سعودی عرب؛ کیا ہو رہا ہے، کیا ہونے والا ہے؟ سعدیہ نعمان

کل ہی کی بات ہے کہ ایک سعودی استاد نے بہترین طالب علم کا اعزاز اپنے والے بچے کو ایک ریال انعام🏆 کے طور پہ دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ سکول کینٹین سے اس واؤچر سے جو چاہے کھا سکتا ہے۔
ساتھی طلبہ کا سوال ہے کہ آیا اس انعام میں ویٹ (value added tax) شامل ہے یا نہیں۔
کہا گیا ہے کہ پہلے دس ریال انعام کے طور پہ ملتے تھے، اب مجبوری حالات نے ایک ریال کر دیا ہے۔

ویسے تو استاد سے انعام میں کچھ بھی مل جائے، قابل قدر ہوتا ہے، اسد کا جن دنوں حفظ جاری تھا، اسے ہر سپارے کی تکمیل پہ تعریفی خط ملتا تھا، اور استاد محترم اپنی طرف سے پانچ دس روپے بھی دے دیتے تو اسد انھیں بہت سنبھال کے رکھتا۔
سو ایک ریال ہو یا دس ریال، انعام تو ہے نا۔

لیکن ساتھیو!
بات اتنی سادہ بھی نہیں۔
اس ذہن کا کیا کریں؟ سوچیں پھیلتی جاتی ہیں۔ رواں سال تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ یمن جنگ اور دیگر وجوہات سے معیشت کو دھچکا لگا ہے، اشیا کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں، ٹیکس عائد کیے گئے ہیں۔ یہ دھکے جہاں سعودی شہریوں کو ہلا رہے ہیں، وہیں سب سے زیادہ دھچکے دوسرے ممالک سے آئے ملازمین کو لگ رہے ہیں۔ پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں ڈھیر ساری فیس ادا کرنے کے بجائے اب وہ سرکاری سکولوں کو ترجیح دے رہے ہیں، مکانوں کے کرائے گر گئے ہیں، اور مسلسل گر رہے ہیں، بلڈنگز خالی ہو رہی ہیں، اس کی وجہ ایکپیٹس (خارجی) پہ عائد ہو نے والا اقامہ ٹیکس ہے جس میں ہر سال اضافہ ہوتا جائے گا۔ کمپنیاں اپنے ورکرز کو دی گئی صحت اور تعلیم کی سہولیات واپس لے رہی ہیں، تنخواہوں میں اضافے کے بجائے کمی کا سامنا ہے۔ قریبا 2.5 (اڑھائی) ملین لوگ اس سال کی پہلی سہ ماہی میں واپس اپنے وطن جا چکے ہیں، اور یہ سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔ وہ خاندان جو عرصہ بیس تیس سالوں سے مملکت سعودی عرب میں رہائش پذیر ہیں، جو کشتیاں جلا چکے تھے، ان کے بچے یہیں پیدا ہوئے جوان ہوئے، اب پریشان ہیں کہ کہاں جائیں؟ کیا کریں؟ بہت سے شعبے جہاں پاکستانی محنت مزدوری کرتے تھے، اب سعودائزیشن کی وجہ سے وہاں کام پہ پابندی لگ رہی ہے، اور سعودی پالیسی کے مطابق کچھ شعبوں میں مکمل اور کچھ میں ایک خاص لیول تک ورک فورس صرف سعودی ہوں گے۔ پاکستان واپس جانے والے خاندان وہاں اپنے ہی گھر میں کن مسائل کا شکار ہوں گے، وہ ایک الگ داستان ہے۔ خاندان کے افراد بکھر جائیں گے، مرد حضرات اگر جاب کے لیے ٹھہرتے ہیں تو صرف فیملی کو یہاں سے جانا پڑے گا۔ سو طرح کے اندیشے ہیں جو گھیرے ہوئے ہیں۔

یہ تو ایک رخ ہے تصویر کا۔

دوسرا رخ یہ ہے کہ مملکت ایک انقلاب کی راہ دیکھ رہی ہے، بہت کچھ پرانی اور فرسودہ روایات جان کر دفن کیا جا رہا ہے۔ سروے ہو رہے ہیں کہ جب مرد اور عورت تعداد میں برابر ہیں تو ملکی معیشت میں عورتیں کیوں حصہ نہ لیں۔ ایک مکمل ایجنڈا ہے جس کے مطابق خواتین اپنے کاروبار چلائیں گی، اعلی تعلیم کے لیے انھیں بھیجا جائے گا، دو تین ماہ بعد وہ سڑکوں پہ کاریں دوڑاتی بھی نظر آئیں گی، سپر سٹور کے پے منٹ کاؤنٹرز پہ تو ابھی بھی موجود ہیں، ان کے لیے اسٹیڈیم اور جم بن رہے ہیں، فزیکل ایجو کیشن پہ بات ہو رہی ہے، سینما گھر اور تھیٹر کھل رہے ہیں، میوزیکل کنسرٹ ہو رہے ہیں، فیشن شو منعقد ہو رہے ہیں، کلچرل پروگرام کا مکمل پلان ہے، ساحلی علاقوں پہ تفریحی مقامات بنانے کے لیے تیزی سے کام جاری ہے، کچھ مخصوص تفریحی مقام ایسے بھی ہوں گے جہاں ہر پابندی سے آزادی ہوگی۔

امریکہ سے خوشگوار تعلقات پروان چڑھ رہے ہیں،
ہاں! توسیع حرم کے منصوبے بھی ہیں لیکن سست روی اور التوا کا شکار ہیں۔
مگر یہ تغیر و تبدل تو اقوام کی زندگی میں آتا ہی ہے، اس سے کیا گھبرانا۔

تبدیلی کا عمل جاری رہے تو معاشرہ تعفن زدہ نہیں رہتا، لیکن بشرطیکہ تبدیلی مثبت ہو، ورنہ معاشرہ کو زوال پذیر ہونے میں بھی دیر نہیں لگتی۔
چلیے دیکھتے ہیں کہ مملکت سعودی عرب کے 2030ء کے ویژن سے کیا برآمد ہوتا ہے۔

Comments

سعدیہ نعمان

سعدیہ نعمان

سعدیہ نعمان سعودی عرب میں مقیم ہیں، بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے ابلاغ عامہ میں ماسٹر کیا، طالبات کے نمائندہ رسالہ ماہنامہ پکار ملت کی سابقہ مدیرہ اور ایک پاکیزہ معاشرے کے قیام کے لیے کوشاں خواتین کی ملک گیر اصلاحی و ادبی انجمن حریم ادب کی ممبر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.