افغانستان کے پھول جو مسلے گئے - عبدالفتاح

گذشتہ کل افغانستان کے شہر قندوز میں جو خون کی ہولی کھیلی گئی، وہ انسانیت کا راگ الاپنے والوں کے لیے سوالیہ نشان ہے، کہ کیا وہ بچے انسان نہیں تھے،جن پر بم برسا کر ان کو تہس نہس کردیا گیا؟ جن کے جسموں کو بارود سے بھون لیا گیا۔ جن کے وجود کو خون میں نہلادیا گیا۔ کیا ان کو جینے کا حق حاصل نہیں تھا۔؟

کیا ان کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ قرآن پاک کی تعلیم حاصل کر رہے تھے؟ ان کا قصور یہ تھا کہ وہ اللہ کی توحید کے قائل تھے۔؟ ان کا جرم یہ تھا کہ وہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کے نام لیوا تھے؟ ان کا قصور یہ تھا کہ وہ قرآن و سنت کے طالب علم تھے؟ کیا ان کو اس جرم کی پاداش میں صفحہ ہستی سے مٹایا گیا کہ وہ مسلمان تھے؟ ان کے چہروں پر داڑھی کا ہونا اس حملے کا سرٹیفکیٹ تھا؟ کیا ان کے سروں کی دستاروں نے ان پر حملے کا استحقاق فراہم کیا تھا؟ کیا کلام اللہ کو اپنے سینوں میں محفوظ کرنا ان کا جرم تھا؟ کیا ان کو احادیث رسولﷺ اپنی زبانوں پر جاری کرنے کی سزا دی گئی؟ کیا ان پر حملے کے جواز کے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ انہوں نے ملالہ کی طرح عالمی قوتوں کی ہاں میں ہاں نہیں ملائی تھی؟ کیا ان کی ماؤں نے اس دن کے لئے سالہا سال ان کی جدائی برداشت کی تھی کہ ان کے لخت جگر انسانیت کے نام نہاد علمبرداروں کے خونخوار درندگی کا نشانہ بن جائیں؟

ان کی مائیں ان انسان نما بھیڑیوں سے سوال کر رہی ہیں، کہ ان کو ان کے معصوم بچوں کے خون میں غسل دیے لاشے کیوں دیے گئے؟ کیا وہ انسان نہیں تھے کہ ان کو درندگی کا نشانہ بنایا گیا؟ کیا ان پر انسانوں والے حقوق لاگو نہیں ہوتے۔ کیا ان کے والدین اور بہن بھائی ان کے گھر ان کا انتظار نہیں کر رہے تھے؟ ملالہ کا ڈرامہ کئی کئی روز چلانے والا میڈیا کیوں خاموش تماشائی بنا ہوا ہے؟ ملالہ سے ہمدردی دکھانے والے سیاستدان کیوں چپ کا روزہ رکھے ہوئے ہیں؟

یہ بھی پڑھیں:   اشرف غنی اور افغان الیکشن کمیشن کے گٹھ جوڑ اور دھاندلی کے الزامات سمیت نتائج ڈھونگ قرار- قادر خان یوسف زئی

کہاں ہیں انسانی حقوق کی نام نہاد علمبردار تنظیمیں جو انسانیت کا راگ الاپتے نہیں تھکتیں،کیا وہ اس وجہ سے خاموش ہیں، کہ حملہ آور داڑھی والے نہیں،یا مقتولین اسلام مخالف نہیں، بلکہ محبین اسلام ہیں۔

بس میں ان درندہ صفت کو اتنا بتانا چاہتا ہوں کہ
کتاب سادہ رہے گی کب تک کبھی تو آغاز باب ہوگا، جنہوں نے گلشن اجاڑ ڈالے کبھی تو ان کا حساب ہوگا۔