ٹی وی دیکھنے سے ذہنی دباؤ کیوں ہوتا ہے؟ ابویحیی

ٹی وی دیکھنا ایک تفریحی عمل سمجھا جاتا ہے۔گھریلو خواتین اور بچوں کے علاوہ دن بھر دوکان، دفتر، کاروبار اور بازار کی تھکن کے مارے ہوئے لوگ اپنی ذہنی اور جسمانی تکان اتارنے کے لیے ٹی وی کو استعمال کرتے ہیں۔ خوشحال لوگوں کے گھروں میں عام طور پر بیڈ روم میں بھی ٹی وی ہوتا ہے، اس لیے وہ گھر آتے ہی بستر پر لیٹ جاتے اور ٹی وی کھول کر ریمورٹ کنٹرول ہاتھ میں اٹھالیتے ہیں۔ رات گئے تک ان کا یہی شغل جاری رہتا ہے۔

تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ اکثر حالات میں ٹی وی دیکھنے کا عمل سکون دینے کے بجائے انسان کے لیے ذہنی اذیت کا باعث بن جاتا ہے۔ بظاہر ایک انسان ٹی وی پروگراموں سے لطف اندوز ہوتا ہے، مگر درحقیقت ٹی وی کے ذریعے سے منتقل ہونے والا ذہنی دباؤ اس کے اعصاب کو بتدریج کمزور کرتا چلا جاتا ہے۔

ٹی وی سے اعصابی دباؤ پیدا کرنے والی پہلی چیز بلند آواز ہے۔ موجودہ دور کے ڈرامے اور فلمیں تاثر کو بڑھانے کے لیے پس منظر کی موسیقی کو استعمال کرتے ہیں۔ ڈائیلاگ اور مناظر کی نوعیت کے لحاظ سے یہ موسیقی تیز اور کم ہوتی رہتی ہے۔ کسی شخص کے لیے یہ ممکن نہیں ہوتا کہ وہ ٹی وی کی آواز کو بار بار کم اور زیادہ کرتا رہے۔ اس لیے لوگ اتنی اونچی آواز کھولنے پر مجبور ہوتے ہیں جس سے ڈائیلاگ سمجھ میں آجائیں اور اس دوران میں تیزاور تکلیف دہ حد تک اونچی موسیقی انہیں جبراً سننی پڑتی ہے۔گھروں میں رہنے والے لوگوں کے لیے بھی یہ شور سخت تکلیف دہ ہو سکتا ہے، مگر جو لوگ پہلے ہی بازار اور سڑ کوں پردن بھر Noise Pollution کا شکار رہے ہوں، ان کے لیے تو یہ شور زہر قاتل ثابت ہوتا ہے۔ لوگ اس شور کو تفریح کی خاطر گوارا کرتے ہیں، مگر کئی برسوں میں جا کر یہ انسانی اعصاب کو شکست و ریخت میں مبتلا کر دیتا ہے، جو آخر کار مختلف ذہنی اور جسمانی بیماریوں کا باعث بن جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   مسجد سکون و راحت کا مرکز…! - رانا اعجاز حسین چوہان

انسانی اعصاب پر ٹی وی کا دوسرا حملہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ میڈیا شوبز، کھیل اور خبروں وغیرہ کی شکل میں جو کچھ نشر کرتا ہے، وہ ہمارے جذبات کو عام معمولات زندگی سے کہیں زیادہ فعال کر دیتا ہے۔ اسپورٹس چینل پر کھیل میں ہار جیت کے سنسنی خیز لمحات، نیوز چینل پر نشر ہونے والی جنگ اور بدامنی کی خبریں، فلموں ڈراموں کے خوف، دہشت، سسپنس، غم و الم وغیرہ سے بھرپور مناظر، جذبات پر غیر معمولی درجے میں اثر انداز ہوکر اعصاب کو جھنجھوڑ ڈالتے ہیں۔ اکثر لوگوں میں یہ مناظر فوری طور پر تو کسی نقصان کا باعث نہیں ہوتے، لیکن ایک طویل مدت میں یہ مضبوط اعصاب کے لوگوں کو بھی ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔

جذبات پر اثر ڈالنے والے ایسے ہی مناظر کی ایک قسم وہ ہوتی ہے جو اخلاقی طور پر ناپسندیدہ ہوتے ہیں، لیکن لوگ ایسے مناظر اور ناچ گانوں کو شوق سے دیکھتے ہیں۔ لیکن ہر شخص یہ بات جانتا ہے کہ اخلاقی طور پر ان کا دیکھنا ٹھیک نہیں، اس لیے ضمیر کی طرف سے ایک دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک طرف خارج سے آنے والا جذباتی دباؤ جب اس اندرونی دباؤ سے ملتا ہے تو غیر محسوس طریقے سے انسان کے اعصاب کو متاثر کرتا ہے۔ اس طرح بظاہر مزے فراہم کرنے والی ایک چیز زہریلی گیس کی طرح انسان کے اعصاب کو گھلادیتی ہے۔

ٹی وی کا ایک اور اثر یہ ہوتا ہے کہ لوگ بہت سے پروگراموں کے عادی ہوجاتے ہیں۔ وہ ہر مصروفیت اور کام کو چھوڑ کر انہیں دیکھتے ہیں۔ جس کے بعد ان کاموں کو کرنے کا وقت نہیں رہتا یا پھر انسان انہیں ٹھیک طرح نہیں پورا کر پاتا۔ یہ چیز دیگر نقصانات کے ساتھ ایک نوعیت کا ذہنی دباؤ پیدا کرتی ہے۔

ٹی وی کے ذریعے دباؤ پیدا ہونے کی ایک اور شکل یہ ہے کہ لوگ گھر آ کر اپنا بیشتر وقت اسی کام میں گزاردیتے ہیں۔ جس کے بعد وہ بہت سی ایسی چیزیں ترک کر دیتے ہیں جو دن بھر کی تھکان اور دباؤ کو دور کرنے والی ہیں۔ بیوی بچوں ، ماں باپ، اور بہن بھائیوں کے پاس بیٹھ کر باتیں کرنا، دوستوں سے گفتگو، اچھا مطالعہ اور چہل قدمی وغیرہ جیسی چیزیں جو انسان کی نفسیاتی اور ذہنی صحت کے لیے بیحد ضروری ہیں، زندگی سے خارج ہوجاتی ہیں۔ ان کے علاوہ تنہائی میں بیٹھ کر غور و فکر اور خود احتسابی کا عمل جو زندگی کو بہتر بنانے کے لیے بہت ضروری ہے، معمولات میں اپنی جگہ نہیں بنا پاتا۔ یہ سب چیزیں مل کر رفتہ رفتہ انسان کو ذہنی اور اعصابی تکان کا شکار کر دیتی ہیں جس کے بعد لوگ بہت سی عمومی اور سنگین بیماریوں کا آسانی سے نشانہ بن جاتے ہیں۔ آج کل بیماریوں کی کثرت کی جہاں کچھ اور وجوہات بھی ہیں، وہیں اس کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ ٹی وی نے انسان کے اعصاب کو کمزور کر دیا ہے جس کے نتیجے میں انسانوں کی قوت مدافعت بہت کمزور ہوگئی ہے اور وہ بآسانی بیماریوں کا نشانہ بن جاتے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں:   مسجد سکون و راحت کا مرکز…! - رانا اعجاز حسین چوہان

ٹی وی دور جدید کی ایک بڑی نعمت ہے، مگر یہ عقلمندی نہیں کہ اس نعمت کے غلط اور بیجا استعمال سے اسے اپنے لیے باعث زحمت بنالیا جائے۔

Comments

ابو یحییٰ

ابو یحییٰ

ابو یحییٰ معرول ناول ”جب زندگی شروع ہوگی“ کے مصنف ہیں۔ علوم اسلامیہ اور کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز جبکہ سوشل سائنسز میں ایم فل کیا۔ ٹیلی وژن پروگرام، اخباری مضامین، پبلک اجتماعات کے ذریعے دعوت و اصلاح کا کام کرتے ہیں۔ ماہنامہ "انذار" کے مدیر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.