میں نہ بولوں گا تو کوئی نہ بولے گا - انعام الحق

بہار نے چمن کو زندگی کے رنگ دینا شروع کیے تو میں نے بھی سوچا، کچھ گل و گلزار کی باتیں لکھوں، بہار میں پھوٹتی کونپلوں کی نزاکت کے تذکرے کروں، چمن میں مہکتی خوشبو کو الفاظ کی شکل دینے کی کوشش کروں، اڑتی تتلیوں اور مچلتی کرنوں کی باتیں کروں، کچھ امید کے دیوں سے دل بہلاؤں، بس میری سوچ تو سوچ ہی رہ گئی، ابھی قلم اٹھا بھی نہ پایا تھا کہ شام کے غوطہ سے اڑتے خون کے چھینٹے چہرے پے آپڑے اور اپنا حساب مانگنے لگے، ابھی تو چہرہ صاف بھی نہ کرپایا تھا کہ فلسطین کے بے گناہوں کی آہیں اور سسکیوں نے ادھر دیکھنے پر مجبور کر دیا، فلسطین کا لہولہان بچہ سمندر سے گہری آنکھوں میں امڈتے مدر وجزر دیکھانے لگا جس میں دور کہیں سسکیوں، آہوں، لٹتے سہاگوں اور بے یارو مددگار پنگھوڑوں کا عکس دکھائی دے رہا تھا، میں ابھی اس کرب سے نکل بھی نہ پایا تھا کہ کشمیر کی ماں اپنے لخت جگر کے لاشے کو اٹھائے چلا چلا کر مجھے پکارنے لگی کہ اس کا بیٹا سبز ہلالی پرچم ہاتھ میں لیے گولی کا نشانہ بنا ہے ، میں پریشان کھڑا تھا، کہ کسی نے خبر دی کہ افغانستان کی جنگ کے شعلے کئی نازک اور معصوم پھولوں کو اپنی لپیٹ میں لے گئے ہیں، جب قندوز سے تلاوت کرتی آوازیں سسکیوں، اور قال اللہ وقال الرسول کی صدائیں خاموشی میں بدل گئیں، میں حیران اور پریشان، درد و کرب کی تصویر بنے ساکت اور خاموش ہوں۔ میری کیفیت قومے کے اس مریض سے بالکل بھی مختلف نہیں جو سنتا بھی ہے، دیکھتا بھی ہے، لیکن نہ بول سکتا ہے اور نہ ہی چھو سکتا ہے، میرے سامنے بچے یتیم ہو رہے ہیں، سہاگ اجڑ رہے ہیں، گودیں ویران ہو رہی ہیں، اور ایک میں ہوں کے کچھ بھی نہیں کر پا رہا۔

مجھے بجلی گیس اور پانی کی مشکلات نے ایسا گھیرا ہوا ہے کہ مجھے گھر کی چار دیواری سے باہردیکھنے کی فرصت نہیں، میرے اپنے گھر میں کرسی اور مرتبے کی جھگڑے نے اتنا شروع پیدا کر رکھا ہے کہ پڑوس سے اٹھتی چیخیں سنائی ہی نہیں دیتیں۔ عالمی طاقتوں کے زیر اثر میری نفسیات ایسی بن گئی ہیں کہ میں ’’ان‘‘ کے محلے میں مرتے کتے پر افسوس کا اظہار کرتا ہوں لیکن پڑوس میں بہتے مسلمان کے خون سے اب میں سروکار نہیں رکھتا، میں اتنا امن پسند ہوگیا ہوں کہ اب ظلم کو دیکھ کر آنکھیں بند کرلیتا ہوں، میرے رگ و پے میں اتنا خوف رچ بس چکا ہے کہ اب ظالم کو ظالم کہنے سے کتراتا ہوں۔

میرے درد، میرا کرب، میری پریشانیاں، میری بیمار نفسیات کے باوجود بھی کوئی میرے کان میں سرگوشی کرتا ہے کہ اگر میں حالات کی تبدیلی چاہتا ہوں تو مجھے اپنی سوچ بدلنی پڑے گی، آزادی کے پر امن متوالوں پر چلتی گولیاں مجھے اپنے سینے میں لگتی ہوئی محسوس ہوں، مسلمان کی جان مجھے عزیز اوراس سے ہمدردی کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھوں، اس کے خون کی قدر شناسی کوفرض کہوں، میرے تصور ملت کو زمین پر کھنچی آڑی ترچھی لکیریں اپنی اہمیت کے باوجود بھی محدود نہیں کر سکیں، میں خود کو اس امت کا حصہ سمجھوں جس کے دل عشق رسالت سے معمور ہو کر، کعبہ کے گرد طواف کرتے ہیں، اور اسی کے تصور میں جبین نیاز کو زمیں پر رکھتے ہیں۔ میں ہر اس فرد انسانیت کو دل و جان سے اپنا بھائی سمجھوں جس کو اللہ نے ایمان کی دولت سے سرفراز کیا ہے خواہ وہ دنیا کے کسی بھی کنارے میں بستا ہو، زمینی حد بندیاں اس کو کوئی بھی پہچان دیتی ہوں اور وہ کسی بھی رنگ ونسل سے تعلق رکھتا ہو۔

مجھے کسی سے گلہ نہیں کہ وہ کیوں میرے درد کو بیان نہیں کرتا، اور کیوں میری داستان غم نہیں لکھتا، وہ کیوں جبہ ودستار کے خون آلود ہونے پر نوحے نہیں پڑھتا، مجھے تو بس اتنا کہنا ہے کہ یہ سب باتیں میرے کرنے کی ہیں اگر میں نہ کروں گا تو پھر کوئی بھی نہیں کرے گا۔

Comments

انعام الحق

انعام الحق

دل ودماغ کی تختیوں پر ابھرتے نقوش کو قلم کے اشکِ عقیدت سے دھو کر الفاظ کے لبادے میں تحریر کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ سکاریہ یونیورسٹی ترکی میں پی ایچ ڈی علوم اسلامیہ کا طالب علم ہوں، پاکستانی اور ترک معاشرے کی مشترکات اور تبدیلیاں اور اس سے منسلکہ سماجی اور اصلاحی موضوعات دلچسپی کا میدان ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.