طالب علم کے نام ایک خط - مقصود حسین

حجۃ الاسلام امام ابوحامد بن احمد بن محمد الغزالی کے ایک شاگرد نے بعض مسائل میں اپنی راہنمائی کے لیے اپنے جلیل القدر استاذ سے نصیحت کی درخواست کی۔ شاگرد کی اس درخواست کے جواب میں استاذ صاحب اسے " ایہا الولد " کے عنوان سے ایک خط تحریر فرماتے ہیں جو کہ نبض شناسِ زمانہ عالِم کی مرض شناسی کا شاہکار ہے۔ خط کا مضمون جاننے سے قبل، اس کا مختصر سا پس منظر تعارف کے طور پر ذہن نشین ہونا ضروری ہے تاکہ اس کی اہمیت اور افادیت کا صحیح طور پر اندازہ ہو سکے۔

یاد رہے کہ امام غزالی کا دور فلسفیانہ تشکیک اور الحاد کا دور تھا جس کے اثرات کی لپیٹ میں کچھ اہلِ علم اور پھر بعض مبتدی طلبہ بھی آگے تھے۔ تھے۔اس زمانے میں الحاد کی ایک شکل تو یہ تھی کہ بعض لوگ مذہبی عقائد و نظریات کے متعلق شک اور تذبذب کا شکار ہو گئے تھے، حتی کہ یہ گروہ کامل فلسفیانہ تشکیک کے بعد خالص الحاد کا شکار ہو گیا، جبکہ اسی دور میں فلسفیانہ تشکُّک کی دوسری شکل نیم الحاد پرستی کی تھی۔ یہ گروہ پہلے گروہ کے برعکس مذہبی اعتقادات کو تو تسلیم کرتا تھا مگر ان معتقدات کی بنا پر عمل کو ذریعہ نجات نہیں سمجھتا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ نجات کے لیے عمل ضروری نہیں بلکہ مذہبی معتقدات پر ایمان ہی کافی ہے۔ لہذا اس گروہ کا زیادہ تر وقت اپنے اسی مدعا کے ثبوت کے لیے دلائل جمع کرنے اور بحث و تکرار میں گزرتا تھا۔ یہ طبقہ پہلے طبقہ کے مقابلہ میں مذہب کے لیے زیادہ خطرناک تھا، کیونکہ یہ گروہ مذہب ہی کے اندر سے الحاد کو ثابت کرنے پر مُصر تھا۔ امام غزالی کا یہ شاگرد بھی اسی طبقہ ہائے فکر سے متاثر تھا، تاہم اس نے نصحیت کی غرض سے امام صاحب کی طرف رجوع کیا، امام صاحب نے مذکورہ خط کے ذریعے اس کے مرض کی نہ صرف تشخیص کی بلکہ اس کا نسخہ بھی تجویز کیا جو کہ اکسیر ہے۔ سہل اور سادہ زبان میں اور صوفیانہ منہج پر اسے عمل کی دعوت دی ہے۔ بعض جگہ عام فہم عقلی دلائل بھی دیے ہیں تاکہ ذہنی الجھن دور ہو۔ مزید وضاحت کے لیے صوفیاء کے اقوال و واقعات بھی نقل کیے ہیں۔ الغرض "ایہالولد" ایک نسخہ کیمیا ہے جو تجربے سے تعلق رکھتا ہے۔ راقم کے ناقص خیال میں "ایہالولد" ہر وقت طلبہ کے مطالعہ کی میز پر ہونا چاہیے اور کم از کم ہفتہ میں ایک بار ضرور مطالعہ کریں تاکہ اخلاقیاتِ علم سے آگاہی حاصل ہو اور رذائلِ علم سے خلاصی ملے۔ ہم اس تحریر میں "ایہا الولد " کے ابتدائی حصے کا اختصار کے ساتھ خلاصہ پیش کریں گے تا کہ طلبہ کے لیے نفع عامہ کا سبب بنے۔

اے محبت کرنے والے عزیز بیٹے!
اللہ تعالی تمہیں اپنی اطاعت کے ساتھ سلامت رکھے اور اپنے محبین کی راہ پر چلائے۔ جان لو کہ نصحیت کا منشور چشمہِ رسالت سے لکھا جاتا ہے۔ اگر وہ تمہیں پہلے ہی پہنچ چکا ہے تو تمہیں میری نصحیت کی کیا حاجت باقی رہ جاتی ہے؟ اور اگر نہیں پہنچا تو مجھے بتاؤ کہ تم نے ان گزشتہ سالوں میں حاصل ہی کیا کِیا ہے؟

اے بیٹے!
نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کو جن تمام باتوں کی نصحیت کی، اُن باتوں میں سے آپ علیہ السلام کا یہ قول بھی ہے۔ "بندے سے اللہ تعالی کے اعراض کی علامت اس کا اسے لایعنی کاموں میں مشغول کر دینا ہے اور بےشک ایسا شخص جس کی عمر کی ایک گھڑی بھی اس کے تخلیقی مقصد کے علاوہ میں گزرتی ہے، وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اس حسرت طول پکڑ جائے۔ اور جو شخص (اپنی عمر کے) چالیس سال سے تجاوز کر چکا، اور ابھی تک اس کی خیر اس کے شر پر غالب نہیں آئی تو اسے چاہیے کہ جہنم کی تیاری کر لے۔"
یہ نصحیت اہلِ علم کے لیے کافی ہے۔

اے بیٹے!
نصحیت آسان ہے۔ مشکل اس کا قبول کرنا ہے۔ کیونکہ یہ ہوائے نفس کے پیروکاروں کے مزاج میں کڑوی ہوتی ہے۔ جبکہ روک ٹوک ان کے دلوں کو بھلی معلوم ہوتی ہے۔ خاص طور پر اُس رسمی طالب علم کے لیے جو اپنی بڑائی اور دنیا کی مدح سرائی میں مشغول ہو۔ وہ یہ گمان کرتا ہے کہ محض علم اس کی نجات اور خلاصی کے کیے کافی ہوگا۔ اور اپنے آپ کو عمل سے بے نیاز خیال کرتا ہے۔ جبکہ یہ فلاسفہ کا اعتقاد ہے۔ (سب پاکی اللہ کے لیے ہے جو برتر ہے) وہ اتنی بات سے بھی بےخبر ہے کہ جب اس نے علم حاصل کر لیا لیکن اس پر عمل نہیں کیا تو اس کے خلاف حجت اور بھی زیادہ سخت ہو جائے گی۔ جیسا کہ نبی کریم علیہ السلام کا فرمان ہے:
"بروزِ قیامت لوگوں میں سے سخت ترین عذاب اُس عالم کو ہوگا جسے اللہ تعالی اس کے علم سے نفع نہ دے۔"
بیان کیا گیا کہ جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کو ان کے انتقال کے بعد کسی نے خواب میں دیکھا اور پوچھا کہ اے ابا قاسم کیا خبر ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ہمیں کسی چیز نے نفع نہ دیا مگر ان رکعتوں نے، جو رات کے پچھلے پہر میں پڑھی تھیں۔

اے بیٹے!
اعمال سے مفلس نہ ہو اور احوال سے خالی نہ رہ! اور یہ اچھی طرح جان لے کہ علم صرف ظاہری حواس ہی سے حاصل نہیں ہوتا۔ اس کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص جو صحراء میں ہو۔ اس کے پاس (اپنے دفاع کے لیے) دس ہندی تلواروں کے علاوہ دیگر بھی اسلحہ ہو، جبکہ وہ بہادر بھی ہواور فنِ حرب میں بھی ماہر ہو۔ اس دوران اس پر ایک بہت بڑا اور خوفناک شیر حملہ کر دے ۔ تو کیا ایسا شخص اسلحہ استعمال کیے بغیر اپنی جان بچا سکتا ہے؟ جبکہ اسے یہ بات معلوم ہے کہ اس کا اسلحہ اسے کچھ نفع نہ دے گا یہاں تک کہ وہ اسے استعمال یا حرکت میں لائے۔ بالکل ایسے ہی اگر کوئی شخص ایک لاکھ علمی مسائل پڑھ لے یا سیکھ لے اور ان پر عمل نہ کرے تو اسے کچھ فائدہ نہ ہوگا جب تک کہ عمل نہ کرے۔

اے بیٹے!
اگر تو سیکڑوں سال علم حاصل کرتا رہے اور اس دوران ہزاروں کتابیں بھی جمع کر لے تو بغیر عمل کے اللہ کی رحمت کا مستحق نہیں ہو سکتا۔ جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے۔
ترجمہ: " بےشک انسان کے کیے وہی جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے"
اسی طرح فرمایا: " جسے اپنے رب سے ملاقات کا شوق ہو اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے"
اس طرح فرمایا: "یہ وہ سزا ہے جو وہ اپنے ہاتھوں سے کماتے تھے۔"
اسی طرح فرمایا : "بے شک جو لوگ ایمان لائے اور عمل صالح کیے ان کی مہمان نوازی جنت الفردوس میں ہوگی جس میں ہمیشہ کے لیے رہے گے اور ایک لمحے کے بھی اس سے بیزار نہ ہوں گے"
اور فرمایا: "مگر وہ جس نے توبہ کی ایمان لایا اور عملِ نیک کیے۔

اور تمھارا اس حدیث علیہ السلام کے بارے میں کیا خیال ہے کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے، گواہی دینا کہ اللہ سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ، نماز قائم کرنا ، ذکوۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور صاحبِ استطاعت کا حج کرنا۔ جبکہ ایمان زبان سے اقرار دل کی تصدیق اور اعضاء کے عمل کا نام ہے۔ اعمال کے دلائل اتنے زیادہ ہیں کہ گنے نہ جائیں اور بےشک بندہ اللہ کے کرم اور فضل ہی سے جنت میں جائے گا لیکن اس کے بعد کہ جب وہ اپنے آپ کو اللہ کی عبادت و طاعت کے ذریعے تیار کرے کیونکہ اللہ کی رحمت محسنین کے ساتھ ہے۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ محض ایمان کی بنیاد پر بھی جنت میں پہنچ سکتا ہے تو ہم کہیں گے ضرور!
مگر کب ؟
اور اس سے قبل کتنی ہی دشوار گزار گھاٹیوں سے گزرنا پڑے گا؟ ان گھاٹیوں میں سے سب سے پہلی گھاٹی ایمان کی گھاٹی ہے وہ یوں یہ معلوم نہیں کہ ایمان سلب ہونے سے محفوط رہتا ہے یا نہیں؟ اگر سلب ہو جاتا ہے تو ایسا شخص نامراد اور بے بس ہو گیا۔ حسن بصری رحمۃ اللّٰہ علیہ نے فرمایا کہ اللہ تعالی بروز قیامت اپنے سے فرمائے گا: اے میرے بندو! میری رحمت سے جنت میں داخل ہو جاؤ اور اسے اپنے اپنے اعمال کے بقدر اسے تقسیم کر لو۔

اے بیٹے!
جب تک تم عمل نہیں کرو گے تب تک اجر نہیں پاؤ گے۔ نقل کیا گیا ہے کہ بنی اسرائیل میں سے ایک شخص نے اللہ تعالی کی ستر سال عبادت کی۔ پس اللہ تعالی نے چاہا کہ اس شخص کا مقامِ عبودیت ملائکہ پر ظاہر کرے۔ اللہ تعالی نے اس کے پاس ایک فرشتہ بھیجا تاکہ وہ جا کر عابد کو یہ خبر دے کہ وہ اپنی اس قدر عبادات کے باوجود بھی جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ اس پر عابد نے کہا کہ "ہمیں تو عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہے، اس لیے ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم اس کی عبادت کرتے رہیں" جب فرشتہ واپس لوٹا تو تو اللہ تعالی نے پوچھا کہ بتاؤ میرے بندے نے کیا کہا۔ فرشتے نے کہا اے اللہ تو بہتر جانتا جو تیرے بندے نے کہا! اس پر اللہ تعالی نے فرمایا کہ اگر میرا بندہ میری بندگی سے نہیں پھرنا چاہتا تو میں بھی اپنے کرم سے اس سے منہ نہیں موڑوں گا۔ اے میرے ملائکہ گواہ رہنا، میں نے اس کی بخشش کر دی۔ نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا اپنا محاسبہ کرو اس سے قبل کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے اور اپنے اعمال کا وزن کرو اس سے قبل کہ تمہارا وزن کیا جائے۔ حضرتِ علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا: جس نے یہ سمجھا کہ وہ بغیر کوشش اور محنت کے کامیابی حاصل کر لے گا وہ محض متمنی ہے، اور جس نے محنت اور کاوش کو کامیابی کا زینہ جانا وہ مستغنی ہوا۔ حضرت حسن نے فرمایا: بغیر عمل کے جنت کی طلب رکھنا گناہوں میں سے ایک گناہ ہے۔ اور یہ بھی فرمایا: حقیقت کی علامت عمل سے نگاہ ہٹا لینا ہے نہ کہ عمل کو چھوڑ دینا۔ نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا: عقل مند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد کے لیے عمل میں لگا رہے جبکہ بےوقوف ہے جو اپنی خواہشِ نفس کی پیروی کرے اور اللہ تعالی سے امیدیں لگائے رکھے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */