کیا اللہ، اس کی کتاب اور اس کے رسول سچے ہیں؟ عظیم الرحمن عثمانی

اللہ اور اس کے دین کی سچی معرفت اسی کو ملنا ممکن ہے جس کے لیے تصور خدا فقط آبائی نہ ہو بلکہ ایک شعوری دریافت ہو. شکوک کی گھاٹی سے گزر کر ہی ایمان و یقین کی منزل ملا کرتی ہے. سوال پوچھنا ہر باشعور انسان کا حق ہے، مگر انسان کا یہ علمی سفر اگر مرحلہ وار نہ ہو یا درست ترتیب میں نہ ہو تو سالک بھول بھلیوں میں الجھ کر کبھی منزل کا نشان نہیں ڈھونڈھ پاتا. ایک ملحد جو خدا کے وجود ہی کے بارے میں مشکوک ہے، اس کے لیے پہلا اور واحد سوال یہ ہونا چاہیے کہ 'کیا خدا ہے؟' جب تک اس سوال کا شافی جواب اسے حاصل نہ ہو، دیگر سوالات میں الجھے رہنا وقت کا زیاں ہے. گویا ایک ملحد خدا کے وجود کو ہی نہیں مانتا اور آپ اسے سمجھانے لگیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر مبارک کیا تھی؟ تو یہ ایک بیکار کوشش ہے. ہمارے نزدیک کسی محقق کے لیے بالترتیب تین سوالات سب سے اہم ہیں.

1. کیا اس کائنات کا کوئی خالق ہے؟
2. کیا قرآن حکیم اسی خالق کا کلام ہے؟
3. کیا رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس خالق کے رسول ہیں؟

ان کا جواب اسے حاصل ہوجائے تو دیگر سوالات کا جواب بھی یا تو اسے خود بخود حاصل ہوجاتا ہے، اور اگر وقتی طور پر نہ بھی ہو تو اسے یہ اطمینان نصیب ہوجاتا ہے کہ جواب موجود ضرور ہیں، بس ابھی اس کے علم میں نہیں ہیں. اب ان میں سے ہر سوال کے جواب کو دس مختلف زاویوں سے راقم بیان کرسکتا ہے، مگر اس کے لیے تو ایک ضخیم کتاب درکار ہوگی. ہم یہاں ان سوالات کے جوابات تمام موجود امکانات کا جائزہ لے کر ان میں سے بہترین امکان کا انتخاب کرکے دیں گے.

قارئین میں سے جنہوں نے بھی ڈگری لیول تک تعلیم حاصل کی ہے، وہ جانتے ہیں کہ امتحانات میں 'ایم سی کیوز' کے طرز پر سوالات پوچھے جاتے ہیں. اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ ہر سوال کے نیچے تین یا چار آپشنز رکھے جاتے ہیں، جن میں سے فقط ایک درست ہوتا ہے، اور باقی غلط. اگر سوال کا جواب آپ کو معلوم ہو تو آپ فوری جواب دے دیتے ہیں مگر اگر معلوم نہ ہو تو آپ موجود چاروں امکانات کو بغور دیکھتے ہیں. پھر ان میں سے ایک کے بعد ایک کا جائزہ لے کر یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کون سا آپشن جواب نہیں ہوسکتا. یوں آخر میں آپ کے پاس ایک ایسا آپشن رہ جاتا ہے جس کے بارے میں آپ کو اطمینان ہوتا ہے کہ جواب یہی ہوگا. کم از کم غالب ترین امکان آپ کو وہی نظر آتا ہے. آج کل کوئز شوز میں بھی لوگوں سے اسکرین پر اسی طرح سے سوالات اور اس سے متعلق ممکنہ جوابات پوچھ جاتے ہیں. چلیے پہلے سوال سے آغاز کرتے ہیں:

1 - کیا اس کائنات کا کوئی خالق ہے؟
"کیا یہ بغیر کسی چیز کے از خود پیدا ہوگئے ہیں؟ یا کیا یہ خود اپنے آپ کے خالق ہیں؟ یا انہوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کر دیا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ یقین کرنے والے نہیں ہیں"

سورہ الطور کی مندرجہ بالا آیات میں اللہ پاک انسان کو تخلیق کے عمل کے آغاز پر غور کرنے کی دعوت فکر دے رہے ہیں. اگر کوئی بھی شے وجود رکھتی ہے تو اس کے نقطہ آغاز کو سمجھنے کے لیے چار توجیہات پیش کی جاسکتی ہیں:

پہلی یہ کہ وہ شے یا انسان خودبخود کسی بھی پیش تر چیز کے بغیر وجود میں آگیا ہو. یہ ظاہر ہے کہ ناممکن ہے. ہم جانتے ہیں کہ 'کچھ نہیں' سے 'کچھ نہیں' تخلیق ہو سکتا. کچھ تخلیق ہونے کے لیے لازم ہے کہ اس سے پہلے کچھ ہو. لہٰذا یہ توجیہہ فضول اور باطل ثابت ہوتی ہے.

دوسری توجیہ یہ ہو سکتی ہے کہ اس شے یا اس انسان نے خود اپنے آپ کو تخلیق کر لیا ہو. یہ بات بھی سراسر احمقانہ اور تجربہ کے خلاف ہے. ہم جانتے ہیں کہ نہ تو انسان خود اپنے آپ کو اپنے ہاتھ سے بناتا ہے اور نہ ہی کائنات کی دیگر مخلوقات اپنے آپ کو از خود ڈیزائن کرتی ہیں. ہر معلول کو ایک پیشتر اور بیرونی علت کی حاجت لازمی ہوتی ہے. چنانچہ یہ توجیہ بھی مسمار ہوجاتی ہے.

تیسری توجیہ یہ پیش کی جاسکتی ہے کہ کیونکہ انسان اس معلوم کائنات میں سب سے زیادہ ذہین اور باشعور نظر آتا ہے، لہٰذا وہ اپنے وجود کی توجیہ نہ بھی کرسکتا ہو، تب بھی بقیہ کائنات کا خالق وہ خود ہو. ظاہر ہے کہ انسان بخوبی واقف ہے کہ ان عظیم سیاروں، ستاروں، کہکشاؤں، سمندروں، پہاڑوں وغیرہ میں سے کسی کا بھی وہ خالق نہیں ہے. اس لیے ایسی غیر حقیقی وجہ کو زبان پر لانا بھی اس کے لیے ناممکنات میں سے ہے.

یہ بھی پڑھیں:   لالچ اور ہوس انسان کو کیسے اندھا کرتی ہے - عادل لطیف

جب یہ تینوں توجیہات عقلی، عملی، علمی، تجرباتی اور ہر دوسرے ممکنہ زاویئے سے فاسد قرار پاتی ہیں تو صرف ایک اور توجیہ باقی بچتی ہے جو سب سے زیادہ قرین قیاس ہے اور جسے تسلیم کرنے میں انسانی فہم حق بجانب ہے. وہ چوتھی اور آخری توجیہ یہ ہے کہ انسان اور اس پرہیبت کائنات کی تخلیق کے پیچھے 'کوئی' ہے جو خود تخلیق ہونے سے آزاد ہے. جو زمان و مکان کی پابندیوں سے مارواء ہے، جس کے بارے میں انسانی علم نہایت محدود ہے. مگر جس کا ہونا اس کائنات کے ہونے اور ہمارے اپنے وجود کے ہونے سے صریح طور پر ثابت ہے. اتنے صاف صاف قرائن ہونے کے باوجود اگر کوئی انسان اس واحد قابل قبول توجیہ یعنی ایک 'برتر وجود' کو تسلیم نہیں کرتا تو اس کا شمار ان احمقوں میں ہوگا جو علمی حقیقتوں کو بھی ماننے کے لیے دیکھنے کی شرط لگاتے ہیں اور دلیل سمجھنے پر اکتفا نہیں کرتے.

(نوٹ: اس سوال کا جواب کہ اگر کائنات کو خالق نے بنایا ہے تو خالق کو کس نے بنایا ہے؟ ہم اپنی ایک دوسری پوسٹ میں دے چکے ہیں)

2 - کیا قرآن حکیم اسی خالق کا کلام ہے؟
اس سوال کے ضمن میں بھی چار امکانات پیدا ہوتے ہیں. پہلا امکان یہ کہ قرآن مجید کسی عجمی یعنی غیرعربی نے لکھا ہے. دوسرا امکان یہ کہ قرآن مجید کسی عربی نے لکھا ہے. تیسرا امکان یہ کہ قرآن مجید رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خود سے تحریر کیا ہے (معاذ اللہ)، اور چوتھا یعنی آخری امکان یہ کہ قرآن مجید خالق کائنات کا اتارا ہوا ہے. پہلے امکان کا جائزہ لیجیے تو یہ ایک نہایت کمزور ترین اور لغو امکان ہے کہ قرآن کریم جیسی فصیح و بلیغ عربی کتاب عرب معاشرے میں کسی غیر عربی نے لکھی ہو. آج تک لسانیات کے غیر مسلم ماہرین تک بھی قرآن کی فصاحت و بلاغت اور اس کے ادبی حسن کے قائل ہیں. دوسرا امکان یعنی یہ کہ قرآن حکیم کو کسی عرب انسان نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لکھوایا (معاذ اللہ). اس امکان کی حیثیت بھی ایک خود ساختہ اور کمزور 'سازشی تھیوری' سے زیادہ معلوم نہیں ہوتی. وہ عرب کون تھا؟ کب لکھواتا یا پڑھواتا تھا؟ کس سے لکھواتا تھا؟ کہاں لکھواتا تھا؟ یہ سب سوالات تشنہ ہی رہ جاتے ہیں. دھیان رہے کہ قرآن مجید کا نزول تیئیس برس تک ہوتا رہا اور اس میں اس دوران ہونے والے واقعات کو موضوع بنایا گیا ہے. لہٰذا کسی کا یہ الزام کہ غار حرا میں ایسا ہوا ہوگا، ایک بے بنیاد اور بےثبوت بات ہے.

تیسرا امکان یہ تھا کہ یہ کتاب خود رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تحریر کی (معاذ اللہ). اس اعتراض یا امکان کے ابطال کے لیے اتنا ہی جاننا کافی ہے کہ رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم ''امی'' تھے اور لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے. ملاحظہ ہو: "اس سے پہلے تو آپ کوئی کتاب پڑھتے نہ تھے اورنہ کسی کتاب کو اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے" العنکبوت (48)۔ گویا قرآن کے بیان سے ظاہر ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہ اس سے پہلے پڑھتے تھے اور نہ لکھتے تھے. مکہ جیسے چھوٹی سی بستی میں موجود تمام مشرکین میں سے کسی نے اس دعویٰ کو چیلینج نہیں کیا. گویا اس بات کی صداقت تسلیم کی. اس دور میں ادب و شاعری اپنے عروج پر تھی. ایسے میں ایک امی ہوتے ہوئے اور ایک ایسا انسان ہوتے ہوئے جس نے چالیس برس کی عمر تک کبھی کوئی شعر نہیں کہا. حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اچانک قرآن کی تلاوت کرنے لگتے ہیں اس دعویٰ کے ساتھ کہ یہ کلام اللہ ہے اور اس کا یہ چیلنج ہے کہ تم سب شاعر و ادیب مل کر بھی اس کی مثال نہیں پیدا کرسکتے، یہاں تک کہ ایک چھوٹی سی سورہ بھی اس پائے کی تخلیق نہیں کرسکتے. یہ کوئی معمولی چیلینج تھا؟ ملاحظہ کیجیے: "اور اگر تم کو اس (کتاب) میں، جو ہم نے اپنے بندے (محمدﷺ عربی) پر نازل فرمائی ہے کچھ شک ہو تو اسی طرح کی ایک سورت تم بھی بنا لاؤ اور اللہ کے سوا جو تمھارے مددگار ہوں ان کو بھی بلالو اگر تم سچے ہو۔" (النسآء، آیت نمبر82) اس کے بعد چوتھا امکان ہی قوی ترین باقی رہتا ہے کہ قرآن مجید فی الواقع من جانب اللہ ہے. ایک اور دعویٰ کے طور پر اس کتاب کی حفاظت کی ذمہ داری رب کریم نے خود لی اور آج چودہ پندرہ سو سال بعد بھی قرآن حکیم لفظ بہ لفظ محفوظ ہے. اسی طرح لغوی، معنوی، تاریخی، سائنسی اور بیشمار قرائن ایسے ہیں جو قاری کو اس کے الہامی ہونے کا یقین دلا دیتے ہیں.

یہ بھی پڑھیں:   ریسرچ کا میکینزم، الحاد کا فکری سُقم اور قرآن - مجیب الحق حقی

3 - کیا رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس خالق کے رسول ہیں؟
جب یہ ثابت ہوگیا کہ قرآن حکیم من جانب اللہ ہے تو لامحالہ یہ امر بھی ثابت ہوگیا کہ اس کتاب کو لانے والے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنے دعویٰ نبوت میں سچے ہیں، لیکن پھر بھی ہم تشفی قلب کے لیے اس سوال سے منسلک چھ امکانات کا جائزہ لے لیتے ہیں.

پہلا امکان یہ کہ آپ نے دعویٰ نبوت مال کمانے کی خاطر کیا. اس امکان کو ہر غیر جانبدار محقق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سادہ ترین زندگی دیکھ کر پل میں مسترد کردے گا. آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دانستہ اپنے لیے فقر کا انتخاب کیا اور فقر بھی ایسا کہ کئی کئی روز کا فاقہ سہا کرتے تھے، لہٰذا یہ سوچنا بھی فضول ہے کہ دعویٰ نبوت مال کمانے کے سبب تھا معاذ اللہ.

دوسرا امکان یہ کہ دعویٰ نبوت حکومت حاصل کرنے کے لیے کیا گیا. یہ بھی تاریخی طور پر ایک فاسد امکان ہے. تیئیس برس کی انتھک کوشش اور قربانی میں آپ نے کبھی حق بات پر کمپرومائز کر کے اقتدار قبول نہ کیا. ورنہ مکی دور میں ہی سرداران مکہ نے آپ کو سرداری، دولت، عورت سمیت ہر طرح کی پیشکش کی، جس کا جواب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تاریخی الفاظ میں دیا تھا کہ ''اللہ کی قسم! وہ میرے داہنے ہاتھ میں سورج اور بائیں ہاتھ میں چاند لاکر رکھ دیں اور یہ چاہیں کہ میں خدا کا حکم اس کی مخلوق کو نہ پہنچاؤں، میں ہرگز اس کے لیے اۤمادہ نہیں ہوں۔ یہاں تک کہ خدا کا سچا دین لوگوں میں پھیل جائے یا کم از کم میں اس جدوجہد میں اپنی جان دے دوں۔".

تیسرا امکان یہ کہ دعویٰ نبوت کے لیے دانستہ جھوٹ بولا (معاذ اللہ). یہ بات تمام مسلم و غیر مسلم تاریخ دانوں نے تسلیم کی ہے کہ نبوت سے قبل چالیس برس تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کردار ایسا صاف اور مثالی تھا کہ قبائل مکہ آپ کو صادق اور امین کے خطاب سے پکارا کرتے تھے. چالیس برس کی پختہ عمر تک ہر چھوٹی سے چھوٹی بات تک پر سچ کا خیال رکھنے والا انسان اچانک دنیا کا سب سے بڑا جھوٹ بولنے لگے کہ وہ رسول اللہ ہے جبکہ وہ رسول نہ ہو، ایسا ممکن نہیں.

چوتھا امکان یہ کہ آپ کو معاذ اللہ کوئی ذہنی عارضہ تھا. یہ امکان بھی عجیب تر ہے کہ آپ کی سلیم العقلی، سلیم المزاجی، ذہانت، معاملہ فہمی اور قائدانہ صلاحیت کے معترف تو دشمنان اسلام بھی ہیں. ان گنت واقعات ایسے ہیں جن سے آپ کے ذہنی صحتمند ہونے کی قوی دلیل ملتی ہے. مثال کے طور پر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے کی وفات ہوئی تو اتفاق سے اسی روز سورج گرہن بھی ہوگیا. مؤمنین کی جماعت میں یہ بات ہونے لگی کہ سورج کو گرہن اسی سوگ میں لگا ہے. آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوری تصحیح کی کہ نہیں ایسا نہیں ہے، بلکہ یہ اللہ کی قدرت کے مظاہر میں سے ہے.

پانچواں امکان یہ ہے کہ معاذ اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ الہام و وحی شیاطین کی جانب سے تھی. یہ امکان اپنی اصل کے اعتبار سے ہی غلط محسوس ہوتا ہے. گویا وہ کتاب جس کا ہر صفحہ انسانی تذکیر اور اللہ سے مضبوطی تعلق کی بات کرتا ہے، جس کا آغاز ہی شیطان کو مردود رجیم کہہ کر اور رب کو رحمٰن کہہ کر ہوتا ہے، اس وحی الہی کو شیاطین سے منسوب کرنا فقط جسارت ہے.

چھٹا اور آخری امکان یہی بچتا ہے کہ رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اس دعویٰ رسالت میں سو فیصد سچے تھے اور ان پر وحی من جانب اللہ ہی ہوا کرتی تھی. اور یہی حق اور سچ ہے.

Comments

عظیم الرحمن عثمانی

عظیم الرحمن عثمانی

کے خیال میں وہ عالم ہیں نہ فاضل اور نہ ہی کوئی مستند تحقیق نگار. زبان اردو میں اگر کوئی لفظ ان کا تعارف فراہم کرسکتا ہے تو وہ ہے مرکب لفظ ’طالب علم‘. خود کو کتاب اللہ قرآن کا اور دین اللہ اسلام کا معمولی طالب علم سمجھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • السلام علیکم جناب عثمانی صاحب۔ بہت خوبصورت دلائل ھیں۔
    محترم اس آرٹیکل کا لنک جس میں جواب دیا گیا ھے کہ اللہ کو کس نے تخلیق کیا؟ جزاک اللہ