می ٹو تحریک کی حمایت کیوں؟ رطبہ جنیہ

ہیش ٹیگ ''می ٹو'' تحریک کے اغراض و مقاصد چاہے جو کچھ بھی ہوں لیکن جنسی ہراسگی ایک زندہ حقیقت ہے، اس کی موجودگی سے سرے سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اور پھر انکار ان کی طرف سے آتا ہے جن کے اپنے گھروں میں ان کی اپنی بہو بیٹیاں اپنے محرم رشتے داروں سے محفوظ نہیں۔ مجھے اس موضوع پر لکھنا تھا نہ ہی میں عموما سنجیدہ موضوعات پر لکھتی ہوں، لیکن پچھلے دنوں ایک محترم اور معتبر لکھاری نے اس تحریک کی ایسے الفاظ میں تذلیل کی کہ دکھ نے لکھنے پر مجبور کر دیا۔ ایک مرتبہ ایک واقعہ پڑھا تھا لیکن اخبار کے دینی صفحے پر جہاں غیرمستند اور صریح من گھڑت واقعات بھی آتے رہتے ہیں، سو اس کی اسناد معلوم نہیں، یوں تھا کہ عمر رضی اللہ کے زمانے میں جنگل میں ایک نوعمر لڑکے کی لاش ملی اور قاتلوں کا معلوم نہ ہو سکا۔ سال بھر بعد وہاں ایک شیرخوار بچہ پڑا ملا، تب عمر رضی اللہ نے شہر کی ساری دائیوں کو بلا کر تفتیش کی اور اس بچے کی ماں کے پاس پہنچے۔ وہ ایک تاجر کی غیر شادی شدہ بیٹی تھی۔ اس نے بتایا کہ وہ جنگل میں رفع حاجت کے لیے گئی تھی، وہاں مقتول لڑکے نے اس کے ساتھ زیادتی کی اور اس لڑکی نے مزاحمت کرتے ہوئے اسے قتل کر دیا۔ بعد ازاں اس کی ماں نے اسے شہر سے دور بھجوا دیا اور جب اس لڑکے کی اولاد ہوئی تو اسے بھی وہ لڑکی اسی جگہ رکھ آئی جہاں وقوعہ ہوا تھا۔ عمر رضی اللہ نے اس لڑکی کی بہادری کی تعریف کی اور لڑکے کے خون کو رائیگاں قرار دیا۔

اگر یہ واقعہ مستند ہے تو بھی وہ تو عمر تھے نا، ہماری مشترکہ تاریخ کا حصہ، مگر جنہیں آج اس موضوع پر بات کرنا فحاشی لگ رہی ہے، ان کی پرسنل ہسٹری مختلف ہے، ان کے قبیلے کی خاتون کے گھر کا معاملہ ہے، بتانے والی لڑکی حلفیہ بیان کرتی ہے، اس کی اجازت سے ہی لکھ رہی ہوں، اس کا بھائی بچپن میں اسے مارتا تھا تو ماں سب کے سامنے بھائی ہی کی حمایت کرتی تھی، مگر پیٹھ پیچھے بہن کو کھانے پینے کی چیزیں دے کر، دو چار میٹھی باتیں کر کے چپکے چپکے اپنی محبت کا یقین دلاتی تھی۔ وہ بچی جائز ماں سے ناجائز اولاد جیسی محبت لے لے کر تنگ آ گئی تھی۔ سو بڑے بھائی سے ہمدردی ملنے لگی تو جیسے زندگی میں پہلی بار اور واحد ہمدرد پا کر وہ اس کی شیطانیت کو پہچان نہ سکی، ایک دن بہن بھائی گھر پر اکیلے تھے جب وہ گیارہ سال کی بچی اپنے سگے بھائی کی درندگی کا نشانہ بنتے بنتے بچی۔ قسمت سے وقت پر دروازے پر گھنٹی بج گئی اور وہ لڑکی پھٹے لباس کو تبدیل کر کے دروازہ لاک کر کے ماں کے آنے تک بچ گئی۔ سب سے بڑا المیہ اس کی انتہائی دین زدہ نیک پروین ماں کا ردعمل تھا، پہلے تو ہائے ہائے میری دلاری تیرے صدقے ہو ہو کر تفصیلات اچھی طرح معلوم کر لیں، اور پھر گرج کر فرمانے لگیں آج کے بعد ایسی واہیات بات زبان پر نہ لانا۔ اور آج تک یہی فرماتی ہیں کہ وہ میرا پاکباز تب کم عمر تھا، نادان تھا، سو چھوٹی سی غلطی کر بیٹھا، (بیٹی تو جیسے کرائے کی اولاد تھی)۔ یہ ایک واقعہ ہے، ایسے کئی دیگر ان جیسے گھروں کی راکھ میں دبے ہیں، جہاں بچیاں باپوں تک سے محفوظ نہیں ہیں۔ ماں کہتی ہے تجھ پر جوانی ہی ایسی چڑھی ہے، تیرے باپ کا کیا قصور، وہ تو تہجدگزار فجر میں مسجد آباد کرنے والا۔

سو ایسے لوگوں سے اور کیا امید کی جائے؟ کیا وہ ایسی لڑکیوں کو پھولوں کے ہار ڈالیں گی جنہوں نے خود پر ہونے والے مظالم پر شور مچایا؟ کیا وہ انھیں انصاف دلوانا چاہیں گی؟ کیا وہ انھیں بتائیں گی کہ اگر دنیا میں شواہد کی کمی پر سزا نہیں دلوائی جا سکتی تو قیامت ضرور آئے گی؟ کیا وہ ان کا حوصلہ بندھائیں گی؟ نہیں! وہ تو وہی کریں گی نا جو ان کی ماؤں نے ان کے ساتھ کیا اور انہوں نے اپنی بیٹیوں کے ساتھ کیا۔ وہ تو یہی کہیں گی کہ اے خرانٹ چھوکری تو گھر سے باہر برباد ہوئی تو گھر سے نکلی کیوں؟ تو گھر میں برباد ہوئی تو گھر میں ٹکی کیوں؟ اب برباد ہو ہی گئی تو اس ظلم کا ذکر کر کے فحاشی کیوں پھیلا رہی ہے؟

اور انتہا یہ کہ ایسے واقعات کا حل بہت ہوا تو یہ بتا دیا کہ قرآن پڑھنے پر لگا دو۔ خدا شاہد ہے قاری خود بچوں کو جبرا استعمال کرتے پائے گئے ہیں۔ قرآن پڑھنے والوں کو قرآن سمجھائے بغیر، قرآن بھیجنے والے کا خوف دلائے بغیر کھلا چھوڑ دیا اور ماں باپ اللہ کے گھر، اللہ کی کتا ب سیکھنے بھیج کر مطمئن ہو رہے۔ گھروں کے ڈرائنگ رومز اور لانز میں ایسے واقعات ہوئے۔ والدین کے اللہ والوں پر اعتماد اور اللہ والوں کی اللہ سے بےخوفی کے درمیان بچہ برباد ہو گیا۔

پچھلے دنوں عامر خان کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں وہ بچوں کو بتا رہا ہے کہ غلط طریقے سے ہاتھ لگانا کیا ہے اور انہیں کب چیخنا ہے۔ خدا کے بندو! بچوں کو فطرت نے اتنا شعور دے کر بھیجا ہے کہ غلط کیا ہے۔ بڑوں کو یہ سکھانے کی ضرورت ہے کہ غلط کیوں نہیں کرنا، غلط کی سزا کیا ہے، اور اگر کوئی بچہ یا بڑا آپ کے پاس ایسی کوئی شکایت لے کر آئے تو کیا کرنا چاہیے، تاکہ آپ کے گھر میں خدانخواستہ ایسے کسی واقعہ پر 'عزت بچاؤ' یا 'مٹی پاؤ' پالیسی اپنا کر ایسا اندھیر نہ مچے کہ آپ کو خود بھی خبر نہ ہو۔

اور آخری بات!
جب کچھ لوگ یہ تحریر پڑھیں گے تو تجربے کی روشنی میں اندازہ ہے کچھ ایسا مشہور کرنا چاہیں گے کہ خود پر بیتی ہے جو اتنے مڑور اٹھ رہے ہیں، پھر بتاتی بھی نہیں کہ ہم کچھ چسکے ہی لے لیں۔ سو ان سب کے لیے بتا دوں۔ اللہ کا کرم کم زیادہ سب پر ہوتا ہے، البتہ مجھے ہمیشہ سے ہر انسان پر شدید عدم اعتماد کا مسئلہ ہے، مسائل انسان پیدا کرتے ہیں اور میں انسانوں سے کبھی اکیلے میں نہیں ملی۔ ایک مقولہ لاشعور میں کھب گیا ہوا ہے کہ عقلمند وہ نہیں جو ٹھوکر کھا کر سنبھلے، عقلمند وہ ہے جو دوسروں کو ٹھوکر کھاتا دیکھ کر سنبھل جائے۔ نہ کبھی کسی کی دوستی و ہمدردی پر ایسا اندھا اعتبار ہوا نہ محبت و شفقت اور خوشامد پر۔ نہ خود پر ہی اتنا بھروسہ رہا کہ اکیلی کہیں پائی جاؤں۔ دوسروں کی بیتیاں پڑھ سن کر ہی سہم جانے والی لڑکی ہوں۔گھر کے باہر انھی ٹرسٹ ایشوز کی وجہ سے اور گھر کے اندر اس لیے کہ ہمارے یہاں ہر وقت میلہ شالیمار کا لگا رہتا ہے، ایسے میں اپنی امی سے بھی اکیلے میں ملنا ہو تو باقاعدہ اپوائنٹمنٹ لے کر عشاء کے بہت بعد یا تہجد میں ملنا پڑتا ہے۔ سو اللہ نے محفوظ رکھ لیا۔

رہا سوال کہ اگر بالفرض ایسا ہوا ہوتا؟
ہاں اگر میں کسی واقعے کے چار گواہ لا سکتی تو میں ہر حد تک جاتی، اور اگرگواہ نہ لا پاتی تو میں اپنا بدلہ اپنے ہاتھ سے لیتی۔ اور اگر ایسا بھی نہ کر پاتی، تب میں "می ٹو" نہ بنتی۔ اس لیے نہیں کہ وہ سب عورتیں غلط ہیں، اس لیے کہ یہی قاعدہ ہے۔ بےبنیاد الزام کے نقصان سے مرد کو بچانے کے لیے اللہ نے یونہی رکھ دیا ہے۔ میں قیامت کا انتظار کر لیتی کیونکہ میرے پاس تو اللہ ہے نا۔ مگر وہ بےچاری عورتیں جن کو آپ نے اللہ تک بھی نہیں آنے دیا، وہ خود کے لیے اگر کچھ کر رہی ہیں تو انھیں کہہ لینے دیجیے۔۔۔ اگر آپ کو یا آپ کے پیاروں کو اللہ نے محفوظ رکھا ہے تو اس کا کرم مانیے، وہ کہتا ہے اگر میں نہ چاہوں تو تم میں سے کوئی ایک فرد بھی پاکباز نہ رہ پائے، مگر یہ اسی کا احسان ہے کہ اس نے تمھیں پاک رکھا۔ یقین کریں یہ بے ضرر سی تحریک ہے، اس کے بعد بھی آپ کے بیٹے یونہی پھرتے رہیں گے، لیکں ان عورتوں کو کہہ لینے دیجیے، کہہ لینے سے وہ آپ کے مقام کو نہیں پہنچ سکتیں۔ اور وہ کہہ سن لینے کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتی ہیں۔ وہ فحش، بےحیا، متکبر عورتیں!