مرد و خواتین کی برابری کے لیے بنیادی اقدامات - نور الہدیٰ شاہین

خواتین کے عالمی دن کے موقع پر کراچی میں ایک تاریخی عورت مارچ ہوا۔ حیرت انگیز طور پر اس وقت روایتی میڈیا سمیت سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے پر زیادہ بحث نہیں ہوئی۔ تقریبا ایک ہفتے بعد مارچ میں شریک خواتین کی جانب سے اٹھائے گئے کتبوں کی تصاویر سامنے آئیں جن پر لکھی عبارتیں خاصی دلچسپ تھیں اور اسی وجہ سے سوشل میڈیا پر یہ عبارتیں موضوع بحث رہیں۔ ایک کتبے پر لکھا تھا "میرا جسم میری مرضی" اور دوسرے پر لکھا تھا " اپنا کھانا خود گرم کرلو"۔ زیادہ بحث اس وقت ان دونوں کے گرد گھومتی رہی۔ اب حال ہی میں خواتین کے سائیکل مارچ کی تصاویر زیرگردش ہیں جس پر بھی انتہائی مشتعل قسم کے نعرے درج ہیں۔

حقوق نسواں یا فیمنزم اس صدی کا ایک اہم موضوع ہے، لیکن دوسرے ممالک اور پاکستان کے فیمنزم میں کافی تضاد پایا جاتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ برابری کی جدوجہد کا باقی ممالک میں جو مطلب ہے، یہاں اس سے الٹ ہے۔ اسی طرح دیگر ممالک کے فیمنسٹ اس جدوجہد کو جس انداز میں لیکر آگے بڑھ رہے ہیں، پاکستان میں اس سے یکسر مختلف طریقہ کار اپنایا گیا ہے۔

فیمینزم کی کئی اقسام ہیں، جن میں ایک قسم Radical Feminism کہلاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام برائیوں کی جڑ مرد ہیں۔ زندگی کے تمام شعبوں سے مرد کی بالادستی کا مکمل خاتمہ کیے بغیر ان مسائل کا حل ممکن نہیں۔ اسی بنیاد پر اس قسم کے فیمنسٹ مردوں کو اپنا شدید دشمن سمجھتے ہیں۔ کبھی کبھی لگتا ہے پاکستان کے فیمنسٹ بھی ریڈیکل نظریات کے حامل ہیں۔

دوسری بات یہ کہ دیگر ممالک نے صنفی امتیاز ختم کرنے کے لیے میرٹ نافذ کیا ہے، جو لائق ہوگا وہ ہی آگے بڑھے گا۔ مثال کے طور پر الیکشن میں مرد و خواتین کو حصہ لینے کی آزادی ہے، لیکن انتخاب کا فیصلہ صنف نہیں بلکہ ووٹ کی بنیاد پر ہوگا۔ اسی طرح اگر 10 نوکریوں کے لیے 20 لوگ اپلائی کرتے ہیں تو یہ نہیں دیکھا جاتا کہ 5 خواتین اور 5 مردوں کو منتخب کیا جائے بلکہ ان 20 افراد کو مرد و خواتین کی بنیاد پر جانچنے کے بجائے میرٹ پر دیکھا جاتا ہے۔ پھر ان میں چاہیے خواتین زیادہ منتخب ہوں یا مرد، یہ میرٹ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   گھر کیسے بچائیں ؟ - گل ارباب

پاکستان میں معاملہ یکسر الٹ ہے۔ یہاں کے فیمنسٹ برابری کے بجائے خصوصی توجہ (Special Treatment) مانگتے ہیں۔ مثال کے طور پر پبلک مقامات پر خواتین کے لیے خصوصی انتظام، پبلک ٹرانسپورٹ میں خواتین کے لیے الگ پورشن، بینکوں و دیگر مقامات پر خواتین کے لیے خصوصی کاؤنٹر، نوکریوں میں خواتین کے لیے خصوصی حصہ اور یہاں تک کہ پارلیمنٹ میں خواتین کے لیے اسپیشل کوٹہ مقرر کیا گیا ہے۔ اس وقت قومی اسمبلی میں خواتین کے لیے 60 اور سینیٹ میں 17سیٹیں مختص ہیں۔ صوبائی اسمبلیوں کی مخصوص نشستیں اس کے علاوہ ہیں۔ ان مخصوص نشستوں کا مطلب یہ ہے کہ یہ ساری خواتین بغیر محنت، بغیر کسی خدمات اور یہاں تک کہ ایک بھی ووٹ حاصل کیے بغیر ایوانوں میں پہنچ جاتی ہیں۔ اس کے برعکس مردوں کے لیے کوئی ایسا کوئی محفوظ راستہ نہیں جہاں سے وہ بغیر محنت کے سیدھا ایوانوں تک پہنچ جائیں۔ اگر ایوان میں آنا ہے تو الیکشن لڑ کر ہی آنا ہوگا۔ گلی گلی، کوچہ کوچہ گھوم پھر کر ووٹ مانگنا ہوگا۔ خواتین کے لیے کوٹہ مختص کرنے اور خصوصی سلوک کا مطلب سادہ الفاظ میں یہ ہوا کہ آپ ان کو مردوں سے کمتر یا نالائق سمجھتے ہیں۔ آپ ان کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ وہ مسابقتی دوڑ میں چل نہیں سکتیں۔ اس لیے ان کویہ خصوصی رعایت دی جاتی ہے۔

یہ آفاقی اصول ہے کہ کسی بھی برائی کا خاتمہ کرنے کے لیے اس کی جڑ کاٹنا پڑتی ہے۔ شاخیں کاٹنے اور تنے سے ٹکرانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اگر آپ واقعی خواتین کو برابری کا مقام دلانے میں سنجیدہ ہیں تو خواتین کو مردوں سے لڑانے اور سڑکوں پر دوڑانے کے بجائے چند بنیادی اقدامات کی طرف توجہ دیں۔

سب سے پہلے مقننہ میں خواتین کے لیے مخصوص نشستوں کا تصور ختم کیا جائے اور خواتین کو یہ باور کرایا جائے کہ جس طرح مرد حضرات الیکشن لڑ کر آتے ہیں ، اسی طرح آپ بھی انتخابات لڑکر ایوان میں آسکتی ہیں۔ آپ کا عورت ہونا اس راستے میں رکاوٹ نہیں بنے گا۔ ویسے بھی بہت ساری خواتین اپنی اہلیت کی بنیاد پر الیکشن لڑ کر آتی ہیں۔ بینظیر بھٹو الیکشن لڑ کر وزیراعظم منتخب ہوسکتی ہیں تو دوسری خواتین میں کیا کمی ہے کہ آپ ان کے لیے خیراتی سیٹیں مختص کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا خاتون گاڑی یا بائیک چلا سکتی ہے؟ - حافظ محمد زبیر

دوسرا اقدام یہ اٹھایا جائے کہ ملازمتوں میں خواتین کا کوٹہ ختم کرکے خالص میرٹ پر عمل در آمد کیا جائے تاکہ خواتین ہوں یا مرد، محض اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر آگے بڑھ سکیں۔

تیسرا اقدام یہ اٹھایا جائے کہ تمام عوامی مقامات سے خواتین کا خصوصی کاونٹر ختم کیا جائے اور لیڈیز فرسٹ کا فرسودہ تصور بھی دفن ہونا چاہیے تاکہ سب برابری کے ساتھ قطار میں کھڑے ہوسکیں۔

کھانا گرم کرنا، کپڑے دھونا، برتن مانجھنا بچگانہ موضوعات ہیں۔ یہ نہ مردوں کا مسئلہ ہے نہ خواتین کا۔ بلکہ یہ اصل موضوع سے توجہ ہٹانے کے مترادف ہے۔ گول روٹی بازار سے مل جاتی ہے۔ کپڑے دھونے کے لیے لانڈری شاپس کی بھرمار ہے۔ برتن دھونے کے لیے بھی ملازم مل جاتے ہیں۔ اس طرح کی باتوں سے خواتین کے حقوق کا مذاق نہ بنایا جائے۔

اور چلتے چلتے ایک مختصر کہانی سن لیں۔ گزشتہ برس ایک فیچر اسٹوری کے سلسلے میں ایک نامی گرامی خاتون وکیل سے ملاقات ہوئی۔ دوران گفتگو انہوں نے ایک جملہ کہا جو آج بھی مجھے غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ وکیل صاحبہ کے بقول ہمارے ہاں کے فیمنسٹ خواتین کو فرسودہ سسٹم سے لڑانے کے بجائے شوہر سے لڑانے پر ابھارتے ہیں۔