یہ کیسا بیانیہ ہے؟ شاہد خان بلوچ

یونیورسل سچائی یہی ہے کہ آپ کچھ لوگوں کو تمام وقت کے لئے جبکہ تمام لوگوں کو کچھ وقت کے لئے تو بے وقوف بنا سکتے ہیں مگر تمام لوگوں کو تمام وقت کے لئے بے وقوف ہرگز نہیں بنا سکتے۔ میڈیا کی طاقت جتنی مسلم ہے اس کا امتحان بھی اتنا ہی کڑا ہے مگر میڈیا کا ایک مخصوص طبقہ ایک مخصوص ایجنڈے پر ایک مخصوص بیانیہ بنانے میں مصروف ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ بیانیہ لمحہ بہ لمحہ رواں تبصرے کی طرح اپنی شکل تبدیل کر رہا ہے۔

سینیٹ کے الیکشن میں اگر مسلم لیگ ن کے اراکین اسمبلی بک جائیں تو برے بکنے والے نہیں بلکہ خریدنے والے۔ اگر پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی بک جائیں تو قصوروار خریدنے والے نہیں بلکہ بکنے والے۔۔۔۔۔ نہیں نہیں برے بکنے والے بھی نہیں۔ دراصل قصوروار تو ذاتی طور پر عمران خان خود نکلتا ہے۔

چیئرمین سینیٹ کے لئے عمران خان نے صادق سنجرانی کی حمایت کا اعلان کیا۔ پیپلز پارٹی نے کچھ دن خاموشی اختیار کی اور آخرکار جس دن پی پی نے صادق سنجرانی کی حمایت کا اعلان کیا اس سے چند گنٹے نہیں بلکہ چند منٹ پہلے تک توقع یہی تھی کہ پیپلز پارٹی رضا ربانی کا اعلان کرنے والی ہے جیو سمیت تمام چینلز یہی ٹکرز چلا رہے تھے اور ان تمام سورما صحافیوں کے نزدیک اس وقت رضا ربانی پی پی اور مسلم لیگ ن کا مشترکہ امیدوار جبکہ صادق سنجرانی پی ٹی آئی کا نامزد امیدوار تھا۔ جیسے ہی پیپلز پارٹی نے سرپرائیز دیتے ہوئے صادق سنجرانی کی حمایت کا اعلان کر دیا تو بیانیہ ایک دم سے بدل گیا اور چند سیکنڈز کے اندر اندر صادق سنجرانی کا سٹیٹس عمران خان کے نامزد امیدوار سے بدل گیا اور وہ پیپلز پارٹی کے کیمپ کا جیالا قرار پایا۔ میڈیا کے تمام سورما یکسو ہو کر عمران خان کو طعنہ زن ہو گئے کہ اس نے پی ہی کے امیدوار کی حمایت کر دی ہے۔ یہاں تک کہ مسلم لیگ ن بھی پی پی اور پی ٹی آئی کے "مک مکا" کا نعرہ لگانے لگی۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا ہارٹ اٹیک بھی ڈیل کا حصہ ہے؟ انصار عباسی

جب میاں صاحب کو سپریم کورٹ نے منی ٹریل کی عدم دستیابی کے بعد اقامہ پر نااہل قرار دیا تو بیانیہ یہ تھا کہ یہ ایک نہایت کمزور فیصلہ ہے صرف اقامہ کی بنیاد پر کسی کو گھر نہیں بھیجا جا سکتا۔ جب جہانگیر ترین کو مکمل منی ٹریل جمع کروانے کے بعد بھی صرف اس بنیاد پر نااہل قرار دیا گیا کہ اس نے اپنے پیسے سے خریدا ہوا ٹرسٹ اپنے بیٹے کی ملکیت ظاہر کیا تو یہ ایک انتہائی شاندار اور تاریخی فیصلہ قرار پایا۔

عمران خان کی طلاق سے لے کر نکاح اور نکاح سے لے کر عدت تک کو میڈیا میں نہ صرف اچھالا گیا بلکہ رگیدا گیا مگر جیسے ہی عمر چیمہ، مبشر علی زیدی، مریم نواز، شہباز شرہف، اسحاق ڈار اور حمزہ شہباز کے متعلق کسی نے لب کشائی کی وہ اخلاقیات سے گری ہوئی حرکت قرار پائی۔

میاں صاحب نااہل ہوئے تو بیانیہ یہ تھا کہ میاں صاحب مظوم بن گئے ہیں اور وہ اس سے سیاسی طور پر زیادہ مضبوط ہو جائیں گے۔ جب جہانگیر ترین نااہل ہوا تو بیانیہ یہ تھا کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ترین خاندان کی سیاست ختم کر دے گا۔

میاں صاحب نے مناسب جلسے کئے تو کہا گیا کہ میاں صاحب کا بیانیہ مضبوط اور مقبول ہو رہا ہے۔ جب عمران خان نے ایک شہر میں ایک دن میں میاں صاحب کے ایک جلسے کے برابر پانچ پانچ جلسے کئے تو کہا گیا کہ جلسوں کی کامیابی مقبولیت کی نشانی نہیں ہے۔ جلسے تو عمران خان کے ہمیشہ ہی کامیاب رہتے ہیں۔