اسلام کا اخلاقی نظام - محمد عنصر عثمانی

معاشرتی و اجتماعی زندگی کے بنانے اور سنوارنے میں اخلاق کو نمایاں حیثیت حاصل ہے۔بلکہ یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ معاشرت کی پہلی اینٹ اخلاقِ حسنہ ہے۔ حسن اخلاق کے بغیر انسان نہ صرف یہ کہ انسان نہیں رہتا، بلکہ درندگی و بہیمیت پر اتر آتا ہے۔ انسانیت کا زیور حسنِ اخلاق ہے۔

یوں تو ہر ملک و ملت اور عہد و زمانے میں معاشرہ و ماحول پر برا اثر ڈالنے والی عادات و اطوار کو پسندیدہ نگاہوں سے نہیں دیکھا گیا، بلکہ مذہب اور سماج میں اس کو جرم اور ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ چوری و ڈاکہ، قتل و خوں ریزی، غیبت و بدگوئی، کینہ و حسد، تکبر، حق تلفی وغیرہ افعال و عادات ہر مذہب وسماج میں مذموم ہیں۔ جب کہ وقار و سنجیدگی، خوش کلامی و نرمی، عدل و تواضع، امانت و دیانت وغیرہ ہر معاشرے میں اچھے اخلاق شمار کیے جاتے ہیں۔ لیکن اسلام کے اخلاقی نظام اور دیگر اخلاقی قدروں میں کئی اعتبار سے بہت فرق ہے۔ اسلام کے علاوہ دیگر نظاموں میں اچھے اور برے اخلاق کا معیار عقل سلیم، پاکیزہ شعور اور تجربہ ہے۔ جب کہ اسلام میں ان سب سے بڑھ کر ایک متعین اتھاریٹی ہے ،اور وہ ہے اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتھاریٹی۔ اچھا اخلاق وہی ہے جسے اللہ و رسول نے اچھا اخلاق قرار دیا ہو، اور برے اخلاق وہ ہیں جنہیں اللہ او راس کے رسول ﷺ برا کہیں۔ اسلام میں اچھے اور برے اخلاق کا مسئلہ ایک طے شدہ مسئلہ ہے۔ وہ کسی انسانی عقل یا تجربہ کا محتاج نہیں۔ اسلام نے کسی طرز عمل کو اچھا یا برا اس لیے نہیں کہا کہ اسے لوگ ایسا ہی کہتے اور سمجھتے چلے آئے ہیں۔ بلکہ خود اسے اپنے اصولوں کی بنیاد پر اچھا یا برا کہا ہے۔ اسلامی اخلاقیات چوں کہ مستقل بنیاد وں پر قائم ہیں، اس لیے وہ ناقابلِ تغیر اور مستقل ہیں۔

اسلام کا اخلاقی نظام مختلف دائروں میں تقسیم ہے اور اس کی ابتدا انسان کی انفرادی زندگی سے ہوتی ہے۔ معاشرہ کے ایک فرد کے بہ طور ایک انسان کی اخلاقی ذمہ داری کیا ہے، اسے اسلام نے اپنی جامع اخلاقی تعلیمات میں سمیٹ دیا ہے۔ جھوٹ و بہتان طرازی، کبر و نخوت، ظلم و ستم، بدسلوکی و بے رحمی، فریب و دھوکہ دہی، شراب نوشی و جوا بازی ، زناکاری و بے حیائی، جنگ و جدال وغیرہ امور کو برا ئی قرار دیا گیاہے۔ جب کہ اس کے بالمقابل عمدہ اخلاق کی ہمت افزائی کی گئی ہے۔ انفرادی دائرہ کے بعد گھریلو سطح پر والدین کے ساتھ حسنِ سلوک و خدمت گذاری کی تعلیم دی گئی ہے۔ بھائی بہنوں اور رشتہ داروں کے ساتھ احسان و صلہ رحمی ، بیوی بچوں کے ساتھ محبت وشفقت کی تعلیم دی گئی ہے۔ پھر گھریلو سطح سے اٹھ کر معاشرتی سطح پر پڑوسیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ اور لوگوں کے ساتھ انسانی سلوک اور احترام کا درس دیا گیا ہے۔ تمام مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی اور خیر خواہی اور تمام انسانوں کے ساتھ ہر حال میں عدل و انصاف، رواداری اور مساوات کا برتاؤ حکم دیا گیا ہے۔ اسلام کے نظامِ اخلاق کا حاصل یہ ہے کہ انسانی زندگی کے ہر پہلو اور ہر مرحلہ میں اعلی کردار کو اپنایا جائے۔اسلام نے باہمی معاملات کو مطلب پرستی اور خود غرضی نہیں، بلکہ ہمدردی و خیر خواہی کے جذبہ سے انجام دینے کی تعلیم دی ہے۔ اسلام کی اخلاقی تعلیمات کی روح ہمدردی و خیر خواہی، عدل و انصاف اور مساوات و احترامِ نفس سے مزین ہے۔ اسلام کی خصوصیت یہ ہے اس نے یہ اعلی اخلاقی اصول وضع کیے ،اور معاشرے میں اسے صد فی صد لاگو بھی کرکے دکھایا۔اس سلسلے میں اسلام کی آواز اتنی مؤثر تھی کہ محض قرآن کے اس اعلان سے کہ شراب گندگی اور شیطانی عمل ہے (سورۃ المائدۃ ، ۰۹) مدینہ میں گلیوں میں شراب کی نہریں بہنے لگیں۔ حالاں کہ نشہ چھڑانا اور وہ بھی شراب کا کتنا مشکل ہے۔ آج ساری دنیا اس بارے میں پریشان ہے کہ قوم سے نشے کی لت کیسے ختم کی جائے، مگر اسلام کی تاریخ گواہ ہے کہ قرآن نے اسے جڑ سے ختم کردیا۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا ہم جنس پرستی ٹھیک ہے؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی پوری زندگی اسلام کے اسی انقلاب آفریں اخلاقی نظام کا آئینہ تھی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلی ترین اخلاق، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تاریخ انسانی کے سب سے اعلی اخلاقی معیار قائم کیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صدق گوئی اور سچائی کا یہ عالم تھا کہ کفار مکہ کے سردار ابوسفیان کو ہرقل کے دربار میں اس کے اس سوال پر کہ کیا تم نے کبھی محمد سے کچھ جھوٹ سنا ہے، یہ گواہی دینی پڑی کہ نہیں۔ (صحیح بخاری، باب بد الوحی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امانت و دیانت کا یہ حال کہ پورا مکہ آپ کا دشمن ، آپ کی دعوت سے ان کو انکار، لیکن امانتوں کے لیے اگر کوئی محفوظ جگہ تھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صبر و تحمل کی انتہا یہ تھی کہ طائف کی خوں چکاں شام اور آپ کا لہو لہان جسم، ایسا دن جس کے بارے میں آپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ وہ میری زندگی کا سخت ترین دن تھا، اس دن جب پہاڑوں کا فرشتہ اللہ کے حکم سے خدمتِ اقدس میں حاضر ہوکر عرض کرتا ہے کہ اگر آپ اجازت دیں تو طائف کے دونوں پہاڑوں کو ٹکرادوں اور یہ گستاخ قوم پس جائے، اس وقت رحمۃ للعالمین کا جواب تھا کہ نہیں! میں اللہ سے امید کرتا ہوں کہ وہ ان کی نسل میں ایسے لوگ پیدا فرمائیں گے جو صرف اللہ کی عبادت کریں گے، اور کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں گے۔(صحیح بخاری، باب ذکر الملائکہ) اسی طرح فتح مکہ کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس عفو و درگذر اور تواضع و شفقت کا ثبوت دیا ، کیا اس کی نظیر کسی تاریخ میں ملنی ممکن ہے؟