تین سطحیں - ابو یحیی

اللہ تعالیٰ نے جو کائنات تخلیق کی ہے، اس کو دیکھنے کی تین سطحیں انسان نے دریافت کی ہیں ۔پہلی سطح وہ ہے جو انسانی آنکھ سے نظر آتی ہے۔ یہ جمادات، نباتات اور حیوانات کی دنیا ہے ۔اس دنیا میں آسمان اور زمین ہے، شہراور جنگل ہیں، میدان اور پہاڑ ہیں، سمندراورصحراہیں ۔اس دنیا میں بے پناہ تنوع ہے، رنگینی ہے، حسن ہے اور وہ سب کچھ ہے جسے ہم شب و روز اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں، اور مبہوت اور حیرت زدہ رہ جاتے ہیں۔ اس دنیا میں خدا ہر لمحہ اپنی صفات کا اظہار کرتا ہے۔ وہ اپنی خلاقیت، ربوبیت، علم، حکمت، قدرت اور رحمت کے نمونے شب و روز لوگوں کو دکھاتا ہے۔

کائنات کی دوسری سطح وہ ہے جو بڑ ی بڑ ی دوربینوں سے نظر آتی ہے۔ یہ دنیا ستاروں اور سیاروں کی دنیا ہے۔ ختم نہ ہونے والے فاصلوں اور ان گنت کہکشاؤں کی دنیا ہے۔ روشنی اور آگ کے سورجوں اور اندھیروں اور تاریکی کے خلاؤں کی دنیا ہے۔ یہ دنیا اتنی بڑ ی اور اتنی ہیبت ناک ہے کہ اس کے تصور ہی سے انسان لرز اٹھتا ہے۔ اس دنیا کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سورج جیسے عظیم وجود کو ساحل سمند پر پڑ ا ریت کا ایک حقیر ذرہ تصور کر لیا جائے تو ذرے کی جسامت کا اگلا ستارہ تیس کلومیٹر دور پایا جائے گا۔ اس کائنات میں اتنے ہی ستارے ہیں جتنے دنیا کے تمام ساحلوں پر ذرات ہوتے ہیں یا شاید اس سے بھی زیادہ۔

یہ دنیا خدا کی بے کراں عظمت اور اس کی بےحد قہاریت (قہار کا مطلب قابو رکھنے والا ) کا مظہر ہے۔ یہ اس کی بادشاہی کا بیان ہے اور اس کے عزیز و مقتدر ہونے کا نشان ہے۔ یہ دنیا انسان کو بتاتی ہے کہ پروردگار عالم نے جس جنت کا وعدہ کر رکھا ہے اور جس کی وسعت وہ آسمان و زمین کے برابر قرار دیتا ہے ، اس کی تیاری بھرپور طریقے سے جاری ہے۔ یہ ختم نہ ہونے والی کائنات انسانوں کو اطمینان دلاتی ہے کہ ان کے مالک نے ان کے لیے ختم نہ ہونے والا اجر تیار کر رکھا ہے۔ آج کا انسان جانتا ہے کہ ایک وقت میں ہماری جنت نظیر زمین بھی اس کائنات کی طرح ڈھنڈار و بے کار تھی ، مگر آج سرسبزی، حسن اور شادابی کا شاہکار ہے ۔اسی طرح اس کائنات میں ہر لمحہ جب ایک نیا ستارہ پیدا ہوتا ہے تو وہ کسی نئے نیکوکار کے اجر کا بدلہ ہوتا ہے، پروردگار آہستہ آہستہ اس کو بھی جنت بنادے گا۔ یہاں تک کہ روز قیامت برپا ہو گا اور نیکوکار اپنے اس اجر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   ایک تعلق جو ادھورا رہا تھا - راحت نسیم روحی

کائنات کی تیسری سطح وہ ہے جو خوردبین یعنی مائیکرو اسکوپ کی آنکھ سے نظر آتی ہے۔ یہ دنیا خلیات (Cell) بیکٹیریا اور ایٹم کی دنیا ہے۔ یہ وہ دنیا ہے جس سے خدا نے پہلی دو دنیاؤں کو تخلیق کیا ہے۔ یہ دنیا بھی اپنے اندر کچھ کم عجوبے نہیں رکھتی۔ یہی عجوبہ کیا کم ہے کہ انسان نظر نہ آنے والے خلیات کے مجموعے سے بنا ہے۔ عناصر آنکھ سے پوشیدہ رہنے والے ایٹموں سے بنے ہیں۔ پھر ان ایٹموں کا تجزیہ کرتے چلے جائیں تو اندر سے ایک جیسے ذرات یعنی الیکٹران اور پروٹان وغیرہ نکلتے ہیں۔ ان کی ترتیب میں معمولی تبدیلی سے کائنات کا ہر تنوع اور تخلیق وجود میں آتی ہے۔

اس دنیا میں خدا باریک بین ہے، لطیف و خبیر ہے، حی و قیوم ہے، سمیع و بصیر ہے اور دلوں کا حال جاننے والا علیم بذات الصدور ہے۔ یہ دنیا انسان کو اس علیم و خبیر ہستی کے حضور پیشی کا احساس دلاتی ہے۔ اس دنیا میں انسان دیکھتا ہے کہ خود اس کا اپنا وجود کتنی حقیر اور بے وقعت چیز سے جنم لیتا ہے۔ وہ ایک سے دوسرے مرحلے تک گزرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ پورا آدمی بن جاتا ہے۔ پھر یہ انسان زندگی کے مختلف مراحل سے گزر کر موت سے ہمکنار ہوتا ہے۔ مگر اس کی پہلی تخلیق اسے یہ پیغام دے چکی ہے کہ وہ اگر پہلی دفعہ پیدا ہوا ہے تو دوسری دفعہ بھی ہو سکتا ہے۔ اور بلاشبہ وہ دوبارہ پیدا ہوگا۔ اس روز اسے اپنے اعمال کا جواب دینا ہو گا۔ اسے اپنی سیرت اور کردار کو محاسبے کے لیے پیش کرنا ہوگا۔

آج انسان کے پاس موقع ہے کہ وہ ان تینوں سطحوں پر خدا کی صفات کو دیکھے اور ا س کی مرضی کے مطابق اپنی سیرت و کردار کو ڈھال لے۔ ایمان کو معرفت اور علم کو عمل میں ڈھال لے۔ جس نے یہ کیا، وہ ختم نہ ہونے والی کائنات کی ختم نہ ہونے والی نعمتوں میں بسایا جائے گا، اور جو یہ نہ کرسکا وہ ابد تک اپنی بد نصیبی پر ماتم کرتا رہے گا۔

Comments

ابو یحییٰ

ابو یحییٰ

ابو یحییٰ معرول ناول ”جب زندگی شروع ہوگی“ کے مصنف ہیں۔ علوم اسلامیہ اور کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز جبکہ سوشل سائنسز میں ایم فل کیا۔ ٹیلی وژن پروگرام، اخباری مضامین، پبلک اجتماعات کے ذریعے دعوت و اصلاح کا کام کرتے ہیں۔ ماہنامہ "انذار" کے مدیر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.