قومی زبان اردو کا نفاذ کیوں؟ (1) محمد رفیع ازہر

قیامِ پاکستان کے بعد سے اردو زبان کے احیا کے لیے جو کوششیں کی گئیں ، جو قوانین بناے گئے، جو پالیسیاں وضع ہوئیں اور ان پر عمل درآمد کے لیے جو بھی طریق ہاے کار اپناے گئے، وہ سب قابلِ تحسین سہی لیکن جو کامیابیاں ملنی چاہیے تھیں، وہ ابھی تک سوالیہ نشان ہیں۔ اردو کے بارے میں فراق گورکھ پوری نے کہا تھا:
’’سب کچھ کھو کر بھی ’سٹ کر بھی‘ مسلمانوں نے اپنے خون سے اردو کی آبیاری کی۔‘‘۱؎

سوچنے، سمجھنے اور غور کرنے کی بات یہ ہے کہ جس زبان نے مسلمانانِ برصغیر کو شناخت دی، انھیں متحد کرکے مطالبۂ پاکستان کی راہ سجھا ئی اور بالآخر پاکستان قائم ہوا… کیا وہ زبان ملک و قوم کی ترقی کی ضامن نہیں ہو سکتی؟ جس زبان نے بیسویں صدی میں دنیا کے نقشے پر پاکستان کے وجود کو تسلیم کروالیا… کیا وہ زبان اکیسویں صدی کے پاکستان کو استحکام نہیں دے سکتی؟ قیامِ پاکستان سے آج تک انگریزی ذریعۂ تعلیم سے جتنے نوجوان بہرہ مند ہوئے، کیا انھوں نے پاکستان کو دنیا میں وہ مقام دلا دیا جس کا یہ حق دار تھا ؟ ہر گز نہیں ،بلکہ انگریزی ذریعۂ تعلیم کے تربیت یافتہ نوجوان زیادہ تر انگریزوں ہی کے خیر خواہ نکلے او ر جن کی زبان میں وہ جدید علوم سیکھتے رہے، ان میں سے اکثر وہیں جا بسے۔
اس حقیقت کو اوریا مقبول جان نے خوب بے نقاب کیا ہے:
’’اس ساری منافقت کا ایک اور سانحہ یہ ہے کہ اب ہر گلی محلے میں ایسے اسکول اور کالج کھل گئے ہیں جہاں پر میٹرک سے ہی امتحان، یورپ کی یونیورسٹیاں لیتی ہیں اور پھر یہ پاس ہونے والے طلبہ صرف مغرب میں تعلیم حاصل کرنے اور وہیں آباد ہوجانے کا خواب دیکھتے ہیں۔ اس وقت ہمارے لاکھوں ڈ اکٹر ، انجینئر، پروفیسر اور سائنس دان مغرب جا بسے ہیں۔ کیوں کہ ہم نے انھیں تیار ہی اسی معاشرے کے لیے کیا تھا۔‘‘ ۲؎

پاک سر زمین کے نونہالوں کو جب پچپن ہی سے ایک غیر ملکی زبان سیکھنے کا خوگر بنایا جاے گا تو وہ بڑے ہو کر قومی زبان کو کیوں کر اہمیت دیں گے! دراصل کسی بھی خطے کی زبان اس کی تہذیب و ثقافت کی نمایندہ ہوتی ہے۔ اسی زبان سے بچوں میں حب الوطنی پروان چڑھتی ہے اور وہ بدیسی اشیا کی نسبت دیسی چیزوں میں انس محسوس کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب غیر ملکی زبان قومی زبان کی جگہ لے لی گی تو بچے بڑے ہو کر اسی غیر ملکی زبان کی آب و ہوا میں سکون محسوس کریں گے! کیوں کہ ہم نے خو د ہی انھیں قومی زبان سے دور رکھا، جس سے قومی وقعت ان کے دلوں میں راسخ نہ ہو سکی اور جس قوم میں قومی وقعت ناپید ہو جاے ، تو وہاں قومی املاک تباہ کرنا روز کا معمول بن جاتا ہے۔نفسیاتی طور پر ایسی قوم کے وجدان میں بدیسی دنیا آباد ہوتی ہے ، جہاں وہ پہنچ کر نیچ سے نیچ کام کرنے پر بھی آمادہ ہو جاتے ہیں لیکن اپنے دیس میں وہ خدمت اور محنت و مشقت کو کارِ ناپائیدار خیال کرتے ہیں۔

مقتدر حلقوں کے ماہرین بارہا یہ باور کرا چکے ہیں کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی ہرگز کمی نہیں ۔ یہاں ہر سال بے شمار ہنر مند،ڈاکٹر، انجینئر،پی ایچ ڈی ڈاکٹر اور سائنس دان تیار ہو رہے ہیں لیکن کیا کیجیے کہ بہ قول ڈاکٹرجمیل جالبی : ’’قوم کی ذہانت اور صلاحیتوں کے قطرے انگریزی زبان کے سمندر میں گر کر معدوم ہورہے ہیں۔‘‘ ۳؎ نتیجتاً ؛ پاکستان میں غیرملکی امداد یافتہ مدرسوں کے پڑھے ہوئے محروم اور اردو میڈیم کے تعلیم یافتہ مظلوم طبقاتی آگ میں جلنے کے لیے بچ جاتے ہیں اور وہ بھی انتقام کی مختلف صورتوں میں متشکل ہو کر دہشت گردی کا بازار گرم رکھے ہوئے ہیں، کیوں کہ مقابلے کے امتحان ان کی دسترس میں نہیں ہوتے۔ کاش ہمارے نام نہاد، راہ نما، قومی زبان کی حقیقت جان کر، جدید اور سائنسی علوم سیکھنے کے لیے اردو زبان ہی لازمی قرار دیتے تو آج جدید علوم کے ماہر پاکستانی اپنے ملک وملت کی ترقی کا ضامن ہوتے اور وطنِ عزیز کو مختلف بحرانوں کی نظر ہرگز نہ ہونے دیتے۔

اگر پاکستان میں قومی زبان اردو رائج ہوتی تو اس ذریعۂ تعلیم کے تربیت یافتہ ڈاکٹر، انجینئر اور سائنس دان دو خصوصیات کے حامل تو ضرور ہوتے۔ اوّل؛ ان میں حب الوطنی کا جذبہ بدرجہ اولیٰ ہوتا اور وہ خدمات کے لیے اپنے ملک ہی کو ترجیح دیتے ہیں… ان میں سے اگر چند لوگ کسی لالچ میں آکر ملک سے باہر جانے کی کوشش بھی کرتے تو ’’اردو‘‘ ان کی راہ میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر انھیں روک لیتی اور انھیں اپنی صلاحیتیں اور خدمات اسی ملک میں صرف کرنے پر مجبور کر تی۔ دُوُم؛ نامانوسیت کی وجہ سے مغربی معاشرہ بھی انھیں ہرگز قبول نہ کرتا۔ اس طرح ان کی تمام تر صلاحیتیں ملک و ملت میں صرف ہوتیں اور یہ ملک بھی دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں شامل ہو جاتا لیکن اس گہرے شعور و حقیقت کا ادراک پاکستانی حکمرانوں اور پالیسی سازوں کو کیوں کر ہو؟ یا شاید ڈالروں کی چھنکار میں اس حقیقت کا ادراک ممکن ہی نہیں!… جس کی امداد کھاؤ، بس انھیں کے گن گاؤ۔ ۲۰۱۳ میں چینی وزیر اعظم لی کی چیانگ اور ۲۰۱۵ میں چینی صدر شی لی پنگ کے دورۂ پاکستان کے بعد؛ بعض مقتدر شخصیات کا ’’چینی زبان‘‘ سیکھنے اور اسے تعلیمی نصابات میں شامل کرنے کی تجاویز کو حیران کن اور مضحکہ خیز ہی قرار دیا جانا چاہیے۔ تعجب ہے کہ ہمارے پالیسی ساز، مغرب کے طرزِفکرو عمل کا ذرا سا بھی شعور نہیں رکھتے! اوریا مقبول جان لکھتے ہیں:
’’دنیا کے کسی بھی ترقی یافتہ ملک نے انگریزی کو ذریعۂ تعلیم نہیں بنایا۔ اس لیے کہ انھیں معلوم ہے کہ کسی غیر کی زبان میں علم کی تکمیل ہو سکتی ہے اور نہ ہی تخلیقی صلاحیتیں پروان چڑھ سکتی ہیں۔‘‘ ۴؎

آج کے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک پر اگر ایک طائرانہ نظر ڈالی جاے تو:-
’’یورپ کے شمال میں آئس لینڈ سے لے کر ہالینڈ ، ناروے، جرمنی، فرانس، آسٹریا اور جنوب میں یوگوسلاویہ اور ترکی تک سب کے سب ملک ایسے ہیں جن میں نرسری سے لے کر ایم اے اور پھر پی ایچ ڈی تک تمام کی تمام تعلیم ان کی قومی زبان میں دی جاتی ہے ... وہ ملک جن میں کسی دوسری زبان میں علم پڑھایا جاتا ہے وہ یا تو افریقہ کے پس ماندہ ملک ہیں یا پھر برصغیر پاک و ہند اور اس سے ملحقہ ممالک۔‘‘ ۵؎

موجود ہ طبقاتی تناظر میں یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ جس طرح برصغیر میں انگریزوں نے اردو زبان سے سیاسی مفادات حاصل کرنے کے لیے فورٹ ولیم کالج قائم کیا تھا اور آگے چل کر اردو ہندی تنازعہ کا ڈراما رچا کر لارڈ میکالے نے ایک حکم نامے کے ذریعے دفتروں اور عدالتوں میں ’’ انگریزی‘‘ رائج کرکے اردو اور اردو سے محبت کرنے والوں کو نیچ سطح پر رکھنے کی طرح ڈالی ، قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ہمارے انگریز نواز مقتدر حلقوں نے بھی اپنے آقاؤں کی اس روش کو جاری رکھا ہو ا ہے۔ قیامِ پاکستان سے آج تک ’’اردو زبان‘‘ کو ایک ثانوی درجہ دیے رکھنا اور اسے پاکستان کی ترقی کی ضامن ٹھہرانے کی بجاے، ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے اور سمجھاتے رہنا، کوئی مخفی سازش نہیں بلکہ اعلانیہ بغاوت کے مترادف ہے۔اس حوالے سے حنیف رامے کا کہنا بالکل بجا ہے :
’’ اگر ہم نے پاکستان کے مطالبے کو اس کے تاریخی پس منظر میںرکھ کر اور پورے برصغیر کے مسلمانوں کی متحدہ تحریک کے تناظر میں دیکھنا ہے تو پھر ہمیں یہ جان لینا چاہیے کہ ہم اگر اردو کے مطالبے سے روگردانی کرتے ہیں تو پھر تحریکِ پاکستان کی نفی کرتے ہیں۔‘‘ ۶؎

واے ناکامی! کہ اب سرسیداحمد خاں کی قیادت اور باباے اردو مولوی عبد الحق کی لیاقت کہاں سے لائی جاے؟ اردو کی ترقی و اصلاح میں جن ’ادبا اسلاف‘ نے کوششیں کیں بلکہ اپنی زندگیوں کا اکثر حصہ اسی اہم کا م کی نذر کردیا اور جن نجی و سرکاری اداروں اور تنظیموں نے حصہ لیا، ان کے اخلاص میں تو ذرہ برابر بھی شبہ کرنا محال ہے… تو پھر آج ہم اپنی قوم کے سامنے جواب دہی کے لیے انگلی کس پر اٹھائیں ؟ کس کو اس ناکامی پر مورودِ الزام ٹھہرائیں؟ آج اگرپاکستان کی نئی نسل ہم سے یہ سوال کرتی ہے کہ کہاں ہے وہ ’’اردو‘‘ جو ہماری تہذیب وثقافت کی نمایندہ ہے؟ …جو ہماری روایات کا تسلسل اور ہماری اقدار کی ضامن ہے؟ …کہاں ہے وہ ’’اردو‘‘ جو سائنسی موشگافیوں کی نقیب ، ہمارے دفترو ں کی زینت اور ہمارے مقتدر اداروں کی آبروہے؟… کیا ہم انھیں چند بڑی جامعات میں رائج ’’ایم اے اردو‘‘ کا نصاب دکھا کر چپ کرا سکتے ہیں؟… یا پھر ’’دفتری اردو‘‘ کے لیے کیے گئے تمام اقدامات بہ شمول وضعِ اصطلاحات اور انگریزی کی سائنسی ، معاشی ، سماجی اور اقتصادی اصطلاحات کے اردو میں ڈھالے گئے محفوظ و مقفل ذخیروں کا کوئی در کھول کر انھیں مطمئن کردیا جاے؟… یہ سوالات آج کی منتخب جمہوری اور مقتدر ہستیوں کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔ جب عنانِ حکومت کسی ڈکٹیٹر کے پاس ہو تو آئین کے آرٹیکل ۲۵۱ کی روشنی میں اردو زبان کا عملی نفاذ نہ ہونا! … بات سمجھ میں آجاتی ہے لیکن عوام کی منتخب و نمایندہ حکومت بھی اگر اس قومی اور آئینی فریضے سے پہلو تہی کرے تو بات سمجھ میں نہیں آتی اور عوامی حکومت کا یہ طرزِ عمل جمہوریت پر ایک اور سوالیہ نشان بنا دیتا ہے۔ماہرِ لسانیات شفیع منصور جو پچیس سال تک جی ایچ کیوکی ایک کمیٹی کے سیکرٹری رہے جس کا کام ملٹری کی سائنسی اصطلاحات کو اردو میں منتقل کرنا تھا ،ان کا کہنا مبنی برحقیقت ہے:
’’اردو کی حیثیت اور اہمیت اس وقت تک واضح نہیں ہو گی جب تک اسے صوبائی اور مرکزی سطح پر دفتروں میں رائج نہیں کیا جاتا ۔ جب تک مرکز میں انگریزی کی اجارہ داری ختم نہیں ہو گی اردو کی تدریسی حیثیت کا تعین بھی نہیں ہو سکے گا۔ ہمیں دراصل یہ تحریک چلانی چاہیے کہ مرکزی حکومت اردو کو اس کا مقام دے اور اسے سرکاری دفتری زبان بناے۔‘‘ ۷؎

مذکورہ اقتباس کی روشنی میں اگر دیکھا جاے تونفاذِ اردو کو عملی جامہ پہنانے کی ذمہ داری پاکستان کی جمہوری حکومتوں کے سر جاتی ہے۔ آل احمد سرور نے ایک مذاکرے میں بڑی عمدہ با ت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا:’’زبان و ادب محض سرکاری علاقوں سے ترقی نہیں کرتے، سرکاری اعلانوں سے مدد ملتی ہے۔‘‘ ۸؎ اسی طرح احمد ندیم قاسمی ایک مذاکرے میں یوں گویا ہوئے : ’’زبان و ادب میں جبر اور تسلط کا کوئی دخل نہیں ہونا چاہیے۔‘‘ ۹؎ لیکن یہاں ادیبوں اور دانش وروں کی سنتا کون ہے! مسلمان حاکموں کے وہ اعلیٰ اوصاف اب کیسے پیدا ہوں ، جب وہ اہم فیصلوں سے قبل، نامور دانش وروں ،عالموں ،حکیموں اور ادیبوں سے مشاورت کیا کرتے تھے؟ در حقیقت جو علم و حکمت ایسی مقدس تحصیل کو بھی دھوکہ دہی اور بے ایمانی سے حاصل کرنے پر یقین رکھتے ہوںاور جعلی تعلیمی اسناد کی بنیاد پر جمہوریت کا حصہ بنے ہوں ، وہ نظامِ تعلیم اور قومی زبان کی اہمیت کیا سمجھیں گے!

۲۰۱۰ء میں تعلیمی پالیسی کا قابلِ افسوس پہلو یہ تھا کہ وفاق اور پنجاب کے تمام سرکاری اسکولوں میں جماعت اوّل تا دہم کے نصاب میں شامل معاشرتی علوم کو محض ایک حکم نامے کے ذریعے اردو سے انگریزی میڈیم کر دیا گیا ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس کے ردِ عمل میں کسی محب وطن پاکستانی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ ایوب خاں کے دور میں جب ایک حکم نامے کے ذریعے سندھ میں اردو زبان نافذ کی گئی تو مورو میں اس کے خلاف باقاعدہ ایک تحریک کا آغاز ہوا اور بعد ازاں حکومت کو اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا۔ ۱۰؎ اُس وقت پاکستان کی قومی زبان کے خلاف ایسا محاذ؟… یقینااس کے پیچھے سطحی اذہان اور سیاسی مفاد پرستی ہی ہو سکتی ہے! اس کے برعکس آج وفاق اور پنجاب میں جب ایک غیر ملکی زبان نے قومی زبان کی جگہ لی تو اس کے خلاف قومی حمیت و غیر ت میں ذرہ سا ارتعاش بھی نہ آیا۔ وہ زبان جو مسلمانوں کی غلامی کی یادگار اور استعمار کی علامت ہے! اس کے خلاف اتنی سرد مہری؟… اسے پاکستانیت کے خلاف طویل سازشوں کے اثرات کا تسلسل ہی کہا جا سکتا ہے!… یہاں ڈاکٹر انعام الحق جاوید کا کہنا کسی حد تک سچ معلوم ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں:’’ہمارے حاکموں کے اصل حاکم کوئی اور ہیں ۔ فیصلہ کہیں اور ہوتا ہے۔ ہمارے حاکم اسے صرف نافذ کرتے ہیں۔‘‘ ۱۱؎

حکومتوں کے مذکورہ ’’اردو‘‘ دشمن رویے کے بعد پاکستانی قوم کی خاموشی محض رضامندی کی دلیل نہیں بلکہ یہ قومی بے حسی کی علامت ہے۔ بہ قول پروفیسر فتح محمد ملک: ’’باہر سے آئی ہوئی (استعماری یادگار) انگریزی تو ہمیں اپنی دوست نظر آتی ہے مگر علاقائی زبانوں اور تہذیبوں کو ہم اپنا دشمن قرار دے کر انھیں مٹانے کے بہانے خود کو مٹانے کے در پے ہیں۔‘‘ ۱۲؎

یہ جاننا نہایت اہم ہے کہ کسی بھی خطے کی زبان کو اس کی تہذیب کی نمایندہ اور ثقافت کی آئینہ دار اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس علاقے کے رائج و مقبول رسم ورواج اور مذہبی و علاقائی تہواروں کے لیے جو الفاظ و اصطلاحات زبان زدِ عام ہوتے ہیں، ان کے ساتھ بہت سے سماجی، تاریخی اور جغرافیائی حقائق بھی وابستہ ہوتے ہیں۔ بلکہ بولے جانے والے ہر ہر لفظ کے پیچھے بہت سی کہانیاں زیرِ گردش رہتی ہیں ۔ اس لیے ہر لفظ یا اصطلاح بہ وقتِ ادا،ایک وسیع مفہوم رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک زبان کو دوسری زبان میں من وعن ڈھالا نہیں جا سکتا۔ ماہرینِ لسانیات نے ترجمہ کاری کو ایک مشکل کام قرار دیا ہے۔ ڈاکٹروزیرآغا نے ایک دفعہ اپنے انٹرویو میں کہا تھا:- ’’ہر زبان اپنے کلچر کی بہترین سفیر ہوتی ہے۔ اگر کسی زبان کی کارکردگی کم ہو جاے تو اس سے منسلک کلچر کے نفاذ اور پھیلاؤ میں بھی رکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے۔‘‘ ۱۳؎

یہاں تہذیب ، ثقافت اور کلچر جیسے لفظوں کا مفہوم اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کیوں کہ بہ ظاہر تو یہ ہم معنی اور ایک دوسرے کے مترادف معلوم ہوتے ہیں لیکن ایسا نہیں۔ اسے ایک آسان پیراے میں حکیم محمد سعید شہید نے واضع کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں :-
’’تہذیب سے مراد شایستگیِ اطوار اور اخلاقی اقدار ہیں ۔ جب کہ ثقافت کسی گروہ کے علوم و فنون اور تکنیکی پیش رفت کو قرار دیا جاتا ہے اور ان دونوں جہتوں کے امتزاج کو کلچر سے تعبیر کرتے ہیں۔‘‘ ۱۴؎

لفظ ’’کلچر ‘‘کی مزید تفہیم کے لیے ڈاکٹر جمیل جالبی کے درج ذیل اقتباسات کو پیشِ نظر رکھنا بھی ضروری ہے:
’’کلچر ایک ایسا لفظ ہے جو زندگی کی ساری سرگرمیوں کا ، خواہ وہ ذہنی ہوں یا مادی ، خارجی ہوں یا داخلی ، احاطہ کر لیتا ہے...جس طرح دورانِ خون ہماری زندگی کی علامت ہے اسی طرح کلچر معاشرے کے لیے دورانِ خون کا درجہ رکھتا ہے...کلچر کے ذیل میں انسانی سرگرمیوںکے سارے بنیادی ادارے مثلاً مذہب ، سیاست ، معیشت ، فنون، سائنس ، تعلیم، زبان وغیرہ آجاتے ہیں... کلچر اس ذہنی ، مادی ، خارجی طرزِ عمل کے اظہار کا نام ہے جو باضابطگی کے ساتھ معاشرے کے افراد میں یکساں طور پر پایا جاتا ہے... طرزِ عمل کی یہ باضابطگی قومی سطح پر جس معاشرے میں جتنی زیادہ ہوگی، تہذیبی اعتبار سے وہ معاشرہ اسی قدر متحد ہوگا۔‘‘ ۱۵؎

مذکورہ وضاحت کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستانی بچوں میں تہذیبی شعور پختہ کرنے کے لیے اور انھیں قومی ، مذہبی، سماجی اور ثقافتی روایات سے منسلک رکھنے کے لیے کون کون سے عوامل بہ روئے کار لانے چاہئیں؟… ایسا کیا کِیا جاے کہ پاکستان کی نئی نسل اپنے کلچر سے وابستہ رہ کر ترقی کے زینے طے کرسکے؟… وہ کون سی بنیادی تبدیلیاں لائی جائیں کہ آج کل کے نوجوانوں کو پاکستانیت کا احساس ہوسکے اور وہ اپنی تمام صلاحیتیں صرف پاکستان کے لیے وقف کرنے کے نہ صرف متمنی ہوں بلکہ مجبور بھی ہوں؟…ایسا کون سا نظامِ تعلیم لایا جاے کہ پاکستان کے ہونہالوںکو ملک سے باہر جانے کا خیال تنگ نہ کرے؟… ملک کے تمام اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں پڑھایا جانے والا پاکستانی نصاب کن خصوصیات سے متصف ہو؟ جسے پڑھ کرطلبہ، پاکستانی کلچر سے اتنے مانوس ہو جائیں کہ مغربی کلچر میں ان کا دم گھٹنے لگے؟

من حیث القوم آج ہم زبان کے معاملے میں جن مسائل کا شکار ہیں ، سولہویں صدی میں مغربی دنیا بھی اسی طرح کے مسائل سے دو چار تھی۔ وُہی وقت ان کے پالیسی ساز ، تعلیمی ماہرین کے فیصلہ کن اقدام کا تھا۔ چناں چہ عربی مسلمانوں کی علمی برتری کے باوجوداور تمام علوم وفنون عربی میں ہونے کے باوصف، انھوں نے اپنا ذریعۂ تعلیم عربی زبان نہیں بنایا۔ کیوں کہ ان کے پالیسی ساز بہت دور اندیش تھے۔ وہ جانتے تھے کہ غیر ملکی زبان میں تعلیم و تدریس سے اپنی تہذیب و ثقافت محفوظ نہیں رہ سکتی ۔ چناں چہ انھوں نے ذریعۂ تعلیم لاطینی زبان کو قرار دیا جو اس وقت ان کی قومی زبان تھی۔ بعدازاں انگریزوں نے انگریز ی زبان، فرانسیسیوں نے فرانسیسی، جرمنوں نے جرمنی، جاپانیوں نے جاپانی ، روسیوں نے رشیئن اور آج چین نے چینی زبان کو وہ اعتبار دیا ہے کہ جس پر وہ فخر کرنے میں حق بہ جانب ہیں۔ اس حوالے سے شاداب احسانی کی تحقیق قابلِ غور ہے:
’’چھٹی صدی عیسوی تا تیرھویں صدی عیسوی مسلمانوں کے عروج کے اس دور میں عربی زبان و ادب کی دھوم تھی اور اس دھوم کا پس منظر مسلمان سائنس دان تھے ... یہی وہ زمانہ تھا جب لاطینی کے حوالے سے یہ سوال پیدا ہوا ہوگا کہ سائنس کے طلبہ کی لاطینی تدریس کس طرح انجام دی جاے کہ جس سے اپنا تشخص اور قومی وقار بحال ہو ۔ قابلِ قدر تھے لاطینی اساتذہ جنھوں نے لاطینی زبان کو سائنس کی کلیدی زبان بنا دیا ... اٹھارویں صدی ہی میں یورپ بالخصوص برطانیہ سائنسی و مادی آسائشوں کے نتیجے میں جدیدیت سے آشنا ہوا تھا اور پورا یورپ اس بات پر متفق ہو چلا تھا کہ بہترین تعلیم اپنی مادری یا قومی زبان ہی میں ممکن ہے۔ مذکورہ تمام امور کی روشنی میں لاطینی زبان کی مرکزیت کو دھچکا پہنچا اور پھر یہی سوال کہ سائنس کے طلبہ کی انگریزی تدریس اپنے منطقی انجام کو پہنچی ، یعنی انگریز اساتذہ ایک ایسی نسل تیار کرنے میں کامیاب ہو گئے جسے سائنس کے میدان میں تا حال راہ نما کا درجہ حاصل ہے۔‘‘ ۱۶؎

مذکورہ اقتباس سے یہ حقیقت اچھی طرح منکشف ہو جاتی ہے کہ مغرب کے پالیسی ساز، تعلیمی ماہرین بہت دور اندیش تھے۔ درحقیقت یہ دور اندیشی اور عقل و دانش بھی انھوں نے عربی مسلمانوں سے سیکھی تھی۔ قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں نے یونان اور روم کے تمام علمی سرماے کو عربی زبان میں منتقل کردیا تھا اور ان کے تعلیمی اداروں میں ایک ہی قسم کا تعلیمی نصاب رائج تھا۔ لہٰذا مغربی ماہرین نے مسلمانوں کے اسی طرزِ عمل سے استفادہ کیا بلکہ تحقیق کے تمام معیارات اور مسودات کے تمام مآخذ بھی مسلمانوں سے حاصل کیے۔ نتیجتاً؛ مادری اور قومی زبان میں علم کی تحصیل سے مغربی دنیا کے بچوں میں فطری اور امکانی صلاحیتوں کی نشوونما ہونے لگی …خیالات کا ارتقا ہوتا گیا … تخلیقی قوتیں اپنا اپنا راستہ خود بناتی رہیں…اور بالآخر سائنسی ایجادات کا ظہور ہونے لگا۔ پاکستانی معاشرے کے لیے یہ بات شاید حیران کن ہو کہ یورپ کا پہلا سائنس دان راجر بیکن بنیادی طور پر ایک مداری تھا۔ ۱۷؎

یہ ہیں مغرب کی قومی زبان و کلچر کے علمی ثمرات۔ یہ بات بڑے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ اگر قیامِ پاکستان کے بعد ہی ایک تعلیمی منصوبہ بندی کے تحت پاکستان کے تمام اسکولوں کا ذریعۂ تعلیم مادری اور قومی زبان کو قرار دے دیا جاتا، تمام سائنسی، اقتصادی، عمرانی اور سماجی علوم سلیس اردو میں ترجمہ ہوکر نصابوں میں شامل ہوجاتے … دفتری زبان اردو ہوتی… پارلیمانی گفت گو کے لیے اردو کو اہمیت دی جاتی، بیرونی دوروں تک اردو زبان کو فوقیت ملتی اور کاروباری زبان بھی اردو ہوتی تو پاکستان کے ’’مداری‘‘ بھی نہ صرف سائنس دان ہوتے بلکہ سائنس داں گر ہوتے۔ یہ بات بڑے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ مادری و قومی زبان میں سائنسی علوم کی تحصیل سے مختلف پیشوں سے وابستہ لوگ اعلیٰ درجے کے ماہر بنتے۔ مثلاً پاکستان کے نائی بہترین جراح ہوتے… پاکستان کے جولاہے ، موچی ، درزی اور لوہار وغیرہ کا شمار دنیا کے عظیم ہنر مندوں میں ہوتا… اور آج پاکستان بھی اقتصادی لحاظ سے چین اور جاپان کا ہم پلہ ہوتا!… لیکن شاید کسی سازش کے تحت یا پھر نسلی تعصب کی وجہ سے پاکستانی قوم کے بہترین دماغوں کو بدترین ناموں اور پیشوں سے منسوب کیے رکھا۔
(جاری ہے)

حوالہ جات
۱؎۔ فراق گورکھ پوری، مشمولہ: لسانی مذاکرات، مرتبہ:شیما مجید، مقتدرہ قومی زبان، اسلام آباد، طبع اوّل ۲۰۰۶ء ،ص: ۶۸
۲؎۔ اوریا مقبول جان، اردو سے ہمارا مستقبل وابستہ ہے، مشمولہ:اخبارِاردو، مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد، جلد:۲۷، شمارہ:۶، جون ۲۰۱۰ء، ص: ۱۹
۳؎۔ جمیل جالبی، ڈاکٹر،پاکستانی کلچر،نیشنل بک فاؤنڈیشن، اسلام آباد،طبع ہفتم۲۰۰۸ء ، ص: ۱۹۲
۴؎۔ اوریا مقبول جان، اردو سے ہمارا مستقبل وابستہ ہے، ص: ۱۹
۵؎۔ ایضاً ، ص: ۱۸
۶؎۔ حنیف رامے، مشمولہ: لسانی مذاکرات، مرتبہ:شیما مجید،ص: ۸۷
۷؎۔ شفیع منصور، مشمولہ: لسانی مذاکرات، ص:۱۹۰
۸؎۔ آل احمد سرور، مشمولہ: لسانی مذاکرات،ص:۵۱
۹؎۔ احمد ندیم قاسمی، مشمولہ: لسانی مذاکرات،ص:۱۲۷
۱۰؎۔ آصف خان، مشمولہ: لسانی مذاکرات، ص: ۱۰۲
۱۱؎۔ انعام الحق جاوید، ڈاکٹر،پاکستانی زبانیں اور قومی یک جہتی، مشمولہ:اخبارِاردو، مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد، جلد:۲۷، شمارہ:۶، جون ۲۰۱۰ء ، ص:۲۲
۱۲؎۔ فتح محمد ملک، پروفیسر، مشمولہ: لسانی مذاکرات،ص: ۱۳۳
۱۳؎۔ وزیرآغا، ڈاکٹر،مشمولہ:مکالمات ؛وزیر آغا سے،مرتبہ: انور سدید، ڈاکٹر ، مکتبۂ فکروخیال ، لاہور، ۱۹۹۱ء ، ص: ۱۸۲
۱۴؎۔ محمد سعید ،حکیم،شہید،اردو ایک زندہ زبان،مشمولہ:پاکستانی اردو، مرتبہ : عطش درانی، ڈاکٹر، مقتدرہ قومی زبان، اسلام آباد،طبع اوّل ۲۰۰۸ء ، ص: ۱۳۷
۱۵؎۔ جمیل جالبی، ڈاکٹر،پاکستانی کلچر،ص: ۴۲،۴۳،۴۴، ۴۶
۱۶؎۔شاداب احسانی،سائنس کے طلبہ کی اردو تدریس مع حواشی و توضیحات،مشمولہ: قومی زبان،انجمن ترقیِ اردو، کراچی، جلد:۸۲، شمارہ:۶، جون ۲۰۱۰ء ، ص:۳۱
۱۷؎۔ایضاً