اٹھ سسیے بے خبرے - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

اےمسیحا تیرا دم غنیمت۔ لیکن کتب ایسا بیش قیمت خزانہ ردی فروش کو کیونکر تھما دیں؟ لوازمات حرف و قرطاس کو تہہ خانے میں مقید کیے دیتے ہو، کیا اذہان میں قفل نہ پڑجاویں گے۔ کجی دریا میں بہا دیں گے تو اذہان کے کہنہ کواڑوں پہ دستک کیسے پڑےگی۔ نونہالان کا تجسس کہنہ سال کیوں نہیں اپنائے لیتے کہ حیات کی گتھیاں پرت در پرت کھلتی جائیں، کھلتی ہی جائیں (از حبیب رحیم)

اے حبیب! ترے حروف نے دل شاد کیا کہ کوئے تو ہے جس نے پیغام دروں کو پایا۔
ہاں اے رحیم کے دوست، مقصود نامہ یہی تھا کہ کہنہ مشق اب و جد ازمنہ جدید میں روایات قدیم کی پاسداری کیونکر فراموش کر بیٹھے۔ اک دوست کہ تنہائی میں جس کا دم غنیمت تھا، جس کے بدن کی خوشبو ذہن کے خفتہ گوشوں میں بسی یادوں کو جھنجھوڑتی تھی، جس کے اوراق کے پنکھ بنا کر تخیل کا براق اپنی پرواز سوئے کائنات بھرتا تھا۔ ایسے یار غار کو آخر کس سحر کا شکار ہو کر بھولے۔یہ چمکتے منور آئینے کہ جنھیں دنیا سمارٹ سکرین کے نام سے جانتی ہے، عجب ساحر ہیں کہ نادیدہ بیڑیوں میں ہر نفس کو محصور کیے دیتے ہیں۔

اے حبیب رحیم!
اس مسیحا نے تو فقط ذہن خوابیدہ کو جگانا چاہا کہ دیکھ تیرا اصل خزانہ لٹ گیا، تیرے نونہال اپنے قلب و روح اور سوچ و تخیل سمیت اس آئینہ خانے کے قیدی بن گئے ہیں۔
اٹھ سسیے بے خبرے
تیرا لٹیا شہر بھنبور نی

Comments

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.