ذیشان بٹ کا خون رائیگاں نہیں جانا چاہیے - صابر بخاری

”السلام علیکم! میڈم میں ذیشان بٹ بات کر رہا ہوں نوائے وقت سمبڑیال سے۔ میڈم میں نا یونین کونسل بیگو وال گیا تھا جو آپ نے ٹیکس لگائے ہیں ان کی ڈیٹیل لینے۔ جی یہ جو ٹیکس لگے ہیں دکانوں پر چھاپوں کے، ادھر آیا ہوں میں، ٹھیک ہے، تو آپ کا جو چیئرمین ہے نا، وہ مجھے گالیاں دے رہا ہے، وہ کہتا ہے میں نے تجھے مار دینا ہے، جان سے مار دینا ہے.“

اس کے بعد تین گولیاں چلنے کی آواز آتی ہے، اور ذیشان بٹ کا جسم ایک کربناک آواز کے ساتھ خاموش ہوجاتا ہے، مگر ذیشان کی مرتے وقت جو آواز ہماری سماعتوں سے ٹکراتی ہے، وہ انتہائی کربناک اور دردناک ہوتی ہے جسے سنا نہیں جا سکتا۔

یہ سمبڑیال سے ایک قومی اخبار کے نمائندے کا قتل تھا جو یونین کونسل بیگو وال کے چیئرمین نے کیا۔ یہ ایسا قتل عمد ہے جس کے قاتل کو سزا دینے کے لیے نہ کسی گواہی کی ضرورت ہے، نہ قانون کی کتابیں کھنگالنا ضروری ہے۔ مقتول نے قاتل کے تمام ارادے مرنے سے پہلے موبائل فون پر کال کر کے سیالکوٹ کی خاتون ڈسٹرکٹ چیئرمین کو بتا دیے، جس کی تفصیلات ہم نے تحریر کے آغاز میں نقل کی ہیں۔ یہ مقتول کے لیے قدرت کی گواہی ہے جو موبائل فون میں ریکارڈ ہوگئی اور قاتل کے خلاف سب سے بڑی گواہی ہے۔

ذیشان بٹ کا قتل دھونس، دھمکی اور جان تک لے لینے کے کلچر کی ایسی مثال ہے جو آج پورے معاشرے خصوصاً سیاسی ماحول میں سرایت کر چکا ہے۔ ہمارے معاشرے میں دلیل کی جگہ گولی نے لے لی ہے۔ ان گولیوں سے ہمارے در و دیوار چھلنی ہو چکے ہیں۔ بدقسمتی سے اس کلچر کو پروان چڑھانے میں ایک ایسی جماعت کے کارندے سب سے زیادہ ملوث ہیں جو اپنے سیاسی قلابے بانی پاکستان سے ملانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس گندے کلچر نے کیا شکل اختیار کر لی ہے، اس کی مثال ذیشان بٹ کا یہ دن دہاڑے کا ہونے والا قتل ہے۔

چند روز قبل بہاولنگر میں ایک نجی ٹی وی کے صحافی افتخار بھٹی کو ن لیگی ایم پی اے میاں نوید نے اس وجہ سے گھر میں گھس کر تشدد کا نشانہ بنایا تھا کہ اس نے ان کی بھتہ خوری اور سی آئی اے سٹاف کے تھانے کی زمین پر قبضہ کر کے پٹرول پمپ لگانے کی خبر چلائی تھی۔ میاں نوید کے والد رانا احمد علی نے برملا کہا تھا کہ جس صحافی نے رپورٹنگ کی، اس کو عبرت کا نشان بنا دیا جائے گا، اور ایسا ہی ہوا۔ میاں افتخار ساتھیوں سمیت افتخار بھٹی کے گھر میں داخل ہوا اور جب تک اس کی انا کو تسکین نہیں پہنچی، وہ بھٹی کو عبرت کا نشان بناتا رہا۔ بظاہر طاقتور نظر آنے والا صحافی اندر سے کتنا کمزور ہوتا ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ افتخار بھٹی پر جان لیوا حملے کا مقدمہ تک درج نہ کیا گیا، مقامی سطح پر بھی صحافیوں کے احتجاج کا کٹھ پتلی انتظامیہ پر جب کوئی اثر نہ ہوا تو صحافیوں نے پنجاب اسمبلی کے باہر دھرنے کی کال دے دی۔ پھر کیا تھا، پنجاب کا سب سے طاقتور قبضہ مافیا کا ایک سرغنہ وزیر میدان میں آگیا۔ سب کچھ کرنے کے بعد میاں نوید نے پریس کلب لاہور جا کر متعلقہ صحافی سے معذرت کر لی، اور معاملہ دب گیا۔ آج بھی مقامی صحافی ان حکومتی غنڈوں سے خوفزدہ ہیں اور ان کو صحافتی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ایک مقامی صحافی نے بتایا کہ ہمیں آج بھی خوف ہے کہ یہ شرارتی لوگ ہیں اور کسی بھی وقت دوبارہ حملہ کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   چھوڑو بھی گلہ جو ہوا سو ہوا عوام کی زبان سمجھو نہ - محمد طیب زاہر

اب آتے ہیں سمبڑیال واقعہ کی طرف، ذیشان بٹ عرف شانی بٹ یونین کونسل بیگو والا میں ضلعی حکومت کی طرف سے دکانوں پر لگائے گئے ٹیکس کی معلومات لینے کے لیے جب دفتر پہنچا تو ن لیگی چیئرمین عمران اسلم کو یہ بات ناگوار گزری۔ چیئرمین جو مبینہ طور پر خواجہ آصف کا قریبی ہے، نے صحافی کو دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔ ذیشان نے صحافی برادری اور مبینہ طور پر پولیس کو بھی کال کی مگر کوئی بھی اس کی مدد کو نہ پہنچا۔ اس دوران ذیشان نے ضلعی چیئرمین میڈم حنا ارشد کو اپنے موبائل سے کال کی اور کال کی ریکارڈنگ بھی آن کر دی۔ کال کے دوران صحافی نے یونین کونسل کے چیئرمین کے ارادوں سے میڈم کو آگاہ کیا کہ وہ اسے جان سے مار دینے کی دھمکیاں دے رہا ہے، لیکن اب یہ صرف دھمکیاں نہ رہی تھیں، چند لمحے بعد چیئرمین نے واقعتا ذیشان کو گولی مار کر قتل کر دیا، اور میڈم کال پر ذیشان کو ہیلو ہیلو کرتی رہ گئیں، لیکن ذیشان تو اب ناکردہ گناہ کی سزا میں ملک عدم جا چکا تھا۔

حیف صد حیف!
صحافیوں کے خون کے پیاسے اس مافیا کی دہشت گردی سے رؤف کلاسرا کی تین برس قبل کی نصیحت یاد آگئی۔ راقم کو صحافیوں کے حقوق کے لیے ایک تنظیم بنانے کا جنون تھا، اس کے علاوہ ن لیگ کی پالیسی کا بڑا ناقد اور اس پر کھل کر لکھتا بھی تھا۔ رؤف کلاسرا صاحب سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ ابھی آپ کے کیریئر کا آغاز ہے، ن لیگی ذہنیت کا آپ کو اندازہ نہیں۔ یہ مخالف کو سبق سکھانے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں، اس لیے دامن بچاتے ہوئے آگے بڑھتے رہو۔ جب نام بن جائے تو پھر لکھنا بھی اور جو کچھ صحافی برادری کے لیے کرنا چاہتے ہو، وہ بھی شوق سے کرنا۔ اس کے بعد لکھنے کا سلسلہ تو جوں کا توں جاری رہا، البتہ دوسرے مقاصد کو کچھ عرصہ کے لیے مؤخر کردیا۔ اس دوران بھی کئی واقعات ایسے ہوئے کہ ن لیگی کارندوں نے سرعام صحافیوں اور شہریوں کو سبق سکھایا۔ اس میں شبہ نہیں کہ پنجاب بھر میں بھتہ خوروں کے سرغنہ یہی سیاسی کارندے ہیں، ان کی پشتیبانی ان کے لیڈر کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ قانون کو اپنے پاؤں کی جوتی سمجھتے ہیں۔ اس کا عملی مظاہرہ یونین کونسل بیگو والی کے چیئرمین عمران اسلم چیمہ کی بربریت سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ بہیمانہ قتل ایک خاص کلچر اور ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔ پرامن اور قانون پسند شہری اس لیے نفرت کرتے ہیں کہ حکمران جماعت کے کارندے ملک بھر خصوصاً پنجاب میں آئین و قانون کی دھجیاں اڑاتے پھر رہے ہیں، کوئی پوچھنے والا نہیں۔ پوچھے کون؟ ان کے پس پشت تو بڑے بڑے لیڈر اور وزراء ہیں۔ چمچے کڑھچے طاقت کے زعم میں بھلے انسانوں کو روندتے پھرتے ہیں اور جسے چاہتے ہیں سرعام بھون ڈالتے ہیں۔ مگر قانون؟ وہ کس چڑیا کا نام ہے، لمبی تان کر سویا رہتا ہے کیونکہ ان کی پشت پر آل شریف پوری آب و تاب کے ساتھ کھڑا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   یہ سب ہماری سیاست کا حصہ ہے - قادر خان یوسف زئی

لاہور کے ان سب قبضہ اور بھتہ مافیا کو اپنے ”بڑوں“ کی سرپرستی حاصل ہے۔ جو صحافی ان کے خلاف لکھنے بولنے کی جسارت کرتے ہیں، انہیں نشان عبرت بنا دیا جاتا ہے۔ دھونس، دھمکی، مکاری، عیاری سے الیکشن کو ہائی جیک کرنا انک ا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ جو بندہ ان کے ہاتھ نہ آئے اسے تھانوں کچہریوں میں ذلیل اور رسوا کیا جاتا ہے۔ وہ بےچارا پھر یا تو خاموش ہوجاتا ہے یا اسے ابدی نیند سلا دیا جاتا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے مفاد عامہ کے لیے جواقدامات کیے ہیں، اس سے سب سے زیادہ ن لیگ ہی خوفزدہ ہے، اور چیف جسٹس کیخلاف ن لیگی سوشل میڈیا ہی مہم چلا رہا ہے۔ اس قبضہ مافیا کو فوری لگام نہ دی گئی تو آزادی اظہار رائے کی سب سے بڑی رکاوٹ بن جائے گا۔ اس لیے صحافیوں کو مل جل کر اس کے خلاف آواز اٹھانا ہوگی، ذیشان بٹ کا خون رائیگاں نہیں جانا چاہیے۔