اس قتل عام کے ذمہ دار ہم بھی ہیں - عنایت کابلگرامی

مشرق سے لیکر مغرب تک شمال سے لیکر جنوب تک اس وقت دنیا کی مظلوم ترین قوم مسلمان ہیں، یا یوں کہوں کہ بنی ہوئی ہے تو غلط نہیں ہوگا۔ ایک وہ وقت بھی تھا جب پوری دنیا پر راج کرنے والے مسلمان ہوا کرتے تھے، ہر طرف امن و سکون تھا، مسلمان تو مسلمان غیر مسلم بھی محفوظ تھے۔ لیکن آج دنیا میں سب سے زیادہ غیر محفوظ قوم ہی مسلمان ہیں، ہر طرف بکھری ہوئی لاشیں مسلمانوں کی ہی نظر آئیں گی۔ اس وقت دنیا کا کوئی حصہ ایسا نہیں نظر آ رہا ہے جہاں مسلمان محفوظ ہو۔ کہیں پر اپنے ہی دشمن بنے ہوئے ہیں تو کہیں پر غیروں نے جینا حرام کیا ہوا ہے۔

گزشتہ روز کشمیر میں ہندوستانی قابض فوج نے بےگناہ کشمیری مظاہرین پر فائرنگ کردی جس ایک ہی روز میں دو مختلف واقعات پیش آئے اور سترہ (17) بگناہ مسلمان شہید ہوگئے۔ ایک دن بعد افغانستان کے صوبے قندوز میں ایک مدرسے میں جہاں پر ختم قرآن کی تقریب چل رہی تھی، چھوٹے و معصوم بچوں کی دستار بندی ہورہی تھی کہ اچانک امریکی جیٹ طیاروں نے وحشیانہ بمباری شروع کر دی، جس سے ڈیڑھ سو (150) سے زائد بےگناہ مسلمان شہید ہوگئے، جس میں چھوٹے چھوٹے بچے بھی شامل تھے۔ دنوں جگہوں پر زخمیوں کی تعداد بھی سینکڑوں میں ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ کے مطابق 1989ء سے لیکر فروری 2018ء تک قابض ہندوستانی فوج کے ہاتھو پچانوے ہزار( 95000)بےگناہ کشمیری مسلمان شہید ہوئے۔ مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں سات ہزار (7000) گمنام قبریں بھی دریافت کی گئی ہیں، جس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ بےگناہ نوجوان جو کئی برسوں سے غائب ہیں، یہ ان کی قبریں ہوں گی. قابض ہندوستانی فوج جیلوں میں قید بے گناہ کشمیروں پرظلم و تشدد کی انتہا کرتی ہے۔ ایمنسٹی کی رپورٹ میں ایسے شہیدوں کی تعداد سات ہزار (7000) سے بھی زیادہ بتائی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   اردگان ! زبیر منصوری

اسی طرح افغانستان میں بھی قابض امریکی فوج کے ہاتھوں گزشتہ سولہ سالوں (16) سے ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد بے گناہ افغانی مسلمان شہید ہوئے اور اس سے کئی گناہ زیادہ زخمی، جن میں زیادہ تر اپاہج ہوگئے ہیں۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ اس قتل عام پر سب خاموش ہیں، کشمیر میں ہونے والے مظالم پر تو پاکستان کی حکومت چلاتی بھی ہے، مگر افغانستان سمیت دیگر ملکوں میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر پورے عالم اسلام کو جیسے سانپ سونگھ جاتا ہے۔

افغانستان ہو یا کشمیر، شام ہو یا برما، فلسطین ہو یا دنیا کا کوئی بھی حصہ جہاں بھی مسلمانوں پر ظلم ہورہا ہے، ان مظالم کی جتنی ذمہ داری دشمنان اسلام و مسلمان کی ہے، اس سے کئی زیادہ ان مظالم کے ذمہ دار مسلمان اور حکمران ہیں۔ اگر یہ ایک ہوجائیں اور ایک دوسرے کے درد و تکلیف میں ساتھ دیں تو کیا مجال کسی دشمن کی کہ وہ ان کی طرف میلی آنکھ سے بھی دیکھ سکے۔ یاد رکھیں! آج جو قتل عام مسلمانوں کا ہو رہے ہیں، خاموش تماشائی کا کردار ادا کرکے اس میں کسی نہ کسی طرح ہم بھی شامل ہیں. ذراسوچیے