رویوں میں توازن - محمد عامر خاکوانی

پچھلے چند دن شدید تھکن اور بھاگ دوڑ میں گزرے، کالم کا ناغہ بھی ہوگیا۔ ہم جیسے کرایہ کے مکان میں رہنے والوں کے لیے گھر بدلنا اچھی بھلی آزمائش بن جاتی ہے۔ اخبار کا دفتر شہر سے قدرے باہر ہے، گھنٹہ بھر کا سفر روزانہ طے کر کے دفتر پہنچنا پڑتا تھا۔ سفرمیں کمی لانے کے لیے گھر تبدیل کیا اور اب نسبتاً آسانی محسوس ہو رہی ہے۔ آج کل کتابوں کی خریداری کم کر دی ہے اور کوشش کی جاتی ہے کہ ای بکس سے کام چلایا جائے، اس کے باوجود چار پانچ ہزار کے قریب کتابیں جمع ہو چکی ہیں۔ بڑی مشکل سے انہیں بوریوں میں ڈال کر منتقل کیا۔ اب انہیں دوبارہ سے بک ریکس میں لگانا بھی اچھا خاصا مرحلہ لگ رہا ہے۔ کتابیں اکٹھی کرتے ہوئے دو خیال آتے رہے، انہیں دوبارہ سے پڑھنے کا وقت اور فرصت مل پائے گی اور کیا میری اولادکی نظروں سے بھی یہ کتابیں گزریں گی؟ زندگی میں بےشمار حسین ، دل خوش کن لمحات انھی کتابوں کی وجہ سے شامل ہوئے۔ کاش میرے بچے بھی کتابوں سے خود کو جوڑ پائیں۔ ویڈیو گیمز، کارٹون اور اینی میٹڈ موویز کی سحرانگیز دنیا میں بظاہر یہ مشکل لگ رہا ہے۔ شفٹنگ کے دوران تو جسمانی تھکن ہوئی، اس دوران مگر کئی ایسے خونیں واقعات ہوئے، جن سے دل لہو سے بھر گیا۔ اسرائیل نے مظلوم فلسطینیوں کا جینا عرصے سے دوبھر کر رکھا ہے۔ اب ایک بار پھر فلسطینی دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے مظالم کا ایک خوفناک سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ نوجوان کشمیری گولیوں سے چھلنی ہو رہے ہیں۔ اس پر دنیا بھر میں ہر طرف شدید بے حسی نظر آ رہی ہے۔ کشمیریوں کے جذبے اور عزم کو سلام کہ ہر طرف چھائے اندھیرے میں وہ اپنے لہو سے شمعیں جلا رہے ہیں۔ قندوز میں ایک مدرسے پر افغان فوجیوں کی بمباری سے ایک سو کے قریب لوگ شہید ہوئے، جن میں درجنوں حفاظ بچے شامل ہیں۔ ظلم اور بربریت کی انتہا ہوگئی۔ سفاکی کی انتہا یہ کہ اس دہشت گردی کا جواز ڈھونڈا جا رہا ہے۔ قندوز کے مظلوم اس اعتبار سے زیادہ بدقسمت ہیں کہ ان کے حق میں آواز بلند کرنے والے بھی کم ہیں۔ فلسطینی عوام پر ظلم کے خلاف اقوام متحدہ میں آواز اٹھائی گئی۔ بھارتی فوجیوں کی درندگی پر دنیا خاموش رہی، مگر پاکستانی حکام نے مذمت اور احتجاج تو کیا۔ قندوز کے شہیدوں پر مگر کسی کو کچھ کہنے کی توفیق نہیں ہوئی۔ دو دن سے سوشل میڈیا پر گردش کرتیں ان معصوم حفاظ بچوں کی تصویریں دیکھی نہیں جا رہیں۔ معصومیت کے پیکر، جنہیں افغان فوج نے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ یہ پورا خطہ لگتا ہے کسی بڑی آزمائش سے دوچار ہے۔ دائروں کی صورت میں آنے والی آزمائش۔ ایک دائرہ ختم ہوتا ہے تو دوسرا شروع ہوجاتا ہے۔ اللہ رحم فرمائے اور جنگ، تباہی کے بادل چھٹ جائیں۔

ہمارے لبرل طبقے کوا س وقت بہت تکلیف ہوتی ہے جب کسی جہادی تنظیم کے ہاتھوں افغان شہریوں کا نقصان ہو۔ اتنے بڑے سانحے پر ان تمام لوگوں نے گونگے کا گڑ کھا لیا۔ مذمت کرنے کے بجائے الٹا یہ دلیل دی جا رہی ہے کہ مدرسے میں طالبان کمانڈر مہمان خصوصی تھے۔ یہ بات حالانکہ غلط ثابت ہوچکی ہے۔ صاف بات یہ ہے کہ جہاں کہیں غیر مقاتلین یعنی نہتے شہری جو جنگ میں شامل نہ ہوں، انہیں نشانہ بنایا جائے، وہ غلط ہے، اس کی غیر مشروط مذمت کرنی چاہیے۔ کابل کے فٹ بال گراؤنڈ میں اگر افغان طالبان بم دھماکے کریں اور شہری ہلاک ہوں تو وہ بھی ظلم اور غلط ہے، بازاروں میں خود کش دھماکہ کرنے والے مزاحمتی اور جہادی نہیں کہلاسکتے، اسی طرح طالبان کو ختم کرنے کے نام پر کبھی شادی کی باراتوں اور کبھی مدارس کے حفاظ پر وحشیانہ بمباری کرنا صریحاً ظلم ہے، اس کی ہر ایک کو مذمت کرنی چاہیے۔ ہم لوگ اس کے سوا کر ہی کیا سکتے ہیں، یہ چند الفاظ جو کثرت استعمال سے اپنے معنی کھو بیٹھے ہیں۔ یہ ہمارے دکھ اور صدمے کی عکاسی تو نہیں کر سکتے، مگر برائی کو برا سمجھنا ایمان کے آخری درجے میں تو آ ہی جاتا ہے۔ لبرل ہوں یا رائٹسٹ، ہمارے رویوں میں توازن لازم ہے۔

پچھلے کچھ عرصے سے پختون تحفظ تحریک کی صورت میں ایک نیا عنصر سامنے آیا ہے۔ ایک غیر معروف قبائلی منظور پشتین اس کی قیادت کر رہا ہے۔ منظور پشتین کو زیادہ سننے کا اتفاق نہیں ہوا، ایک دو ویڈیو کلپس ہی دیکھے۔ ابھی کوئی حتمی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہے۔ مجھے اس پر البتہ حیرت ہوئی کہ منظور پشتین کو بلوچستان کے پشتون علاقوں میں خاصی پذیرائی ہوئی، اچھے خاصے جلسے اس نے وہاں کیے۔ اصل ایجنڈا ان کا قبائلی علاقوں کے حوالے سے ہے، یہ تحریک اصلاًوزیرستان کے محسود قبائل میں شروع ہوئی۔ بلوچستان کے پشتونوں کا اس میں شامل ہونا دلچسپی سے خالی نہیں۔ معلوم ہوا کہ اچکزئی صاحب کی پارٹی کے لوگ اس کی سپورٹ کر رہے ہیں۔ مختلف سازشی تھیوریز اس حوالے سے بیان کی جا رہی ہیں۔ بعض لوگ منظور پشتین کی تیزی سے پھیلتی مقبولیت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ انہیں اس کے پیچھے غیر ملکی فیکٹر نظر آ رہا ہے۔ تحفظ پشتون تحریک کے خلاف نعرے اور پوسٹر بھی لگنے شروع ہوگئے۔ کچھ لوگ باقاعدہ طور پر اکٹھے ہو کر جلسے جلوس بھی کر رہے ہیں۔ کہا جار ہا ہے کہ مقتدر قوتیں یہ سب کرا رہی ہیں۔

منظور پشتین یا تحفظ پشتون تحریک کے بارے میں ابھی منفی رائے کا اظہار نہیں کرنا چاہتا۔ انھیں حسن ظن کی رعایت ملنی چاہیے۔ سادہ سی دو تین باتیں البتہ یاد رہنی چاہییں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سوات کے لوگوں نے بہت تکلیف سہی، ان کی مشکلات ابھی تک ختم نہیں ہوئیں۔ وہاں آنے جانے والے دوست بتاتے ہیں کہ چیک پوسٹوں کا طویل مرحلہ مقامی آبادی کے لیے سخت تکلیف دہ اور پریشان کن ہے۔ محب وطن سواتی عوام نے برسوں صبر سے یہ سب کاٹا ہے۔ آج اگر ان میں سے کچھ بلند آواز سے شکوہ کریں تو ہمیں ان کی بات سننی چاہیے۔ فاٹا کے عوام پر پچھلے کئی برس کٹھن گزرے ہیں۔ پہلے نام نہاد پاکستانی طالبان نے ان کا جینا دوبھر کر دیا۔ آپریشن کے دوران فطری طور پر مسائل پیدا ہوئے۔ جنوبی اور شمالی وزیرستان کے عوام خاص طور سے پریشان ہوئے۔ لاکھوں لوگوں کو اپنے گھروں سے دور رہنا پڑا۔ واپسی کے باوجود چیکنگ اور جانچ پڑتال کا تکلیف دہ سلسلہ جاری ہے۔ ممکن ہے تحفظ پشتون تحریک کی حمایت کرنے والے بعض حلقوں کے مخصوص عزائم ہوں، یہ بھی امکان ہے کہ کچھ لوگ کسی خاص ایجنڈے کے تحت پشتونوں میں وفاق کے خلاف جذبات بھڑکانا چاہتے ہوں۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ پشتونوں کے حقوق کی بات کرنے والا ہر شخص غلط ہے یا ان کے مطالبات نہیں ماننے چاہییں۔ ان لوگوں کو البتہ اپنے نعروں میں احتیاط سے کام لینا ہوگا۔ ایسے نعرے جن سے شکوک پیدا ہوں، ان سے ہر صورت گریز کیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ منظور پشتین کی شخصیت میں ایسا غیر معمولی کرشمہ نہیں، اصل بات یہ ہے کہ جو ایجنڈا لے کر وہ کھڑا ہوا ہے، اس میں مقامی آبادی کے لیے کشش ہے۔ فورسز اور وفاقی و صوبائی حکومت کو ان کے مطالبات ہمدردی سے سننے چاہییں۔ عام آدمی کو ہر حال میں ریلیف ملنا چاہیے۔ یہ درست کہ دہشت گردوں کی واپسی کا خدشہ موجود ہے، اس لئے سکیورٹی انتظامات کرنا لازم ہیں، مگر یہ سب بڑی حکمت، دانشمندی سے کرنا ہوگا۔ عام آدمی کو پریشان کئے بغیر سکیورٹی سسٹم مضبوط اور فول پروف بنانا چاہیے۔ریاست کا اصل کردار ماں جیسا ہے۔ پاکستانی ریاست اور ریاستی اداروں کی اصل ترجیح عوام ہونے چاہئیں۔ رویے اگر معقول اور متوازن ہوں تو عوام کے دلوں میں ریاست کے لئے محبت کے سوتے پھوٹ پڑتے ہیں۔ تب غیر ملکی سازشیں یا گھر میں موجود فتنہ پرور لوگ بھی ناکامی سے دوچار ہوتے ہیں۔ یہی تاریخ کا طے شدہ اصول ہے، جسے ہم بھلانے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.