پاکستانی ترقی پسند افغان مزاحمت کاروں کا ساتھ کیوں دیں؟ ادریس آزاد

ایک لفظ ہے استعمار۔ استعمار کسے کہتے ہیں؟
’’جب کوئی قوم اپنی سرزمین سے سفرکر کے کسی اور ملک پر جاکر قبضہ کر لے اور پھر وہاں اپنی پسند کی نوآبادیاں قائم کرے، مقبوضہ ملک سے ذخائر اور اموال اپنے وطن کو بھجوائے یا اپنے مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے مقبوضہ ملک کے کے لیے نوآبادیاتی نظام بنائے تو وہ استعمار ہوتاہے. اور اس کا تمام ترعمل استعماریت کہلاتا ہے۔‘‘

استعماریت کی تاریخ بہت قدیم ہے۔ یہ انسانی معاشرے میں استحصال کی بدترین شکل ہے۔ ایڈورڈ سعید کے الفاظ میں جہاں استعماریت ہو، وہاں دوگروہ استعمار کار اور استعمار زدہ کا وجود لازمی ہے۔ مثلاً اگر ہندوستان میں انگریزکو استعمار کار کہا جائے گا تو ہندوستانیوں کو بلاامتیازِ رنگ و نسل و مذہب، استعمار زدہ کہاجائےگا۔ استعمار کار وہ ہوتا ہے جو کسی مغلوب کا بزورِ شمشیر استحصال کرے اور استعمار زدہ وہ ہوتا ہے جس کا استحصال کیا جا رہا ہو۔

مذہب کے نام پر ہونے والی جنگیں ہوں یا رنگ و نسل کے نام پر، جب کبھی بھی کوئی استعمار کار بن کر استعمار زدہ کا استحصال کرےگا، کارل مارکس اُس کے خلاف لکھے گا۔ کارل مارکس ایک فلسفی کا نام نہیں، ایک سوچ کا نام ہے، جسے ہم مارکسزم کے نام سے جانتے ہیں۔ اِسی سوچ کے مالک سنجیدہ ترقی پسند پاکستان میں ہمیشہ موجود رہے ہیں۔ بھٹو کے دور میں یہ لوگ قدرے زندہ تھے، آج کل نیم مُردہ ہیں۔ انھیں ہم ’’پاکستانی ترقی پسند‘‘ کہہ کر پکارتے ہیں۔ میری دانست میں پاکستانی ترقی پسندوں کو اپنے نظریہ کا فطری تقاضا نبھاتے ہوئے افغان طالبان کو مزاحمت کار قرار دینا اور اُن کی حمایت کا اعلان کرنا چاہیے۔ اس مؤقف کے لیے سب سے مضبوط استدلال یہ ہے کہ افغانستان 1979 ٔ سے لے کر آج تک غیرملکی افواج کے بُوٹوں تلے روندا جانے والا وہ بدنصیب ملک ہے جسے اس عرصہ میں کم و بیش ستر ملکوں کی افواج نے گاہے بگاہے اپنے فوجی بُوٹوں سے لتاڑا، اور بھاری اسلحہ سے تباہ و برباد کیا اور دو بڑی طاقتوں روس اور امریکہ نے تو باقاعدہ یہاں اپنی نوآبادیاں بھی قائم کیں۔

عام طور پر کہا جاتا ہے کہ روسی فوج کو نکالنے کے لیے افغانستان میں آزادی کی جو جنگ لڑی گئی، اس میں امریکہ کا ہاتھ ہے، اس لیے وہ جنگ بُری ہے۔ اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ جب استعمار کو اپنی دھرتی سے نکال باہر کرنا مقصود ہو تو کسی سے بھی، کوئی بھی مدد لی جاسکتی ہے، کیونکہ اپنے وطن پر قابض غاصبین کو واپس بھگانا اور اپنا دیس غیروں کی غلامی سے چھڑانا تمام تر ترجیحات میں اوّلین حیثیت کی حامل ترجیح ہے۔ چنانچہ امریکہ کا خفیہ ہاتھ تھا یا پاکستان کا دخل تھا، جو کچھ بھی تھا، اُس وقت روسی فوجیوں کو افغانستان سے نکالنے کے لیے افغانیوں کو اس امداد کی شدید ضرورت تھی۔

اب سوال یہ ہے کہ روس کے دس سالہ قبضہ اور امریکہ کے سترہ سالہ قبضہ کے عرصہ میں، پاکستانی ترقی پسندوں نے فقط اِس لیے افغان مزاحمت کاروں اور حریت پسندوں کا ساتھ نہ دیا کہ افغان مزاحمت کاروں نے مذہب کے نعرے کی بنیاد پر خود کو مجتمع کیے رکھا۔ روس کے دس سالہ قبضہ کے دوران افغانیوں کے اس نعرے کی تائید خود امریکہ نے کی تھی، لیکن اپنے سترہ سالہ قبضہ کے دوران امریکہ نے افغانیوں کے اِس نعرے کو دنیا کا ناپسندیدہ ترین نام دیا، یعنی ’’دہشت گردی‘‘ اور افغان مزاحمت کاروں اور حریت پسندوں کو دہشت گرد کہہ کر پکارنا شروع کیا۔ بالکل ویسے جیسے ہٹلر کو بدنام کرتے وقت امریکہ نے کیا تھا یا روسی کامریڈوں کو بدنام کرتے وقت امریکہ نے کیا تھا۔ چلو! روس کے قبضہ کے دور میں نہ سہی، امریکہ کے قبضہ کے دور میں تو پاکستانی ترقی پسندوں کو افغان مزاحمت کاروں کا ساتھ دینا چاہیے تھا۔ اب چونکہ افغانوں کا خود کو مجتمع کرنے کے لیے قبل از تقسیم کے ہندوستانی مسلمانوں کی طرح، نعرہ ہی ایک تھا اور وہ تھا مذہب کی بنیاد پر جمع ہو جانا، جبکہ تصور کیا جاتا ہے کہ ترقی پسندوں کو مذہب سے ’’خدا واسطے کا بیر‘‘ ہے، چنانچہ ہمارے ترقی پسندوں نے افغان مزاحمت کاروں کا ساتھ امریکی قبضہ کے دوران بھی نہ دیا۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایسا ہے تو ترقی پسندوں نے تحریکِ پاکستان کے وقت تحریکِ پاکستان کا ساتھ کیوں دیا؟ تحریکِ پاکستان بھی تو مذہب کے نعرے کی بنیاد پر اُٹھائی گئی تھی۔ اور پھر کسی قوم کے غاصبانہ قبضے کے خلاف مزاحمت کے لیے کون سا ایسا نعرہ ہے جو جائز نہ ہوگا؟ رنگ، نسل، زبان، خون، جہاں جہاں یہ نعرے کام دیں گے یہ نعرے لگائے جائیں گے، اور ہر نعرے کا ایک ہی بنیادی مقصد ہوگا، غیرملکی قبضے سے نجات۔ جونہی غیرملکی قبضے سے نجات ملے گی، جو نعرہ غالب اثر کا حامل ہوگا، اسی کی بنیاد پر یا تو ملک تقسیم ہو کر دو یا دو سے زیادہ ممالک بن جائیں گے، اور یا پھر کسی ایک نعرہ کے زیر اثر کوئی نیا نظام متعارف ہوگا۔ ہر صورت میں اس خطے کے لوگوں کو غیروں کی غلامی سے نجات ضرور مل جائے گی۔ یہ جواز کسی منطق کی رُو سے قابلِ قبول نہیں کہ چونکہ اہل وطن خود آپس میں لڑ پڑتے ہیں، اس لیے غیروں کو بلا لیا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   امریکہ پیچھے کیوں ہٹا ؟ - آصف محمود

دوسری بات کہ ترقی پسندوں کے سامنے اپنا نظریہ ترجیح ِ اوّل ہونا چاہیے نہ کہ مذہب سے نفرت۔ جب انہوں نے دیکھ لیا کہ افغانستان میں استحصال جاری ہے اور استعمار موجود ہے تو اُن پر لازم ہوگیا تھا کہ وہ اپنے نظریے کی حمایت کرتے ہوئے استحصالی طبقے کے خلاف افغانیوں کے ساتھ کھڑے ہوتے۔ لیکن چونکہ دوسری طرف روس تھا اور روس اُس وقت نام نہاد مارکسسٹ ملک تھا، جس کی آرمی کا نام تک ریڈ آرمی تھا تو پاکستانی ترقی پسند کیسے اپنے سُرخ سُرخ بھائیوں کے خلاف افغان حریت پسندوں کا ساتھ دیتے؟ چلو! کوئی بات نہیں۔ لیکن جب امریکہ وہاں قابض ہوگیا اور یہ بات صاف ہوگئی کہ اب مغربی استعمار اور نیٹو کی فوجوں نے افغانیوں کے دیس پر قبضہ جما لیا ہے تب تو حق بنتاتھا نا، کہ پاکستانی ترقی پسند افغانی مزاحمت کاروں کا ساتھ دیتے؟

لیکن سچ یہ ہے کہ پاکستان میں اصلی نسل کے ترقی پسند باقی ہی نہیں رہے ورنہ وہ ضرور ساتھ دیتے۔ پاکستان میں دوغلی نسل کے ترقی پسند البتہ اب، لگ بھگ سارے ہیں۔ دوغلی نسل سے مراد یہ ہے کہ ایک طرف تو اپنی محفلوں میں ان کا موضوع مارکسزم اور ترقی پسندانہ افکار ہیں جبکہ دوسری طرف وہ مغربی سرمایہ دارانہ جدیدیت اور مابعد جدیدیت کے دلدادہ ہیں۔ یوں ہمارے ہاں کے ترقی پسند اب کھرے نہیں رہے۔ اُن میں ملاوٹ ہوچکی ہے۔ ان کی نسل، اُن کی جُون ہی تبدیل ہوچکی ہے۔ مثلاً پہلے وہ مذہب کے خلاف مارکس کے دلائل سے کام لیتے تھے لیکن اب وہ مذہب کے خلاف رچرڈ ڈاکنز کے دلائل سے کام لیتے ہیں۔ رچرڈ ڈاکنز، ڈاکنزم کا بانی ہے۔ ڈاکنزم جدید مغربی سرمایہ دارانہ دہریت کو کہتے ہیں۔ اس کے برعکس مارکسی دہریت بالکل مختلف چیز ہے۔ مارکسی دہریت کی بنیاد ہی سرمایہ دارانہ نظام کی مخالفت پر اُٹھائی گئی ہے۔

مارکس نے مذہب کو افیون کیوں کہا تھا؟ اس لیے کہا تھا کہ مذہب سرمایہ دارانہ نظام کا ساتھی رہا ہے۔ مذہب غریب کو بتاتا ہے کہ تجھے اللہ نے غریب پیدا کیا۔ غربت تیرا مقدر ہے اور وہ مذہب کی بتائی ہوئی باتیں سن سن کر گویا اپنے آپ کو مطمئن کرتا رہتا ہے اور یوں وہ کسی انقلاب کو پیدا کرنے کے قابل ہی نہیں ہوپاتا۔ سومذہب گویا اُسے افیون پِلا دیتا ہے۔ قطع نظر اس کے کہ کچھ مسلم مفکرین اسلام کو دیگر مذاہب سے الگ کر کے دیکھتے اور اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ اسلام بھی مارکسزم کی طرح مزدور کی حکومت کی بات کرتا ہے۔ وہ مزدوروں کو علی الذین االستضعفوا فی الارض (وہ لوگ جنہیں زمین میں ضعیف بنا دیا گیا) کہہ کر پکارتا اور زمین کی امامت اُن کو سونپ دینے کی تائید کرتا ہے۔ علامہ اقبالؒ اِس فکر کے بہت بڑے مؤید رہے ہیں۔ انہوں نے مذہب، سرمایہ دارانہ نظام اور جاگیردارانہ نظام کے ملاپ سے ایک ابلیسی مثلث کا تصورپیش کیا ہے جسے وہ علی الترتیب ہامانیت، قارونیت اور فرعونیت کا نام دیتے اور موسیٰ ؑ کو مزدوروں کا انقلابی لیڈر قرار دیتے ہیں۔ بالکل ویسے جیسے سبطے بھائی (سبطِ حسن) نے ’’موسیٰ سے مارکس تک‘‘ میں قرار دیا۔ خیر! تو میں کہہ رہا تھا کہ قطع نظر اِس کے کہ کچھ مسلم مفکرین ایسا سمجھتے ہیں، یعنی یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام دیگر مذاہب کی طرح افیون نہیں ہے، بلکہ اسلام ہی اشتراکی انقلاب کی بات کرتا ہے۔ قطع نظر اِس کے، ہم وقتی طورپر اسلام کو بھی عام مذہب شمار کرتے اور دیکھتے ہیں کہ مذہب افیون ہے اور اس کی وجہ سے مزدوروں یا پِسے ہوئے طبقے کوعظمت کبھی نہیں مل سکتی۔ ہم فقط یہ دیکھتے ہیں کہ مارکس نے مذہب کو افیون کہا تو اس لیے کہ اس کے خیال میں مذہب پِسے ہوئے طبقے کو سُلا دیتا ہے۔ سو ثابت ہوگیا کہ مارکس نے مذہب کو ناپسند کر کے مسترد کر دیا تھا تو فقط اس لیے کہ مذہب سرمایہ درانہ نظام کا ساتھی ہے۔ اب مؤقف واضح کیا جا سکتا ہے۔ اگر ترقی پسندوں کا اصل دشمن نظامِ سرمایہ داری ہے تو پھر کیا کوئی بھی ایسی صورت حال فرض نہیں کی جا سکتی جہاں ایک طرف نظامِ سرمایہ داری ہو اور دوسری طرف پِسا ہوا طبقہ، جبکہ پِسے ہوئے طبقے کے پاس فقط ایک ہی راستہ ہو خود کو مجتمع کرنے اور نجات حاصل کرنے کا اور وہ راستہ ہو مذہبی نعرے کا؟ کیوں نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان بھی تو بعینہ ایسی ہی صورتحال کی وجہ سے وجود میں آیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   اشرف غنی اور افغان الیکشن کمیشن کے گٹھ جوڑ اور دھاندلی کے الزامات سمیت نتائج ڈھونگ قرار- قادر خان یوسف زئی

ایک اور بات کہ ہمارے ہاں کے ترقی پسند مغربی بیانیے کا شکار ہوگئے ہیں۔ مغربی بیانیہ کیا ہے؟
’’افغانی مزاحمت کار، جو خود کو طالبان کہتے ہیں، وہ اصل میں دہشت گرد ہیں‘‘۔
یہ ہے مغربی بیانیہ۔ جبکہ یہ بات بالکل بھی سچ نہیں ہے۔ امریکی فوجیوں کے ساتھ لڑنے والے افغانی مزاحمت کار صاف ستھرے حریت پسند ہیں۔ روس کے خلاف لڑنے والوں سے بھی کہیں زیادہ صاف ستھرے حریت پسند۔ ایسا میں نے کیوں کہا؟ اس لیے کہ روس کے خلاف لڑنے والے مزاحمت کاروں پر امریکہ سے امداد لینے کے جو ثبوت موجود ہیں، ان کی موجودگی میں دیکھا جائے تو فی زمانہ جو افغان مزاحمت کار امریکی قبضہ کے خلاف لڑر ہے ہیں، اُن کی شان بڑھ جاتی ہے، کیونکہ ان کے ساتھ کسی کا کوئی خفیہ ہاتھ بھی نہیں ہے۔ چنانچہ میرا یہ مدعا کہ پاکستان کے ترقی پسندوں کو اب خوابِ غفلت سے بیدار ہو جانا چاہیے اور جان لینا چاہیے کہ وہ نادانستگی میں خود استعمار اور سامراج کے آلہ کار بن رہے ہیں، کیا ان کے خیال میں یہ درست اور جائز ہے۔

1992ء میں جب صدام نے کویت پر غاصبانہ قبضہ کیا تھا تو پوری دنیا میں امریکہ نے واویلا مچا دیا تھا کہ یہ قبضہ نامنظور کیا جائے۔ ساری دنیا کے سارے ملکوں نے مل کر امریکہ کو اجازت دی تھی کہ وہ خود جائے اور کویت کو صدام کے قبضے سے چھڑائے۔ تب بڑے بُش کی حکومت ہوا کرتی تھی۔ لیکن امریکہ تب کا آیا آج تک خلیج سے واپس نہیں گیا۔ اس دوران اس نے خلیج سے ہی افغانستان پر قبضہ جمایا۔ پھر عراق پر۔ پھر لیبیا میں کرنل قذاقی کو بہت بُری موت مروایا۔ پھر یمن میں سعودیہ اور ایران کو لڑوایا۔ امریکی بحری بیڑے اِس سے پہلے جاپانی سمندروں میں موجود رہے ہیں۔ امریکی فوج گزشتہ ایک صدی سے اپنے گھروں کو واپس نہیں گئی اور امریکی فوجی بُوٹ روئے زمین کے ہر معصوم اور بےگناہ خطے کو روندتے رہے۔ ہرکہیں ترقی پسندوں نے امریکہ کے ان غاصبانہ قبضوں کے خلاف لکھا اور بولے، یہاں تک کہ انڈیا کے ترقی پسند بھی امریکی استعماریت کی مخالفت میں لکھتے رہے اور لکھ رہے ہیں۔ اگر کہیں ترقی پسندوں نے امریکی استعمار کی مخالفت نہیں کی تو وہ ملک فقط پاکستان ہے۔ کیونکہ یہاں ترقی پسند اور ماڈرن ویسٹرن لبرل میں فرق کرنا یوں مشکل ہو چکا ہے جیسے عورتوں کا لباس پہنے ہوئے مرد کو دیکھ کر یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ یہ شخص ہیجڑہ ہےیا مرد؟

Comments

ادریس آزاد

ادریس آزاد

ادریس آزاد بین الاقوامی یونیورسٹی اسلام آباد میں فلسفہ کے استاد ہیں۔ کئی کُتب کے مصنف ہیں، جن میں چند معروف تاریخی ناول بھی شامل ہیں۔ فزکس، فلسفہ، اقبالیات، ارتقأ، جدید علم الکلام، لسانیات، اور اسلامی موضوعات پر عام فہم زبان میں لکھے گئےمضامین قارئین کی توجہ حاصل کرچکے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • مجھے لگتا ہے کہ ادریس بھائی نے خصوصی طور پر ڈاکٹر تیمور رحمان کی سرزنش کی ہے اس تحریر میں.
    خیر کیا ہی اچھا ہع اگر مارکسسٹ اور روشن خیال مسلمان آپسی تضادات کو دفعہ کر سکیں.