جدوجہد آزادی، سیاق و سباق کے تناظر میں - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

سلاطین دہلی کے بعد جب مغلوں نے ہندوستان کو اپنا مسکن بنایا تو یہاں پہلی بار ایک مستقل انتظامی نظام کی داغ بیل ڈالی گئی۔ ایسا نہیں کہ سلاطین کے دور میں انتظامی معاملات پر توجہ نہیں دی گئی لیکن اس دور میں ایک تو سلطنت کی جغرافیائی وسعت اتنی زیادہ نہ تھی کہ ایک جامع نظام کی ضرورت ہو اور دوسرا اہم مسئلہ یہ تھا کہ پے درپے بدلتی حکومتوں نے کسی نظام کو باقاعدہ جڑ ہی نہیں پکڑنے دی۔ زیادہ تر بندوبست بادشاہوں کی شخصیت کے ساتھ ہی وابستہ رہے اور ان کے ساتھ ہی معدوم ہو گئے۔ مغل دور میں جنگی مہمات کے ساتھ ساتھ مالیہ اور انتظامیہ دونوں پر خاصی توجہ دی گئی اور رفتہ رفتہ ریاستی استحکام ایک حقیقت بننے لگا۔

مغلوں کے اس نظام میں ایک اہم بات یہ تھی کہ اس کا مرکزی محور جاگیرداری نظام تھا۔ جاگیردار کے ذمہ محصولات جمع کرنا اور اس کی ترسیل تھا اور مرکزی حکومت اسی سے معاملہ کرتی تھی۔ ادھر جاگیردار علاقے کا حاکم ہوتا تھا اور مرکزی حکومت کے ساتھ ساتھ اپنے اخراجات بھی جاگیر کی زرعی پیداوار کے ساتھ ساتھ عوام پر مختلف قسم کے واجبات عائد کر کے پورا کرتا تھا۔ اس نظام میں ہندو اور مسلمان دونوں شامل تھے۔ بعض جگہ تو ایسا تھا کہ آبادی کی اکثریت ہندو ہے تو ان پر حاکم یا نواب مسلمان ہے، دوسری طرف کچھ مسلمان اکثریتی علاقوں میں ہندو حاکم تھے۔ اس نظام کی خاص بات یہ تھی کہ اس سے سیاسی طور پر مسلمانوں اور ہندوؤں کے مابین ایک توازن قائم تھا. جب سترھویں صدی کے نصف آخر اور پھر اٹھارویں صدی میں مغلوں کی گرفت کچھ کمزور پڑنے لگی تو ان میں سے بعض ریاستوں کے حاکمین نے مرکزی حکومت کی باجگزاری سے انکار کرتے ہوئے مکمل خودمختاری یا نیم خودمختاری کا اعلان کر دیا۔ تاہم اس صورت میں بھی مرکزی حکومت کے ساتھ کسی نہ کسی طور معاملات چلتے رہے۔

1857ء کی جنگ آزادی تک یہ صورتحال ایسے ہی رہی۔ یہاں تک کہ یہ جنگ بھی مغل بادشاہ کے نام پر ہی لڑی گئی حالانکہ اس وقت تک مغل حکومت کا "اقتدار" سمٹ کر بس شاہی محل تک ہی محدود تھا۔ اس جنگ کی ناکامی کے بعد بھی مسلمان خود کو ہندوستان کا وارث یا ایک فیصلہ کن سیاسی فریق سمجھتے رہے۔ ادھر انگریز حکمران بھی مسلمانوں کو ہی اپنا اصل حریف اور ہندوستان میں اپنے اقتدار کے لیے بنیادی خطرہ سمجھتے تھے۔ تاہم مسلمانوں کی اس بزعم خویش صف اول کی پوزیشن کو پہلا دھچکہ تب لگا جب 1885ء میں برطانوی سول سروس کے ایک افسر ایلن ہیوم کی سرپرستی میں "انڈین نیشنل کانگریس" کا ڈول ڈالا گیا۔ اس جماعت کے قیام سے ہندوستان کے سیاسی منظرنامہ میں جو اساسی تبدیلی واقع ہوئی، وہ یہ تھی کہ ہندوستان میں "اکثریت" اور "اقلیت" کا تصور پیدا ہوا۔ ہندو اکثریت اور مسلمان اقلیت۔ گویا قیادت تو رہی ایک طرف، مسلمان اب برابری کے دعویدار بھی نہیں ہو سکتے تھے۔ وہ ایک اقلیت تھے جنھیں اپنے سیاسی مستقبل کے لیے ایک اکثریت کی خوشنودی کا دست نگر ہونا تھا۔ یہ برصغیر کا پہلا "دو قومی نظریہ" تھا جو وجود میں آیا۔ اگر آپ اسے دو قومی نظریہ نہ بھی کہیں تو یہ ایک نئے بندوبست کا آغاز ضرور تھا جہاں عددی قوت ایک نئی حقیقت بن چکی تھی۔ مسلمانوں کے لیے یہ ایک غیر متوقع اور ناخوشگوار صورتحال تھی۔ مسلمان لیڈرشپ، خاص طور پر سر سید احمد خان کو اس تناظر میں مسلمانان ہند کے سیاسی مستقبل کے حوالہ سے بجا طور بہت سے خدشات تھے۔

ہندوستان میں سیاسی الٹ پھیر کے سلسلہ کا اگلا پڑاؤ 1905ء میں آیا جب لارڈ کرزن کی انتظامیہ نے بنگال کو بہتر انتظامی بندوبست کے لیے مشرقی اور مغربی بنگال میں تقسیم کر دیا۔ یہ تقسیم اکتوبر 1905ء میں میں مؤثر ہوئی، تاہم جولائی میں اس کے اعلان کے ساتھ ہی کانگریس نے اس کی شدید مخالفت شروع کر دی۔ یہ محض اتفاق تھا کہ مشرقی بنگال میں مسلمانوں کی اکثریت تھی اور مغربی بنگال میں ہندو زیادہ تعداد میں تھے۔ مشرقی حصہ مغربی کی نسبت معاشی اور سماجی طور پر کہیں زیادہ پسماندہ تھا۔ مسلمان رہنماؤں کا خیال تھا کہ اس تقسیم کے نتیجہ میں مشرقی حصہ کو زیادہ سرکاری توجہ ملے گی اور وہاں کے لوگوں کا معیار زندگی بلند ہوگا۔ تاہم کانگریس نے اسے بنگالی قومیت کا مسئلہ بنا کر اس کے خلاف "سودیشی تحریک" کی صورت ایک منظم اور مسلسل احتجاج شروع کر دیا۔

اس احتجاج کا ایک نتیجہ بنگال ہی کی سرزمین سے مسلمانوں کی ایک سیاسی جماعت "مسلم لیگ" کی صورت نکلا۔ اس جماعت کی تشکیل کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کے سیاسی مؤقف کو اس نئے سیاسی پلیٹ فارم سے پیش کیا جائے اور معاملات کو کانگریس کی صوابدید پر موقوف ہو جانے کا سلسلہ روکنے کے لیے انگریز حکام تک براہ راست اپنے خیالات و مطالبات پہنچائے جائیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کرتار پور امن کی راہداری - حاجی محمد لطیف کھوکھر

بیسویں صدی کی پہلی دہائی میں ہندوستان کی آئینی و جمہوری ریفارمز کے ایجنڈہ کے تحت "انڈین کونسلز ایکٹ 1909ء" آیا جس میں مسلمانوں کے لیے جداگانہ انتخابات کا اصول تسلیم کیا گیا تاہم کانگریس نے اسے مسترد کر دیا۔ اس دوران تقسیم بنگال کے خلاف کانگریس کا احتجاج مسلسل جاری رہا، حتی کہ دسمبر 1911ء میں انگریز حکومت نے تقسیمِ بنگال کا فیصلہ واپس لے لیا اور بنگال کی پہلے والی حیثیت بحال کر دی۔ مندرجہ بالا دونوں واقعات نے مسلمانوں کے احساسِ عدم تحفظ میں اضافہ کیا اور وہ زیادہ امید کے ساتھ مسلم لیگ کی طرف دیکھنے لگے۔ اسی دوران پہلی جنگ عظیم کے ہنگام کانگریس اور مسلم لیگ کے مابین ایک تاریخی معاہدہ ہوا جسے میثاق لکھنؤ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

اس معاہدے کے چیدہ نکات یہ تھے:
1) کانگریس نے مسلمانوں کے لیے جداگانہ انتخاب کا اصول تسلیم کر لیا۔
2) کانگریس نے مسلمانوں کی آبادی کم ہونے کے باوجود کونسلز کے انتخابات میں ان کے لیے ایک تہائی نشستوں کی بات مان لی۔
3) یہ بات تسلیم کر لی گئی کہ کسی کمیونٹی سے متعلق قانون سازی اس وقت تک پاس نہ ہو سکے گی جب تک کونسل میں موجود اس کے تین چوتھائی ممبران اس کی توثیق نہ کر دیں۔

یہ معاہدہ برصغیر پاک و ہند کی سیاسی تاریخ کا وہ موڑ ہے جہاں کانگریس اور مسلم لیگ ایک ہی جگہ کھڑے تھے اور ہندوستان کی جغرافیائی وحدت پر سب کا اتفاق تھا۔ اس معاہدے کا ایک اور دلچسپ پہلو یہ تھا کہ اس کی تکمیل میں محمد علی جناح کا بنیادی کردار تھا اور اس وقت وہ بیک وقت مسلم لیگ اور کانگریس کے ممبر تھے۔

مسلم لیگ نے تقسیم بنگال والی تلخیوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے اس معاہدے پر دستخط کر کے اس بات کو بالکل واضح کر دیا کہ ان کا مقصد صرف ہندوستان کے سیاسی فریم ورک میں مسلمانوں کے لیے بہتر سیاسی پوزیشن کا حصول ہے۔ جہاں وہ محض ایک عددی اقلیت بن کر نہ رہ جائیں بلکہ ان کو امور مملکت اور قانون سازی میں ایک با اثر آواز میسر رہے۔ یہاں یہ بات اہم ہے کہ مسلم لیگ نے کبھی یہ نہیں کہا کہ اکثریت کو اقلیت میں بدل دیا جائے اور نہ یہ کہ اقلیت کو اکثریت بنا دیا جائے، ان کا کہنا یہ تھا کہ ہندوستان کی سیاسی تاریخ کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے محض اکثریت و اقلیت کے فارمولہ سے حل نہیں کیا جاسکتا۔ مسلم لیگ کے دو قومی نظریہ کا یہی مطلب تھا کہ مسلمانوں کو ایک اسٹیک ہولڈر کے طور پر دیکھا جائے۔ وہ مختلف سطحوں پر ہندوستان میں حکمران رہے ہیں۔ اب انہیں سیاسی کھیل کے بدلے ہوئے اصولوں کی آڑ میں disenfranchise کر دینا قرین حکمت نہیں ہوگا، وہ کسی بڑے عدد کی محض ایک چھوٹی اکائی نہیں ہیں۔ اس لیے مسلمانوں کو افراد کی تعداد کے فارمولے پر نہ دیکھا جائے بلکہ ان کو ایک زیادہ بہتر سیاسی فریم ورک دیا جائے۔ یہاں یہ نکتہ قابل ذکر ہے کہ یہ وہ روایتی ہندو مسلم لڑائی یا مذہب کے نام پر سیاست کا قضیہ نہ تھا جیسا کہ کانگریس باور کرواتی تھی اور ہمارے ہاں بھی بعض لوگ اب تک اسی پیرائے میں اس کا حوالہ دیتے ہیں۔ یہ کسی مذہبی منافرت کا معاملہ نہیں تھا۔ خود قائد اعظم نے بھی واضح کیا کہ یہ یہ مسئلہ کسی صورت بھی ''Communal'' نہیں بلکہ "Inter National" ہے۔

اگلی تین دہائیوں تک ہندوستان کی سیاست میثاقِ لکھنؤ میں طے پانے والی شرائط کے گرد گھومتی رہی۔ کانگریس معاہدہ لکھنؤ سے متعلق پہلے پہل تو لیت و لعل سے کام لیتی رہی، پھر بالکل مکر گئی۔ 1920ء کی دہائی میں دارالعلوم دیوبند کے چند بڑے ناموں کی کانگریس میں شمولیت کے بعد مسلمانوں کو تو کچھ خاص فائدہ نہ ہؤا لیکن نیشنلزم کے نام پر مسلم لیگ سے متعلق کانگریس کی پوزیشن سخت سے سخت ہوتی گئی اور بالآخر وہ میثاق لکھنؤ سے مکمل پیچھے ہٹ گئی۔ اس کے بعد موتی لال نہرو صاحب کے چھ نکات ہوں، گول میز کانفرنس، سن 1937ء کے ریاستی انتخابات، یا پھر کابینہ مشن پلان، کانگریس نے ہر جگہ ان نکات کی ڈٹ کر مخالفت کی جو اس نے میثاق لکھنؤ میں تسلیم کیے تھے۔ دوسری جانب تجاویز دہلی ہوں ،جناح کے چودہ نکات، یا پھر گول میز کانفرنس۔ مسلم لیگ کا اصرار ان ہی باتوں پر رہا جن سے کانگریس میثاق لکھنؤ میں اتفاق کر چکی تھی۔ مسلم لیگ اور مسلمانوں میں کانگریس کے مسلسل انکار سے یہ خدشات اور بھی بڑھ رہے تھے کہ آئینی و قانونی تحفظات کی عدم موجودگی میں انگریز کے ہندوستان سے چلے جانے کے بعد مسلمان ہر جگہ سائیڈ لائن ہو جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا پاکستان اسلامی بھی ہے اور جمہوری بھی؟ حبیب الرحمن

اس بیچ گورنمنٹ آف انڈیا آیکٹ 1935ء کے نفاذ کے بعد ہونے والے پہلے ریاستی انتخابات میں کانگریس کی کامیابی اور پھر کانگریس وزارتوں میں مسلمانوں کے خلاف معاندانہ رویہ نے مسلم لیگ اور مسلمانان ہند کو اور بھی یکسو کردیا۔ اب وہ مسلم اکثریتوں علاقوں میں آبادی کے موجود تناسب کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ ان علاقوں کی ایک یونین بنانے کی بات بھی سوچنے لگے، یہی چیز قرارداد لاہور میں بھی نظر آتی ہے۔ اگر کانگریس وزارتوں کا تجربہ سامنے نہ آتا تو مسلم لیگ ایسا کوئی مطالبہ نہ کرتی۔ اگر کرتی بھی تو اس کو عوامی پذیرائی کبھی حاصل نہ ہو پاتی۔ دوسری جانب کانگریس میں شامل مسلمان لیڈران بشمول مولانا حسین احمد مدنی اور مولانا ابوالکلام آزاد کسی موقع پر بھی کانگریس سے مسلمانوں کو ایسی کوئی رعایت نہ لے کر دے سکے جو ان کے لیے بہتر ڈیل کا پیغام بن سکے۔ بظاہر وہ گاندھی جی کی اس بات پر قانع تھے کہ ہندو مسلم قضیہ "گھر کی بات" ہے جسے انگریزوں کے جانے کے بعد نمٹا لیا جائے گا۔

1916ء کے بعد برصغیر کی تاریخ میں دوسرا اہم ترین سال 1946 تھا جب کابینہ مشن پلان کی تجاویز سامنے آئیں۔ قائد اعظم نے پاکستان کے واضح مطالبے اور مسلمانوں میں اس کی بے پناہ حمایت کے باوجود ان تجاویز کو قبول کرنے کا اعلان کر دیا۔ لیکن کانگریس نے انہیں رد کر دیا۔ اس موقع پر بھی مولانا ابوالکلام آزاد کانگریس کو اس بات پر آمادہ نہ کر پائے کہ کابینہ مشن پلان میں اگر ہندوستان کے بٹوارے کے بیج ہیں تو اسی میں اس کے متحد رہنے کے امکانات بھی موجود ہیں۔ مسلمانوں کو بہتر سیاسی مواقع حاصل رہیں گے تو وہ کیوں علیٰحدگی کا سوچیں گے۔ گویا بادی النظر میں وہ اس بات پر مطمئن تھے کہ مسلمان بطور ایک مجرد اقلیت ہندوستان میں اکثریتی آبادی کے ماتحت رہیں تو ٹھیک ہے، وگرنہ اور کوئی راستہ نہیں۔ بعض دوست قائد اعظم کی جانب سے مولانا آزاد کو کانگریس کا "شَو بوائے" کہے جانے پر بہت جز بز ہوتے ہیں۔ حالانکہ ان کا اشارہ اسی جانب تھا کہ بظاہر کانگریس میں مولانا کی نہایت اہم پوزیشن ہے لیکن ان کی بات نہ تو سنی جاتی ہے اور نہ ہی مانی جاتی ہے۔ آپ 1924ء سے لے کر 1946ء تک کوئی ایک اسی مثال نہیں دے سکیں گے جہاں کانگریس نے مولانا کو کوئی رعایت دی ہو تاکہ وہ مسلم لیگ کو سیاسی پسپائی کا شکار کر سکیں۔

تقسیم کے بعد جب اپنے خطبہ جمعہ میں مولانا ابوالکلام آزاد مسجد کے میناروں سے ہندوستان کے مسلمانوں کو مسلم لیگ کا ساتھ دینے کا طعنہ دلوا رہے تھے، اور انھیں بتا رہے تھے کہ جناح نے ان کو دھوکہ دیا، تو کاش وہ یہ بھی کہہ ڈالتے کہ مسٹر جناح نے تو کابینہ مشن پلان اسی لیے قبول کر لیا تھا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ہندوستان کے تمام مسلمان پاکستان کا حصہ نہیں ہوں گے۔ اور یہ ہم تھے جو کانگریس کو اس بات پر آمادہ نہ کر پائے کہ وہ اس پلان کو رد نہ کرے۔ ہم آپ کے اصل قصور وار ہیں۔ اگر کوئی انگریز کا ایجنٹ بن کر ہندوستان کی تقسیم کا باعث بنا تو وہ کانگریس تھی، جس نے کابینہ مشن کی تجاویز کو پائے حقارت سے ٹھکرا دیا۔ کابینہ مشن پلان کی منظوری کے بعد مسلم لیگ کو کسی صورت تقسیم ہند کے لیے مورود الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ مسلم لیگ فقط اتنا چاہتی تھی کہ مسلمانوں کے لیے بہتر عُمرانی معاہدہ حاصل کیا جائے، جب کانگریس نے ہندوستان کے فریم ورک میں اسے ناممکن بنا دیا تو پھر مسلم لیگ پاکستان کے مطالبہ پر یکسو ہوگئی۔

ویسے تو وہ لوگ نہایت زیادتی کرتے ہیں جو سیاسی میدان میں مولانا آزاد اور "مسٹر جناح" کا مقابلہ کرتے ہیں۔ مولانا کا اصل میدان ادب، صحافت اور دینی علوم ہیں جن کے وہ بےتاج بادشاہ ہیں۔ سیاست میں ان کی کارکردگی بہت خاص نہیں، بہرحال ۔۔۔۔ ایک بات ماننا ہوگی۔ قسمت نے مولانا آزاد اور قائد اعظم سے ایک برابری ضرور کی۔ قائد اعظم پورے ہندوستان کے مسلمانوں کو فائدہ پہنچانا چاہتے تھے لیکن آخر میں وہ ایسا نہ کر سکے۔ دوسری جانب مولانا ابوالکلام آزاد تمام ہند کے مسلمانوں کو مستقل محکومی کی جانب لے جانے کی راہ پر تھے، تاہم (بصد شکر) وہ بھی ایسا نہ کر سکے۔ مسٹر جناح والے راستے پر آج بھی مسلمانوں کے پاس موقع ہے کہ وہ اپنا کل بدل سکتے ہیں، اسے بہتر سے بہتر بنا سکتے ہیں۔ دیگر سب بس یہ یاد کریں کہ مولانا آزاد کب کیا کر سکتے تھے، لیکن نہیں کیا، یا نہ کر پائے، اور نہ ہی کانگریس سے الگ ہوئے، یا ہو پائے!

Comments

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی دلچسپی کا میدان حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی تعلقات ہیں. اس کے علاوہ سماجی اور مذہبی مسائل پر بھی اپنا ایک نقطہ نظر رکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.