ترا خیال مگر پھر بھی جاری ہے - توقیر ماگرے


وداع روح کا منظر اب ہم پہ طاری ہے

ترا خیال مگر پھر بھی جاری ہے

تری نگاہ کے رسیا خراب حالوں کو

ترا مزاج بدلنے کی آس ساری ہے

کف افسوس ہے اس کی تہی دستی پر

کہ جس کے ربط و خیال سے تو عاری ہے

تمہارے ہجر میں یکجا کیا ہے لمحوں کو

تمہارے وصل میں جینے کی راہ نکالی ہے

توقیر فقط روشنی حیات کی خاطر

متاع جاں کی طرف غزل اچھالی ہے