بلاعنوان - ام محمد عبداللہ

*باپ*
میری بیٹی!
میرے آنگن میں تو رب کی رحمت ہے۔
اچھا نام، علم و ہنر، زندگانی کے سب ہی گر تجھ کو سکھلاؤں گا۔
تعلیم القرآن کے سنگ تجھے پروان چڑھاؤں گا۔ جوانی کو جو تو پہنچے، مرد صالح سے بیاہوں گا۔ تیرے حقوق ادا گر کر پاؤں، دائمی زندگانی میں ہمسائیگی نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں پاؤں گا۔

*بیٹی*
میرے بابا!
بعد از رب
شکر تیرا بجا لاؤں،
زباں پر تیرے واسطے اف تک نہ میں لاؤں،
زندگانی میں تیری خدمت مان ہے میرا،
یوم آخر، نار جہنم اور تیرے درمیاں آڑ بن جاؤں،

*بھائی*
میری بہنا!
تیرا احترام مجھ پہ لازم ہے۔
تیری خاطر چادر اپنی میں بچھاؤں گا۔
مالِ وراثت بابا جو بھی چھوڑیں گے،
تیرا حق تجھ تک میں پہنچاؤں گا۔
میرے گھر کے دریچے، در،
تیرے واسطے کھلے ہر دم،
تیرے بچوں پہ چاہت اپنی میں لٹاؤں گا۔

*بہن*
میرے بھائی!
رفعتیں آسمانوں کی تیرا مقدر ہوں،
ہرگز تجھ سے آگے بڑھنا میں نہ چاہوں گی۔
دو حصے وارثت کے مبارک میرے بھائی کو یا رب!
اک حصہ وارثت کا کافی ہے مجھے/ میں اپنے رب سے راضی ہوں۔ تیرے گھر میں رحمتیں ہوں، برکتیں ہوں، خوشیاں ہوں۔ میں اپنے گھر میں خوش ہوں۔ تیرے گھر سے ٹھنڈی ہوائیں آتی ہوں۔

*شوہر*
نکاح کے بندھن میں باندھ کر تجھ کو میں لایا ہوں۔
ادائیگی مہر میں بہانے نہ بناؤں گا۔
تو میرے گھر کی ملکہ ہے۔
محبت اور عزت تیرا حق ہے گویا۔
تو راحت جاں ہے۔ آبگینہ ہے۔
تیری حفاظت مجھ پہ لازم ہے۔
اپنی طاقت سے، جوانی سے، علم و ہنر کی ہر کمائی سے،
زمانے بھر کی خوشیاں تیرے قدموں میں، میں لاؤں گا۔
بیماری، پریشانی میں مجھے اپنے ساتھ پائے گی۔
تیرا ہاتھ بٹانے میں کچھ عار نہیں مجھ کو۔
سنت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر عمل کر کے دکھاؤں گا۔
تیرے ماں باپ ، ماں باپ ہیں میرے
تجھ سے جڑا ہر رشتہ نبھاؤں گا۔

یہ بھی پڑھیں:   شادی "زدہ" لوگ - محمودفیاض

*بیوی*
میری ہر خوشی، زندگانی تجھی سے ہے۔
میرا کاجل، میری مہندی،
میری خوشبو، سب تجھی سے ہے۔
تو مجھ کو دیکھے گا تو خوش ہوگا،
تیرے واسطے خود کو سجاؤں گی،
تیرے گھر کی، اپنی عزت کی محافظ ہوں۔
تو میرے سر کا تاج ہے گویا۔
ہر خدمت تیری بجا میں لاؤں گی۔
تیرا کھانا پکاؤں گی۔
جو ٹھنڈا ہو، گرم کر کے کھلاؤں گی۔
تیری خدمت شرف ہے میرا،
تیرے پاؤں بھی دباؤں گی۔
پریشانی میں ڈھارس میں بندھاؤں گی۔
اپنا سب کچھ تجھی پر لٹاؤں گی۔
تیرے ماں باپ۔۔
ماں باپ ہیں میرے،
تجھ سے جڑا ہر رشتہ میں نبھاؤں گی۔

*ماں*
میرے بچے!
میں لا الہ الا اللہ تجھ کو پڑھاؤں گی۔
تیری خاطر قربانی کے اس بلند درجے تک جاؤں گی کہ جس کے بعد
جنت قدموں تلے میں پاؤں گی۔

*بیٹا*
پیاری ماں!
بعد از رب
شکر تیرا بجا لاؤں،
ماں!
گر لا الہ الا اللہ مجھ کو پڑھائے گی۔
ہر قدم پر
فرمانبردار مجھ کو پائے گی۔
تیری خاطر چادر اپنی بچھاؤں گا۔
تیرے عزیز و اقارب کو جاں سے بڑھ کر چاہوں گا۔
تیری خدمت میں
دن اور رات میں بتاؤں گا۔

*ماں باپ*
یہ ہنستے کھلکھلاتے بچے ہمارے ہیں.
گھر، آنگن کا تحفظ ہم نے ان کو دینا ہے۔
یہ سب سے قیمتی ہیں سرمایہ،
قرآن و سنت کے یہ وارث ہیں۔
ان کا حق ان تک پہنچانا ہے۔
کہ
امامتِ اقوام کا فریضہ سر انجام ان کو دینا ہے۔

*شیطان، اپنی ذریت سے*
بھٹکا دو انہیں، پھسلا دو انہیں۔
عورت کو ماں، بہن، بیوی، بیٹی نہ رہنے دو۔
مرد کو باپ، بھائی، شوہر، بیٹا نہ رہنے دو۔
انہیں خواہشوں میں، حقوق کی جنگ میں الجھا دو۔
انہیں رشتوں کی خوبی میں مل کر
نہ پنپنے دو،
نہ بڑھنے دو۔
انہیں سڑکوں پر لا کے لڑوا دو،
انہیں لڑوا دو،
جہنم میں انہیں پھینکوا دو۔

یہ بھی پڑھیں:   بچے دو ہی اچھے - قدسیہ ملک

*مومن مرد*
میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت پہ نازاں ہوں۔
میں اپنے گھر والوں پہ مشفق، مہرباں ہوں۔
میں عفو سے، درگزر سے ۔
دلوں کا فاتح، حکمراں ہوں۔
مجھ پہ، میرے گھر پہ تیرا (شیطان) کچھ داؤ چل نہ پائے گا۔
میں نارِ جہنم سے خود بھی بچوں گا۔
اور گھر والوں کو بھی بچاؤں گا، ان شاءاللہ.

*مومن عورت*
میں سیدہ آسیہ (رضی اللہ عنھا)، سیدہ مریم (رضی اللہ عنھا)، سیدہ خدیجہ (رضی اللہ عنھا)، سیدہ فاطمہ (رضی اللہ عنھا) کی بیٹی ہوں۔
مجھ پہ تیرا (شیطان) بس کچھ چلنے نہ پائے گا۔
میرا حق مجھ کو نہ ملا گر،
تو بھی فرض اپنا نبھاؤں گی۔
میں جس جنت سے آئی ہوں، اسی کو لوٹ جاؤں گی۔۔
ان شاءاللہ.