حق و باطل کی پہچان کیسے؟ عثمان ایم

فتنوں کے دور اور معلومات کے سیلاب میں جھوٹ، سچ اور تضادات کے آمیزے میں سچ کو منکشف کرنا اور پہچاننا ایک پیچیدہ عمل بنتا جا رہا ہے، کیونکہ جو ہوتا ہے وہ نظر نہیں آتا اور جو نظر آتا ہے، وہ اصل میں ہوتا نہیں، اس وجہ سے عوام شدید ذہنی الجھن کا شکار ہیں اور اس وجہ سے آپس میں تقسیم در تقسیم ہوئے جا رہے ہیں.

ہر شخص کا اپناسچ ہے، دیکھنے والوں کے لیے تذبذب کی صورت حال ہے.
اس پیچیدہ صورت حال میں کس کو حق مانا جائے اور کس کو باطل؟

ایک آسان کلیہ ایسا ہے جس کو استعمال کر کے کم از کم آپ لوگوں کی نظریاتی بیماریوں کی فوری تشخیص کر کے حق اور باطل کو واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں، اور یہ بھی جان سکتے ہیں کہ جس کی تعریف کی جا رہی ہے، وہ واقعی تعریف، حمایت، اور سر آنکھوں پر بٹھائے جانے کا حقدار ہے؟ یا پھر جس کی سرزنش کی جا رہی ہے، وہ سرزنش کا مستحق ہے؟

اس کلیہ کے دو جز ہیں:
1 - جس شخصیت، گروہ یا نظریہ کو طاغوتی طاقتوں کی مقبولیت اور ان کی طرف سے سرپرستی حاصل ہو، وہ شخصیت، گروہ یا نظریہ مطلق حق پر ہو، ایسا ہرگز ہرگز ممکن نہیں.
2 - کوئی شخصیت، گروہ یا نظریہ حق پر ہو، اور طاغوت کو اس سے تکلیف نہ ہو، اور وہ اس کے پیچھے ہاتھ دھو کے نہ پڑا ہو، یہ بھی ہرگز ہرگز ممکن نہیں ہے.

اس کلیہ کی روح پولیٹیکل کوریکٹنس (political correctness)، یعنی طاغوت کے بیانیہ کے لیے بےضرر ہونے یا پھر اس سے مطابقت رکھنے میں ہے.
ایک بار پھر اس کلیہ کی روح کو اچھی طرح ذہن نشین کر لیا جائے.
کوئی ظالم ہو یا مظلوم، اگر پولیٹیکلی کوریکٹ ہے یعنی اس کا نظریہ طاغوت کے لیے بےضرر ہے تو اس کو طاغوت کی طرف سے قبول عام حاصل ہوگا، پولیٹیکلی کوریکٹ ظالم کے ظلم کی پردہ پوشی کر کے اس کے ظلم کو دوام دیا جائے گا، اسی طرح پولیٹیکلی کوریکٹ مظلوم کے ساتھ ہونے والے ظلم پر اس کی خوب داد رسی کی جائے گی، اور طاغوت اس مظلوم کے ساتھ ہونے والے ظلم (جو کہ واقعی ظلم ہی ہے) پر بڑے آنسو بہائے گا اور ظلم کا بدلہ لینے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑے گا.

اور اگر کوئی دوسرا کتنا ہی مظلوم کیوں نہ ہو، اگر اس کا نظریہ حق پر مبنی ہو تو وہ پولیٹیکلی انکوریکٹ ہونے کی بنا پر طاغوت کی نظر میں خطرے کی علامت ہی ہے، اس لیے وہ نظرانداز کیے جانے، دبانے اور بھلا دیے جانے کا مستحق ہوتا ہے.

اس کلیہ پر کسی شخصیت یا گروہ کو پرکھ لیں،
باغی گروہ کے سربراہ: چی گویرا؟ یا پھر عمر مختار؟
باغی: بھگت سنگھ؟ یا پھر غازی علم دین؟
سیاستدان: گاندھی؟ یا پھر قائداعظم؟
فلاحی شخصیت: عبد الستار ایدھی؟ یا پھر حکیم محمّد سعید؟
فلاحی ادارہ: ایدھی فاؤنڈیشن؟ یا پھر الخدمت فاؤنڈیشن؟
حکمران: رنجیت سنگھ؟ یا پھر اورنگزیب عالمگیر؟
شاعر: فیض احمد فیض؟ یا پھر ڈاکٹر محمّد اقبال؟
مظلوم: ملالہ یوسفزئی؟ یا پھر نبیلہ رحمن، عائشہ سیّد اور سمیعہ نورین؟ (بہت سوں نے تو مؤخرالذکر کے نام تک نہیں سنے ہوں گے، آخر سنتے بھی کیسے؟)

اس سب میں جو اول الذکر ہیں، ان کا بدنیّت اور قابل نفرت ہونا ضروری نہیں، ان کا طاغوت کی حمایت کرنا بھی ہر ایک کے لیے لازمی نہیں، بلکہ ان میں سے کچھ واقعی اچھی نیّت کے حامل اور اپنے مشن سے مخلص ہو سکتے ہیں، لیکن ہاں، ان سب اوّل الذکر میں جو قدر مشترک ہے، وہ ہے ان کا طاغوت کے بیانیہ کے لیے بےضرر ہونا، اور یہی بات طاغوت کی رضا کے لیے کافی ہے، تو پھر طاغوتی طاقتیں کیونکر ان کو شرف بازیابی نہ بخشیں؟ کیونکر ان کی تحسین نہ کی جائے؟ کسی کی مجال جو ان کی تحسین نہ کرے؟ کسی کی مجال جو ان کی تحسین کرنے والوں پر اعتراض کرے؟
______________________
نوٹ : کسی کا پولیٹیکلی انکوریکٹ (politically incorrect) ہونا ہمیشہ اس بات کی ضمانت نہیں دیتا کہ وہ حق پر ہی ہے، لیکن حق بات کرنےوالا بہت سے امور میں پولیٹیکلی انکوریکٹ ہی ٹھہرا کرتا ہے.