے ”دکھائی“ دیتا ہے۔ آج کی دنیا میں طاقت اور سرمائے کا حصول تنظیم اور نظام کے بغیر ناقابل تصور ہے، اور نظام کا مقصدِ قیام بھی مقداری اہداف کا حصول ہوتا ہے۔ تعلیم میں بھی نظام کچھ مقداری اہداف ہی کو حاصل کر پاتا ہے، جبکہ ہمارے اہداف صرف مقداری نہیں ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ نظام کی بحث سے پہلے کوئی نظری تناظر بہم کیا جائے۔

سوال: کیا مدارس میں جدید سکول کی تعلیم کا انتظام مناسب ہے؟ اگر نہیں تو کیوں؟ اگر اب بہت سے دینی مدارس ایسا کر رہے ہیں تو نتیجتاً کیا ہو سکتا ہے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ یہ سوال اہم ہے۔ درس نظامی پر تمام گفتگو چونکہ سیاسی اور فرقہ ورانہ تناظر میں ہوتی ہے، اس لیے تعلیمی تناظر بالکل غائب ہے۔ ایسے اہم سوالات اسی باعث زیر بحث نہیں آ پاتے۔ درس نظامی کو ”مذہبی تعلیم“ کہنا بھی کئی لحاظ سے محل نظر ہے۔ اس کی حیثیت humanities کے اعلی اور معیاری نصاب سے بہت مشابہ ہے، اور یہی وہ اعتراض تھا جس کی وجہ سے بنیادی مذہبی متون کو اس میں متعارف کرایا گیا۔ درس نظامی اصلاً دینی علوم تک رسائی کا نصاب ہے۔

جیسا کہ میں عرض کر چکا ہوں، درس نظامی کی تجہیز اور تکفین تو ہو چکی ہے۔ اب اس کی تدفین جدید تعلیم کے وسیع و عریض نظام کی گود میں ہونے لگی ہے۔ جدید تعلیم کی گود توسیعی مزاج ہے، اور اب مدارس بھی اس میں گرا چاہتے ہیں۔ اس گود میں درس نظامی سسکتی میت کے طور پر اور جدید تعلیم کی فتح کی ٹرافی کے طور پر آئندہ نسلوں کے فخر ومباہات کا ذریعہ رہے گا۔ اس عظیم کامیابی پر میکالے کی روح کے احوال کیا ہوں گے، یہ تو کوئی صاحب کشف ہی بتا سکتا ہے۔ درس نظامی کے وارث اس کا گلا گھونٹ کر اگر اپنے گھر آنگن ہی میں دفن کر دیتے تو زیادہ عزت کی بات تھی۔ جدید تعلیم کا اونٹ بدو کے خیمے میں داخل ہو چکا ہے۔ اور اب درس نظامی کی فکر چھوڑ کر بدو کو اپنی ہی فکر کرنی چاہیے۔

سوال: نصاب اور نظام میں کیا فرق ہے اور کیا فرق رکھنا چاہیے؟ اصل میں پچھلی کئی دہائیوں سے جب تعلیم پر بات ہوتی ہے تو نصاب کی تبدیلی کی طرف تگ و دو ہوتی ہے اور اس کی گواہ ہمارے درمیان لکھی گئی کتب ہیں، جس سے محسوس ہوتا ہے کہ نصاب کی بات ہی دراصل نظام کی بات ہے۔

جواب: یہ پھر عمومی لیکن اہم سوالات ہیں، اور ان کو فی الوقت مؤخر کر دینے میں کوئی حرج نہیں۔ عرض ہے کہ نظام اور سسٹم وغیرہ کی بحث کو یہاں چھیڑنا مفید نہیں ہوگا، اور موضوع بدل جائے گا۔ صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ نظری علوم اور سسٹم کی بحث توام ہے، اور ایک کے بغیر دوسرے کو زیر بحث لانا کچھ مفید نہیں۔ جیسے ہمارے ہاں ایمان اور عمل صالحہ کا تناظر ہے، یہ تناظر بھی اس سے مشابہ ہے۔ مزید یہ کہ جدید سسٹم اور اعمال صالحہ کی بحث نوعاً ایک ہے، اور ہمارے خیال میں ازحد اہمیت کی حامل ہے۔
میرا مشورہ یہ ہے کہ گھبرائے بغیر اس طرح کے سوالات کے ساتھ تادیر دوستانہ رہنا سیکھیں۔ ابھی سوالات کو منکشف ہونے دیں۔ یہ بھی جاننے کی کوشش کریں کہ سوال کیا ہوتا ہے۔ کچھ سوالات انسانی شعور کی ضرورتوں کے عکاس ہوتے ہیں، جو بتاتے ہیں کہ وہ پیاسا ہے کہ سرشار؟ کچھ سوالات ذہن کی حرکت اور اس کی سمتِ حرکت سے پیدا ہوتے ہیں۔ کچھ سوالات شرارت، نفرت، تعصب اور ایجنڈے کا غلاف ہوتے ہیں۔ ایک بات یادر رکھنے کی ہے کہ دنیا میں جواب سب سے زیادہ رسوا ہوتے ہیں، سچا سوال ہمیشہ سرخرو رہتا ہے کیونکہ وہ خالص نیت کا جڑواں ہے۔ سچے سوال کے دیکھنے کو کائنات بھی ٹھہر جاتی ہے۔ پھر یہ کہ سوال صرف ذہنی نہیں ہوتے، اور اگر وہ انسان کی اصلِ وجود سے پھوٹ نکلیں تو کاسۂِ کلام کے محتاج نہیں رہتے۔ یہ عین وہ لمحہ ہے جب خالق کائنات بھی متوجہ ہو جاتا ہے۔ سوال ناقص رہ جائیں تو جواب بھی ادھورے اور بیکار ہوتے ہیں۔ ہم تاریخ کی اندھیری رات میں بے نسب جوابوں کے نرغے میں آئے ہوئے تہذیبی پناہ گزیں ہیں۔ سوال کی نمو کے وقت سب سے بڑا خطرہ نفسی شب خون کا ہوتا ہے۔ اگر یہ کامیاب ہو جائے تو انسان شعور کی آٹونومی سے محروم ہو جاتا ہے کیونکہ سوالات انسانی شعور کی آٹونومی کا پہلا زینہ ہے، جیسے مکارم الاخلاق انسان کی اخلاقی آٹونومی کا مظہر ہے۔ انسان رہنا اسی پیہم جدوجہد کا نام ہے۔

سوال: کیا جیسے متقدمین کے ہاں تمام علوم کے حلقے لگا کرتے تھے اور کسی کتاب کو چھوڑ کر استاد کی تقریر کو ضبط کر لیا جاتا جسے امالی کہا جاتا اور کتب کی بجائے فنون کی تعلیم ہوتی زیادہ سود مند نہیں؟ کیا جب مستقل طور پر مدارس کی عمارت بنائی گئی جیسے مدرسہ نظامیہ نیشاپور و بغداد تو علما نے اسے برا جانا کہ اب علم کے لیے سیاحت اور سفر کی صعوبتیں اور مجاہدے اور علمی اسفار بہت کم بلکہ ختم ہونے کی حد تک پہنچ جائیں گے۔ لیکن ہم استاد کو چھوڑ کر آہستہ آہستہ ادارہ کے فضلا کہلانے لگے۔ پر اس کے نتائج بھی خوبصورت ہی نکلے۔ تو اب اگر مدارس کو ایک جدت دے دی جائے تو کیا نامناسب ہے؟

جواب: اس سوال میں جو بنیادی insight ہے میں اس سے متفق ہوں۔ اصل میں استاد اور شاگرد کا تہذیبی تعلق ہی ہمارا پورا نصاب تھا۔ استاد کی نارسائی سے کتاب کا سہارا لینا پڑا۔ ”کتاب یاد ہونے“ اور کسی علم پر دسترس ہونے میں مکمل فرق ہے۔ تعلیمی خرابی کی تمام ذمہ داری صرف نصاب پر یا استاد پر نہیں ڈالی جا سکتی، اور تعلیمی عمل کے دیگر پہلوؤں کا تجزیہ بھی درکار ہے۔ مزید یہ کہ تعلیم میں معاشرتی اور ریاستی ذمہ داری پر گفتگو لازمی طور پر شامل ہونی چاہیے۔

سوال: کیا ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ جدید مفید علوم حاصل کریں جو اس دور میں بہت ضروری ہیں، پر اثرات سے بچنے کے لیے ان جدید علوم کا اپنا نصاب مرتب کر لیں؟

جواب: میں نے کوشش کی ہے کہ جدید تعلیم یا جدید علوم پر اشد اور پس منظری ضرورت کے علاوہ کوئی بات نہ کروں، تاکہ توجہ ایک ہی موضوع پر مرکوز رہے۔ بہت اختصار کے ساتھ عرض ہے کہ سائنس کی سادہ ترین تعریف یہ ہے کہ زمان و مکاں کے فریم ورک میں رہتے ہوئے شے (object) کو اس کی ساخت اور میکانکس کے تمام پہلوؤں میں مکمل طور پر define کر دینا۔ جدید سائنس نے شے کو اس کے تمام مظاہر میں مکمل طور پر define کر دیا ہے۔ جدید علم، جدید انسان کے جبڑوں اور پنجوں کی طرح ہے جس سے وہ شے کے ”چھتے“ سے چمٹا ہوا ہے۔ اس ”چھتے“ سے وہ سرمائے اور طاقت کا ”شہد“ برآمد کرتا ہے۔ اس اہمیت کے پیش نظر، جدید تعلیم شے (object) سے بچے کی ذہنی اور نفسی نسبتوں کو ابتدائی سطح پر مکمل کر دینے کا نام ہے۔ اس میں کوئی کلام نہیں کہ جدید عہد میں سرمائے اور طاقت تک رسائی کا واحد ذریعہ جدید تعلیم ہے کیونکہ جدید سرمایہ اور طاقت دنیا کی منتہائی تجلیل ہے۔ اچھے برے کی بحث میں پڑے بغیر سوال یہ ہے کہ کیا یہ دین کا مقصود ہو سکتا ہے؟ آج کی دنیا میں سرمایہ اور طاقت شرائط بقا ہیں، لیکن دین کا مقصود نہیں ہیں۔ جدید تعلیم اور درس نظامی کی غایات میں ۱۸۰ درجے کا فرق ہے۔ دین، دینی علوم اور دینی مرادات کی کوئی چھوٹی سی پگڈنڈی بھی جدید تعلیم سے ہو کر نہیں گزرتی۔ ہم تو کوئی پرانی چیز بھی سنبھال نہیں سکے، جدید نصاب مرتب کرنے کی صلاحیت کہاں سے لائیں گے؟ نقالی ہم بہت کرتے ہیں، لیکن وہ بھی اتنی پست ہوتی ہے کہ خدا پناہ!

دوسرا اہم تر سوال یہ ہے کہ “مفید” سے کیا مراد ہے؟ درس نظامی کی بحث میں یہ سب سے زیادہ مسئلہ انگیز لفظ ہے۔ اس میں کیا شک ہے کہ آج کے دور میں فزکس انسانوں کی ضروریات کو کہیں زیادہ پورا کرتی ہے۔ قرآن شریف کی ٹیوشن پانچ سو روپے ماہانہ اور فزکس دس ہزار ماہانہ ہے۔ یہ تو معاشی فائدے کی بات ہوئی، جو بدیہی ہے۔ سماجی اور اخلاقی فائدے کو بھی دیکھ لینا چاہیے۔ فزکس پڑھانے والے سے وقت لینا مشکل ہوتا ہے، کیونکہ تعلیمی ضرورت اور کلچر میں وہ معاشرے کے لیے زیادہ ”مفید“ لہذا مصروف ہے۔ تاریخ اور معاشرے نے مذہبی تعلیم یافتہ کو ایک stereotype بنا کر غیر اہم کر دیا ہے، جبکہ جدید ٹیچر عین اسی معاشرے اور تاریخ کے طاقتور مؤثرات میں سے ایک ہے۔ ہمارے لیے ”مفید“ ہونا حق و باطل کے تناظر میں کوئی معنی رکھتا ہے، جو اولاً شعوری اور ذہنی ہے۔ مذہبی تعلیم یافتہ تاریخی اور معاشرتی قوتوں کا شکار ہے اور ”ذہن“ فی نفسہٖ کے خلاف ایک گہرا رد عمل رکھتا ہے۔ ایسی صورت حال میں مفید کا معنی معلوم ہونا اور اس کو طے کرنا ضروری ہے تاکہ صحیح مرادات تک پہنچا جا سکے۔

سوال: کیا اس وقت امت کو جس نصاب و نظام کی ضرورت ہے وہ جدید اور قدیم کا امتزاج کہلائے؟

جواب: مجھے تو ابھی امتزاج کا مفہوم معلوم نہیں ہو سکا، اور جب تک میں اپنی کم علمی کا علاج نہیں کر لیتا اس کا جواب بھی نہیں دے سکتا۔ اتنا ڈر ضرور ہے کہ کہیں یہ کوئی ”حسین امتزاج“ ہی نہ ہو جو سرکس میں بہت نظر آتا ہے۔

سوال: آخر اس وقت کون سے اور کیسے نظام کی ضرورت ہے؟ اس نظام کے عناصر کیا ہوں گے؟

جواب: اگر درسِ نظامی کو تعلیم کے فکری تناظر میں سمجھنے کی کوشش کی جائے، اور اس میں حکمتِ نظری اور حکمتِ عملی دونوں کو پیش نظر رکھا جائے تو ایسے نظام کی ضرورت اور اس کے خدو خال ازخود واضح ہو جائیں گے۔

سوال: کیا جامعہ عثمانیہ حیدر آباد کسی حد تک کامیاب ہوئی؟ ان کا نظام کیسا تھا؟

جواب: یہ ایک short-lived لیکن زبردست کوشش تھی اور اپنے تمام بنیادی اہداف میں کامیاب رہی۔ میری ناقص رائے میں ہمارے عہد زوال اور دور غلامی کا یہ واحد ادارہ ہے جس نے بہت وقیع کام کیا ہے، اور اس سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔ اس میں اہم ترین اردو کا ذریعہ تعلیم ہونا ہے، یعنی سائنس اور دیگر تمام علوم میں ذریعہ تعلیم اردو ہی تھی۔ اگر غور کریں تو معلوم ہو گا کہ یہ کارنامہ ”زبان کا مسئلہ“ حل ہونے کے بعد ممکن ہوا۔

سوال: اب ہمیں اپنا تعلیمی نظام نئے اور جدید طرز میں قدیم کو سامنے رکھتے ہوئے مرتب کرنا ہے یا قدیم کو اسی انداز میں پیش کرنا ہے یا ہجرت الی الخیر القرون کی ضرورت ہے۔ ہماری تاریخ میں انداز تعلیم متنوع قسم کے رہے، آخر ندوہ اور جامعہ ملیہ، مدرسہ الہیات کانپور نے کون سا کام نہیں کیا جو ہمیں کرنا چاہیے؟ دیوبند ایک اہم وقت کا ایک اہم تقاضا ضرور تھا ہمیشہ تھامنے کے لیے نہیں تھا۔ اب ہمیں ایسے نظام کی ضرورت ہے کہ ان تینوں کے ذریعے جس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کی گئی اس کمی کو پورا کرنے کی مکمل یقین دہانی دے۔ مگر جب تک ایسا نہیں ہوتا میرا خیال نہیں ہمیں دیوبند کے نظام کو چھوڑنے کی کوشش بھی نہیں کرنی چاہیے کہ مدارس کی تاسیس کے جو دو مقاصد ہو سکتے ہیں کہ علوم دینیہ کا احیا اور بقا اور دوسرا اسلام کا تہذیبی رنگ وہ ذمہ داری تو اس نے پوری کی۔ اور مزید یہ کہ اس وقت مذہب کو بچانے کی جو جیسی کیسی معیار کی کھیپ نکل رہی ہے پھر بھی اپنے اخلاص کے اعتبار سے نابغہ روزگار ہیں۔

جواب: میرا خیال ہے کہ تعلیم پر اس انداز ہی پر گفتگو ہوتی آئی ہے، اور اس کا جو فائدہ ہوا وہ معلوم ہے۔ ایک ضروری بات یہاں عرض کرنا چاہوں گا کہ استعمار نے ایک نئی چیز متعارف کرائی تھی جو پہلے ہمارے معاشروں میں نہیں تھی، اور جسے Public Instruction (تعلیم عامہ) کہا جاتا ہے، یعنی ہندوستانی معاشرے میں ”تعلیم“ تو تھی، ”تعلیم عامہ“ کا کوئی وجود نہیں تھا۔ ہمارے ہاں تعلیم پر جو گفتگو ہوتی آئی ہے اس میں آپ نے اس کا ذکر بھی کبھی نہ سنا ہو گا کہ کس بلا کا نام ہے۔ اس کا سادہ مطلب ہے تعلیم کو جدید ریاست کی سیاسی اور معاشی ترجیحات کے تابع اور سپرد کر دینا۔ یہ موضوع بہت تفصیل کا تقاضا کرتا ہے جو یہاں ممکن نہیں۔ دہلی پر انگریزوں کے قبضے کے فوراً بعد ایک مدرسے ہی کو دہلی عربی کالج یا قدیم دہلی کالج بنایا گیا تھا۔ یہی معاملہ ہندوؤں کے اداروں کے ساتھ بھی پیش آیا۔ استعماری قبضے کے بعد ان اداروں میں جو مسائل سامنے آنا شروع ہوئے، وہ بنیادی طور پر ”تعلیم“ اور ”تعلیم عامہ“ کی باہم آویزش سے پیدا ہوئے تھے۔ چند دہائیوں بعد لارڈ میکالے نے اپنے منٹ سے عین انہی مسائل کو ”حل“ کیا تھا۔ لارڈ میکالے کا مطلب یہ تھا کہ اگر ریاست پیسہ دے گی، تو تعلیم مکمل طور پر ریاست کی ترجیحات پر طے ہوگی، یہانتک کہ علم کا معنی، تعلیمی طریقۂ کار اور اس کے مشمولات، اور تعلیم کے مقاصد بھی ریاست ہی طے کرے گی۔ لارڈ میکالے کے مطابق جو علم کوڑی کا بھی نہیں اس کو ان ”اداروں“ میں کیوں جگہ دی جائے، اور ریاست اپنے معاشی وسائل ان پر کیوں خرچ کرے؟ اپنی تعلیمی پالیسی کو جواز دینے کے لیے استعماری ریاست کے اس نمائندے نے مقامی علوم کی تحقیر، تنقیص اور تذلیل سے ان کو delegitmize کر دیا، یعنی ان علوم کا تعین یا رد کسی علمی طریقۂ کار پر مبنی نہیں تھا بلکہ ایک استعماری فرمان تھا۔ میکالے کی بنیادی دلیل معاشی اور سائنسی تھی۔ اس کی یہ دلیل مقامی لوگوں نے بہ جبر و اکراہ تسلیم کر لی، اور آج تک اسی پر کاربند ہیں۔ لیکن وہ ابھی تک اس کی معنویت کو نہیں سمجھ سکے۔ میکالے کی معاشی اور سائنسی دلیل آج کل ”عصری تقاضوں“ کے نقاب میں ظاہر ہوتی ہے۔ ہم تو نہ جانے کب کے گھگھیائے ہوئے ہیں، اس لیے کرتے وہی کچھ ہیں جو میکالے چاہتا تھا کہ ہم کریں۔

ماضی میں تعلیم کے حوالے سے ہمارے حکمرانوں اور امرا و رؤسا کی ذمہ داری صرف معاشی تھی۔ اس کے علاوہ وہ تعلیمی عمل میں کسی بھی سطح پر کوئی دخل اندازی نہیں کرتے تھے۔

میکالے کے بعد تعلیم عامہ کے اثرات ہمارے مذہبی مدارس پر بھی بہت گہرے مرتب ہوئے، اور ان کا طریقۂ کار بھی تعلیم عامہ کے ماڈل پر بتدریج ڈھلنے لگا اور جس میں سیاست بازی اور فرقہ پرستی جزو لاینفک کے طور پر شامل رہی۔ میکالے نے ہمارے علوم کو کئی اور دلائل سے بھی رد کیا۔ ہم نے اس کے ایجنڈے کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنے علوم کو عملاً ناکارہ اور ردی ثابت کرنے میں بھرپور تعاون کیا ہے۔

میں سیاست کو ضروری سمجھتا ہوں، لیکن تعلیم کو سیاست اور فرقہ ورانہ سیاست کا ایندھن بنانا درست خیال نہیں کرتا۔ آپ نے اوپر جو ماڈل پیش کیے ہیں، مجھے تو ان کی افادیت سے انکار نہیں لیکن اب تو تجربے سے بھی پتہ چل گیا کہ وہ ہمارے مسئلے کا حل نہیں۔ درس نظامی، دینی تعلیم اور روایتی علوم کے تلازمات جاننے کے لیے فرنگی محل زیادہ بہتر مثال ہے، جہاں بیسیوں صدی تک ہماری علمی روایت کے کئی اجزا اپنی اصلی حالت میں باقی رہے۔

یہاں ڈرتے ڈرے ایک اہم سوال ضرور اٹھانا چاہوں گا۔ یہ بات متفق علیہ ہے کہ سرسید کی تعلیم ہماری دینی اور تہذیبی روایت میں انقطاع عظیم کی نشاندہی کرتی ہے۔ لیکن سنہ ۱۸۵۷ء کے بعد کیا ہمارے مدارس اور ان کی تعلیم کسی دینی اور تہذیبی روایت کا تسلسل ہے؟ اپنے مشمولات میں اس تعلیم کا سرسید کی تعلیم سے مختلف ہونا تو بدیہی ہے۔ لیکن میری رائے میں تہذیبی روایت کے انقطاع میں دونوں مماثل اور مساوی ہیں۔ اس انقطاع کی نوعیت میں فرق ہے۔ درس نظامی کا کسی بھی productive حالت میں زندہ نہ رہنا اس کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ درس نظامی رد و بدل کے بعد تبرک کے طور پر مدارس میں رائج ہوا تھا، اور چونکہ اب یہ تبرک سنبھالنا بھی مشکل ہے، اس لیے ”عصری تقاضوں“ کے والہانہ استقبال کی تیاریاں مکمل ہیں۔

آپ نے جن اداروں کا ذکر کیا، ان کی تاسیس، نمو اور ارتقا کو علمی روایت اور تعلیمی تناظر میں رکھ کر دیکھیں تو بہت دلچسپ صورت حال سامنے آتی ہے۔ ہماری تعلیمی زبوں حالی اور علمی نسل کشی (genocide) سمجھ میں آ ہی نہیں سکتی اگر ہم نصف اٹھارھویں صدی کے بعد کے حالات کو نظرانداز کر دیں۔ جنگ آزادی کے بعد جو کچھ سامنے آیا وہ تو محض ثمرات تھے، اور اب وہ بھی اپنے امکانات پورے کر چکے ہیں۔

اس دراز نفسی کا مقصد صرف ایک نکتے کی طرف توجہ دلانا ہے کہ درس نظامی کا نصاب ہمارے دینی علوم اور طویل تہذیبی روایت کے تسلسل کا نمائندہ تھا، جبکہ سنہ ۱۸۵۷ء کے بعد ہماری مذہبی تعلیم اور مذہبی علوم انقطاع عظیم کی نمائندگی کرتے ہیں۔ مابعد جنگِ آزادی ہمارے مذہبی علوم میں کارفرما تصور علم اس سے قطعی مختلف ہے جس پر ہماری طویل علمی روایت کی نمو ہوئی ہے۔ اس طرح جنگ آزادی کے بعد ہمارے مذہبی علوم میں اور درس نظامی میں ایک بہت ہی گہری عدم مطابقت موجود رہی ہے۔ یعنی مابعد جنگ آزادی ہمارے مذہبی علوم اور درس نظامی کا ایک ساتھ موجود رہنا تقریباً ناممکن تھا۔ اور موجودہ صورت حال اسی حقیقت کا اظہار ہے۔ اہل علم واقف ہیں کہ وہ ٹیکنیکل اور علمی وسائل جو درس نظامی سے فراہم ہوتے ہیں وہ مابعد جنگ آزادی ہمارے مذہبی علوم کی پیداوار اور تشکیل میں کہیں کارفرما نظر نہیں آتے، کیونکہ یہ علوم ایک نئی منہج اور تصور علم سے پیدا ہوئے جو درس نظامی سے کوئی مطابقت نہیں رکھتا۔ ناچیز کی رائے میں درس نظامی کے فراہم کردہ علمی اور فنی وسائل طریقۂ کار کی معمولی تبدیلی کے ساتھ عصر حاضر کے علوم سے روبروئی کی بھی مکمل استعداد رکھتے تھے، جبکہ مابعد جنگ آزادی پیدا ہونے والے علوم اس استعداد سے پیدائشی طور پر خالی تھے۔

سوال: یہ چند نکات پر مشتمل ایک فہرست ہے جس میں اشارتاً بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ نصاب کیسا ہونا چاہیے۔ یہ اسلاف کی کتب سے اکٹھا کیا گیا مواد ہے۔
١۔ نصاب میں ایسی کتب داخل کی جائیں کہ ان کے مصنفین و مولفین علم و عمل کے اعتبار سے مسلم ہوں، تقوی کے اعتبار سے شہرت رکھتے ہوں۔
٢۔ کتابیں مختصر ہوں پر جامع ہوں جس سے ٹھوس استعداد بنے۔
٣۔ نہ ہی سہل و سلیس کتب رکھی جائیں کہ طلبا خود ہی مطالعہ سے حل کر سکیں اور استاد کی مدد ہی درکار نہ رہے۔
٤۔ جدید فلسفہ اور سائنس اور تاریخ وغیرہ کی کتب داخل نصاب کی جائیں تو شرط یہ ہے کہ اس کی تعلیم دین کی تعلیم کے تابع ہو۔ اور اگر جدید، کافر فلاسفہ کی کتب ہوں تو تنقیدی انداز میں پڑھایا جائے جیسے پہلے فلاسفہ کی کتب میں شروح و حواشی کے انداز کا طریقہ رہا ہے، اور ایسی اشیا پڑھانے والے بھی اسلامی رنگ میں رنگے ہوں۔

جواب: اگر درس نظامی کی بہتری کے لیے ایسی ہی تجویزیں آتی رہیں، تو آخر میں نصاب الف بے پے اور ایک دو تین رہ جائے گا کیونکہ بچوں کو ابتدا میں حروف تہجی اور اعداد کا سیکھنا بھی بہت مشکل ہوتا ہے۔ آسانی اسی میں ہے ایک متفقہ فیصلے سے تعلیم کو کھیل کود اور علم کو جرم قرار دے دیا جائےاور تعلیمِ شے کو مقصود حیات بنا لیا جائے۔ شے کے ”علم“ میں سہولت یہ ہے کہ لفظ کے بغیر بھی حاصل ہو جاتا ہے، اور ان پڑھ مستری تو آپ نے دیکھے ہی ہوں گے جو اپنے کام میں منتہی ہوتے ہیں۔ مستری ”عصری ضرورت“ کو سب سے بہتر پورا کرتا ہے۔ اور اگر وہ نہ ہو تو پورا ”عصر“ ہی ٹھپ ہو جائے۔ شے کی تعلیم اور ”علم“ میں دل بھی بہت لگتا ہے، آدمی مصروف بھی رہتا ہے اور روٹی کا مسئلہ بھی حل ہو جاتا ہے۔ ہم یہ کیا نصاب وغیرہ کی بحثوں میں الجھ گئے ہیں؟ کوئی بیوقوف ہی ہو گا جو مذہب، مذہبی تعلیم اور دینی علوم کو ”عصری ضرورت“ سمجھتا ہو گا۔ یہ تو مسلمانوں کی مستقل ضروریات کا مسئلہ ہے اور ان کو پورا کرنے کے لیے ہم نے پست ترین نمونوں کا انتخاب کیا ہے۔ نصاب اور تعلیم کے بارے میں ایسی باتیں کرنے سے بہتر ہے آدمی کوئی وظیفہ کر لے یا خاموش رہے کیونکہ دونوں ثواب کے کام ہیں۔

ایک دفعہ ایک مہتمم سے ملاقات ہوئی، اور ناچیز نے جدیدیت اور جدید تعلیم کے بارے میں کچھ گزارش کرنے کی کوشش کی تو معاملہ انتہائی سنگین ہو گیا اور جو الزامات مجھے سننے پڑے، ان میں ایک یہ تھا کہ آپ جدیدیت کی مخالفت اس لیے کرتے ہیں کہ مدارس دنیا کی نعمتوں سے بہرہ مند نہ ہو سکیں، اور خود جدید اداروں میں کام کر کے اچھی تنخواہیں لیتے رہیں۔ آپ کو خوف ہے کہ وہ بھی جدید ہو کر اچھی تنخواہیں لینے لگیں گے اور جدید تعلیم یافتہ لوگوں کے لیے خطرہ بن جائیں گے۔ اب کوئی کیا بات کرے؟ تعلیم اور تنخواہ کے ”حسین امتزاج“ سے یہی کچھ برآمد ہوتا ہے۔

سوال: کیا یہ جو وفاق بنا کر اپنے مسالک کے مدارس کو جوڑ دیا گیا ہے اور ان تمام وفاقوں کو بھی آپس میں جوڑ دیا گیا ہے۔ اس کا کیا فائدہ ہے اور آپ کو اس میں کوئی نقصان بھی نظر آتا ہے۔ امتحانی نظام کسی بھی نظام تعلیم میں کیا حثیت رکھتا ہے اور اس کے فوائد اور ممکنہ نقصان ہیں؟ ہمارے ایک محترم جو کہ ایک صاحب علم آدمی ہیں فرماتے ہیں کہ وفاق کا بننا ایک طرح سے ہماری تہذیبی شکست ہے۔ کیا یہ بات درست ہے معلوم ہوتی ہے آپ کو؟

جواب: آپ کے محترم نے جو کہا سچ کہا۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ ہمارے ہاں تعلیم تو تھی، تعلیم عامہ نہیں تھی۔ ہماری شکست کے بعد جو کچھ بچ رہا ہم نے اسے استعماری تعلیم عامہ کے ماڈل پر ڈھالنے کی بہت بھونڈی کوشش کی۔ اور اس میں ایک بات کا سختی سے خیال رکھا کہ اہلیت، ذہانت اور محنت کا گزر بھی اس میں نہ ہو۔ اس کی جگہ ہم نے خالی تقدیس، لایعنی تجلیل اور مسموم فرقہ واریت کو اعلی مقاصد کے طور پر متعارف کرایا۔ ہم نے جو کیا اس کے نتائج پا لیے۔ اب بھی اگر وہی کچھ کرنا ہے تو نتائج مختلف کیسے ہوں گے؟