بعض کتے بہت کتے ہوتے ہیں - آصف محمود

بعض کتے بہت کتے ہوتے ہیں، انگریزی میں نہ بھونک سکیں تو انگریزوں کے لیے بھونکنا شروع کر دیتے ہیں۔

یہ ساری رات بھونکتے رہتے ہیں لیکن دن چڑھے بستی میں بہت سکون رہتا ہے کیونکہ آدھی رات کو یہ تھک ہار کر سوتے ہیں تو دوپہر سے پہلے اٹھ نہیں پاتے۔ سورج سر پہ آ جائے تو پریشان ہو کر اٹھتے ہیں اور اس کی روشنی سے جھنجھلا کر پھر سے بھونکنا شروع کر دیتے ہیں۔ معلوم نہیں، انہیں روشنی سے ڈر کیوں لگتا ہے۔

ان کتوں کو خود پر برا زعم ہوتا ہے۔ یہ سارا دن بےشک کسی مقامی جوہڑ میں پڑے رہیں، لیکن ان کا دعوی یہ ہے کہ یہ گلوبل قسم کے غیر مقامی کتے ہیں، انھیں گلیوں کا کتا نہ سمجھا جائے۔

یہ کتے بڑے سمجھدار ہیں۔انہیں خوب معلوم ہے کہاں دُم ہلانی ہے، کہاں دھیمے سروں میں بھونکا ہے، کہاں بھونکتے ہی چلا جانا ہے اور کب بڑھ کر کسی کو کاٹ لینا ہے۔ کوئی راہ گیر انگریزی لباس پہن کر گزرے تو اس کے قدموں میں لوٹ پوٹہو جاتے ہیں، کوئی شلوار قمیص میں گزرے تو ہلکا ہلکا بھونکنے لگ جاتے ہیں ، کسی کے ٹخنے ننگے نظر آ جائیں تویہ غرانا شروع کر دیتے ہیں ، کسی خاتون کی پنڈلیاں نظر آئیں تو دم ہلانے لگتے ہیں ، کوئی با پردہ خاتون گلی سے گزرے تو بھنا کر اپنی ہی دم کو کاٹ کھاتے ہیں۔کسی مولوی پر نظر پڑ جائے تواتنا بھونکتے ہیں کہ بھونک بھونک کر بے ہوش ہو جاتے ہیں۔ہوش میں آئیں تو پھر بھونکنا شروع کر دیتے ہیں۔

ہیں تو کتے لیکن ان کا کہنا یہ ہے کہ ہم انسانیت پر برا یقین رکھتے ہیں ۔چنانچہ شدت جذبات سے مغلوب ہو جائیں تو آپس میں ایک دوسرے کو کاٹ لیتے ہیں۔لیکن چونکہ گلوبل ولیج کے کتے ہیں اس لیے اس پر نادم بھی نہیں ہوتے بلکہ بھونکتے ہیں کہ ہمارا جسم ہماری مرضی۔

یہ کتے کرنسی کی بھی پہچان رکھتے ہیں چنانچہ ان کے آگے کوئی ڈالر پھینک دے تو یہ اس ڈالر کو ہڈی سمجھ کر لپک کر اٹھا لیتے ہیں۔جو ڈالر دیتا ہے یہ اس کے لیے کسی بھی وقت کسی پر بھی بھونک سکتے ہیں۔کئی کئی دن یہ بلاوجہ بھی بھونکتے رہتے ہیں۔

اب ایک بڑا مسئلہ آن پڑا ہے ، قندوز میں معصوم بچوں کا قتل عام ہوا ہے۔ کشمیر میں لاشے گرے ہیں اور فلسطین خوں میں نہا گیا ہے۔ گلوبل ویلیج کے یہ کتے سوچ رہے ہیں کہ اب کس پر بھونکیں۔

ٹیگز

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com