سرسری تم جہان سے گزرے - ابویحیی

میر تقی میر(1810-1723) اردو زبان کے ممتاز ترین شعراء میں سے ہیں ۔ میران لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے ایک بولی کو اردوزبان بنادیا تھا۔ ان کا ایک شعر اس طرح ہے۔
سرسری تم جہان سے گزرے
ورنہ ہر جا جہانِ دیگر تھا

یہ شعر سادہ ترین زبان میں ایک بہت بڑی حقیقت کا بیان ہے۔ وہ یہ کہ انسان اس دنیا میں بہت سطحی انداز فکر کے ساتھ جیتا ہے۔ وہ اپنی ذات ، ضروریات اور مسائل و معاملات سے اٹھ کرزندگی ، دنیا،حیات اور کائنات کی کسی حقیقت پر غور نہیں کرتا۔ وہ ٹھہر کر غور کرنے لگے تو ہر جگہ اور ہرمرحلے پر اسے معلوم ہوگا کہ ایک نئی دنیا پائی جاتی ہے۔

یہ بات جتنی زیادہ اٹھارہویں صدی کے انسان پر پوری اترتی تھی، اس سے کہیں زیادہ دورِ حاضر کے انسان پر پوری اترتی ہے۔ یوں تو ہر دور کا انسان ہی اپنی ذات ، ضروریات اور مسائل و معاملات کا اسیر رہا ہے اور ان سے اوپراٹھ کرحیات وکائنات کی حقیقتوں سے ہمیشہ بے پروا رہا ہے، لیکن آج کے انسان نے تو سطحی اورپست دلچسپیوں کی ایک نئی دنیا ایجاد کرلی ہے۔

یہ دلچسپیاں کیا ہیں، ذرا اس کا جائزہ لیتے ہیں۔ آج کے انسان کی شاید سب سے بڑی دلچسپی اپنے گھر کو چیزوں سے بھرنا ہے۔لوگ ہمہ وقت مشینیں، آلات اور چیزیں خریدنے کی جستجو میں لگے رہتے ہیں۔مگر ا س کی قیمت بہت بھاری ہوتی ہے۔ انسان ختم نہ ہونے والی دوڑ میں انسان اپنی اخلاقیات، روحانیت اور بارہا انسانیت تک کا سودا کرلیتا ہے۔

دورِ جدید کے انسان کی ایک بہت بڑی دلچسپی ٹی وی اور سینماکی دنیا ہے۔اس دنیا میں دو ہی چیزیں زیادہ بکتی ہیں۔ ایک عریانی اور دوسری تشدد۔ یہی وہ مصالحہ ہے جو بیشتر فلموں اور ڈراموں میں کم یا زیادہ ڈال کر ہرد فعہ پیش کردیا جاتا ہے اور لوگ اسے دیکھتے چلے جاتے ہیں۔ یہی چیز آگے بڑھتی ہے اور بہت سے لوگ پورنوگرافی جیسے مرض کے جزوی یا کلی مریض بن کر زندگی گزارتے ہیں۔ اور ان سب کے نتیجے میں اپنے قیمتی وقت اور اس سے زیادہ قیمتی اقدار کا زیاں کرتے رہتے ہیں۔ جدید انسان کی ایک اور اہم اور غیر ضروری مصروفیت انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے سے دنیا بھر کے حال اور لوگوں کے احوال سے باخبر رہنا ہے۔ گرچہ اس کے بعد انھیں اپنے اردگرد کی خبر بھی اکثر نہیں رہتی ۔

یہ بھی پڑھیں:   آجکل کے پڑھے لکھے اور ماضی کے ان پڑھ - میر افسر امان

ان سطحی اور سرسری چیزوں میں لگ کر انسان کبھی نہیں سوچتا کہ وہ کیسی عجیب و غریب دنیا میں جیتا ہے۔اس دنیا میں کلیاں چٹکتی ہیں، پھول مہکتے ہیں، جگنو چمکتے ہیں، ستارے جگمگاتے ہیں، پرندے چہکتے ہیں، کوئل کوکتی ہے، فصلیں لہلہاتی ہیں، ہوا ئیں سرسراتی ہیں،موجیں امنڈتی ہیں، بارش برستی ہے، چا ندنی زمین پر اور شفق آسمان پر بکھرتی ہے۔

اس دنیا میں خدا کی صناعی ہے، اس کے جمال کا ظہور ہے، اس کے کمال کا عکس ہے، اس کی قدرت کے نظارے ہیں، اس کی رحمت کے اشارے ہیں، اس کی ربوبیت کے آثار ہیں، اس کے وجود کی نشانیاں ہیں، اس کی حکمت کے مظاہر ہیں اور سب سے بڑھ کر آنے والی اس زندگی کے دلائل بکھرے ہوئے ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ اس دنیا میں انسان کو امتحان کے لیے بھیجا گیا ہے۔ اس لیے بھیجا گیا ہے کہ وہ آنے والی دنیا کے لیے عمل صالح کی پونجی جمع کرے۔

مگر آہ ! انسان اس دنیا سے سرسری گزرجاتا ہے۔ پیدائش سے موت تک وہ سطحی چیزوں میں مشغول رہتا ہے اور خدا اور آخرت جیسی سچی مگر پوشیدہ حقیقتوں کو دریافت نہیں کرپاتا۔ یہی انسان کا اصل المیہ ہے۔

Comments

ابو یحییٰ

ابو یحییٰ

ابو یحییٰ معرول ناول ”جب زندگی شروع ہوگی“ کے مصنف ہیں۔ علوم اسلامیہ اور کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز جبکہ سوشل سائنسز میں ایم فل کیا۔ ٹیلی وژن پروگرام، اخباری مضامین، پبلک اجتماعات کے ذریعے دعوت و اصلاح کا کام کرتے ہیں۔ ماہنامہ "انذار" کے مدیر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.