سیا سی فرقے - عتیق ادریس

فرقے فرقے ہونا یا "فرقہ واریت" پالنا اور پھیلانا بلاشبہ "زہر" ہے، رسوائی ہے اور قابل گردن زنی!
سوال مگر یہ ہے کہ کیا یہ سب کچھ صرف "مذہبی "لوگ کرتے کرواتے ہیں، یا ہمارے "سیاہ سی" چہرے بلکہ "مہرے" بھی۔؟

آپ چند لمحوں کے لیے اپنی "مبارک آنکھوں" سے "مذہبی الرجیکل" عینک اتار کر دیکھنے کی کوشش کریں تو آپ کو پاکستان میں "مذہبی فرقے" کم جبکہ "سیاسی" فرقے زیادہ نظر آئیں گے۔ اور یہی صورتحال "فرقہ واریت" کی بھی ہوگی کہ "مذہب" کے نام پر کم جبکہ "سیاست" کے نام پر زیادہ!

اس وقت وطن عزیز "بے چارہ" جن بڑے بڑے "سیاسی فرقوں" کی فرقہ واریت سے "دوچار" ہے، بلکہ بری طرح "لہولہان " ہے، ان میں سب سے بڑا فرقہ "نوازیہ" ہے، جو اپنے حلقہ نیابت میں "فرقہ شریفیہ" کے نام سے بھی پہچانا جاتا ہے۔ اس فرقے کی نمایاں پہچان "ش" ہے اور ادبی لوگ "شین" کی اہمیت و اثرات خوب سمجھتے ہیں۔ شر، شور، شوبازی، کرپشن، وغیرہ وغیرہ، سب کچھ یا مزید بھی بہت کچھ "شین " کے بغیر نامکمل۔

دوسرا بڑا سیاسی فرقہ "فرقہ زرداریہ" کے نام سے جانا جاتاہے، کبھی یہ فرقہ "بےنظیر" ہوا کرتا تھا۔ اس فرقےکی بڑی خاصیت یہ ہے کہ اس فرقے کے بانی مبانی کی "ہر گھر" سے نکلنے کی صدائیں بھی پورے زور و شور سے سنائی جاتی ہیں، مگر "ہر گھر سے نکلنے" کی آواز سن کر ہر بندہ اپنے اپنے گھر کی "حفاظت" پر فوری متوجہ ہو جاتا ہے کہ کہیں میرے گھر سے نہ نکلے، ورنہ گھر میں "کچھ" بھی نہیں بچے گا۔ مال و اسباب کے علاوہ جسم سے "بازو" کٹنے کا بھی خطرہ ہے، نیز ایک ہی گھر کو دو حصوں کی "پارٹیشن" کا بھی ریکارڈ رکھتے ہیں۔

برسر پیکار تیسرا بڑا سیاسی فرقہ "عمرانیہ" کے نام سے جانا اور پہچانا جاتا ہے۔ اس فرقے کی نمایاں پہچان "تبدیلی" ہے، چاہے "بیوی" کی ہو یا "بولی" کی! بہر کیف تبدیلی آخر "تبدیلی" ہی ہوتی ہے۔ علامات میں سے فی گھنٹہ کی حساب سے جلسے، جلوس، دھرنے اور پریس کانفرنسز شامل ہیں، البتہ اس فرقے کے "پیشوا" کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے "فرقہ نوازیہ" کے پیشوا کو خوب "رلانے" کا ایوارڈ حاصل کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کشتی کے محافظ ہی کشتی کو ڈبوتے ہیں ۔ شبیر بونیری

ان فرقوں کے علاوہ آج کل چار "چھوٹے موٹے" فرقیوں کا مجموعہ "فرقہ مجلسیہ" کے نام سے منظرعام پر آیا ہے۔ اس فرقے کی "نمایاں" علامات میں سے ایک علامت یہ ہے کہ "فرقہ" ایک اور قائد چار۔ اور وہ بھی نظریاتی اور اعتقادی طور پر ایک دوسرے سے اتنے ہی دور جتنی "چار سمتیں" ایک دوسرے سے دور ہوتی ہیں۔ دوسری علامت یہ ہے اس فرقے کی کہ اس میں شامل چاروں "فرقیاں" کسی نہ کسی طور پر مذکورہ تین بڑوں فرقوں سے منسلک، مستفید، مفید، محب یا محبوب کا تعلق رکھتی ہیں۔ مثلا اس فرقے میں شامل "فرقہ ساجدیہ میریہ" کے سربراہ سن دوہزار اکیس تک "فرقہ نوازیہ" سے سینیٹر ہے، فرقہ "نقویہ" کے درجنوں اراکین مذکورہ تین بڑے فرقوں کے ایم این اے، ایم پی اے، اور سینیٹر شپ سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ فرقہ "سراجیہ" صوبائی دربار "عمرانیہ" سے سلسلہ وزارت، جبکہ فرقہ "فضلیہ" مرکزی دربار "نوازیہ" سے سلسلۂ وزارت، مشاورت نیز سلسلۂ وکالت تینوں میں بیعت ہے۔

قارئین کرام!
وطن پاک میں جو "اودھم" ان سیاسی فرقوں نے مچایا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں، مگر یہی "سیاہ سی" دانشور ہر بات بے بات پر "مذہب" کو نشانہ بنانے سے ذرہ برابر نہ ہچکچاتے ہیں اور نہ ہی "شرماتے" ہیں۔ آپ چوبیس گھنٹوں میں سے بیس گھنٹے کسی بھی "چینل" پر ان کی "فرقہ واریت" ملاحظہ کرسکتے ہیں۔ کوئی ایک دن مجھے بتائیں جب یہ سیاسی "فرقہ پرست" ایک دو سرے پر چڑھائی نہ کرتے ہوں۔؟ کتنے لوگوں کی زندگی، چین، سکون اور وطن عزیز کے "قیمتی املاک" ان فرقوں کے بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔۔۔
کیا ان کے لیے بھی کوئی "نیشنل ایکشن پلان" ہو سکے گا۔؟ یا جوتا کلب، سیاہی اور تھپڑ مار مہم جیسے "عوامی ری ایکشن پلان" ہی کے حوالے کرنے میں خیر ہے۔۔۔؟