سوشل میڈیا کے آداب - سید عبدالرؤف

بچپن کی بات ہے، اماں جی میری اس بات کی بھرپور نگرانی کیا کرتی تھیں کہ میرا بیٹا کہیں غلط مجالس کا حصہ تو نہیں، اس کا اٹھنا بیٹھنا کہیں اوباش لڑکوں کے ساتھ تو نہیں، بدتمیز صحبت سے اٹیچ تو نہیں، کسی غلط عادت کا شکار تو نہیں ہوچکا، کہیں غلط بیانی، جھوٹ، گالم گلوچ اور لہو و لعب کا عادی تو نہیں ہوچکا، ایسی ہی متعدد فکریں انہوں اپنے فکر مند ذہن میں پال رکھی ہوتی تھی۔

جب والدین کی یہ پابندیاں اور اصلاحی کوششیں یاد آتی ہیں تو ایک تکلیف بڑی شدت سے گھیر لیتی ہے کہ آج کے دور کے والدین کس قدر اپنی اولاد کی تربیت کے لیے فکرمند ہوں گے اور انہیں اپنی اولاد کی اچھی بنیادوں پہ تربیت کرنے کے لیے کس قدر ٹیکنیکل ہونے کی ضرورت ہے، اولاد کی بےراہ روی پہ کس کرب سے گزرتے ہوں گے۔

دورِ رواں میں ہمیں کن جدید تربیتی مسائل کا سامنا ہےاور ہمارے پاس اس کے حل کے لیے کیا کیا طریقے ہیں؟ اسی لیے یہاں سوشل میڈیا کے آداب کے نام سے ایک سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے، تاکہ ہم اپنی اولاد ، بہن بھائیوں، طلبہ اور اہلِ عقیدت کی حقیقی تربیت کےلیے جدید کوششوں کے راستے آسان کرنے کے لیے کچھ فکر مند ہوں، کچھ اقدامات کرسکیں ۔

سوشل میڈیا کی مشہور ترین سائیٹس میں سے "فیس بک، ٹوئٹر، وٹس اپ، وائبر، ایمو، یوٹیوب صفِ اول میں شامل ہیں جبکہ الیکٹرک میڈیا کے چینل کی بھرمار، کیبل نیٹ ورک توان گنت ہیں، آئیں کچھ وضاحتیں، تفاصیل اور بنیادی نکات کی طرف بڑھتے ہیں۔

1 - ہر چیز کے استعمال سے قبل ہمیں اس کے استعمال کی نیت و ارادے سے بخوبی آگاہ ہونا بہت ضروری ہے۔ جیسےعمارت کے لیے بنیادیں مضبوط ہونا ضروری ہیں، ایسے ہی کسی چیز کے استعمال کے لیے ارادوں کا واضح اور ترجیحات کا شفاف ہونا بھی لازمی ہے. بصورتِ دیگر ہم ٹریک سے اتر جاتے ہیں، ٹھیک ہے بھلے آپ کا ارادہ اس کے استعمال سے تفریح و فریشمنٹ ہی ہے تو ترجیحات میں اس چیز کو ضرور شامل کر لیا جائے کہ کہیں ہمارا وقت زیادہ ضائع تو نہیں ہو رہا ہے؟ کہیں ہمارے جذبات، رویے اور خیالات پہ ان کا غیر ضروری استعمال خوفناک انداز سے اثر انداز تو نہیں ہو رہا ہے، کہیں ہمیں شدت پسندی اور تنگ نظر کی طرف تو نہیں دھکیل رہا؟

یہ بھی پڑھیں:   باقی سب کون ہیں ؟ - اسماء طارق

2 - ہمیں یہ تو ماننا پڑے گا کہ ہم میں سے اکثریت فکر و سوچ کو حقیقتاً نیک مقاصد کے لیے استعمال ہی نہیں کرتی۔ یہ ماننے میں بھی کوئی عار نہیں ہے کہ اکثر سوچ و فکر سے کام ہی نہیں لیتے۔ تو ایسی صورت میں ان سب کا غیر ضروری اور غیرمؤثر استعمال یقیناً ممکن ہے اور ہو بھی رہا ہے، جب فکری فقدان ہوتا ہے تو ایسی صورت میں اچھی چیزوں کےاستعمال کاانداز دبدل جاتا ہے، مان لیجیے سوشل میڈیا ایک بہترین ذریعہ ابلاغ ہے، تو کیا ہم صرف اس سے ابلاغ کا ہی کام لے رہے ہیں؟ اگر ایسا نہیں تو ہمیں اپنی فکر، تراکیب، حکمت عملی دوبارہ ترتیب دینی ہوگی، کیونکہ سمجھدار قومیں مقاصد اور ترجیحات پہلے متعین کرتی ہیں، عمل بعد میں کرتی ہیں۔

3 - جب بندر کے ہاتھ میں اُسترا آجائے تو آپ قلمیں قلم ہونے کا نہیں سوچیں گے بلکہ گردنیں قلم ہونے کا سوچیں گے۔ ایک عام شخص جس کے پاس فکری معیار اورتربیتی، تعلیمی اپروچ کا فقدان ہوتو سوچیں وہ سوشل میڈیاسے کیسے اصلاح حاصل کر ےگا، الیکٹرک میڈیا کی افواہوں پہ کیوں نہ فوراً ایمان لے آئےگا؟ کیا اپنی ناقص سمجھ سے اپنی مرضی کے معانی اخذ نہیں کرے گا؟

جی یہ خدشات موجود ،معلوم اور عمل میں بھی نظر آتے ہیں،آپ اپنے اردگرد بڑے بڑوں کو میڈیا کی لکیر کا فقیر دیکھیں گے، لہذا اپنی قوم کے لیے اس انداز میں فکر مندہونا بھی ہماری ہی ذمہ داری ہوگی، نہ کہ کسی افریقی، امریکی یا عربی کو اپنے معاشرے کی اصلاح کے لیے امپورٹ کیا جائے گا۔

ان شاءاللہ العزیز اگلے مرحلے میں چند تجاویز تجربہ کار سوشل میڈیا صارفین سے لیکر شئیر کی جائیں گی۔

Comments

سید عبدالرؤف حسین شاہ

سید عبدالرؤف حسین شاہ

سید عبدالرؤف حسین شاہ جرمنی میں مقیم ہیں۔ خطابت اور تدریس سے وابستہ ہیں۔ اصلاح احوال اور نیکی کی دعوت ان کی دلچسپی کا موضوع ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.