عسکری بیٹے کا سیاسی باپ اور فکری دوست کا جانشین - شاہ عباس

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بزرگ علیحدگی پسند لیڈر سید علی گیلانی نے 18مارچ کے روز اپنے دیرینہ ساتھی محمد اشرف صحرائی کو اپنا جانشین مقرر کر کے ان خدشات کو غلط ثابت کردیا کہ وہ کشمیر کی سبھی بڑی سیاسی جماعتوں کی طرز پر خاندانی سیاست آگے بڑھائیں گے۔

ابھی اس فیصلے کوایک ہفتہ بھی نہیں ہوا تھا کہ صحرائی کے فرزند نے عسکریت پسندوں کی صف میں شامل ہو کر عملاً اس بات کا اعلان کیا کہ وہ اپنے والد کے سیاسی مؤقف کی تائید و حمایت کرتے ہوئے اُنہیں ایسا پہلا مزاحمتی لیڈر بنا رہے ہیں جو صف اول کی آزادی پسند پارٹی کا سربراہ ہے اور جس کا بیٹا عسکری میدان میں سرگرم ہے۔

بھارتی کشمیر کی کم و بیش سبھی چھوٹی بڑی سیاسی جماعتیں خاندانی سیاست چلانے کے لیے جانی جاتی ہیں اور ان میں بھارت نواز اور آزادی پسند، دونوں شامل ہیں۔ نیشنل کانفرنس کی قیادت دہائیوں سے شیخ خاندان کے ہاتھ میں ہے جبکہ پی ڈی پی کی کمان مفتی خاندان چلا رہا ہے۔ پیپلز کانفرنس کی باگ ڈور لون خاندان کے ہاتھ ہے جبکہ عوامی ایکشن کمیٹی عملاً میرواعظ خاندان کی میراث ہے۔

اشرف صحرائی کی نامزدگی سے بھارت سے علیحدگی کی سب سے مؤثر آواز 89 سالہ سید علی گیلانی نے اپنے اُن مخالفین کو خاموش کر دیا جو انھیں اپنی پارٹی، ’تحریک حریت‘ کی کمان اپنے قریبی رشتہ داروں کو سونپنے کی قیاس آرائیاں کر رہے تھے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ گیلانی کے اس اقدام سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ خود مختاری کے حامی محمد یاسین ملک کے ساتھ مشترکہ پروگرام چلاکر بھی بزرگ لیڈر نے اپنی مخصوص سیاسی فکرمیں کوئی تبدیلی نہیں لائی ہے، جس کا عملی مظاہرہ اُنہوں نے اشرف صحرائی کی نامزدگی سے کیا، کیونکہ صحرائی کو سید علی گیلانی کے ہم پلہ ایک فکری شخص تصور کیا جاتا ہے۔

74سالہ اشرف صحرائی کے بارے میں پولیس حکام کا ماننا ہے کہ وہ سید علی گیلانی سے زیادہ متحرک رہ سکتے ہیں۔ ایک پولیس آفیسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس نمائندے کو بتایا ’’ صحرائی صاحب ہمارے خیال میں گیلانی صاحب سے زیادہ متحرک رہیں گے۔ ایک تو اُن کی عمر گیلانی سے کم و بیش بیس سال کم ہے اور دوسرا، وہ زیادہ کام پسند کرتے ہیں‘‘۔

یہ بھی پڑھیں:   چناروں کی وادی کی ایک شہزادی - فاطمہ طاہر

وادی کشمیرکے جنوبی علاقہ لولاب سے تعلق رکھنے والے صحرائی اپنے اب تک کے سیاسی کیریئر کے دوران تنازعات سے بالکل دور رہے ہیں۔ اُن کو قریب سے جاننے والوں کا کہنا ہے کہ وہ کسی مصلحت کے بغیر ’’دو ٹوک‘‘ بات کرنے میں یقین رکھتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ نظریاتی اختلاف رکھنے کے باوجود قوم پرست اور سیکولر حلقوں میں بھی صحرائی کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔

سید علی گیلانی اور اشرف صحرائی کی قرابت دونوں کے 1960ء میں جماعت اسلامی میں شامل ہونے کے ایام سے چل رہی ہے۔ جماعت اسلامی حلقوں میں بھی صحرائی کو گیلانی کے ہم پلہ تصور کیا جاتا ہے۔ جماعت اسلامی سے وابستہ ایک لیڈر کے مطابق ’’گیلانی صاحب کا جانشین صحرائی کے بغیر کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا تھا‘‘۔

2014ء میں تحریک حریت کے قیام کے فوراً بعد سید علی گیلانی اور جماعت اسلامی کشمیر کے مابین اختلافات سامنے آئے جنہیں ختم یا کم کرنے کی اب تک کی سبھی کوششیں ناکام ہوئی ہیں۔

بھارت مخالف عسکریت پسندوں نے بھی اشرف صحرائی کی نامزدگی کا خیر مقدم کیا ہے۔ حالانکہ کشمیر کی عسکریت اس وقت انتہائی مخدوش صورتحال سے دوچار ہے۔ آئے دنوں مخصوص عسکریت پسندوں کے ایسے بیانات جاری ہو رہے ہیں جن میں ’داعش‘ اور’ القاعدہ‘ کے نظریات کی حمایت کی جاتی ہے۔ لیکن اشرف صحرائی نے اپنے پیشرو سید علی گیلانی کی طرح ہی بین الاقوامی ایجنڈا رکھنے والے سبھی عسکری گروہوں کی شدید نکتہ چینی کی ہے۔ اپنے ایک بیان میں انھوں نے کہا’’ہمیں (کشمیریوں کو) القاعدہ یا داعش جیسے گروہوں سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ ہمارا ایجنڈا بالکل مقامی ہے اور ہم صرف بھارتی قبضے کا خاتمہ چاہتے ہیں۔جو کشمیر کے اندر مختلف مواقع پر آئی ایس یا القاعدہ کے جھنڈوں کی نمائش کرتے ہیں وہ اصل میں نئی دلی کی مدد کرتے ہیں‘‘۔

ابھی اشرف صحرائی کو تحریک حریت کا نیا سربراہ نامزد ہوئے ایک ہفتہ بھی نہیں ہوا تھا کہ اُن کے بیٹے جنید اشرف صحرائی نے کشمیر کے سب سے بڑی عسکری گروہ حزب المجاہدین میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔ دانش گاہ کشمیر سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کرنے والے 26 سالہ جنید کے اعلان سے وادی کے سیاسی پانیوں میں ہلچل مچ گئی، تاہم اشرف صحرائی نے اپنے فرزند کی عسکریت میں شمولیت کو ’’محض ایک اور نوجوان کا اضافہ‘‘ اور اس کو جنید کا ’’ذاتی فیصلہ‘‘ قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر، عملی قدم کا وقت ہے - صبا احمد

مبصرین کہتے ہیں کہ اشرف صحرائی کو ایک طرف اپنے پیشرو سید علی گیلانی کی سیاسی فکر کو آگے بڑھانے کا کام کرنا ہے تو دوسری طرف اُنہیں اپنے فرزند کا بھی دفاع کرنا ہے۔ اُن کے سامنے جو سب سے بڑا چیلنج ہے، وہ یہ ہے کہ کشمیر کو بین الاقوامی دہشت گردی سے جُڑنے سے کیسے بچایا جاسکے۔

واقف کار حلقوں کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی کے ایسے بہت سارے لیڈر ہوئے ہیں جن کے فرزند عسکریت کا حصہ رہے ہیں۔ لیکن ایسا پہلی بار ہوا ہے جب کوئی سیاسی لیڈر اپنی پارٹی کا سربراہ ہے اور اس کا بیٹا عسکری سطح پر اپنے والد کی سیاست کی تصدیق کر رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق سید علی گیلانی کے ’تحریک حریت‘ کی قیادت سے ہٹنے سے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں پاکستان نوازوں کی نئی قیادت کے لیے بھی دروازہ کھل گیا ہے۔ سید علی گیلانی ابھی تک اپنے دھڑے کی حریت کانفرنس کی قیادت کر رہے ہیں، لیکن مبصرین کے مطابق اگر اُن کی عمر اور مسلسل خانہ نظر بندی اُن کی اپنی پارٹی چلانے میں آڑے آ رہی ہے تو وہ حریت کانفرنس کو کیسے چلاسکتے ہیں جو بقول اُن کے مقابلتاً ایک وسیع پلیٹ فارم ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مستقبل قریب میں سید علی گیلانی حریت کی قیادت بھی چھوڑ رہے ہیں، حالانکہ اُن کا انتخاب تا حیات عمل میں لایا گیا ہے۔ مذکورہ حریت دھڑے کے اندرونی ذرائع کے مطابق سید علی گیلانی کو اس فورم کا تاحیات سرپرست بنانے کے بارے میں میدان ہموار کیا جا رہا ہے۔ مذکورہ حریت دھڑے میں شبیر شاہ اور مسرت عالم جیسے معروف آزادی پسند لیڈران بھی شامل ہیں۔ دونوں مذکورہ لیڈران فی الوقت ایام اسیری کاٹ رہے ہیں۔