اسلامی یونیورسٹی اور کلچر - اسامہ زاہد

آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 8 سے 28 تک نظر دوڑائیں تو یہ آرٹیکلز بنیادی حقوق پر مشتمل ہیں، ان میں سے غالباََ 27 نمبر آرٹیکل ہر پاکستانی کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ اپنی زبان، رہن سہن اور کلچر کو پرموٹ کرسکتا ہے، لیکن اس چیز کے ساتھ ہی یہ آرٹیکل اس بات پر پابند بھی کرتا ہے کہ یہ کلچر اسلام اور پاکستان کے بنیادی قوانین سے متصادم نہیں ہونا چاہیے.

انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی، اسلام آباد کا آئین بھی یہ کہتا ہے کہ موسیقی، گانا بجانا اور ناچ گانے جیسی خرافات اس یونیورسٹی میں نہیں ہو سکتیں. اور اسلامی یونیورسٹی ہی نہیں بلکہ ماڈرن یونیورسٹیز جن میں گجرات یونیورسٹی، لمز یونیورسٹی، جی سی لاہور، جامعہ کراچی اور اس طرح کی دیگر دور جدید کی سمجھی جانے والی جامعات بھی شامل ہیں، میں قانونی طور پر ناچ گانا، ڈھول باجا سختی سے منع ہے. یہ الگ بات ہے کہ جان بوجھ کر اس قانون پر عمل نہیں کرایا جاتا.

اب بات کر لیں ایسی جامعہ کی جو ملک میں نمبر ون کہلاتی ہے، یعنی کہ قائداعظم یونیورسٹی، اسلام آباد، جس میں کلچر کے نام پر ہر وہ کام شروع کیا گیا جو اسلام اور پاکستان کے قانون سے ٹکراتا تھا، ایک معمولی ڈھول اور گانے سے شروع ہونے والا سلسلہ شراب، چرس اور کوکین تک جا پہنچا، اور وہاں جا کر بھی رکنے کے بجائے یہ سیلاب نوجوانوں کو ایسی بند گلیوں کی طرف دھکیلنے لگا جہاں ان کے لیے صرف موت تھی اور ناکامی، دنیا و آخرت کی ناکامی

یونیورسٹی میں کلچر کو پروموٹ کرنے کے نام پر وہ وہ حادثات ہوئے کہ مؤرخ اس پہ ہمیں کم عقل اور بیوقوف قوم ٹھہرائے گا۔ مثال کے طور پر لسانیت کے مارے دو گروپس کا آپس میں تصادم ہوا جو کئی دن تک چلتا رہا، کئی لوگ زخمی ہوئے اور یونیورسٹی کتنے ہی روز بند رہی، اس تصادم کی وجہ آپ جان لیں تو آپ کو ہنسی بھی آئے گی اور دکھ بھی ہوگا کہ یہ گریجویٹس اور پاکستان کی نمبر 1 یونیورسٹی میں پڑھنے والوں کا حال ہے، وجہ یہ تھی کہ ایک گروپ کا بندہ دوسرے لسانی گروپ کی فکسڈ ٹیرٹری میں رہتا تھا، اسے اول الذکر نے باغی ٹھہرایا اور اس بنیاد پہ دونوں اقوام کے پڑھے لکھے لوگوں نے ایک دوسرے کو لہولہان کردیا.

اب ایک قدم آگے بڑھ کر اسلامک یونیورسٹی میں بھی قومیت کا زہر پھیلانے اور اس کے ذریعے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، عام طلبہ کو گمراہ کیا جا رہا ہے، لیکن ہم عرض کریں کہ یہ اسلامک یونیورسٹی ہے، یہاں کے طلبہ کی روایت اسلام کے لیے جینا رہی ہے اور ان شاءاللہ یہ روایت برقرار رہے گی.

اسلامی جمعیت طلبہ اور اسلامینز کسی کلچر کے مخالف نہیں بلکہ اس کو پروان چڑھانے کے حق میں ہیں، لیکن یہ کلچر اس طرح پروان چڑھایا جانا چاہیے کہ کسی کو اس سے تکلیف نہ پہنچے اور خصوصاََ اسلامی روایات کی پامالی نہ ہو، اسلامی جمعیت طلبہ کے اندر ہر نسل اور قوم کے افراد موجود ہیں، وہ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہمارا کلچر کیا ہے اور اسے کیسے پروان چڑھانا ہے؟ کسی دوسرے کو آ کر یہ بات بتانے کی ضرورت نہیں. ہم ان شاءاللہ کلچر کو پروان بھی چڑھائیں گے، اپنے اپنے کلچر کو لوگوں کے سامنے خوبصورتی سے پیش بھی کریں گے. ہمارا اولین کلچر اسلام ہے جو ہمیں ہر قسم کے پاکیزہ اور خوبصورت اقدار و روایات سے متعارف کراتا ہے.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */