قرآن مجید کا قانون عروج وزوال: مادی یا ایمانی؟ حافظ محمد زبیر

یہ بہت اہم سوال ہے کہ قرآن مجید کے نزدیک تہذیبوں کے عروج وزوال کے پیچھے کارفرما اصول مادی ہیں یا ایمانی؟ یعنی ایک تہذیب مادی اصولوں سے دنیا میں عروج پاتی ہے یا ایمانی بنیادوں سے؟ اس سوال کے جواب میں روایتی اور جدیدت پسند طبقات دو انتہاؤں پر کھڑے ہیں۔

روایتی طبقے کے نزدیک کسی بھی مسلم تہذیب کے عروج کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ایمانی اور اخلاقی اعتبار سے بلند کر لے جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے کہ تم ہی غالب رہو گے بشرطیکہ تم مومن ہو۔ اس بیانیے کے مطابق اگر امت کو حقیقی ایمان حاصل ہو جائے تو آج بھی نصرت کے لیے فرشتے اتر سکتے ہیں۔ ان کی دعاؤں سے دشمنوں کے برج الٹ سکتے ہیں۔ ان کی آہوں سے کافر قوم پر ایسا عذاب نازل ہو سکتا ہے جو انہیں جڑ سے اکھیڑ کر پھینک دے۔

اس بیانیے کے دلائل اور شواہد قرآن مجید میں بہت زیادہ ہیں جیسا کہ اللہ عزوجل نے آل فرعون کو سمندر میں غرق دیا تو آج ہمیں بھی یہ امید رکھنی چاہیے کہ اللہ عزوجل سمنروں کو امریکہ پر یوں چڑھا لائیں کہ وہ نیست ونابود ہو جائے، بس صرف اللہ عزوجل سے تعلق کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ یہ طبقہ تہذیبوں کے عروج وزوال میں مادی ترقی اور مادی اصولوں کی کارفرمائی کو مادیت پرستی اور ایمان کے منافی سمجھتا ہے۔

دوسرا بیانیہ جدیدیت پسند طبقے کا ہے کہ جس کے نزدیک تہذیبوں کے عروج وزوال کے اصل اصول مادی ہیں لہذا مسلمان تہذیب جب تک سائنس اور ٹیکنالوجی میں اس سطح کی ترقی نہیں کرتی جیسا کہ اقوام مغرب نے کر لی ہے تو اس وقت تک مسلمانوں کا دنیا میں عروج ناممکن ہے۔ دنیا میں کامیابی کے اصول مادی ہی ہیں البتہ آخرت میں فوز وفلاح کا مدار ایمانی اور اخلاقی اصولوں پر ہے۔ اگر اقوام مغرب کی ترقی اور عروج مادی اصولوں کی بنا پر ہی ممکن ہوا تو مسلم تہذیب کے لیے بھی اس دنیا میں کوئی علیحدہ اصول کارفرما نہیں ہیں۔ تہجد کی نماز میں پارہ پڑھتے ہوئے اگر اگلی آیت بھول گئے تو کوئی فرشتہ آ کر نہیں بتلائے گا، بھلے آدھی رات کھڑے ہو، اس کے لیے اپنی منزل پکی کرنی پڑے گی۔

یہ بھی پڑھیں:   خلاصہ مختصر ہے - رومانہ گوندل

مادی قوانین اور فزیکل لاز کہ جن کے تحت اس کے خالق نے اس دنیا کو پیدا کیا، مسلم اور غیر مسلم دونوں اس کے پابند ہیں جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے کہ انسان کو وہی کچھ ملتا ہے کہ جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔ اور بنی اسرائیل کو جب قتال کا حکم ہوا اور انہوں نے اس سے انکار کر دیا اور کہا کہ موسی اور اس کا رب جا کر کافروں سے لڑیں تو آل فرعون کے غرق ہونے جیسا کوئی معجزہ رونما نہ ہوا بلکہ بنی اسرائیل معجزے کے انتظار اور امید کی سزا میں صحراء میں چالیس سال تک بھٹکتے رہے۔

قرآن مجید کے مختلف مقامات کو سامنے رکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلم تہذیب کے عروج وزوال کے اصول مادی اور ایمانی دونوں بیان ہوئے ہیں۔ شروع میں جب ایمان زیادہ تھا تو سورۃ انفال میں قرآنی حکم یہ تھا کہ اگر دشمن کی تعداد تم سے دس گنا بھی ہو تو پھر بھی ٹکرا جاؤ لیکن جب ایمان کم ہو گیا تو پھر یہ حکم آ گیا کہ اب اگر دشمن کی تعداد تم سے دو گنا ہو تو ان سے ٹکرانے میں حرج نہیں ہے اور ایسی صورت میں اللہ عزوجل تمہیں ہی غلبہ دیں گے۔

اس وقت جنگ میں اصل افرادی قوت تھی لہذا اس کے نصف ہونے کو بطور اصول بیان کر دیا۔ اور آج جنگ میں اصل ٹیکنالوجی ہے لہذا دشمن کے مقابلے میں تمہارے پاس اگر آدھی ٹیکنالوجی بھی ہے تو اس سے ٹکرانے میں حرج نہیں ہے اور اللہ عزوجل غلبہ تمہیں ہی دیں گے۔ تو یہ وہ مدد ہے کہ جس کے بارے قرآن میں کہا گیا ہے کہ کتنی ہی بار ایسا ہوا کہ ایک چھوٹی جماعت بڑی جماعت پر غالب آ گئی۔ تو شروع میں یہ ایک دس کی نسبت سے غالب آتی رہی ہے جبکہ ایمان بہت زیادہ ہوتا تھا اور اب یہ ایک دو کی نسبت غالب آتی ہے کہ ایمان کی سطح گر گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا اللہ، اس کی کتاب اور اس کے رسول سچے ہیں؟ عظیم الرحمن عثمانی

تو مسلم تہذیب کے عروج کے لیے ایک دو کی نسبت سے مادی ترقی کرنا ضروری ہے یا پھر ہم اپنا ایمان السابقون الاولون صحابہ جیسا بنا لیں تو پھر ایک دس کی نسبت میں بھی کامیابی کی بشارت ہے۔ اور یہ کہنا کہ محض ایمان اور اخلاق سے مسلم تہذیب غالب آ جائے گی تو اس کی صورت پھر ایک ہی ہے کہ مغربی تہذیب تمہارے ایمان اور اخلاق کو دیکھ کر مسلمان ہو جائے اور کعبے کو بت خانے سے پاسبان مل جائیں، ورنہ غلبے کے امکان کی کوئی صورت نہیں ہے۔

یہ دنیا مادی اصولوں کے تحت قائم ہے اور انہی اصولوں کے تحت چل رہی ہے۔ معجزات ایک استثناء ہیں، وہ اس دنیا کے خالق کی طرف سے اس دنیا کو چلانے کے بنیادی اصول نہیں ہیں۔ البتہ خالق کی یہ مہربانی ہے کہ اہل ایمان اگر ایک حد تک بھی مادی ترقی کر لیں تو وہ اس میں اثر زیادہ ڈال دیتا ہے کہ جس کے نتیجے میں مسلم تہذیب کو نصف مادی ترقی سے بھی دنیا میں وہ عروج حاصل ہو جاتا ہے جو غیر مسلم تہذیب کو پوری مادی ترقی سے حاصل ہوا۔

امریکہ، روس، چین وغیرہ کی غیر مسلم تہذیبیں خالص مادی اصولوں کی بنیاد پر دنیا میں مقابلہ کر رہی ہیں۔ اور مسلمان اگر ان کے جتنی مادی ترقی حاصل کر لیں تو دنیا میں ان کا مقابلہ کر لیں گے، چاہے ان کے پاس ایمان اور اخلاق نہ بھی ہو کہ دنیا میں ترقی کے اصول یہی ہیں، کافر کے لیے بھی اور مسلمان کے لیے بھی۔ رہی آخرت تو اس میں کامیابی کی بنیاد ایمان اور اخلاق ہے، مسلم اور غیر مسلم دونوں کے لیے۔ اور اگر دنیا میں مسلمانوں کے پاس ایمان اور اخلاق بھی ہو تو وہ اس کے اثر سے کم مادی ترقی سے بھی عروج حاصل کرسکتے ہیں۔ یہ اصل میں کل بات کا خلاصہ کلام ہے۔ واللہ اعلم بالصواب

Comments

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر نے پنجاب یونیورسٹی سے علوم اسلامیہ میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ کامسیٹس میں اسسٹنٹ پروفیسر اور مجلس تحقیق اسلامی میں ریسرچ فیلو ہیں۔ متعدد کتب کے مصنف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں