کشمیری محبت سے محبوب کی بے رخی - حافظ یوسف سراج

کشمیر اور پاکستان کے تعلق کی کہانی روایتی مشرقی عشق کی کہانی ہے۔ وہ عشق کہ جس میں محبت کرنے والا ہوش کھو بیٹھتا ہے اور اپنا سب کچھ محبوب پر نچھاور کر دیتاہے اور محبوب مگر اس کے باوجود بے اعتنائی برتتا ، نخرے دکھا تاا ور ہر لمحہ اپنا دامن چھڑا ئے جاتا ہے۔

کہتے ہیں قانون اندھا ہوتا ہے۔ محبت اگرچہ اندھی نہیں ہوتی، اس کی بینائی میں بسی ایک تصویر البتہ ضرور اسے اندھا کر دیتی ہے۔ وہ ایک تصویر جس کے سوا، محبت کچھ اور دیکھنا ہی نہیں چاہتی۔ محبت کو اگر اندھا سمجھنا بھی ہو تو اسے ساون کا اندھا سمجھنا چاہیے۔ جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ساون کے اندھے کو ہر طرف ہرا ہی ہرا سوجھتا ہے۔ محبت کو بھی جو دکھتا اور سوجھتا ہے وہ بس ہرا ہی ہرا ہوتا ہے۔ اور یہ ہرا اس کا محبوب ہوتا ہے۔ کشمیریوں کا یہ ہرا محبوب پاکستانی پرچم ہے۔ اندھے اور محبت میں، یہ فرق بھی ہوتا ہے کہ ایک اندھا محبت کی طرح اپنی ساری صلاحتیں نہیں کھو بیٹھتا۔ وہ اپنا برا بھلا ٹٹول سکتا ہے۔ وہ اپنے کان سے سن اور اپنے دماغ سے سوچ سکتا ہے اور وہ زندگی کے ساتھ نابینائی کے ذرا سے سمجھوتے کے ساتھ پوری زندگی جی سکتا ہے۔ محبت مگر دیوانی ہوتی ہے اور وہ بھی اپنی شرائط پر۔ یہ کسی سمجھوتے کو مانتی ہے اور نہ اپنے لیے سوچنا جانتی ہے۔ یہ سوچ سکتی ہے تو بس اتنا کہ ایک جان محبوب پر سو بار کیسے نثار کی جا سکتی ہے۔ محبت کی خاطر زیادہ سے زیادہ رسوائیاں کیسے کمائی اور اذیتیں کیسے اکٹھی کی جا سکتی ہیں۔ ہر ایک کی طرح محبت کے سینے میں بھی ایک دل ہوتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ مگر محبت کے دماغ کے خانے میں بھی ایک دل ہوتا ہے ، دراصل محبت کی ہر سانس میں کئی دل دھڑکتے ہیں۔ محبت میں وہ صلاحیت ہی مفقود ہوتی ہے، جو اپنے لیے بھی کچھ سوچ سکے۔ اور بھلا محبت کو سوچنا کب آتاہے؟ محبت تو بس محسوس کرنا جانتی ہے۔

کشمیری اگر پاکستان کی محبت میں مجنوں نہ ہو چکے ہوتے تو یقینا وہ کافی کچھ سوچ سکتے تھے۔ کشمیر کے پاس اتنا کچھ ہے کہ اسے کسی کو محبوب بنانے کی ضرورت نہ تھی۔ اس کا حق یہ تھا کہ خود اسے چاہا جاتا۔کشمیر تو خود وہ یوسف ہے ، جس کے لیے کئی زلیخائیں اب بھی اپنی انگلیاں تراش سکتی ہیں۔ یوسف پہ نہ سہی ، حسنِ یوسف پہ کئی مقامی و عالمی زلیخاؤں کی آج بھی رال ٹپکتی ہے۔ کشمیری لب و رخسار ہی نہیں ، یہاں کے سیب اور چنار بھی ایک دنیا کا دل کھینچتے ہیں۔ یہاں کی ڈل جھیل میں کئی قمر اور خورشید ڈوب سکتے ہیں۔ کئی شاہ یہاں کی بھیڑوں کی گلہ بانی کے لیے آمادہ مل سکتے ہیں۔ یہاں کے زعفرانوں پر کئی دلفریب قہقہے فریفتہ ہو سکتے ہیں۔ یہاں اتنا سبزہ اور پانی ہے کہ جس کی قیمت میں یورپ و افریقہ کے کئی ملک بک سکتے ہیں۔ قسمت کی بات ہے کہ گلاب جیسے یہ معصوم کشمیری مگر پاکستان کو دل دے بیٹھے ہیں۔ اس کے علاوہ ، اور اس سے بڑا ان کا دوسرا جرم کوئی نہیں۔ یہ جرم بھی مگر کم نہیں۔ ممتاز مفتی نے ایک جگہ لکھا کہ محب بننے کی بجائے محبوب بنو، تاکہ چاہنے کی اذیت سے بچ کر چاہے جانے کا لطف لے سکو۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستان میں کرونا وائرس، ذمہ دار کون - شہزاد حسین بھٹی

کشمیر اور پاکستان کی محبت کا بھی وہی نتیجہ ہے جو ہمارے ہاں عموماً محبتوں کا ہوا کرتا ہے۔ نخرہ باز محبوب آگے آگے اور بے چاری جنم جلی محبت پیچھے پیچھے۔ محبت کی بے قدری کے اس موسم میں نجومیوں اور عاملوں کی البتہ چاندی ہو جاتی ہے۔ محبوب آپ کے قدموں میں والا، ان کا کاروبار خوب پھلتا پھولتا ہے۔ بہرحال کشمیر کا عالم دیدنی ہے۔ کشمیر پاکستان کو اپنی دیرینہ محبت کی دہائیاں دیتاہے۔ ترلے منتیں کرتا ہے۔ اپنی وفائیں اور قربانیاں یاد دلاتا ہے۔ اپنے لٹ گئے بدن کی تصویریں بھیجتا اور فراق میں سفید ہو گئے اپنے دیدے دکھاتا ہے۔ جہاں جہاں سے رقیبوں نے نوچ کھایا ، سرحد پار سے اپنے جسد کے وہ سارے حصے دکھا تا ہے۔ اس نازک بدن پر بارودی گولیاں داغی جاتی ہیں۔ اس کی چادریں نوچ لی جاتی ہیں۔ اس کی صبحیں اور شامیں اغوا کر لی جاتی ہیں۔ شیر خواروں کے لیے یہاں چھاتیاں خشک ہو جاتی ہیں تو جوان سینوں سے خون کے چشمے ابل پڑتے ہیں۔ اس کے باوجود اس کے لبِ بلالی پر احد احد کی پکار جاری ہے۔ یہ گرتا ہے تو پاکستان کی طرف گھسٹتا ہے۔ یہ اٹھتاہے تو پاکستان کی طرف دوڑ پڑتا ہے۔ دنیا اسے مجنوں اور دیوانہ کہتی ہے، ارضِ پاک کو مگر یہ اپنی آنکھوں کا سرمہ سمجھتا ہے۔ لوگ اس کی ردا اور عبا تار تار کر ڈالتے ہیں، یہ غرقِ عشق مگر پرچمِ پاکستان کو پیرہنِ یوسف سمجھ کے آنکھوں سے لگائے جاتا ہے۔

کشمیر مگر یعقوبؑ سا خوش قسمت کہاں کہ پرچمِ پاکستان کے پیرہن سے اس کے دکھ درد دور ہو سکیں اور اس کی فراق میں گھل گئی بینائی لوٹ سکے۔ اس سارے نالہ و فریاد سے پاکستان روایتی محبوب کی طرح نظریں چرا جاتا ہے۔ محبوبوں کو بھلا سننے کی عادت کب ہوتی ہے؟ محبوب سنیں بھی تو تجاہلِ عارفانہ سے سن کے مسکرا دیتے ہیں۔ سنی ان سنی کر دیتے ہیں۔ چنانچہ اول تو کشمیری عشق کا پتھر دل محبوب اب خط کا جواب دینا ہی چھوڑ گیا۔ جن دنوں یہ دنیا کو دکھانے کی خاطر ہی سہی ، جواب دیا کرتا تھا، تو تب بھی اس کے وہی روایتی حیلے بہانے تھے۔ کبھی اس شادی پر اس کے ابا حضور نہیں مانتے تھے، اور کبھی اسے اماں جی کی ناراضی کا خوف دامن گیر ہو جاتا تھا۔ کبھی رانجھے کی اپنی صحت دگرگوں ہو جاتی تھی تو کبھی موسم کی سردی گرمی آڑے آ جاتی تھی۔ کبھی بارات کے ساتھ جانے والے باوردی بینڈ باجے والوں کی تیار ی مکمل نہیں ہوتی تھی۔ کبھی ہمسائیوں کے پیاز اور ٹماٹر سے آنکھ مٹکا اس کی راہ کھوٹی کر جاتا تھا اور کبھی امن کی آشا کی شراب اسے بے سدھ کر دیتی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   حکومت وفاق کی ہے یا وفاق المدارس کی - آصف محمود

برقی ذریعے سے کسی نے بھیجی تھیں ،اگلے دن آسیہ اندرابی کی وہ سسکیاں سنتا رہا۔ معلوم نہ تھا درد میں ڈوبی یہ مادرِ حریت آسیہ اندرابی کی آواز ہے۔ دل پہلے ڈوب گیا تھا ، آنکھیں پہلے بھیگ گئی تھیں ، آواز کس کی تھی ، یہ بعد میں معلوم ہوا۔ ایسی سسکتی آواز اور دل کے آر پار ہو جاتی ایسی لرزتی آہیں پہلے نہ سنی تھیں۔ وہ بتا رہی تھی، یہاں لاشیں گر رہی ہیں اور پاکستان کے پرچم میں لپیٹی جا رہی ہیں ، یہاں نبضیں ڈوب رہی ہیں مگر پاکستان کی حمایت میں آوازیں ابھر رہی ہیں۔ قیادت گرفتار ہو رہی ہے مگر عوام پھیل رہے ہیں۔ وہ چاہتی تھیں کم از کم محب پر ٹوٹتے ستم سے اظہارِ یکجہتی کی خاطر ، اس کا محبوب پاکستان ایک یومِ سیاہ ہی منا لے۔ دل میں آیا کاش ! انھیں کوئی سمجھائے کہ کچھ دیر اپنے رائیگاں عشق کو تھام رکھئے ،کچھ دیر لاشیں گرانے میں وقفہ کر لیجئے ، کچھ دیر خود کو طوفانوں سے بچا لیجئے۔ ابھی یہاں جمہوریت کی بقا اور فنا کے سلسلے ہیں۔ ابھی یہاں تجارتی راہداریوں کے مسئلے ہیں۔ ابھی یہاں کچھ دوسرے موسم ہیں۔ پھر خیال آیا۔ حسن بے پروا اور بے نیاز ہی سہی، عشق مگر رکتا اور تھمتا کب ہے؟
حالات کی ناساز گاری عشق سمجھتا کب ہے؟

سنا ہے، اگلے دن احتساب عدالت کے باہر میاں صاحب سے صحافیوں نے کشمیر پر سوال کیا تو آنجناب مسکرا کے چل دیے۔ اہلِ کشمیر سے گزارش ہے کہ اس مسکراہٹ کو وہ پاکستانی قوم اور ریاست کی طرف سے آسیہ اندرابی کی سسکیوں کا سرکاری جواب سمجھ لیں۔ کشمیری محبوب کی طرف سے اپنی محبت کے لیے مسکراہٹ بھرا جواب!

Comments

حافظ یوسف سراج

حافظ یوسف سراج

ادب اور دین دلچسپی کے میدان ہیں۔ کیرئیر کا آغاز ایک اشاعتی ادارے میں کتب کی ایڈیٹنگ سے کیا۔ ایک ہفت روزہ اخبار کے ایڈیٹوریل ایڈیٹر رہے۔ پیغام ٹی وی کے ریسرچ ہیڈ ہیں۔ روزنامہ ’نئی بات ‘اورروزنامہ ’پاکستان‘ میں کالم لکھا۔ ان دنوں روزنامہ 92 نیوز میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کےاولین لکھاریوں میں سے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.