گلشن تیری یادوں کا - عبدالصبور شاکرؔ

وہ کیسا دن ہوگا جب پہلی بار توتلی آواز میں جگر کے ٹکڑے نے ’’ماں‘‘ کہا ہوگا؟ جب پہلی بار ماں بیٹے کا رشتہ براہِ زبان استوار ہوا ہوگا؟ جب آپس کی بات سمجھانے کے لیے انہیں کسی اشارے، کسی کنائے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی ہوگی۔جب بیٹا مدرسے سے واپس آیا ہوگا تو ماں نے کتنے چاؤ کے ساتھ بستہ اس کے کاندھے سے اتارا ہوگا۔ ’’آ گیا میرا لعل پڑھ کے؟‘‘ اس کے استفسار میں محبت کی شیرینی سمندروں کو میٹھا کیے دیتے ہوگی۔ اور پھر…… اس کے جگر کے ٹکڑے نے توتلی زبان میں آج کی ساری کارروائی سنائی ہوگی۔ وہ گہری سوچ میں ڈوب گئی ہوگی۔اس نے سوچا ہوگا: ’’میں اسے پڑھا لکھا کر اچھا انسان بناؤں گی۔ میں اسے ایسی تعلیم دوں گی جو میری آخرت سنوار دے گی۔ میں اسے حافظِ قرآن بناؤں گی۔ اللہ کے ہاں میرا اعزاز و اکرام بادشاہوں سے بڑھ کر ہوگا۔ میرے سر پر سونے کا تاج پہنایا جائے گا۔ جب ہر جانب نفسی نفسی کا عالم ہوگا، میرے خاندان کے دس افراد جنت میں جا رہے ہوں گے، اور ان کے دخول جنت کا سبب میرا چاند جیسا بیٹا ہوگا۔ میں کتنی خوش نصیب ہوں، میرے لعل نے آج پہلا دن مکتب میں گزارا اور میرے سارے گناہ بخش دیے گئے۔ میںکتنی خوش نصیب ہوں جس کا بیٹا حافظ قرآن بننے چلا ہے۔‘‘ وہ سوچوں کے دھارے میں بہتی چلی گئی ہوگی۔ اُس نے ہزاروں خواب اپنی آنکھوں میں سمائے ہوں گے۔ مستقبل کے سنہرے سپنے اسے بے قرار کیے دیتے ہوں گے۔

’’میں اسے حافظ قرآن بنا کر اللہ کے ہاں مقبول ہو جاؤں گی۔ جب یہ جوان ہو جائے گا تو اس کی شادی کرواؤں گی۔ اس کے لیے چاند سی دلہن لے کر آؤں گی۔ اس کے بچوں سے کھیلوں گی۔ اس کی خواہشات کی تکمیل کے لیے آخری حد تک جاؤں گی۔‘‘ اس نے تنہائیوں میں سوچا ہوگا۔

’’میرا بھائی میرے خاندان کے ماتھے کا جھومر ہوگا۔ میرا بھائی شیر نڈر بنے گا۔ ہم اس کی دلہن کے ہاتھوں پہ مہندی سجائیں گی۔ اس کی ڈولی اپنے ہاتھوں سے اٹھا کر گھر لائیں گی۔ اس کی سیج اپنے ہاتھوں سے سجائیں گی۔‘‘ اس کی بہنوں نے معصوم جذبات خیال کی سکرین پر دیکھے ہوں گے۔۔ اس کے باپ نے سوچا ہوگا ’’یہ میرا سہارا بنے گا۔ میرے بڑھاپے میں میرا رفیق ہوگا۔ بس چند سالوں کی ہی تو بات ہے۔ پھر میرا معصوم ، کڑیل جوان ہوگا۔ مجھے کسی کی فکر نہیں ہوگی۔ ‘‘ باپ نے دن کی روشنی میں مستقبل کے تانے بانے بنے ہوں گے۔

آج جب وہ حافظ قرآن ہو چکا تھا، خوشیوں کا ایک ریلا تھا جس کی شدت میں سارا خاندان بہا چلا جا رہا تھا۔ ایک منزل تھی، جسے طے کر لیا گیا تھا۔ اساتذہ اپنی جگہ شاداں و فرحاں تھے۔ یہ خوشی یا تو وہ جانتا ہے جو خود حافظ ہوتا ہے یا پھر وہ جو اسے اس عظیم نعمت سے سرفراز کروا دیتا ہے۔ یہ ایسا شہد ہے جس کا ذائقہ صرف چکھنے والا ہی محسوس کر سکتا ہے، دوسرا نہیں۔ اسی لیے جب اورنگ زیب عالم گیر کا بیٹا شاہ عالم اپنے بچے کے حافظ قرآن ہونے کی مبارک دینے اپنے باپ کے پاس آیا تو عالم گیر نے کہا ’’مبارک تو تمہیں ہو، کہ تمہارا بیٹا کتاب الہی کا حافظ ہو گیا، قیامت کے دن تاجِ عزت تو تیرے سر ہوگا، مجھے کس چیز کی مبارک؟‘‘ چند ماہ میں شاہ عالم نے بھی قرآن حفظ کر لیا اور ابا کے پاس آ کر کہنے لگا ’’ابا جان! اب آپ کو بھی مبارک ہو کہ آپ کے بیٹے نے بھی قرآن مجید حفظ کر لیا ہے۔‘‘

لیکن آہ!!! آج تنکوں کی مانند سب کچھ بکھر کر رہ گیا۔ وہ بیٹا جس کے آنے پر ماں صدقے واری جاتی تھی۔ جب بھی آتا تو مسکراہٹوں کا تبادلہ ہوتا، پھر دونوں بھاگ کر ایک دوسرے کے گلے لگ جاتے۔جب کبھی بیٹا دیر سے گھر آتا تو وہ خفگی کا اظہار کرتی۔ ’’تُو دیر سے کیوں آیا؟ تجھے پتا نہیں تھا مجھے تیرا کتنا انتظار تھا؟‘‘ پھر بیٹا دیر سے آنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے دلائل کے انبار لگا دیتا ہوگا۔ تب وہ ’’چل جھوٹا‘‘ کہہ کر معاف کر دیتی ہوگی۔

یہ سب باتیں، یہ سبھی شکوے، تمام آرزوئیں، یادِ ماضی ہو گئیں۔ اب گھر کی دہلیز پار کرتے اُسے ’’ماں‘‘ کہتے ہوئے کوئی نہیں چمٹے گا۔ اب وہ بھی کسی کے انتظار میں راتوں کو نہیں جاگے گی۔ دل جوئی کے لیے بس اس کی یادیں ہی ہیں ، حسین یادیں…… یا پھر خون آلود چیتھڑے، جنہیں اس نے بڑے چاؤ سے سی کر لاڈلے کو پہنایا تھا۔ اسے کیا خبر تھی؟ کہ آج وہ اپنے بچے کو آخری بار کپڑے پہنا رہی ہے۔ اس کا لاڈلا دلہن لانے کے لیے کسی لمبے سفر پر جانے والا ہے۔ ایسا سفر… جہاں سے کبھی کوئی واپس نہیں آیا۔ اب اس کی ملاقات اس لمحے ہوگی جب ماں بیٹے کو بھول چکی ہوگی اور اولاد والدین کو۔۔۔ جس دن ہر ایک کی اپنی شان ہوگی۔ وہ آیات قرآنی کی تلاوت کرتے ہوئے اس کے گلے لگ جائے گا۔ اسے اپنے ہاتھوں سے جامِ کوثر پیش کرے گا۔

اب تو یہ خون آلود جوتے اور لہو میں ڈوبی سفید براق پگڑی ہی بچی ہے، جن سے اسے اپنے لاڈلے کی خوش بو آتی رہے گی۔ جنہیں دیکھ دیکھ کر وہ اپنی بقیہ زندگی بِتا دے گی۔ اس کی یادوں اور لہو رنگ لباس کے سہارے زندہ رہے گی۔ اسے ہر حال میں زندہ رہنا ہے، کیوں کہ اس کا بیٹا مرا نہیں، شہید ہوا ہے اور شہید کب مرتے ہیں وہ تو زندہ رہتے ہیں۔ وہ تو امر ہو جاتے ہیں ؎


کون کہتا ہے موت آئی تو میں مر جاؤں گا
میں تو دریا ہوں، سمندر میں اتر جاؤں گا


ہاں ! وہ لوگ مر جائیں گے، جنہوں نے گلشن کے پھول مسلے ہیں۔ جنہوں نے حسیں چمن کی کلیاں روندی ہیں۔ جنہوں نے ماؤں کے لعل چھینے ہیں۔ وہ لوگ مر جائیں گے، ان کا نظریہ مر جائے گا۔ مگر قندوز کے حفاظ زندہ رہیں گے، ان کا نظریہ زندہ رہے گا۔


آتی ہی رہے گی تیرے انفاس کی خوش بو

گلشن تیری یادوں کا مہکتا ہی رہے گا

(نوٹ: درج بالا کالم اے پی ایس کے شہداء بچوں کی یاد میں لکھا گیا تھا۔ معمولی سی رد و بدل کے ساتھ قندوز کے معصوموں پر بھی پورا اترا۔ کیوں کہ بچے تو سانجھے ہوتے ہیں نا!!!)