نوجوانوں میں خودکشی کا بڑھتا رُحجان - حرا اسحاق

نوجواں نسل کسی بھی ملک کے لیے قیمتی اثاثہ ہوتی ہے، اور اس ملک کے فخر اور کامیابی کا ذریعہ بھی۔ کیونکہ ان میں دُنیا کو تبدیل کرنے کی طاقت و صلاحیت موجود ہوتی ہے، لیکن پاکستان میں نوجوان نسل میں خودکشی کا رحجان دن بدن بڑھتا جارہا ہے۔ آئے روز خبروں میں نوجواں لڑکے لڑکیوں کی خودکشی کی خبر دیکھنے میں آتی ہے۔ خودکشی کرنے والوں میں سب سے زیادہ تعداد 15 سے 20 کے سال کی عمر کے لڑکے اور لڑکیوں کی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق دیکھا جائے تو دنیا بھر میں ہر سال ایک ملین افراد خودکشی کر تے ہیں۔ پاکستان میں خودکشی کی بڑھتی شرح کے باوجود اب تک کوئی سرکاری اعداد و شمار شائع نہیں کے گئے۔ 2001ء میں ایک رپورٹ جاری کی گئی جس کے مطابق پاکستان میں ایک سال کے اندر 3000 افراد نے خودکشی کی۔ اس کے بعد سے اب تک اعداد و شمار کی کوئی مکمل رپورٹ جاری نہیں ہوئی۔ جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اگر کوئی شخص خود کشی کرتا ہے تو اس کے خاندان والے اس کیس کو چھپا دیتے ہیں۔

پاکستان میں بڑھتا خودکشی کا رجحان ایک سنجیدہ مسئلہ بن چکا ہے جس کی وجوہات میں سماجی دباؤ، ڈپریشن، خوداعتمادی میں کمی، غربت اور نوعمری کی محبت ہے، جبکہ دوسری وجہ تعلیمی دباؤ ہے۔ والدین اور اساتذہ کی طرف سے بچوں پر تعلیمی دباؤ انہیں ڈپریشن میں مبتلا کر دیتا ہے جس کی وجہ سے کئی بچے خودکشی کرچکے ہیں، جبکہ اس کی سب سے بڑی وجہ مذہب سے دوری بھی ہے۔ ہم آج کل اپنے بچوں کو صحیح طرح مذہب کی تعلیم دے ہی نہیں پا رہے۔ ہم اپنے بچوں کو سمجھا ہی نہیں پا رہے کہ ہمارے دین اسلام میں خودکشی اور ناامیدی کتنا بڑا گناہ ہے۔

ایک اور وجہ والدین اور بچوں کے درمیان آنے والا ٹیکنا لوجی کا فاصلہ بھی ہے، بچے والدین سے اپنی بہت ساری اہم باتیں بھی شیئر نہیں کرپاتے، پرائیویسی کے نام پر بچے اپنے ماں باپ سے اہم مسائل بھی تک نہیں بتاتے جن کا بتانا ازحد ضروری ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 50 فیصد نوجوان غربت، بیروزگاری اور اقتصادی مشکلات کے سبب خودکشی کر تے ہیں۔ جبکہ ماہرِ نفسیات کے مطابق 80 فیصد نوجوان ڈپریشن کی وجہ سے خود کشی کرلیتے ہیں۔

ہمیں اپنے بچوں کو ذہنی طور پر مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ انہیں سمجھانے کی ضرورت ہے کہ زندگی میں بیشتر اُتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں اور موت کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہوتی۔ ہمیں اپنے بچوں کو مسائل کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا اور انہیں حل کرنا سکھانا ہوگا۔ والدین اور اساتذہ کو بچوں کے مسائل اور ذہنی حالت کو سمجھنا ہوگا، بچوں پر کسی بھی قسم کا دباؤ ڈالنے کے بجائے انہیں امید پسند بنانا ہوگا۔ انہیں یہ سمجھانا پڑے گا کہ محنت اور اور مسلسل کوشش سے انسان کسی بھی کامیابی کو پاسکتا ہے، انسان کو کبھی ناامید نہیں ہونا چاہیئے اللہ تعالیٰ ہر مشکل کو آسان بنادیتا ہے اور اپنے بندے کو گرنے نہیں دیتا۔

والدین کے ساتھ ساتھ اساتذہ کو بھی اس معاملے میں اہم کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ اساتذہ کو بچوں کی حوصلہ شکنی کے بجائے حوصلہ افزائی کرنی چاہیے، نوجواں نسل پر اعتماد دکھانے کی بھی ضرورت ہے تاکہ بچے اپنے مسائل اور اپنی باتیں بلاجھجک والدین اور اساتذہ سے شیئر کرسکیں۔

میڈیا کا کردار بھی اس میں نہایت اہم ہے میڈیا پر چلنے والی فلمیں اور ڈرامے نوجواں نسل کے ذہن پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ لہٰذا میڈیا کو چاہیئے کہ مثبت چیزیں دکھائے تاکہ اس کے اثرات بھی مثبت ہوں۔

خود نوجوانوں کو بھی یہ سوچنا پڑے گا کہ اس کے خودکشی کرنے سے اُن کے ماں باپ پر کیا گزرتی ہوگی، ان کے اس اقدام سے ان کا خاندان معاشرے میں کس طرح کی مشکلات کا سامنا کرتا ہوگا۔ زندگی ایک خوبصورت نعمت ہے اسے اللہ کے حکم کے مطابق گزارنا چاہیئے۔ مشکلات کی مدّت ہی کم ہوتی ہے۔ ہر مشکل وقت میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں، یقیناًوہ مشکلات کو ختم کرنے والا ہے۔

یہی وقت ہے کہ ہم اس مسئلے کو سنجیدگی سے دیکھیں اور اس کیلئے ہم سب کو مل کر عملی اقدام کرنے ہونگے تاکہ ہم اپنے نوجوانوں کی زندگی کو محفوظ کرسکیں۔