ہم اور "فوبیاز" - شبیر بونیری

ہمارا ایک المیہ ملاحظہ ہو۔
ہم بحیثیت قوم چڑھتے سورج کے پجاری بن گئے ہیں۔ ہر روز نت نئے چیزوں کو ذہنوں پر سوار کر لیتے ہیں اور پھر چند دنوں تک اس چیز کے سحر میں کچھ ایسے گرفتار ہوجاتے ہیں کہ نہ خود کو بخشتے ہیں اور نہ دوسروں کو۔ یہ سحر فلموں کا ہو، کرکٹ کا ہو، قومی مسائل کا ہو،گلی کوچوں کی خرافات کا ہو، سیاسی مہروں سے محبت کا ہو، مذہبی مسائل کا ہو، معاشی پیچیدگیوں کا ہو، نفرت کا ہو، محبت کا ہو، چاہے کسی بھی چیز کا ہو، لیکن اس سے پیدا ہونے والا ایک اہم مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ہم دنیا کے تمام چیزوں کے ماہر بھی بن جاتے ہیں اور عالم بھی۔

یقین نہ آئے تو ملالہ کی حالیہ انٹری ہی دیکھ لیجیے۔ پاکستان کے پورے مستقبل کو ملالہ سےجوڑ دیا گیا۔ کسی نے کہا یہ ملالہ یوسفزئی پاکستان کی بیٹی ہے اور پاکستان کو پوری دنیا میں جو عزت مل رہی ہے، یہ ملالہ کی وجہ سے ہے، اور یہ کہانی کچھ اس انداز سے بنائی گئی کہ پاکستانی سوچنے پر مجبور ہوئے اور ایسا لگنے لگا جیسے ملالہ سے پہلے پاکستان کی کوئی عزت تھی ہی نہیں۔ کسی نے ملالہ کو مغرب کا آلہ کار بنا کر کچھ اس انداز سے پیش کیا گویا پاکستان میں اور کچھ بھی نہیں بس ایک ملالہ ہے، اور اگر وہ چاہے تو پاکستان کو منٹوں میں ادھر سے ادھر کرسکتی ہے۔ ان تمام چیزوں سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ ہم دنیا کے سب سے فارغ اور بے کار لوگ ہیں۔

ان" فوبیاز" میں گر کر ہمارے دو بنیادی نقصان ہو رہے ہیں۔

پہلا، ہم بھول جاتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں اور جو ہم کرتے اور کہتے ہیں، ان سب کا ایک دن اللہ کے سامنے حساب دینا پڑے گا۔ مثلاۤۤ ایک بھائی نے فیس بک پر سٹیٹس دیا کہ اگر "محمد بن قاسم سترہ سال کی عمر میں سندھ فتح کرسکتا ہے تو ملالہ ڈائری کیوں نہیں لکھ سکتی"۔ یہ خرافات ہی ہیں جو بنا سوچے سمجھے روز ہماری ذہنوں سے نکل رہے ہیں، اور اس کی جوابدہی کا احساس نہیں ہے۔ محمد بن قاسم مجاہد اسلام تھا، اس نے ایک تاریخ بنائی، ایسی تاریخ کہ صدیاں بیت جانے کے باوجود آج تک کسی نے اس کے کردار پر انگلی نہیں اٹھائی، کسی نے اٹھائی تو وہ رواں صدی کے پریشان پاکستانی ہیں۔ وہ جو صحرا نشین تھا اور جس نے دیبل آکر مسلمان ماؤں کی عزتوں کی خاطر یہاں راجہ داہر کو وہ سبق سکھایا کہ آج بھی مائیں جب اسلام کے مجاہدوں کا ذکر کرتی ہیں تو محمد بن قاسم کا ذکر سب سے پہلے ہوتا ہے۔ ایک نوجوان مجھ سے ملا، اس نے جب یہ کہا کہ میں جب بھی محمد بن قاسم کا نام سنتا ہوں تو میرے ذہن میں ایک ڈاکو کا چہرہ آجاتا ہے، اور پتہ نہیں یہ بات کس نے میرے ذہن میں ڈالی ہے کہ وہ تمام لوگ ڈاکو ہی ہوتے ہیں جو دوسرے ملکوں پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ یہ سنا تو پاؤں تلے سے زمین ہی کھسک گئی، کیونکہ یہ ایک نہیں ہے، اس جیسے بہت سے نوجوان ہیں، جن کے ذہنوں پر شک کے پردے ڈالے گئے ہیں۔ یہ ہماری اصلی لڑائی ہے جو ہمارے دشمنوں نے ہمارے اوپر مسلط کی ہے، لیکن ہم بجائے اس کے کہ اسلام، اپنی تہذیب، اپنے ہیروز اور اپنے ملک کا دفاع کریں، خرافات اور "فوبیاز" میں گرتے جا رہے ہیں۔ ان بےکار کی چیزوں میں ہم وہ تمام بنیادی چیزیں بھول جاتے ہیں جن پر ہمارا فوکس رہنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:   اس دور کا محمد بن قاسم آنے والا ہے - شیراز علی

دوسرا، ہم پاکستان کی عزت اور آبرو پر بھی کمپرومائز کر جاتے ہیں۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ ملک ہمارا ہے اور اس ملک کی عزت ہم پر فرض ہے۔ جانے انجانے میں ہم اسلام اور پاکستان کو فراموش کردیتے ہیں۔ پاکستان کے اوپر ہم اتنی ذمہ داریاں ڈال دیتے ہیں کہ نیوزی لینڈ میں بھی اگر کسی مسلمان کے ساتھ کوئی ناخوش گوار واقعہ ہوجائے تو بھی ہم اپنے ملک سے گلہ کرتے ہیں کہ ایٹمی طاقت والے اس مسلمان ملک کو داد رسی کرنی چاہیے، لیکن یہ نہیں سوچتے کہ اس ایٹمی طاقت کو اپنی طرف سے ہم کیا دے رہے ہیں؟ ہم اس کی بقا کی خاطر کیا کر رہے ہیں؟ اسے مضبوط بنانے اور اس کی سلامتی کی خاطر کس حد تک جاسکتے ہیں۔ یہ مسائل ہی تو ہیں جو ہم نے خود پیدا کیے ہیں اور جن کی وجہ سے ہم ملک اور ملت دونوں سے دور ہورہے ہیں اور ان تمام جان نثاروں کی قربانیاں بھلاتے جا رہے ہیں جنہوں نے اس ملک کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کیا۔ پاکستان کے حقیقی بیٹوں اور بیٹیوں کو ہم تقریباۤۤ فراموش کر چکے ہیں، جن کا قیمتی خون اس دھرتی پر جب گرا اور آخری ہچکیوں کے ساتھ جب وہ اپنی آنکھیں بند کر رہے تھے تو لبوں پر یہ دعائیں تھی کہ "مولا اس ملک کو اپنے حفظ و امان میں رکھ"۔ اس ملک کا بیٹا اعتزاز جس نے اپنے وجود کے اڑتے چھیتڑوں کو اس ملک کی خاطر اس ملک کی مٹی میں ملادیا کیا، اس قوم کا اصلی بیٹا نہیں تھا؟ سوچتا ہوں اس کی ماں سے جا کر کوئی پوچھ ہی لے اس وطن کے بارے میں۔ مجھے یقین ہے وہ فخر کے ساتھ کہے گی کہ یہ ملک میرے افتخار میرے اعتزاز کا ہے، اور میں اس سے بے تحاشہ محبت کرتی ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:   اس دور کا محمد بن قاسم آنے والا ہے - شیراز علی

اس ملک کی سرحدوں پر دن دہاڑے اور رات کی تاریکیوں میں جو پہرہ دار بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں، کیا ان کے اپنے گھر اور بچے نہیں ہوتے؟ یہی اس ملک کے اصلی سپوت ہیں اور انھی کی وجہ سے کوئی اس وطن کو میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔ ہم ان بنے بنائے "فوبیاز " میں اتنے گر جاتے ہیں کہ ہم ان کو بھی نہیں بخشتے۔ ہم جانے انجانے میں اس تمام پروپیگنڈے کا حصہ بن ہی جاتے ہیں جو ہمارے دین اور ہمارے ملک کے خلاف ہو رہے ہیں۔

پاکستانیوں کو یہ بات دل سے تسلیم کرنی چاہیے کہ ہم مسلمان ہیں اور ہمارے ملک کے خلاف باقاعدہ ایک ترتیب اور ایک خاص سوچ کے تحت لمبے عرصے کے لیے ایک لڑائی ترتیب دی گئی ہے، جس کا مقصد اس ملک کے نوجوانوں کو اس ملک اور اسلامی تاریخ کے عظیم مجاہدوں کے خلاف شکوک میں مبتلا کرنا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایسی ایسی باتیں دیکھنے اور سننے کو ملتی ہیں جو خلاف فطرت ہوتی ہیں۔ ہمارے نوجوان جب یہ تسلیم کرلیں گے تو پھر ان کے لیے یہ سمجھنا آسان ہوگا کہ ہمارا دوست کون ہے اور دشمن کون۔

دوسری بات جو سب سے اہم ہے، وہ یہ کہ ہمیں اپنے کام سے کام رکھنا ہوگا۔ ہمارے یہ تمام مسائل روز بہ روز اس لیے بڑھ رہے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک دوسرے کے کام میں ٹانگ اڑا رہا ہے، یہاں تک کہ ہر روز نت نئے تجزیے دیکھنے کو ملتے ہیں اور اس کا نقصان یہ ہو رہا ہے کہ الجھنیں دن بہ دن بڑھ رہی ہیں۔

پاکستان ایک نظریے کا نام ہے، ہم اگر یہ کوشش کرتے رہے کہ یہ نظریہ بےبنیاد " فوبیاز " کی نظر ہوجائے تو یہ ہماری بھول ہوگی، اور مستقبل کا مؤرخ جب ہمیں یاد کرے گا تو بےوقوف، غدار اور ظالم جیسے الفاظ کے ساتھ یاد کرے گا۔