عافیہ صدیقی: روز جیتے ہیں روز مرتے ہیں - عابد محمود عزام

افسوس صرف اس بات کا نہیں کہ پاکستان کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی 15سال سے امریکا کی قید تنہائی کاٹ رہی ہے، بلکہ افسوس اور حیرت تو اس بات پر بھی ہے کہ 2003ءکے بعد سے اب تک پاکستان میں 9وزرائے اعظم گزرچکے، مگر کسی نے پاکستان کی تعلیم یافتہ بیٹی کو اپنے ملک واپس لانے کی سچی کوشش ہی نہیں کی۔ سب نے اپنے عمل سے یہ ثابت کیا کہ انہیں صرف اپنے مفادات عزیز ہیں، ان کے نزدیک نہ تو اپنے ملک کے شہریوں کی کوئی وقعت ہے اور نہ ہی اپنے ملک کی عزت کا کوئی پاس ہے۔ اگر انہیں اپنے ملک کی عزت کا کوئی پاس ہوتا تو ہ پاکستان کی بیٹی کو جلد از جلد پاکستان واپس لانے کی بھرپور کوشش کرتے، لیکن ایسا نہیں کیا۔ ڈاکٹر عافیہ کا معاملہ صرف ایک شہری اور ایک پاکستانی کا معاملہ نہیں، بلکہ پوری قوم کا معاملہ ہے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ ڈاکٹر عافیہ پاکستانی شہری ہے اور پاکستان کی بیٹی امریکا کی قید میں ہے، جسے آزاد کروانا پاکستان کی ذمہ داری ہے، مگر پاکستانی حکومتیں اتنی نااہل ہیں کہ اپنی بیٹی کو آزاد نہیں کرواسکتیں یا کروانا نہیں چاہتیں۔ عافیہ کا معاملہ صرف ایک فرد کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ پوری پاکستانی قوم کی عزت اور اقدام کا معاملہ ہے۔ عافیہ کے امریکی قید میں گزرنے والے ہر لمحے سے پاکستان کے گرین پاسپورٹ کی تذلیل ہورہی ہے۔ ڈاکٹر عافیہ پاکستانی حکومت، پاکستانی سیاست دانوں اور پوری پاکستانی قوم کا امتحان ہے، پاکستان کی حکومتیں اور سیاست دان تو اب تک اس امتحان میں ناکام ہوتے آئے ہیں، لیکن پاکستانی قوم بھی کونسا ہی اس امتحان میں کامیاب ہوئی ہے۔ عوام ڈاکٹرعافیہ کو اپنی بہن اور بیٹی کہتے تو تھکتے نہیں، لیکن عملی طور پر آج تک آخر انہوں نے کیا ہی کیا ہے؟ جو جھوٹے اور مفاد پرست سیاست دان ہر الیکشن سے پہلے مکاری کرتے ہوئے عافیہ کو واپس لانے کا وعدہ کرتے ہیں اور بعد میں انہیں یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ کون عافیہ؟ یہ عوام انہیں خود غرض سیاست دانوں کے لیے خود کو ہلکان کرتے ہیں اور ساتھ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ عافیہ ہماری بہن ہے اور ہماری بیٹی ہے۔ یہ لوگ اگر اپنے دعوے میں سچے ہوتے اور واقعی عافیہ کو قوم کی بیٹی سمجھتے تو کم از کم جھوٹے دعوے اور وعدے کرنے والے مکار سیاست دانوں کم از کم اسی بنیاد پر مسترد تو کریں کہ جو لوگ قوم کی بیٹی کے لیے مخلص نہیں ہوسکتے تو وہ ملک کے لیے کیا خاک مخلص ہوں گے؟

یہ بھی پڑھیں:   ہم ہوئے کافر تو وہ کافر مسلماں ہوگیا - صغیر قمر

کل ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بڑی ہمشیرہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ دوران گفتگو آبدیدہ ہوا اور کئی بار آنکھوں کو بہنے سے مشکل سے روک پایا۔ وہ کہنے لگیں کہ اگر کسی کی بہن فوت ہوجائے تو کچھ عرصے بعد انسان اس کا دکھ بھول جاتا ہے، لیکن 15سال سے اپنی بہن کو اغیار کے شکنجے میں ظلم و ستم سہتے دیکھ کر چین کیسے آسکتا ہے۔ اب تو روز جیتے ہیں اور روز مرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بات بالکل واضح کی کہ امریکی انتظامیہ متعدد بار یہ بات بالکل واضح طور پر کہہ چکی ہے کہ پاکستانی حکومت نے ابھی تک ہم سے عافیہ کی رہائی کی درخواست ہی نہیں کی۔ اگر پاکستانی حکومت امریکی انتظامیہ سے درخواست کرے تو عافیہ کی رہائی کا معاملہ صرف 15دن میں حل ہوسکتا ہے۔ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے بتایا کہ اب تک سب سے زیادہ تعاون رحمن ملک نے اپنے دور میں کیا تھا، اس کے علاوہ سب حکومتوں نے صرف جھوٹ بولا ہے۔موجودہ حکومت نے تو نااہلی کے تمام ریکارڈ توڑے ہیں۔ موجودہ انتظامیہ تو عافیہ کی فائل تک دینے کو تیار نہیں ہے۔ سیاست دانوں کی بات تو چھوڑیے، حیرت تو عوام پر ہوتی ہے، ایک طرف عافیہ عافیہ کی رٹ لگا کر رکھتے ہیں اور دوسری طرف انہیں نااہل، مفاد پرست، دھوکے باز اور مکار سیاست دانوں کو منتخب بھی کرتے ہیں۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو اغواءکیاگیا، اس سے بچے چھینے گئے، سرحد پار انسانی اسمگلنگ کا جرم اس کے ساتھ کیا گیا، خفیہ عقوبت خانے میں انسانیت سوز مظالم اس پر ڈھائے گئے، پانچ سال تک اسے لاپتہ رکھا گیا، گولیاں ماری گئیں، پاکستانی شہری ہونے کے باوجود غیرقانونی طور پر پہلے پاکستان سے افغانستان اور پھرافغانستان سے امریکا منتقل کیا گیا، جھوٹا اور من گھڑت مقدمہ اس پر قائم کیا گیا، امریکی جیل میں برہنہ کیا گیا، کپڑوں کی واپسی کے لیے قرآن مجید اس کے قدموں پھینک کر چلنے کا کہا گیا، عدالت میں قانونی دفاع کے حق سے محروم رکھا گیا، مرضی کے وکیل کرنے کا حق اس سے چھین لیا گیا، جو جھوٹا الزام لگایا گیا تھا وہ ثابت نہ ہونے کے باوجود 86 سال کی ناقابل فہم سزا سنا کر اب اسے امریکی جیل کی اندھیری کوٹھری میں قید تنہائی کی اسیر بنا دیا گیا۔ اس سب کچھ کے باوجود نہ تو پاکستانی حکومتوں کو کوئی غیرت آئی اور نہ ہی دنیا میں انسانی حقوق کی نام نہاد عالمی تنظیموں کو عورت کے حقوق یاد آئے۔ سب کو سانپ سونگھ گیا۔ سب نے چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ہواوے کی بڑھتی ہوئی مقبولیت پر امریکہ کا شب خون

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کوئی عام خاتون نہیں، بلکہ ان افراد میں سے ایک ہے جن پر ملک کو فخر ہونا چاہیے۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا تعلق انتہائی تعلیم یافتہ گھرانے سے ہے۔ عافیہ صدیقی کے والد نے برطانیہ میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کی تھی۔ ان کے ایک بھائی امریکا میں آرکیٹیکٹ ہیں اور بڑی بہن فوزیہ دماغی امراض (نیورولوجی) کی ماہر ہیں اور پہلے نیو یارک میں کام کرتی رہی ہیں۔ عافیہ نے قرآن حفظ کیا۔ اپنی تعلیم کا بڑا حصہ یونیورسٹی آف ٹیکساس سے مکمل کیا، جہاں انھوں نے MIT کے تحت بائیالوجی میں گریجویشن کی،اس کے بعد امریکا میں ہی علم الاعصاب (دماغی علوم ) پر تحقیق کر کے PHD کی۔ ڈاکٹر عافیہ نے ایک انعام یافتہ ایم آئی ٹی کی گریجویٹ خاتون کا اعزاز حاصل کیا اور ایک اعلیٰ پائے کی سائنس دان بن چکی تھیں۔ عافیہ ملک میں طبقاتی تعلیمی نظام کے خاتمے اور ایک متبادل یکساں نظام تعلیم کو رائج کرنے کے سلسلے میں نہایت اہم تحقیقی کام کررہی تھی، جو یقینا ملک کی ترقی میں اہم سنگ میل ہوتا۔

پندرہ سال سے جرم بے گناہی کی پاداش میں امریکی عقوبت خانوں میں مظالم کا شکار بننے والی قوم کی تعلیم یافتہ بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا معاملہ قانونی لحاظ سے مکمل طور پر کلیئر ہوچکا تھا اور تمام قانونی پیچیدگیوں سے گزار کر امریکی انتظامیہ نے 2016میں عافیہ کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ امریکی قانون کے مطابق عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے وزیر اعظم پاکستان یا صدر مملکت کا خط چاہیے تھا، اگر خط مل جاتا تو عافیہ گزشتہ سال ہی رہا ہوچکی ہوتی، لیکن حکومت نے صرف اس لیے خط نہیں لکھا کہ کہیں امریکا کا نیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان سے ناراض نہ ہوجائے، جبکہ میاں صاحب نے الیکشن سے پہلے پوری قوم کے سامنے عافیہ صدیقی کو واپس پاکستان لانے کا وعدہ کیا تھا۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو بیچ کر صرف آمر پرویز مشرف نے ہی جرم نہیں کیا، بلکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ناراضگی کے خوف سے عافیہ کی رہائی کا موقع گنوا کر نااہل سابق وزیر اعظم نواز شریف نے بھی بدترین جرم کیا ہے۔ امریکا کی طرف سے اس کی رہائی کی آفر ہونے کے باوجود پاکستان حکومت کا اسے لینے سے انکارکرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ امریکی انتظامیہ تو عافیہ کو رہا کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن ہماری حکومت ہی رہا کروانے کے لیے تیار نہیں ہے۔

Comments

عابد محمود عزام

عابد محمود عزام

عابد محمود عزام 2011ء سے شعبہ صحافت میں میگزین رپورٹر، فیچر رائٹر اور کالم نویس کی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں۔ روزنامہ ایکسپریس اور اسلام میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ معاشرے میں تعمیری اور مثبت سوچ کا فروغ ان کا مشن ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.